مفقود آغوش - اسامہ الطاف

اسلام اور کفر کے مابین جنگ ازلی ہے، دعوت محمدیہ ﷺ کے ابتداء میں اہل اسلام مغلوب تھے۔ 13سال کی محنت کے بعد پہلی اسلامی ریاست وجود میں آئی۔ مدینہ میں اسلامی حکومت کا قیام کامیابیوں کی عظیم داستان کی ابتداء تھی۔ غزوہ بدر میں اسلام کی غیر یقینی فتح کے بعد جزیرہ عرب سے کفر کا سورج غروب ہونے لگا، حتیٰ کہ فتح مکہ میں اسلام جزیرہ عرب میں مکمل طور پر غالب آگیا۔ پیغام اسلام جزیرہ عرب کے اطراف تک پہنچا، روم اور فارس کی عظیم قوتیں اس پیغام کے سامنے نہیں ٹھہر سکیں۔ تین صدیوں تک اسلام کفر پر غالب رہا۔ پھر مسلمان اندرونی فتنوں میں پھنس گئے، اسلامی خلافت پر ملوکیت کا اثر ہونے لگا، حتی کہ کفر نے ایک بار پھر سر اٹھایا، ایک بار پھر اسلام اور کفر کی طویل جنگ شروع ہوئی، کبھی غلبہ اہل اسلام کے نصیب میں ہوتا، کبھی کفار مسلمانوں پر امتحان و ابتلاء کی صورت میں مسلط ہوجاتے۔ صدیوں طویل یہ جنگ جاری رہی اور حق و باطل کی رسہ کشی چلتی رہی۔ لیکن گزشتہ صدی میں کفر نے اسلام پر ایک کاری ضرب لگائی، عالم اسلام میں ایک ایسا عجیب و غریب حادثہ رونما ہوا جو اس سے قبل نہیں ہواتھا۔ مسلمانوں سے ان کا طرّہ امتیاز چھین لیا گیا اور انہیں چھوٹے بڑے ممالک میں تقسیم کردیا گیا۔ یہ حادثہ خلافت کا خاتمہ ہے، وہ خلافت جو وحدت اسلامی اور اجتماع کی ضامن تھی، اسلامی اخوت اورجسد واحد کے مفہوم کی تنظیمی شکل تھی۔ خلافت کے خاتمے کے ساتھ کفار نے اہل اسلام پر فکری یلغار کی جس سے مسلمانوں میں یہ احساس ہی ختم ہوگیا کہ خلافت کا وجود ضروری ہے۔ آج مسلمانوں کو اپنے حالات دیکھ کر افسوس تو ہوتا ہے لیکن وہ اجتماعی اور سیاسی مرض کی تشخیص کرنے میں ناکام ہوتا ہے جس کے باعث امت کو ان تکالیف و مشکلات کا سامنا ہے۔

ہماری نئی نسل کی تاریخ اسلامی سے اس قدر آشنائی ضروری ہے کہ وہ خلافت کے وجود اور خاتمہ میں فرق جانیں اور خلافت کے قیام کے ضرورت محسوس کریں۔ چونکہ آج کل برما میں مسلمانوں پر مظالم موضوع سخن ہے، اس لیے تاریخ اسلامی میں مظالم کے واقعات اور خلیفہ کے کردار کے کچھ شواہد کا تذکرہ مناسب ہے:

سن 90ہجری میں سندھ کے علاقے میں ڈاکوؤں نے مسلمان تاجروں کے قافلے پر حملہ کیا اور راجہ داہر کی خاموش رضا مندی پر ان کو قید کرلیا۔ قافلے میں شامل خواتین نے حجاج بن یوسف (عراق کا گورنر)سے دہائی کی۔ ان خواتین کا پیغام حجاج تک پہنچا تو اس نے امداد کے لیے عبد اللہ بن نہبان کی قیادت میں فوج روانہ کی لیکن عبداللہ بن نہبان شہید ہوگئے اوریہ فوج ناکام ہوگئی۔ حجاج نے دوسری فوج روانہ کی، اس فوج کی قیادت بدیل بن طہفۃالبجلی کررہے تھے، یہ فوج بھی ناکام ہوئی اور بدیل شہید ہوگئے۔ حجاج یکے بعد دیگر شکست پر غضب ناک ہوا اور محمد بن قاسم کی قیادت میں بڑی فوج تیار کی۔ محمد بن قاسم ؒایران کے ذریعے موجودہ پاکستان کی حدود میں داخل ہوئے، مختلف علاقوں کو فتح کرتے ہوئے سندھ پہنچے اور 92ہجری میں راجہ داہر کو شکست دیں کر مظلوم خواتین کو بازیاب کرایا۔

