جنگل، درندے اور بندر - حسن تیمور جکھڑ

کسی جنگل کا بادشاہ شیر مر گیا۔ اس کے بعد سب جانور اکٹھے ہوئے اور متفقہ طور پر ایک متحرک قسم کے بندر کو بادشاہ بنا دیا۔ بادشاہ نے تمام رعایا کی موجودگی میں جنگل کی حفاظت کا حلف لیا۔ خدا کی کرنی یہ ہوئی کہ کچھ ہی روز بعد جنگل میں ساتھ کے جنگل سے کچھ درندے گھس آئے اور معصوم جانوروں کا شکار شروع کردیا۔ فوری طور پر اس امر کی اطلاع بادشاہ سلامت کو دی گئی جنہوں نے جنگل کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھائی تھی۔ بادشاہ سلامت فوری طور پر متحرک ہوئے اور اپنی قیام گاہ سے نکل کر دوسرے درخت پہ چڑھ گئے، پھر دوسرے سے تیسرے پہ کودے، وہاں سے چوتھے درخت پر جا چڑھے۔ اسی اچھل کود کے دوران درندے اپنا کام کر کے واپس نکل لیے۔ کچھ امن ہوا تو سب جانور اکٹھے ہو کر بادشاہ سلامت کے پاس پہنچنے اور ان سے ان کے حلف بارے استفسار کیا۔ اس پر بادشاہ سلامت نے وہ تاریخی جملہ بولا جو رہتی دنیا تک کے تمام بندروں کی بقا کی ضمانت بن گیا۔ سنہری حروف سے لکھے جانے والے الفاظ کچھ یوں تھے کہ’’کوشش توبڑی کی تھی لیکن آگے جو اللہ کی مرضی‘‘۔

یہ اللہ کی مرضی بھی انگریزی کے لفظ سوری کی طرح مجرب نسخہ ہے جس کا بروقت استعمال بڑی سے بڑی مشکل صورتحال سے آپ کو یوں نکال لیتا ہے جیسے ’دودھ میں سے مکھی‘ کو نکالاجاتا ہے

بات اس جنگل سے نکل کر دوسرے جنگل کی جانب بڑھتی ہے۔ قانون کی بالادستی اور انصاف کی موجودگی کے بغیر معاشرے جنگل ہی ہوا کرتے ہیں۔ پاکستان بھی ایسا ہی ایک جنگل ہے، جس پر حکومت تو شیر کی ہے مگر حفاظت کا حال بندر بادشاہ جیسا ہے.

لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں دھماکوں، فاٹا میں پولیٹکیل ایجنٹ کے دفتر پر حملے کے بعد سیہون شریف میں ہولناک سانحے کے بعد ملک بھر میں حفاظتی اچھل کود جاری ہے۔ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہے۔ ہر مرتبہ ہی ایسے حملوں کے بعد بھاتے ہوئے دہشتگردوں کی کمر مزید توڑدی جاتی ہے، ہفتے کے دوران دس بیس ’خطرناک دہشتگرد‘ بھی کیفر کردار تک پہنچا دیے جاتے ہیں، اب کی بار پہلے دن ہی تعداد 100 بتائی گئی ہے. (حاسدین اکثر انہیں پہلے سے پکڑے گئے چور، قاتل اور ڈکیت قرار دیتے ہیں)۔ ایسی بروقت اور کامیاب کارروائیوں کے بعد لگتا ہے کہ اب ملک میں کوئی دہشت گرد باقی نہیں رہا۔ ہر مرتبہ ہی حکمران ہار نہ ماننے، ڈٹ کر لڑنے اور کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہیں۔ (حالانکہ وہ قربانی دیتے بھی نہیں)۔ کچھ وقت گزرتا ہے تو سب اچھا کی رپورٹ پیش کی جانے لگتی ہے، کہ ٹھیک اسی وقت ’ٹوٹی کمر والے‘ جانے کہاں سے آتے ہیں اور سب کے سامنے اپنا کام کرکے حکمرانی دعووں پر کالک مل دیتے ہیں، اور ایک مرتبہ پھر سے وہی ’اچھل کود‘ شروع ہوجاتی ہے۔ آگے جو اللہ کی مرضی

دکھ اس بات کا ہے کہ جنگل کے باسی درندوں کاشکار بنتے ہیں، ظلم سہتے ہیں اور واویلا بھی کرتے ہیں، مگر وہ راستے بند نہیں کرتے جن سے وہ درندے ان کے گھر میں گھستے ہیں۔ یہ قبروں پر تو مٹی ڈالتے ہیں مگر ان گڑھوں کو نہیں بھرتے جن سے نکل کر وہ درندے ظلم ڈھاتے ہیں۔ یہ ان تمام وجوہات پہ غور نہیں کرتے، ان کا سدباب نہیں کرتے جن کی وجہ سے وہ درندے بآسانی انہیں شکار بنالیتے ہیں۔

یہ اپنے حکمران چنتے وقت خود بےوقوف بن جاتے ہیں اور اس کے بعد سارا عرصہ حکمرانوں کو گالیاں دیتے پائے جاتے ہیں۔
یہ اپنی حفاظت کی ذمہ داری ان پر ڈالتے ہیں جو خود اپنی حفاظت کےلیے قلعےتعمیر کرنے پہ مجبور ہیں۔۔
یہ اپنے فرائض تو ادا نہیں کرتے مگر حقوق کی فکرمیں غلطاں وپیچاں رہتے ہیں۔

تھوڑے سے ذاتی مفاد کے لیے بڑے قومی مفاد کو پیچھے پھینکنے والے یہ ’الو‘ صحیح معنوں میں کرپٹ ’شیروں‘ اور بے دماغ ’بندروں‘ کے ہاتھوں ذلیل ہونے کے مستحق ہیں، کیوں کہ خدا بھی ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مددآپ کے اصول کو مانتے اور عمل کرتے ہیں۔

Comments

حسن تیمور جکھڑ

حسن تیمور جکھڑ

حسن تیمور جکھڑ شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ سماجی موضوعات پہ لکھنا پسند ہے۔ میڈیا عروج کے اس دورمیں بھی سنسر پالیسی سے خائف ہیں، اس لیے سوشل میڈیا اور دلیل کو اظہار کا ذریعہ بنایا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.