ہوم << مسلمانوں کی حالت زار اور بےحس حکمران - ڈاکٹر سیما سعید

مسلمانوں کی حالت زار اور بےحس حکمران - ڈاکٹر سیما سعید

فرعون کی پیروکار مسلمانوں سے خوفزدہ ‏دنیا کی طاغوتی طاقتیں انھیں صفحہ ہستی سے مٹانے کے درپے ہیں. امریکہ، برطانیہ، اسرائیل اور بھارت مسلم دنیا میں جگہ جگہ اپنے اپنے ہاتھ مسلم خون سے رنگ رہے ہیں. عراق، شام، افغانستان، پاکستان، کشمیر و فلسطین میں جاری ظلم وستم ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں، مقصد مسلم دنیا کو ہدف بنانا اور انھیں آپس میں لڑانا اور منتشر کرنا ہے. برما، شام، عراق، فلسطین، افغانستان، کشمیر، وسطی افریقہ ہر جگہ مسلم نسل کشی جاری ہے۔
لیکن مسلم حکمران سو رہے ہیں جیسے یہ قیامت تک رہیں گے، ظالم کو اس حد پہنچانے والے ان کے ہاتھ مضبوط کرنےوالے، بےحس مسلم حکمران ہی ہیں. انھیں اُمت مسلمہ سے زیادہ اپنے ذاتی مفادات عزیز ہیں اور اپنے اقتدار کے بچاؤ کی خاطر، کسی اقدام سے بھی دریغ نہیں کرتے. میانمار میں بدھ فوجی ٹولہ کی زیرسرپرستی دہشت گرد کھلے بندوں مسلمانوں کے قتل عام میں مصروف ہیں، اور کوئی ان کا ہاتھ روکنے والا نہیں۔ ننگے بدن ننگے پیر جان بچانے کے لیے بےسرو سامان نکلنے والے دہشت گرد قرار پاتے ہیں، وہ جو صدیوں سے ظلم سہنا جانتے ہیں مگر ظلم کے خلاف آواز اٹھانا نہیں جانتے، ایک ہی دن میں سینکڑوں افراد بدترین تشدد اور قتل عام کا نشانہ بنادیے جاتے ہیں، سینکڑوں زندہ جسموں کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کردیا جاتا ہے، عورتوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی ہوتی ہے. مگر یہ سب سن کر ہم نے آنکھ اور کان بند کر رکھے ہیں.
اس وقت بدترین صورتحال شام کی ہے جسے بشارالاسد نے کھنڈر بنادیا ہے. ہزاروں بچوں کو زندہ دفن کردیا اور لاکھوں لوگوں کو شہید، صرف 2016ء کے دوران 5 لاکھ شہید، 16 لاکھ زخمی، ایک کروڑ سے زائد دربدر۔ کشمیر میں جاری تحریک کے دوران بھارتی فوجیوں کے ظلم اور درندگی ڈھکی چھپی نہیں۔ بھارت میں بھی مسلمان شہریوں سے بدترین سلوک اور گجرات کے مسلم کش فسادات کسی کے ذہن سے ابھی محو نہیں ہوئے. فلسطین غزہ میں یہودی قابض فوج کی جارحیت اور قتل وغارتگری امت مسلمہ کو درپیش سنگین ترین مسائل میں سے ایک ہے جس کے نتیجے میں لاکھوں مسلمان کو نسل کشی کا سامنا ہے، عراق کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی. مصر افغانستان وسطی افریقہ ہر جگہ مسلمان ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں۔ عالمی برادری خاموش تماشائی ہے، عیش وعشرت کے دلدادہ مسلم حکمران اپنی مستی میں مست اقتدار سے محرومی کے خوف میں مبتلا ہیں۔ ان کی بھوک اور ہوس اقتدار اور عیش و طرب میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ ان بےحس حکمرانوں کو خود ہم ہی نے اپنے سروں پر مسلط کر رکھا ہے تو کیا ہم بھی بےحسی کے اس جرم میں شریک ہیں. یہ سوال ہر اس فرد کو اپنے ضمیر سے پوچھنا چاہیے جس کا دل ان مظالم پر کڑھتا ہے۔

Comments

Click here to post a comment