فیس بک سے کتاب تک - حمزہ شبیر کشمیری

گزشتہ روز استاد محترم جناب مولانا زاہد الرشدی کی معیت میں ایک سیمینار میں حاضری کا موقع ملا، جس کا عنوان ”مذہبی فکر اور عصری تقاضے“ تھا۔ نام سے ہی جدت پسندی کی جھلک ہمارے سامنے عیاں ہو جاتی ہے۔ جس سے اس سیمینار کے مقاصد، اس میں ہونے والی گفتگو، سوالات اور اس کے پیچھے کارفرما مقاصد کا خوب اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ احقر کی رائے میں اگر اس سیمینار کو ”فساد معاشرہ میں مولوی کا کردار“ کے عنوان سے معنون کر دیا جاتا تو بےجا نہ ہوتا۔

دراصل اس سیمینار کا انعقار چند ایک فیس بکی دانشوروں نے مل کر کیا تھا، جس میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کو مدعو کیا گیا تھا جن میں استاد محترم مفکر اسلام مولانا زاہد الراشدی صاحب، مفتی محمّد خان قادری، جناب امانت رسول صاحب اور علامہ خلیل الرحمٰن صاحب سر فہرست تھے اور یہی سب حضرات سوالات کے جوابات عنایت کرنے پر بھی مامور تھے۔ پہلی نشست کے اندر انتظامیہ کی جانب سے کچھ سوالات علماء پر اٹھائے گئے۔ جن کے تسلی بخش جوابات انہیں بروقت دیے گئے۔

دوسری نشست میں ایک کتاب کے لیے تقریب رونمائی کی رسم ادا کی گئی۔ کتاب کا موضوع تھا ”اسلام پر ملائیت کے اثرات“، جو ایک معروف فیس بکی دانشور رانا تنویر عالمگیر نے مدون کی۔ مختلف احباب کو اسٹیج پر بلا کر کتاب کی مدح سرائی کروائی گئی۔ لیکن مدعو کیے جانے والے افراد میں ایک شخص ایسا بھی تھا جس نے بغیر کسی خاطر مدارت کے حق گوئی کے پہلو کو ہاتھ سے نہ جانے دیا اور یہ بات شاید انتظامیہ و دیگر نام نہاد دانشوروں کو گراں بھی گزری۔ اس شخص کا اسم گرامی امانت رسول ہے۔ جنہوں نے کہا کہ اگر وہ اس موضوع پر ذاتی تحریر شدہ مواد کو اشاعت کی نظر کردیں تو کم از کم بھی 20 کتب تیار ہو سکتی ہیں۔ لیکن میں اپنے 40 سالہ تجربہ کی روشنی میں یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ یہ ایک لایعنی موضوع ہے، ایک لا حاصل بحث ہے اور اس میں الجھنا بے معنی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   درس نظامی اور غلط ترجیحات - رعایت اللہ فاروقی

خیر بوقت رخصت ایک نسخہ ہمیں بھی عنایت کیا گیا۔ چند صفحات کے مطالعہ ہی سے یہ بات میرے سامنے عیاں ہو جاتی ہے کہ اس کتاب کی حقیقت فیس بک اور دیگر سوشل پلیٹ فارمز سے دین، مولوی اور مدارس پر کیے جانے والے اعتراضات کے مجموعہ کے سوا کچھ بھی نہیں۔

اس کتاب کے اندر مدارس پر کئی ایک اعتراضات اٹھائے گے ہیں۔ جن کی حقیقت محض بد گمانی اور کم علمی کے اور کچھ بھی نہیں۔ کچھ اعتراضات جو اس کتاب میں بھی درج ہیں خود رانا صاحب نے اسٹیج پر موجود علماء کے سامنے بھی رکھے، جن کے انہیں مناسب جوابات بھی دیے گئے۔ جیسا کہ مدارس کو حکومت کی تحویل میں دینے کے حوالہ سے بھی سوال کیا گیا۔ اور استاد محترم نے اس کا مناسب جواب دیتے ہوئے اس کے اثرات اور نتائج کی زندہ مثال کے طور پر دو، تین مدارس کے نام بھی گنوائے جو اب کوئی کھنڑرات معلوم ہوتے ہیں۔

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ایک اہم نکتہ کا ذکر ذیل میں کر دیا جائے تا کہ اعتراضات کی صورت میں کم فہمی کو با خوبی جان لیا جائے۔ اس کتاب کے صفحہ نمبر 53 پر مدارس کے اندر نصاب کی تبدیلی کا ذکر کرنے کے بعد وہ رقم طراز ہیں کہ :

”بہت سے علماء یہ تجویز دے رہے ہیں کہ میٹرک یا انٹر تک تعلیم کو سب کے لیے لازمی قرار دے دیا جائے اور اس کے بعد مدارس میں داخلہ دیا جائے۔ یہ طالب علم کی مرضی پر ہو کہ وہ مذہبی تعلیم کی طرف جانا چاہتا ہے یا عصری علوم کی طرف جانا چاہتا ہے، میرا خیال یہ ہے کہ یہ ایک بہترین تجویز ہے۔“

اس پر پہلا سوال تو یہ ہے کہ بہت سے علماء سے آپ کی مراد کیا ہے؟کس مستند عالم دین نے کس موقع پر اس رائے کا اظہار کیا ؟ اگر نہیں کیا تو اپنی ذاتی رائے کو علماء کی رائے قرار دے کر آپ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ میٹرک یا انٹر تک تعلیم کے بعد مدرسہ میں داخلہ کی بات کرتے ہیں۔ درس نظامی کے بعد میٹرک اور انٹر کی کیوں نہیں ؟؟کبھی اپنی تاریخ اٹھا کر بھی دیکھی یا پھر مغربی تعلیم، تہذیب و ثقافت کے مطالعہ سے فرصت ہی نہ ملی؟ تاریخ اسلام اس بات پر شاہد ہے کہ دینی تعلیم ہر دور میں ایک مسلمان کی بنیادی و ابتدائی تعلیم رہی ہے۔ آپ کا کیا کہنا ہے کہ اسلامی تاریخ کو عملا مسخ کر رکھ دیا جائے ؟؟؟ یا آپ کی طرح تاریخ سے نظریں چرا کر حقیقت کو پس پشت ڈال دیا جائے؟یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ اس کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ اس کی بنیاد لہو کی ندیوں پر ہے۔ اسے سیکولر بنانے کی کوشش میں اپنا قیمتی وقت ضائع نہ کیجیے۔ آپ سے پہلے بھی ہزاروں لوگ یہ نظریہ لیے کوشش کر چکے ہیں۔ ان کی تاریخ بھی اٹھا کر پڑھ لیجیے:

یہ بھی پڑھیں:   کچھ کمی تو ہے! مولانا محمدجہان یعقوب

اپنی مٹی پے چلنے کا سلیقہ سیکھو

سنگ مر مر پے چلو گے تو پھسل جاؤ گے