دوسرا واقعہ خلافت عباسیہ کا ہے، سن 233ہجری میں نصاری نے عموریہ شہر پر حملہ کیا اور نصاریٰ نے اپنے عادت کے مطابق عام شہریوں پر مظالم ڈھائے۔ ان شہریوں میں کچھ خواتین نے خلیفہ معتصم کو پکارا "وا معتصما!"۔ معتصم جذباتی خلیفہ تھا، اس نے فوراً فوج روانہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ خلیفہ کے دربار میں کچھ نجومیوں نے پیش گوئی کی کہ جنگ میں شکست کا قوی خدشہ ہے اور خلیفہ کو اپنے حساب و اعداد سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اس ماہ میں جنگ ہونا مسلمانوں کے حق میں نہیں، لیکن خلیفہ نے عزم کرلیا تھا، اس لیے پیچھے نہیں ہٹا اور خود فوج کے ساتھ عموریہ روانہ ہوا۔ نصاریٰ سے جنگ لڑی، عظیم الشان فتح حاصل کی اور شہریوں کونصاری کے ظلم سے نجات دلائی۔

تیسرا تاریخی واقعہ اندلس میں پیش آیا۔ اندلس کی تاریخ میں ایک عجیب شخص امارت پر فائز ہوا، اس کا نام محمد ابن ابی عامر تھا۔ انتہائی عالی ہمت اور بہادر امیر تھا۔ اس کے زمانہ امارت میں اندلس کے شمال میں قائم نصرانی ممالک اندلس پر بار بار حملہ آور ہوتے۔ محمد ابن ابی عامر نے مستقل حملوں کے جواب میں سالانہ دو مرتبہ (ایک دفعہ گرمی میں اور ایک دفعہ سردی) میں جہاد کامعمول بنالیا، یوں نصرانی ممالک صلح پر مجبور ہوگئے۔ صلح نامہ کے مطابق تمام مسلمان قیدیوں کی رہائی ضروری تھی۔ دونوں فریقین نے صلح نامہ پر عمل کیا اور اندلس میں جنگ بندی ہوگئی۔ ایک مرتبہ اندلس کا وفد نصرانی مملکت میں کسی غرض سے گیا، وفد نے مختلف مقامات کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران معلوم ہوا کہ تین مسلمان خواتین کسی کنیسہ میں کام کرنے پر مجبور ہیں اور وہ واپس اندلس جانا چاہتی ہیں، وفد نے واپسی پر امیر کو واقعہ کی خبر دی تو امیر نے فوج کو تیاری کا حکم دیا اور اپنی فوج کے ساتھ نصرانی مملکت پر حملہ آور ہوا۔ نصرانی مملکت کی حکومت نے جنگ بندی کے زمانے میں لشکر کشی پر حیرانگی ظاہر کی تو مسلمانوں نے مجبور خواتین کا بتایا۔ صلح نامہ کی شرط یاد دلائی، نصرانی حکومت نے خواتین کی خبر سن کر اسلامی لشکر سے معذرت کی، اور ان خواتین کو فوراً رہا کیا۔

یہ تھی اسلام کی عظمت جب مسلمانوں کا رکھوالا خلیفہ کی صورت میں موجود تھا لیکن جب مسلمانوں نے خلافت کے عظیم منصب کی قدر نہیں کی تو یہ نعمت چھن گئی اور اہل اسلام بے یار و مددگار ہوگئے۔