تحریک انصاف نے نوازشریف کی مدد کیسے کی؟ ارشدعلی خان

مسلم لیگ ن انتخابی اصلاحات بل 2017ء سینیٹ سے بھی کثرت رائے سے پاس کرانے میں کامیاب ہوگئی۔ سینیٹ سے ترامیم کے بعد اب یہ بل قومی اسمبلی میں دوبارہ پیش کیا جائے گا اور اگر قومی اسمبلی اسی صورت میں بل کی منظوری دیتی ہے تو صدر مملکت کے دستخط کے ساتھ یہ بل باقاعدہ ایک قانون کی شکل اختیار کر لے گا، تاہم اگر قومی اسمبلی موجودہ شکل میں انتخابی اصلاحات بل کی منظوری نہیں دیتی (جس کا امکان کم ہے) تو پھر پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے اس بل کی منظوری لینا ہوگی جس کے بعد کوئی بھی نااہل شخص پارٹی کا صدر بن سکے گا اور یوں میاں نواز شریف کے دوبارہ پارٹی صدر بننے کی راہ ہموار ہوجائےگی۔

بادی النظر میں ایوان بالا سے انتخابی اصلاحات بل کی شق وار منظوری میں سب اہم کردار جمعیت علمائے اسلام ف اور ایم کیوایم نے ادا کیا، نیشنل پارٹی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی، بی این پی مینگل اور فاٹا اراکین نے بھی حکومت کا ساتھ دیا، جبکہ تحریک انصاف، مسلم لیگ ق اور عوامی نیشنل پارٹی نے بل کی مخالفت کی، تاہم حکومت کو اصل مدد تحریک انصاف نے فراہم کی، جس کے سینیٹرز کا غیر سنجیدہ رویہ مسلم لیگ ن کے بہت کام آیا، اسی وجہ سے بل کی شق وار منظوری میں اسے کامیابی ہوئی اور ایوان بالا میں قائد حزب اختلاف سینیٹر اعتزاز احسن کی یہ ترمیم کہ نااہل شخص کسی پارٹی کا سربراہ یا صدر نہیں بن سکتا، ایک ووٹ کے فرق سے مسترد ہوگئی۔ قومی اسمبلی سے اس بل کی منظوری کے وقت بھی تحریک انصاف کے اراکین پارلیمان نے اپنی ترامیم مسترد کیے جانے کے معاملے پر واک آؤٹ کیا تھا اور ان کی غیر موجودگی میں حکومت نے انتخابی اصلاحات2017ء کا بل قومی اسمبلی سے منظور کروایا تھا۔ پی ٹی آئی کی ترمیم پارٹی فنڈنگ کے ذرائع نہ ظاہر کرنے کے حوالے سے تھی جس کا مقدمہ الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے اور جو تحریک انصاف کے گلے کی ہڈی بنتا جا رہا ہے.

قومی اسمبلی سے منظور کیے گئے بل میں ایسی کوئی شق شامل نہیں تھی کہ کوئی نااہل شخص پارٹی کا سربراہ یا صدر نہیں بن سکتا اس لیے سینیٹ میں شق وار منظوری کے دوران سینیٹر اعتزاز احسن نے بل میں یہ ترمیم شامل کرنے کے لیے پیش کی، تاہم پاکستان تحریک انصاف کے غیر ذمہ دارانہ رویے کی وجہ سے مسلم لیگ نون آسانی سے بل کو کثرت رائے سے منظور کرانے میں کامیاب ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں:   وہ بات جس کا فسانے میں کوئی ذکر نہ تھا - حبیب الرحمن

