ہوم << میں بتاتا ہوں کیا ہوگا - سہیل احمد

میں بتاتا ہوں کیا ہوگا - سہیل احمد

سہیل احمد جب اس ملک میں سیاسی، علاقائی، صوبائی اور نسلی تعصب انتہا کو پہنچ جائے گا، جب لوگ اپنے لیڈروں کے اقتدار میں آنے کی ذاتی خواہش کو اس ملک کے مسائل کا حقیقی حل سمجھ بیٹھیں گے اور اس کے خاطر باہم گتھم گتھا ہونے میں کوئی عار اور شرم محسوس نہیں کریں گے، جب ملک کی سلامتی کے لیے اخوت اور بھائی چارہ قائم رکھنے کا خیال ہمارے لیڈروں اور ان کے پیچھے چلنے والی عوام کے دلوں سے یکسر نکل جائے گا، جب ملکی سلامتی کے ادارے محب وطن دینی طبقے کو اپنا حقیقی دشمن تسلیم کر بیٹھیں گے اور اپنی تمام تر توانائیاں اور توجہ ان کی سرکوبی میں صرف کرنے کو مقصد بنا بیٹھیں گے، جب اس ملک کے نظریاتی اور جغرافیائی دشمنوں سیکولر اور مغرب پسند لوگوں کو سلامتی کے اداروں کا دست و بازو اور اتحادی تصور کیا جانے لگے گا، جب فرقہ واریت پھیلانے کا الزام لگا لگا کر دینی طبقے کی محبت کو لوگوں کے دلوں سے نکالا جا چکے گا، جب کھلم کھلا جاسوس اور ملک دشمن لوگوں کو حالات خراب ہونے کا بہانہ بنا کر تحفظ فراہم کیا جانے لگے گا، جب بیرونی خواہشات کی تکمیل کو اس ملک کی حقیقی پالیسی قرار دیا جانے لگے گا، جب مغرب اپنے مالیاتی اداروں اور ملک میں موجود پالیسی سازوں کی صورت اپنے ایجنٹوں کے ذریعے اس ملک کی معیشت کو تباہ کرنے سے فارغ ہوکر ہمیں پائی پائی کا محتاج بنا بیٹھےگا، جب مغرب اپنی این جی اوز کے ذریعے اس ملک کے چپے چپے میں معاشرتی اور سماجی سطح پر ہمیں ہماری روایات اور مذہبی واخلاقی ذمہ داریوں سے دور کر چکے گا اور ہمیں ذہنی اور اخلاقی طور پر مفلوج کر بیٹھے گا، جب مغرب ہماری جغرافیائی سرحدوں پر دشمنوں کی سرپرستی کر کے انتشار اور بے چینی کو عروج پر پہنچا کر ہماری ملک بچانے والی قوت کو کئی قسم کے محاذوں میں الجھا کر ملک کی اندرونی سلامتی سے مکمل طور پر غافل کروا چکے گا. جب مغرب اپنے ایجنٹوں کے ذریعے اسلامی دنیا میں اس کے مرغوب کارڈ شیعہ سنی فساد کو کھیلنے میں کامیاب ہو چکے گا....
تب.... تب.... تب....
جب ملک ہر قسم کی خرابیوں اور مسائل کی آماج گاہ بن کر کمزور سے کمزور ہو چکے گا اور تعصب وانتشار کا لاوا پوری طرح پک جائے گا اور ان مسائل کی طرف توجہ دینے کا خیال کسی کو نہیں آئے گا. ..
تب ایک واقعہ ہوگا....
تب ایک واقعہ ہوگا....
کیا آپ بے نظیر کے قتل اور اس کے ردعمل میں ملک میں لگنے والی آگ کو بھول گئے ہیں؟
وہ کہتے ہیں کہ دشمن حملہ کرکے داخل ہوگا، اس لیے اپنا دفاع ناقابل تسخیر بناؤ.
جبکہ حقیقت کہتی ہے کہ وہ صرف سنبھالنے آئیں گے، جسے ہم اپنے ہاتھوں سے تباہ کر چکے ہوں گے.
خاکم بدہن...
اللہ تعالیٰ ہم سب کو عقل عطا فرمائے اور حقیقی معنوں میں اس ملک کا خیر خواہ بنائے. اور دشمن کی تمام سازشوں کو محض اپنی مدد و نصرت سے ناکام بنائے. آمین.

Comments

Click here to post a comment