پاک فوج کی " ورکنگ " صرف پاکستان - امجد طفیل بھٹی

ہم لوگ باہر سے آرمی کے ماحول کو آسان اور مزے والا سمجھتے ہیں لیکن حقیقت بالکل اس کے برعکس ہے کیونکہ وہ زندگی اتنی آسان نہیں ہے۔ ہر چیز کا وقت مقرر ہے چاہے سونا ہو، جاگنا ہو یا پھر کھانا کھانا ہو۔ فارغ رہنا تو فوج کی زندگی کا حصہ ہی نہیں ہے۔ آرمی میں ایک لفظ چلتا ہے " ورکنگ " یعنی کام کرنا، تو چاہے سپاہی ہو یا آفیسر " ورکنگ " اس کی زندگی کا لازمی جزو ہے۔ یہ تو نارمل حالات اور کینٹ کی زندگی کا احوال ہے۔

آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بارڈر پر اور حالت جنگ میں ان لوگوں کی زندگی کس قدر دشوار ہو گی؟ جہاں نہ کھانا وقت پہ ملتا ہے اور نہ سوتے وقت میسر آتا ہے۔ ہفتوں ہفتوں اپنے گھر والوں سے رابطہ نہیں ہو پاتا ان ساری باتوں کا صرف تصور ہی کر لیا جائے تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہ ہو گہ کہ فوج کی زندگی عام زندگی سے کتنی زیادہ مشکل اور پابندیوں سے بھرپور ہے۔

ہمارے ملک میں پاک فوج کو تنقید کا نشانہ بنانا ایک عادت بن چکی ہے۔ بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جی دیکھیں فوج ملک کا 70 فیصد بجٹ کھا رہی ہے حالانکہ اگر یہ 70 فیصد ہے بھی سہی تو وہ صرف اور صرف فوج کا بجٹ نہیں ہے بلکہ وہ سارے ملک کے دفاع کا بجٹ ہے جس میں میزائیل ٹیکنالوجی، ایٹمی ٹیکنالوجی، جنگی جہازوں کی تیاری اور ٹینک سازی وغیرہ سب شامل ہیں، جب یہ سارے اخراجات نکالے جائیں تو پیچھے شاید 10 فیصد بھی نہیں بچے گا۔ انسانی زندگی کی قیمت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے لیکن فوج کے لوگ اپنی جان ہر وقت ہتھیلی پر رکھ کر چوبیس گھنٹے اور سال کے تین سو پینسٹھ دن ملک کی حفاظت پر مامور رہتے ہیں۔ اپنے گھر والوں سے دور، اپنی نارمل زندگی سے کہیں زیادہ مشکلات برداشت کرنا اور سب سے بڑھ کر جان کا خطرہ ہی فوج کی زندگی ہے، اگر اس کا نعم البدل صرف پیسے ہی ہوتے تو پھر شاید دنیا میں کوئی بھی اسکی قیمت نہ دے سکے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب کوئی شخص پاک فوج میں بھرتی ہوتا ہے تو بھلے ہی وہ اپنی معاشی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فوج کی نوکری اختیار کر رہا ہو لیکن جب ایک شخص پاک فوج میں آ جاتا ہے تو وہ صرف اور صرف اپنے ملک پاکستان کی حفاظت اور مفاد کے لیے ہی نوکری کرتا ہے پھر اسکے لیے اپنی جان اور مال ودولت کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کرائے کی فوج، بیمار معیشت کی دوا - یاسر محمود آرائیں

پاک فوج کی تاریخ جراءت اور بہادری کی مثالوں سے بھری پڑی ہے، سینکڑوں ہزاروں ایسی مثالیں ہیں کہ جن ماؤں کا اکلوتا بیٹا اور بہنوں کا اکلوتا بھائی مادر وطن کی خاطر اپنی جان کی قربانی دے گیا۔ اس قربانی کی قدر اس کے پیاروں سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا۔ ہم لوگ تنقید کرنے والے اپنے گھروں اور مہنگے مہنگے فائیو اسٹار ہوٹلوں پہ آزاد ماحول میں بیٹھے بلا خوف خطر اپنے ہی محافظوں کے خلاف محاذ کھول کر بیٹھے ہوتے ہیں۔

