ہوم << منٹو کیوں فحش نگار ٹھہرا؟ رحمان گل

منٹو کیوں فحش نگار ٹھہرا؟ رحمان گل

رحمان گل محترمہ زینی سحر صاحبہ نے منٹو صاحب کے ایک بیان کو لے کر ان پر ایک تنقیدی مضمون لکھا ہے جس میں وہ شکوہ کناں ہیں کہ منٹو صاحب شریف زادیوں کی شرافت سے کیونکر غافل رہے ہیں۔ شکوہ تو ان کا بجا ہے کہ منٹو صاحب کیوں غافل رہے۔ اب اگر منٹو صاحب ہوتے تو وہ اس کا خاطر خواہ جواب دیتے۔
میں ایک سوال کرنا چاہتا ہوں کہ ایک طوائف، ایک ویشیا، ایک ٹکھیائی آخر کیونکر ان کے افسانے میں ہیروئن نہیں آ سکتیں۔ آخر اس میں کیا قباحت ہے؟ ایک طوائف کیا اس لیے ہیروئن نہیں آ سکتی کہ وہ نام نہاد شریف مردوں کی غلاظتیں صاف کرتی ہے؟ یہ بجا کہ شریف زادیوں کہ دکھ گہرے سہی مگر اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ ایک ویشیا جو کہ ایک عورت بھی ہے اس کو کوئی دکھ نہیں۔ کیسا منافق معاشرہ ہے کہ طوائف ہمیشہ سے نام نہاد شرفا مردوں کا گند صاف کرتی آئی ہے مگر اس کو کوئی بھی عزت دینے کو تیار نہیں۔ اس کہ ساتھ راتیں تو بسر کی جا سکتی ہیں مگر دن میں کوئی نام لینا گوارا نہیں کرتا۔ کیوں کہ وہ ویشیا ہے طوائف ہے۔ ایسے حالات میں اگر ایک منٹو ویشیا کی بات کرتا ہے تو سب نام نہاد شرفا فحش فحش کے نعرے لگاتے لٹھ لے کر دوڑ پڑتے ہیں منٹو کے پیچھے۔ کیا اس کو اس لیے ہیروئن نہیں آنا چاہیے کہ اس کے ہیروئن آنے سے معاشرے کی غلاظتیں سامنے آتی ہیں۔ کیسا دستور ہے کہ برائی کی نشاندہی کرنے والا فحش ٹھہرتا ہے۔
اگر آپ سوال کریں کہ سعادت حسن منٹو کون ہے تو بہت سے لوگ جواب دیں گے کہ جی وہ تو ایک فحش نگار تھا اور عوام کی اکثریت اس بات کو سچ مانتی ہے۔ حالانکہ اس بات میں رتی برابر بھی سچائی نہیں۔ منٹو کا کام بہت متنوع ہے اس نے تراجم کیے، ریڈیو کے لیے ڈرامے لکھے، فلم سکرپٹ، خاکے، مضامین، افسانے اور انکل سام کے نام خطوط لکھے۔ اس کے افسانے صرف طوائف کے گرد نہیں گھومتے اور بھی بہت سے معاشرتی موضوعات خصوصاً نفسیاتی موضوعات پر قلم اٹھایا اور حق ادا کیا۔ پھاہا، نیا قانون، دھواں، آرٹسٹ لوگ، ہتک، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ننگی آوازیں، انقلاب پسند، بو، کھول دو، ٹھنڈا گوشت، لائسنس، صاحب کرامت اور سرکنڈوں کے پیچھے اس کے چند افسانے ہیں انہیں ایک بار پڑھ لیجیے امید ہے آپکی رائے بدل جائے گی۔ یہ درست ہے کہ منٹو کا قلم بہت سفاک تھا اور وہ کسی لگی لپٹی کے بغیر بات کرتا تھا شاید اسی لیے فحش ٹھہرا۔
منٹو کے وہ تمام افسانے جن پر فحاشی کا مقدمہ قائم ہوا اس نے عدالت میں جا کر ثابت کیا کہ وہ فحش نگار نہیں اور یہ سب روداد کتابی شکل میں موجود ہے۔ اور ہاں منٹو نے ایک بار کہا تھا کہ ”مجھ میں جو برائیاں ہیں وہ اس عہد کی برائیاں ہیں، میں اس تہذیب کی چولی کیا اتاروں گا جو ہے ہی ننگی۔ میں اسے کپڑے پہنانے کی کوشش بھی نہیں کرتا کہ یہ میرا کام نہیں درزیوں کا کام ہے۔ ہاں لوگ مجھے سیاہ قلم کہتے ہیں لیکن میں تختہ سیاہ پر کالی چاک سے نہیں لکھتا سفید چاک استعمال کرتا ہوں کہ تختہ سیاہ کی سیاہی اور نمائیاں ہو۔“

Comments

Click here to post a comment