ریڑھی والا پوزیشن ہولڈر، ریڑھی والا ہی نہ رہ جائے - عبد الباسط بلوچ

میٹرک کے رزلٹ آ چکے،جشن بھی ہیں آنسو بھی ۔ کسی پر باپ کا سایہ ہی نہیں تو کوئی کسی مزدور کا بیٹا،ہر ایک کی الگ داستان ہے۔یہ پوزیشن ایک بڑی کامیابی ہے، ریڑھی چلا کر،مزدوری کرکے بھی پہلی پوزیشن پر آ گئے جبکہ اچھے مہنگے سکولز، بہترین ٹیوشنز،ماں باپ کی توجہ،بہترین پک اینڈ ڈراپ سروس،لیکن پھر بھی کوئی نمایاں پوزیشن نہیں ۔ امتحانات میں تو پوزیشنز حاصل نہ کر پانے والے تو اچھے مقامات پر پہنچے میں کامیاب ہو ہی جاتے ہیں۔ افسوس مجھے ان کے پہنچنے کا نہیں بلکہ افسوس اس نظام پر ہوتا ہے جس میں یہ باور کروا یا جاتا ہے کہ تم نے محنت کی ،پوزیشن لی، اعلیٰ کارکردگی دکھائی ،لیکن تم ایک عام آدمی ہو۔ تمہاری سفارش کرنے کے لیے کسی پرائیوٹ نمبر سے ،بڑے دفتر سے اور بڑی لینڈ کروزر سے کوئی نہیں آیا اس لیے تم کسی اچھی پوسٹ پر نہیں جا سکتے ۔اگر چلے بھی گئے تو چل نہیں سکتے۔تمہارے لیے لے دے کر پولیس ،فوج یا پھر سکول ماسٹر کی نوکری ہی ہے،اگر مزید چھلانگ لگائی تو لیکچرر ہی بن پاؤ گے۔ٹاپ کی یونیورسٹی میں داخلہ نہیں مل سکتا ،کیونکہ تمہاری فیس ادا کرنے کی اوقات نہیں۔ کسی پبلک یونیورسٹی میں بڑی مشکل سے داخلہ ملے گا اور آخر کار اخراجات ،ماحول کو نہ سمجھتے ہوئے واپس اپنی اصل پر چلے جاؤ گے۔پھر تمہیں ماں کی دوائی ،باپ کی بیماری کے لیے وہی گولڈ میڈل بیچنا پڑے گا اور تم اس زعم سے باہر آ جاؤ گے کہ تم بھی کچھ تھے اور ہو۔

وزیر اعلیٰ کے اقدامات قابل تعریف ہیں اگر ان میں پائیداری ہو۔میں ایسے پوزیشن ہولڈرز کو جانتا ہوں جو فیس نہ ہونے کی وجہ سے ادھار مانگ کر داخلہ اور خیراتی اداروں کے پیسوں سے ہاسٹل فیس ادا کرنے پر مجبور ہوئے ۔بہت سا وقت ان کاموں میں لگا کر اچھی تعلیمی کارکردگی نہ دکھا سکے اور پہلے سمسٹر سے ہی آؤٹ ہو کر مایوسی کا شکار ہو گئے۔ہر سال غریب پہلی پوزیشنز پر آ کر پھر منظر سے یوں غائب ہو جاتے ہیں جیسے تھے ہی نہیں۔پھر گورنمنٹ کی طرف سے ملنے والی رقم کے چکروں میں تعلیمی چکر بھول جاتے ہیں ۔

اس نظام تعلیم نے رٹّے باز ہی پیدا کیے ہیں ،اس پر باپ پھر کبھی سہی۔لیکن موثر نظام نہ ہونے کی وجہ سے بہت سارے گوہر ضائع ہو جاتے ہیں۔باقاعدہ کونسلنگ نہ ہونے سے بچے سمجھ نہیں پاتے کہ اب کہاں جائیں۔اس لیے ایک نظام ہونا چاہیے جو ان بچوں کو گاہے گاہے باور کرواتا رہے اور ان کو ان کی منزل تک پہنچائے۔ورنہ غریب والدین ملنے والے پیسوں سے گھر ،پلاٹ تو بنا لیں گے ،بچے کے مستقبل کو ہمیشہ کے لیے تباہ کر دیں گے۔پوزیشنز لینا آسان لیکن ان کو قائم رکھنا بہت مشکل ہے ۔

Comments

عبدالباسط بلوچ

عبد الباسط بلوچ

شعبہ صحافت سے خاص محبت رکھنے والے۔ ایم ایس سی کیمونیکیشن اسٹڈیز، ایم فل اسلامک سٹڈیز اور اب پی ایچ ڈی جاری

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */