کہیں حرج نہ ہو جائے! ام الہدیٰ

گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کی پرنسپل اپنے کام میں مصروف تھیں جب فون کی گھنٹی بجنے لگی۔ سکرین پر بوائز ہائی سکول کے جونئیر کلرک کا نمبر جگمگا رہا تھا۔ شاید پھر سے انسپیکشن کی اطلاع دینی ہو! وہ سوچنے لگی تھیں۔ انہی سوچوں میں انہوں نے فون اٹینڈ کیا اور بہت شور کے درمیان کلرک کی آواز گونجی۔
’’السلام علیکم میڈم جی! میڈم کیسی ہیں آپ؟‘‘
’’وعلیکم السلام، اللہ کا شکر ہے، میں ٹھیک ہوں بچے! کون آ رہا ہے آج انسپیکشن کے لیے؟‘‘ پرنسپل نے سوال کیا۔
کلرک: ’’میڈم! نہیں نہیں، کوئی انسپیکشن نہیں ہے، آپ کی تھوڑی سی مدد چاہیے آج، اس لیے فون کیا ہے!‘‘
پرنسپل: ’’جی کہیے؟‘‘
کلرک: ’’وہ میڈم میں نے پوچھنا یہ تھا کہ میں اب تک 500 نئے داخلے کر چکا ہوں سکول میں، آگے بھی کرتا رہوں یا بند کر دوں؟ آپ لوگ بھی تو کر رہے ہوں گے نا داخلے، تو مجھے بتائیں میں کیا کروں۔۔۔‘‘
پرنسپل چونکتے ہوئے گویا ہوئیں: ’’تو داخلے آپ خود کیوں کر رہے ہیں؟ یہ تو آپ کا کام نہیں ہے۔ باقی عملہ کہاں ہے؟‘‘
کلرک: ’’میڈم میرے علاوہ تمام عملے کی ’مردم شماری‘ کی ڈیوٹی لگی ہوئی ہے۔ اور پرنسپل صاحب ویسے چھٹی پر ہیں، تو اس لیے داخلے میں خود ہی کر رہا ہوں۔‘‘
پرنسپل: ’’اوہ اچھا، تو سکول پھر بند ہوگا۔۔‘‘
کلرک: ’’نہیں میڈم! سکول بھی کھلا ہے۔ بند نہیں کیا۔ کیونکہ یکم اپریل کے بعد سے سکول بند نہیں کر سکتے، اب کیا پتہ عملہ کب فارغ ہو کر واپس آئے۔‘‘
پرنسپل: ’’لیکن آپ نے ابھی تو بتایا کہ عملہ تو ہے ہی نہیں، نہ ٹیچنگ سٹاف، نہ پرنسپل، اور آپ کے سکول میں تو بچے بھی 2300 ہیں۔ اور آپ اکیلے ہیں۔‘‘
کلرک : ’’بس میڈم جی دیکھ لیں ایسا ہی ہے۔‘‘
پرنسپل: ’’تو کیا کرتے ہیں آپ اتنے بچوں کے ساتھ سارا دن؟‘‘
کلرک (تھکے ہوئے سے انداز میں): ’’میڈم جی صبح اسمبلی کے وقت سب بچوں کو سکول میں گھسا کر مین گیٹ لاک کر دیتا ہوں اور چھٹی کے وقت کھول دیتا ہوں۔‘‘
پرنسپل: ’’اور درمیان کے وقت کیا کرتے ہیں بچے؟‘‘
کلرک: ’’گلی ڈنڈا اور کرکٹ کھیلتے ہیں سارا دن میڈم۔‘‘
پرنسپل:’’ارے تو سکول بند کیوں نہیں کر دیتے ایسے میں؟‘‘
کلرک: ’’میڈم! وہ وزیراعلیٰ صاحب کا حکم ہے کہ سکول کھلے رکھنے ہیں، تاکہ مردم شماری کی وجہ سے بچوں کی تعلیم کا حرج نہ ہو۔ بہت سخت آرڈر ہیں!‘‘
پرنسپل لاجواب تھیں مگر گورنمنٹ آف دی پنجاب کا نعرہ ’’پنجاب کا ہر بچہ، لگے سکول میں اچھا!‘‘ یاد آ گیا۔ اور انہوں نے یہی کلرک کو کہہ سنایا کہ آرڈر تو پھر کسی ایڈمشن کو انکار نہ کرنے کے بھی ہیں۔ جس پر کلرک نے جواب دیا:
’’میڈم تو پھر بچوں کو بٹھائیں گے کہاں؟‘‘
پرنسپل: ’’سکول کو ڈبل شفٹ کر دیں نا، ہماری طرح!‘‘
کلرک: ’’اور میڈم ڈبل شفٹ کا عملہ کہاں سے آئے گا، جو ابھی پہلا ہی نہیں ہے!‘‘
پرنسپل: ’’وہ پھر بعد کا مسئلہ ہے، ابھی پہلے آرڈر کے مطابق داخلے تو جاری رکھیں۔۔‘‘

اس کے بعد وہ کال تو منقطع ہوگئی، اور طلبہ و طالبات کی غیر حاضری اور کم ایڈمشن کی وجہ سے اپنی تذلیل برداشت کرتا رہنے والا عملہ اپنے کام میں مصروف ہو گیا مگر ایک کال اب بھی آ رہی ہے، اگر گھنٹی کی آواز سنی جا سکے۔

اساتذہ کا کام ملک کے مستقبل کو سنوارنا ہے، یہی وہ واحد مقصد ہے جس کو پس پشت ڈال کر ہمارے ہاں اس مقدس پیشے سے وابستہ ہستیوں کو آبادی کا حساب لگانے پر لگا دیا گیا ہے۔ طلبہ کے کردار کو سنوارنے کے بجائے سڑکوں پر اور گلی کوچوں میں خوار ہوتے، حکومتی حکام نہیں، قوم کے معمار ہیں۔ اور جہاں تعلیم کے میدان کا یہ حال ہو، وہاں نوبت اعلیٰ حکومتی عہدیداران کے پروٹوکول کی وجہ سے ایمرجنسی میں بھی انتظار کرنے سے لے کر دو وقت کی روٹی کے لیے قرضہ لینے تک آہی جاتی ہے۔ بہت خوبصورت ہے یہ نعرہ کہ ’’پنجاب کا ہر بچہ لگے سکول میں اچھا!‘‘ مگر کیا بچہ سکول میں گلی ڈنڈا کھیلتا اور استاد سڑکوں پر گرمی میں بے حال ہوتا، رسوا ہوتا بھی اتنا ہی اچھا لگتا ہے؟

Comments

ام الہدی

ام الہدی

ام الہدیٰ ایم فل لنگویسٹکس کی طالبہ ہیں۔ پبلک اسپیکر ہیں۔ لکھنا، اور سوشل میڈیا کے آلٹرنیٹ استعمال کو فروغ دینا مشغلہ ہے۔ سوال اٹھانے سے پہلے مسائل کی وجوہات کو اجاگر کرنا اور ان کے سدِباب کی کوشش کرنا ان کا عزم ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.