ہوم << علامہ اقبال اور قرآن - عادل لطیف

علامہ اقبال اور قرآن - عادل لطیف

عادل لطیف تحریر کے دو رنگ ہوتے ہیں، پہلا نثر اور دوسرا شاعری، شاعری کو بلا واسطہ یا بالواسطہ علم کلام بھی کہہ سکتے ہیں. شاعری نثر کو چند لفظوں میں سمو دینے کا کمال، فن اور صلاحیت ہے، شعر کہنے کی صلاحیت خداداد ہوتی ہے، کوئی شخص اپنی مرضی اور منشاء سے شعر نہیں کہہ سکتا. قرآن کریم میں رب کریم نے ایسی شاعری کی مذمت بیان فرمائی ہے جو افراط و تفریط، غلو، مبالغہ آرائی اور کذب بیانی پر مبنی ہو اور ایسی شاعری کی تحسین فرمائی ہے جس میں روح کی پاکیزگی کا نور ہو، جو شاہراہ حیات کے مسافروں کے لیے قندیل ایمانی کا کام دے. شعراء میں شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال ایک ایسے شاعر ہیں جن کی شاعری سے زندگی کی پر پیچ وادیوں میں بھٹکنے والے راہی، سمت منزل کی تعیین میں رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں. علامہ اقبال کی شاعری میں تاریخ اسلام کے عظیم الشان کرداروں اور اس کی لافانی سچائیوں کی خوشبو مہکتی ہے. خود اقبال کے الفاظ میں یہ اعجاز ان کی شاعری کا نہیں قرآن کا ہے، بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ علامہ اقبال کی شاعری قرآن کریم کی منظوم تشریح ہے. علامہ اقبال فرماتے ہیں
گر دلم آئینہ بے جوہر است
ور بہ حرفم غیر قرآں مضمر است
تنگ کن رخت حیات اندر برم
اہل ملت را نگہدار از شرم
روز محشر خوار ورسوا کن مرا
بے نصیب از بوسئہ پا کن مرا
اے حضور پاک صلي اللہ عليہ وسلم اگر میرے دل کا آئینہ بے جوہر ہے، اجلا اور شفاف نہیں، اور اگر میرے کلام میں قرآنی فکر کے علاوہ کچھ اور چھپا ہوا ہے تو میرا جامہ زندگی میرے جسم پر تنگ کر دیجیے، اور ملت اسلامیہ کے افراد کو میرے شر سے محروم کر لیجیے. اے میرے حضور صلي اللہ عليہ وسلم اگر ایسا ہو تو قیامت کے دن مجھے ذلیل و رسوا کر دیجیے اور سزا کے طور پر مجھے اپنے پائے مبارک کو بوسہ دینے سے محروم فرما دیجیے.
جہان شعر و سخن میں ہے کوئی دوسرا جسے اپنے معجزہ فن پر ایسا اعتماد ہو. علامہ اقبال کے اندر قرآن کریم سے عشق ومحبت کا جذبہ ان کے والد کی تربیت کی وجہ سے پیدا ہوا تھا، ان کے والد کی عادت تھی کہ وہ تہجد کے وقت مسجد جایا کرتے تھے. ایک دن انھوں نے علامہ کو تلاوت کرتے ہوئے دیکھا تو کہا بیٹا تم قرآن پڑھتے ہو، سمجھ بھی آتا ہے، والد صاحب نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ قرآن اس طرح پڑھو جیسے تم پر نازل ہو رہا ہو، تبھی تو علامہ نے فرمایا تھا
تیرے وجود پر نازل نہ ہو اگر کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازی نہ کشاف
اب ہم قرآن کریم کی مختلف آیات کے ترجمے پر مبنی علامہ اقبال کے اشعار نقل کرتے ہیں.
1۔ [pullquote]یاايھا الناس انتم الفقراء الي اللہ واللہ غني حميد (فاطر آیت نمبر15)[/pullquote] اے لوگو! تم سب اللہ کے محتاج ہو اور اللہ بےنیاز ہے.
علامہ اقبال اپنی فارسی رباعی میں فرماتے ہیں
تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روز محشر عذر ہائے من پذیر
ور حسابم را تو بینی ناگزیر
از نگاہ مصطفی پنہاں بگیر
(اے رب ذوالجلال! تیری ذات اقدس دونوں جہانوں سے غنی ہے اور میں ایک فقیر خستہ جاں ہوں)
(اقبال کے یہ جاودانی اشعار، ان کی کسی کتاب میں ہیں نہ کلیات میں، وجہ اس کی یہ ہے کہ اقبال نے یہ رباعی ایک عاشق رسول رمضان عطائی کو دے دی تھی، اس لیے اقبال نے اپنے کلام میں اس کو نہیں چھپوایا۔)
2۔ [pullquote]وقال نوح رب لا تذر علي الارض من الكافرين ديارا (نوح آیت نمبر26)[/pullquote] (اور نوح نے یہ بھی کہا اے میرے پروردگار ان کافروں میں سے کوئی ایک باشندہ بھی زمین پر باقی نہ رکھیے)
علامہ اپنے شعر میں یوں بیان کرتے ہیں
دل مرد مؤمن میں پھر زندہ کر دے
وہ بجلی کہ تھی نعرہ لا تذر میں
3۔[pullquote] ياايھاالذين امنواتقواللہ وقولو قولا سديدا (الاحزاب آیت نمبر70)[/pullquote] (اے ایمان والوں اللہ سے ڈرو اور سیدھی اور سچی بات کہو)
علامہ اس آیت کو یوں منظوم کرتے ہیں
ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن نئی شان
گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان
4۔ [pullquote]خلق لكم من انفسكم ازواجا لتسكنوا اليھا (الروم آیت نمبر21)[/pullquote] (اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان کے پاس جاکر سکون حاصل کرو)
اقبال کا مشہور شعر ہے
وجود زن سے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
یہ مذکورہ آیت کا منظوم ترجمہ ہے
5۔ [pullquote]قل ان كنتم تحبون اللہ فاتبعوني يحببكم اللہ (آل عمران آیت نمبر31)[/pullquote] (کہہ دو اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو اللہ تم سے محبت کرے گا)
علامہ اس کو یوں منظوم کرتے ہیں
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں
6۔ [pullquote]محمد رسول اللہ والذين معہ اشداء علی الكفار رحماء بينھم (الفتح آیت نمبر29)[/pullquote] (محمد اللہ کے پیغمبر ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے حق میں تو سخت ہیں اور آپس میں رحم دل)
علامہ کا مشہور شعر ہے
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
اقبال کے مجموعہ کلام میں سے نمونے کے طور پر یہ چند مثالیں پیش کی ہیں. وطن عزیز میں مصور پاکستان کی فکر کو عام کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ کلام اقبال سوئے ہوئے دل ودماغ پر ضرب لگائے گا، خوابیدہ جذبوں کو لرزش دے گا، سوئی ہوئی امنگ کو بیدار کر دے گا اور پھر غفلتوں کے خاکستر میں دبی ہوئی چنگاری فروزان ہو جائے گی مگر کون سمجھائے میرے ملک کے دانشوروں کو جو مرعوبیت کی بنا پر اپنے تہذیبی ورثے اور اخلاقی میراث کے متعلق نہ صرف یہ کہ خود احساس کمتری میں مبتلا ہیں بلکہ دوسروں کو بھی مغربی تہذیب اپنانے کا درس دیتے ہیں. انہیں کون بتائے کون سمجھائے کون آخر کون کہ
جسے حقیر سمجھ کر تم نے بجھا دیا
وہی چراغ جلے گا تو روشنی ہوگی

Comments

Click here to post a comment