خواب سنبھال کے رکھو - ریاض علی خٹک

وہ ایک عام دن تھا. اُس عام دن بھی مانچسٹر سے لندن ٹرین اپنے وقت پر پلیٹ فارم سے نکلی. سب کچھ معمول پر تھا. عام سے مسافر اپنے عام سے معمولات کے لیے سفر پر تھے. اُسی ٹرین پر ایک عام سی لڑکی بھی مسافر تھی. وہ لڑکی جو ایک عام سی رائٹر تھی. وہ جس کی چند سہیلوں کے علاوہ شاید کوئی جانتا بھی نہ تھا کہ وہ لکھتی بھی ہے، لیکن لکھنا اُس کا خواب تھا.

منزل کی طرف دوڑتی ٹرین میں سیٹ کی پشت سے سر لگائے اچانک ایک کہانی کا پلاٹ اُس کے ذہن میں آیا. ایسے جیسے کوئی منظر مکمل جزئیات کے ساتھ پردے پر چل رہا ہو. وہ سیدھی ہو کر بیٹھ گئی. اُس نے بے قرار ہو کر قلم نکالا اور لکھنا شروع کردیا. یہ 1990ء کا سال تھا.

ایک خواب نے لفظوں کی شکل لینی شروع کردی. لیکن خواب لاٹری نہیں ہوتے. خواب تعبیر مانگتے ہیں. تعبیروں میں وقت لگتا ہے. اور اُس وقت میں زندگی رواں ہوتی ہے. خواب وہی تعبیر ہوتے ہیں جن کو اس چلتے سفر میں سینے سے لگائے رکھا جائے، ان کی تکمیل کی جائے.

اُس عام سی لڑکی نے بھی اپنا خواب لکھنا شروع کردیا، لیکن اچانک زندگی نا مہربان ہوگئی. طویل عرصے سے بیمار اُس کی والدہ اسی سال چل بسی. وہ تنہا رہ گئی. کچھ عرصہ بعد وہ پرتگال انگریزی پڑھانے کی استاد کی نوکری کرنے چلی گئی. وہاں ایک شخص سے اس کی ملاقات ہوئی. یہ ملاقات جلد ہی شادی کے بندھن میں بندھ گئی. زندگی کو کچھ قرار آیا. ایک بیٹی ہوئی. لیکن ان کی شادی شدہ زندگی جلد ہی بحران کا شکار ہوگئی. ان میں طلاق ہوگئی.

اُس کی زندگی کی کہانی کے ساتھ اُس کے اس خواب کی کہانی تب بھی چل رہی تھی. وہ اپنی بیٹی کو لے کر لندن آگئی. اب اُسے اپنے ساتھ ایک بچی کو بھی پالنا تھا. مشکلات مزید بڑھ گئیں. اُس نے سرکاری خیرات کے لیے اپلائی کرلیا. وہ معاشرے کے نچلے درجے کے معیار پر آگئی. لیکن اپنا خواب اُس نے قائم رکھا. اُس کا قلم اب بھی چلتا رہا. اور اسے مکمل کر لیا.

یہ بھی پڑھیں:   قصہ ایک فلم اور ادھورے خواب کا - سعدیہ مسعود

اپنا یہ خواب لے کر اُس نے پبلشرز کے چکر لگانے شروع کر دیے. کسی نے زیادہ لفٹ نہ کرائی. لندن کے 12 بڑے پبلشرز نے انکار کر دیا. ایک سال بعد ایک چھوٹے سے پبلشنگ ادارے نے اسے چھاپنے کی حامی بھری. یہ پبلشنگ ادارہ بلومزبری تھا. جس نے صرف پندرہ سو پونڈ کے ایڈوانس پر 1997ء میں یہ کہانی چھاپ دی.

یہ کہانی ہیری پوٹر کی تھی، اور اس کی مصنفہ عام سی لڑکی جے کے رولنگ تھی. 1997ء میں چھپنے والی اس کہانی کی اب تک 400 ملینز سے زیادہ کاپیاں بک چکی ہیں، اور اس پر بنی فلمیں گھر گھر دیکھی جا رہی ہیں. اور رولنگ برطانیہ کی تاریخ کی سب سے کامیاب خاتون لکھاری مانی جاتی ہے.

Comments

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک خیبر پختونخوا کے کوہساروں سے روزی روٹی کی مشقت پر سندھ کے میدانوں میں سرگرداں, تعلیم کیمسٹ کی ہے. تحریر دعوت ہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.