مایوس دانشوروں کے نام سڑک چھاپ صحافی کا پیغام - فیض اللہ خان

عجیب ترین قوم ہے یہ باس، کل جب آٹھویں نمبر کی ٹیم ہندیوں کو دھول چٹا رہی تھی تو عین انھی لمحات میں بانوے عالمی کپ کے فاتح کے کینسر اسپتال کے لیے نصف گھنٹے میں ریکارڈ پندرہ سے بیس کروڑ جمع ہوئے اور سب سے اہم ترین بات یہ تھی کہ ایک خاتون نے عمران خان کو چار کروڑ کا چیک اس شرط پر دیا کہ خدا کے نام پر کی جانے والی اس نیکی کی کوئی تشہیر نہیں ہوگی، کسی کو ان کا نام بتایا جائے گا نہ تصویر دکھائی جائے گی۔

حیدر آباد سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے اپنی جائیداد کے کاغذ شوکت خانم اسپتال کے حوالے کردیے۔ ایسے ہی ایک دل والے نے دو کروڑ کا چیک خان صاحب کو تھما دیا۔ ایک سفید ریش امیر کے ساتھ ان کے چھوٹے پوتے بھی شریک محفل تھے، جو موبائل پہ میچ بھی دیکھ رہے تھے، اور اپنے دادا سے چیک لیے اس طویل قطار میں ہنسی خوشی کھڑے تھے، جو اسپتال کے لیے چندہ دینے والوں نے بنا رکھی تھی۔ کتنی عجیب بات ہے نا، لینے والوں کے بجائے دینے والوں کی قطار۔ دادا اور پوتوں کے چہرے پہ مسرت اور تبسم چھپائے نہیں چھپ رہا تھا، اس خاندان کی تیسری نسل نیکی کے رستے پر پورے اطمینان کے ساتھ گامزن تھی۔

دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں سے شروع ہونے والی رقم کروڑوں میں پہنچی اور اسی اثناء میں پاکستان کی جیت کی خبر آگئی اور پنج ستارہ ریستوران میں بیٹھی ایلیٹ کلاس نے تکبیر و پاکستان زندہ باد کے نعرہ لگا ڈالے۔

میری بدقسمتی دیکھیے، بانوے کا ورلڈکپ جس وقت ہو رہا تھا، اباجی مجھے مدرسے چھوڑنے کے لیے لے جا رہے تھے. کل نوکری کچھ اس نوعیت کی تھی کہ افطار شارع فیصل پہ ہوئی اور اپنا فیصلہ بھی میچ نہ دیکھنے کا تھا۔

موت و حیات جیسے معاملے والے میچ کو چھوڑ کر کچھ دیوانوں نے دستر خوان معمول کے مطابق سجا رکھے تھے اور گاڑیاں روک روک اپنی طرف بلاوے دے رہے تھے، ایک ایسے ہی اسٹال سے ہم نے بھی کھجوریں لیں، افطار کیا اور چل پڑے ۔

طویل عرصے بعد ایسے خوشی ملی ہے، ابھی تک یقین نہیں ہوتا کہ ہم یہ کر گئے۔
غریب ترین ممالک میں سے ایک ملک کے باسیوں کا ایسا ایثار ، لاجواب۔
بہت عجیب ہے نا یہ قوم۔
?

Comments

فیض اللہ خان

فیض اللہ خان

فیض اللہ خان 11 برس سے رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ طالبان سے متعلق اسٹوری کے دوران افغانستان میں قید رہے، رہائی کے بعد ڈیورنڈ لائن کا قیدی نامی کتاب لکھی جسے کافی پذیرائی ملی۔ اے آر وائی نیوز کے لیے سیاسی، سماجی، عدالتی اور دہشت گردی سے متعلق امور پر کام کرتے ہیں۔ دلیل کے ساتھ پہلے دن سے وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.