دنیا میں شاید ہی کوئی ملک ایسا ہو گا جس میں کہ فوج کو اس قدر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہو گا جتنا کہ پاکستان میں بنایا جاتا ہے۔ یہاں تو کوئی بھی شخص خود کو اس وقت تک بڑا سیاستدان، بڑا صحافی اور بڑا تجزیہ کار نہیں سمجھتا جب تک کہ وہ پاک فوج کو تنقید کا نشانہ نہ بنا لے۔ ہر وہ شخص جو پاک فوج کے خلاف بات کرتا ہے وہ " دلیر " اور " بے باک " سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ جو لوگ آپ کی حفاظت کا ذمہ اٹھائے ہوئے ہیں انہی کو تمام خامیوں اور غلطیوں کا ذمہ دار ٹھہرانا خود کسی گناہ اور غداری سے کم نہیں ہے۔

پاکستان کی تاریخ اٹھا کر اگر دیکھ لی جائے تو ایک بات تو واضح ہے کہ ملک میں جتنی ترقی مارشل لاء میں ہوئی اتنی کبھی بھی سیاسی دور حکومت میں نہیں ہوئی، لیکن اس بات کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ملک کو مارشل لاء کی ضرورت ہے بلکہ ہمارے سیاستدانوں کو تنقید کی بجائے اپنا قبلہ درست کرنا پڑے گا۔ ہر مسئلے کو فوج کے کھاتے میں ڈالنا زیادتی ہو گی، ہمارے ہاں جب بھی اپوزیشن جماعت یا کوئی سیاسی مخالف حکومت کے خلاف ایک جلسہ بھی کرتا ہے تو اس پر فوج کی حمایت کا الزام دھر دیا جاتا ہے جو کہ سرا سر اپنی کوتاہئیوں پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کرائے کی فوج، بیمار معیشت کی دوا - یاسر محمود آرائیں

اور تو اور اگر عدالت بھی کسی سیاستدان کے خلاف فیصلہ دیتی ہے تو عدالت کو بھی فوج کا حمایت یافتہ کہہ دیا جاتا ہے۔ ہمارے دشمن بھی یہی چاہتے ہیں کہ فوج کی توجہ دفاع سے ہٹا کر اور مسائل میں لگا دی جائے۔ ہمارے کچھ نا سمجھ دانشور یہ نہیں سمجھتے کہ مضبوط دفاع ہماری ضرورت ہے اور مضبوط دفاع کے لیے مضبوط فوج ہماری مجبوری بھی ہے اور ضرورت بھی ہے۔ دنیا کی کوئی بھی فوج پاک فوج جیسی نہیں ہے کیونکہ ہمارے سپاہی صرف اور صرف ملک کی خدمت کو ہی مقدم سمجھتے ہیں۔ ملک میں جب بھی قدرتی آفت آئی چاہے وہ زلزلہ ہو، بارش ہو، کوئی حادثہ ہو یا پھر سیلاب ہو پاک فوج ہی آپریشن میں پیش پیش ہوتی ہے۔ اور یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ اگر پاک فوج کسی بھی ناگہانی صورتحال میں بروقت نہ پہنچے تو جانی اور مالی نقصان کہیں زیادہ ہو۔

ہمارے میڈیا اور سول سوسائٹی کو چاہیے کہ پاک فوج کے امیج کو بہتر سے بہتر کرنے لیے اپنا کردار ادا کرے تاکہ دنیا پر یہ بات واضح ہو جائے کہ ہمارے عوام ہی پاک فوج کا اثاثہ ہیں اور پاک فوج کی " ورکنگ " ہی ہمارے وطن پاکستان کا اثاثہ ہے۔ خدا کرے کی کہ پاک فوج کی " ورکنگ " یونہی جاری رہے تاکہ ہمارا ملک اندرونی اور بیرونی سازشوں اور خطرات سے محفوظ رہے، آمین !

ٹیگز

Comments

امجد طفیل بھٹی

امجد طفیل بھٹی پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں اور نیشنل انجینیئرنگ سروسز (نیس پاک) میں سینئر انجینیئر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ آپ مختلف اردو روزناموں اور ویب سائٹس کے لیے سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں