پاکستان کیا کرتا؟ ابو محمد

پاکستان کے نصیب میں ہندوستان، افغانستان و ایران جیسے پڑوسی لکھے تھے تو پاکستان کیا کرتا۔ آخر کیا کرتا جب ہندوستان نے ہم سے کشمیر چھینا، حیدرآباد دکن چھینا، جونا گڑھ چھینا، مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنایا، سیاچن چھینا تو پھر کیا پاکستان کا قصور بنتا ہے کہ انہیں انگلی کیوں کی؟ عالمی اداروں نے ہمارے ساتھ کیا کیا؟ کیا نصف صدی گزرنے کے بعد، ایک لاکھ لاشوں، زخمیوں اور قیدیوں کے بعد بھی کشمیریوں کو انصاف ملا؟ آزادی ملی؟ آج ستر سال ہونے کو آئے، پاکستان کیا کرتا آخر؟ کیا ہمیں ہندوستان کی دشمنی اور کشمیر کی اہمیت ثابت کرنے کے لیے بھی کسی دلیل کی ضرورت ہے؟ پاکستان نے بہرحال اپنا مسئلہ گراؤنڈ پر زندہ رکھنا تھا اور وہ رکھے گا۔ یہ ایک حقیقت ہے اور پاکستان کی کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے مخالفین کو اس حقیقت کو سمجھ لینا چاہیے.

دوسری طرف افغانستان نے پہلے دن سے پاکستان کو تسلیم نہیں کیا، اب تک ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ حل نہیں ہوا، وہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان پر اپنا حق جماتا ہے، اس نے تخریب کاروں کو اپنے ہاں پناہ دی، ٹریننگ دی، پاکستان میں تخریب کاری کروائی، مگر پاکستان نے خاموشی سے سب سہا، اور جب افغانوں پر سوویت قبضے کی صورت میں مشکل آئی تو پاکستان نے ہر طرح سے افغانوں کی مدد کی. جب سوویت یونین ارد گرد کی ریاستوں میں خون کے سُرخ و سیاہ چھینٹے بکھیرتا افغانستان پہنچا تو یہ پاکستان ہی تھا جس کی مدد سے افغانیوں نے سوویت یونین کو نکالا، دنیا کی سب سے پڑی پناہ گزیں کالونی بن کر انھیں پناہ دی، اس سے جڑے نقصانات برداشت کیے. ظاہر ہے اس عمل میں پاکستان کا بھی مفاد تھا، اسے سرخ ریچھ سے بچنا تھا. اگر کوئی سمجھنا چاہے کہ روس افغانستان میں پہاڑ چاٹنے آیا تھا، اگر کوئی روس کے پچھلے سو سال کے ماضی سے نظریں چُرا کر اسے منفی ہی لینا چاہے تو کیا کہا جا سکتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ پاکستان نے جنگ کو اپنے دروازے تک پہنچنے سے پہلے ہی روک دیا اور یہی اس کے حق میں بہتر واحد راستہ تھا.

اور ابھی دو دن قبل ایرانی چیف آف آرمی اسٹاف نے پاکستان کو حملے کی دھمکی دی ہے. اس گیدڑ بھبکی کو ایرانی سرکاری ٹی وی نے خوب کوریج دی. چند دن پہلے کسی کو سنا تھا کہ کیا کبھی ایران نے پاکستان کو دھمکی دی؟ کیا کبھی ایرانی ٹی وی نے پاکستان کے خلاف پراپیگینڈا کیا؟ اس طبقے سے سوال ہے کہ کیا اب سکون ہے؟ اور یہ کوئی پہلا موقع نہیں تھا جب ایران نے پاکستان کو دھمکی دی ہو۔ کیا کبھی پاکستان نے کہا کہ کوئٹہ قتل عام کے ملزمان کو ایران پناہ دیتا ہے، پاکستان میں مذہبی دہشت گردی و ٹارگٹ کلنگ کرنے والے کالعدم گروہوں اور ہندوستانی کلبھوشنوں کو ایران پناہ دیتا ہے، کراچی دہشت گردی کے عزیر بلوچ و بلوچستان علیحدگی پسندوں کو ایران پناہ دیتا ہے، تو اب پاکستانی افواج ایران میں گھس کر کارروائی کریں گی۔ یا کہا ہو کہ پاکستان ایران کے شہر چاہ بہار کو سازشوں کا مرکز ہونے کی وجہ سے نشانہ بنائے گا. کیا کبھی پاکستان نے ایسا کہا؟ نہیں کہا نا. مگر ایرانی جرنیل کو معلوم ہونا چاہیے کہ اب تک تم نے اڑتے دیکھے ہیں، پھنستے نہیں دیکھے.

ایران کا پاکستان کے خلاف سابقہ کردار بھی دیکھ لیں۔ ایران نے کھلم کھلا مسئلہ کشمیر پر او آئی سی میں پاکستان کے خلاف اور ہندوستان کی حمایت میں ویٹو کیا، ورنہ او آئی سی متحد ہو کر اقوام متحدہ میں آواز اٹھاتی، اور آج مسئلہ کشمیر کہیں اور کھڑا ہوتا. ایران پاکستان کو اپنی کالونی سمجھ کر یہ سوچتا رہا کہ پاکستان اس کے اشاروں پر چلے گا، جو ممکن تھا نہ ہے. پاکستان ایک الگ ملک ہے، اس کے دنیا سے تعلقات ہیں، پاکستان ایران کا کرایہ دار یا تنخواہ دار نہیں. ہاں! ایران نے ہمیشہ اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کیے، چاہے وہ فیصلے پاکستان دشمنی پر ہی مبنی کیوں نہ ہوں لیکن ہم مانتے ہیں کہ ایران کو اس کی آزادی تھی. ہندوستان کے حق میں مسئلہ کشمیر کو ویٹو کرنے پر، یا ہندوستان سے عسکری معاہدوں پر، یا چاہ بہار بندرگاہ کو مودی کے حوالے کرنے پر ہمیں اعتراض نہیں۔ البتہ پاکستان میں موجود ایران کے حمایتی گروہ سے سوال بنتا ہے کہ جب ایران نے گوادر منصوبے کے مقابل ہندوستان سے مل کر چاہ بہار بنائی، جب اس نے پاکستان کے سب سے بڑے دشمن ہندوستان سے عسکری دفاعی معاہدے کیے، تو کسی دانشور نے چھینک بھی نہ ماری، لیکن دوسری طرف جب پاکستان ایک مشترکہ فوج کا حصہ بننے لگا تو ان دانشوروں کو خون کی الٹیاں لگ گئیں، فقط اس لیے کہ اس میں ایرانی مفادات کا نقصان تھا؟

اب یہ نوبت آئی ہے کہ ایران نے پاکستان کو کھلم کھلا حملے کی دھمکی دی ہے لیکن اس طبقے پر سکوت مرگ طاری ہے. ایران نواز طبقے میں سے کسی ایک رہنما کی جانب سے بھی ایران کی مذمت کا بیان نہ آ سکا، ایک ٹویٹ بھی نہ آ سکی۔ آخر کیوں؟

Comments

FB Login Required

ابو محمد

ابو محمد وکیل و مینیجمنٹ پروفیشنل ہیں، حالات حاضرہ اور ملکی و بین القوامی سیاست پر نظر رکھے ایک جہاں گرد ہیں دلیل کےلیے لکھتے ہیں۔

Protected by WP Anti Spam