ہوا یوں کہ جب ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا عبد الغفور حیدری کی صدارت میں اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو تحریک انصاف کے سینیٹرز اعظم سواتی اور شبلی فراز نے یہ کہتے ہوئے ووٹنگ مؤخر کرانے کا مطالبہ کیا کہ جب تک چیئرمین سینٹ میاں رضاربانی نہیں آجاتے، ووٹنگ نہ کرائی جائے، تاہم مولانا عبد الغفور حیدری (جن کا تعلق جمعیت علمائے اسلام ف سے ہے) نے اُن کا یہ مطالبہ مسترد کر دیا، جس پر اعظم سواتی سمیت تحریک انصاف کے 7سینٹرز احتجاجا ایوان سے واک آؤٹ کرگئے، اور یوں اعتزاز احسن کی شق 203 میں ترمیم کی حمایت میں 37 اور مخالفت میں 38 ووٹ آئے، اگر تحریک انصاف کے سینیٹرز ایوان میں موجود ہوتے اور ووٹنگ میں حصہ لیتے تو مسلم لیگ ن کبھی بھی یہ شق منظور کروانے میں کامیاب نہ ہوتی۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے سر پر بھی نااہلی کی تلوار لٹک رہی ہے، شاید یہی سوچ کر پی ٹی آئی نے مسلم لیگ ن کو اس شق میں ترمیم مسترد کرنے میں بالواسطہ مدد دی کہ کل کو ہمیں بھی یہ دن دیکھنا پڑ سکتا ہے. یہ بات تو بلاخوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ تحریک انصاف کی شاندار عمارت صرف اور صرف عمران خان کی شخصیت پر کھڑی ہے اور خان صاحب کے بغیر پی ٹی آئی کچھ بھی نہیں۔

انتخابی اصلاحات کمیٹی کے 118 اجلاس منعقد ہوئے، جس میں قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی کے 25 اور وزیر قانون زاہد حامد کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی کے 90 سے زائد اجلاس ہوئے، جس میں حکومتی ترامیم کے ساتھ اپوزیشن کی 600 ترامیم کا جائرہ بھی لیاگیا۔ تحریک انصاف وہ واحد جماعت ہے جس نے شروع دن سے انتخابی اصلاحات کے حوالے سے آسمان سر پر اُٹھا رکھا تھا، تاہم انتخابی اصلاحات کمیٹی کے اجلاسوں میں سب سے کم حاضری پی ٹی آئی کی رہی، زیادہ تر اجلاسوں کا تحریک انصاف نے بائیکاٹ کیا۔ دوسر ی جانب پیپلزپارٹی کا کردار بھی ملاحظہ ہو چونکہ انتخابی اصلاحات بل کی شق نمبر 203 میں ترمیم پیپلزپارٹی کے سینیٹر اورسینٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن کی جانب سے آئی تھی، اس لیے چیئرمین سینیٹ ایک چھوٹی سی بات کا بہانہ بنا کر اجلاس کی صدارت چھوڑ گئے، جس کے بعد باقی اجلاس کی صدارت ڈپٹی چیئرمین عبد الغفور حیدری نے کی. اس طرح پیپلزپارٹی نے ایک تیر سے دو شکار والا معاملہ کرلیا یعنی ترمیم پیش کرنے کا کریڈٹ بھی لے لیا اور چیئرمین سینیٹ میا ں رضا ربانی کی غیر موجودگی میں ترمیم مسترد بھی کر دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   صرف جماعت اسلامی - آصف محمود

اس ترمیم نے ایک مرتبہ پھر یہ بات ثابت کر دی کہ جہاں ان سیاستدانوں کا مفاد ہو تو یہ سب ایک دوسرے کے اس طرح کام آتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اراکین پارلیمان کی تنخواہوں میں اضافے کا معاملہ ہو تو یہ سب بیک آواز متفقہ طور پر اس کو منظور کر لیتے ہیں۔ 19اپریل 2016ء کو مملکت خداداد کے غریب پارلیمنٹرینز کی تنخواہوں اور مراعات میں 150 فیصد اضافے کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا جس کی منظوری بلاتفریق تمام سیاسی جماعتوں کے اراکین نے متفقہ طور پر دے دی، 150 فیصد کے اضافے کے بعد اراکین پارلیمان کی تنخواہ 80 ہزار سے بڑھ کر 2 لاکھ ہوگئی۔ اسی طرح سپیکرقومی اسمبلی اور چیئرمین سینٹ کی بنیادی تنخواہ 4 لاکھ روپے جبکہ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی و ڈپٹی چیئرمین سینٹ کی بنیادی تنخواہ 3 لاکھ 50 ہزار ہوگئی جبکہ دیگر الاؤنسز اس کے علاوہ ہیں اور وہ بھی لاکھوں میں بنتے ہیں.

جب ہم کہتے ہیں کہ اصل میں یہ سب ایک پیج پر ہیں اور ایک دوسرے پر الزامات اور گالیاں عوام کو مزید بیوقوف بنانے کا ڈھونگ ہوتا ہے تو کچھ کرم فرماؤں کو یہ باتیں بری لگتی ہیں۔