ہوم << شیر کا کیا قصور؟ جاوید الرحمن قریشی

شیر کا کیا قصور؟ جاوید الرحمن قریشی

جاوید قریشی چڑیا گھر میں کسی آدمی نے ایک شیر متعارف کروایا اور اس پر پچاس روپے ٹکٹ لگا دیا۔ پاکستان میں عموما بڈھے، لاغر، کمزور قسم کے شیر ہی پائے اور دکھائے جاتے ہیں۔ لیکن ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا بلکہ بعض جگہوں پر انتہائی عمدہ نسل کے، بھرپور جوان شیر اور شیرنیاں بھی ہوتی ہیں۔ انہیں چڑیا گھر میں ایک وسیع و عریض پنجرے میں بند کر کے عوام کو دکھایا جاتا ہے۔ وہاں شیر کو دیکھنے کے لیے ٹکٹ بھی لگایا جاتا ہے، جو ایک جانور کی انتہائی توہین ہے۔ جانور کی تو کوئی کیا توہین کرسکتا ہے، شاید یہ انسان اپنی ہی توہین کر رہا ہوتا ہے کہ جس مخلوق کو اللہ نے آزاد پیدا کیا، انسان اس بے زبان مخلوق کو قید میں غلام بنا کر رکھتا ہے۔ اسے اس کی فطری خوراک سے بھی محروم رکھا جاتا ہے، اور شیر اپنی شکار کی فطرت بھول کر ایک گائے بلکہ گدھابن کر چڑیا گھر والوں کے رحم و کرم پر اپنی زندگی گذار دیتا ہے۔ کسی بھی مخلوق کو اس کی فطری زندگی ، خوراک اور آزادی سے محروم کرنا پرلے درجے کی خود غرضی ہے اور انسان اس خود غرضی میں اونچے بلکہ انتہائی پست مقام پر فائز ہے۔کیا یہ انسانیت ہے کہ ایک بے زبان مخلوق کو چڑیا گھر کی عیاشی اور تفریح کے نام پر قید کر لیا جائے اور پھر اس پر ٹکٹ بھی لگا دیا جائے؟ آپ شاید مجھے خبطی سمجھ رہے ہوں، واپس کہانی کی طرف آتا ہوں۔
کافی دن پچاس روپے ٹکٹ کے اعلان کے باوجود کوئی بھی شیر دیکھنے نہ آیا۔ اور یہ ہمارے معاشرے کی ایک اور انتہائی تلخ حقیقت اور کڑوا سچ ہے کہ عام لوگ پچاس روپے خرچ کرتے ہوئے بھی سو بار سوچتے ہیں۔ ایسا ہی ایک کڑوا سچ یہ بھی ہے یہاں بہت سے ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو پچاس ہزار، پچاس لاکھ، پچاس کروڑ خرچ کرتے ہوئے ایک بار بھی نہیں سوچتے۔خیر اس نے ٹکٹ کی رقم کم کر کے پچیس روپے کر دی پھر بھی کوئی نہ آیا۔ یہ تفریح تو ویسے بھی غریب عوام کی ہے، امیر لوگوں نے تو اپنے گھروں میں شیر، چیتے اور مہنگے ترین کتے پال رکھے ہیں(بلکہ کئی تو خود شیر، چیتا، ۔۔۔ وغیرہ بنے ہوئے ہیں)۔ مزید کم کر کے پندرہ روپے، دس روپے اور آخر کار مفت کا اعلان کر دیا۔ مفت کا اعلان ہوتے ہی لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا۔ مفت اس ملک میں کوئی زہر بھی تقسیم کرے تو ہزاروں کا مجمع اکٹھا ہو جائے۔ آپ نے دیکھا نہیں کہ کیسے بڑے لوگ مفت گاڑیاں، پلاٹ، کارخانے وغیرہ حاصل کرتے ہیں؟ لوگوں کا مجمع اکٹھا ہو گیا تواس نے لوگوں کو خوش آمدید کہا اور اپنے ساتھ لے کر چڑیا گھر کے اندر داخل ہو گیا۔ لوگ جب اندر داخل ہو گئے تو اس نے چڑیا گھر کا مین گیٹ لاک کروا دیا۔
لوگ جو اپنی تفریح کے خیال میں مست تھے انہیں اس کا احساس تک نہ ہو سکا کہ ان کے ساتھ کیسا ہاتھ ہو گیا؟ گذشتہ ستر برس سے ہمارے ساتھ یہی کھیل تو کھیلا جاتا رہا ہے کہ گلقند کے روپ میں نیلا تھوتھا کھلایا جاتا رہا۔ ترقی کے نام پر ایک ہی نالی اور گٹر دس دس بار بنائے جاتے رہے۔ خوش حالی کے نام پر ملک پر قرضوں کا بوجھ بڑھایا جاتا رہا۔ امن و امان کے نام پر دہشت،وحشت، فرقہ واریت اور خون خرابہ عام ہوتا رہا۔ انصاف کے نام پر ظلم کا بازار گرم ہوتا رہا۔ صحت کے نام پر موت بانٹی جاتی رہی۔تعلیم کے نام پر جہالت اور جاہلیت کا زہر پلایا جاتا رہا۔ ضروریات زندگی کی فراہمی کے نام پر بھیک تقسیم ہوتی رہی۔ثقافت کے نام پر بے حیائی عام کی جاتی رہی۔ تفریح کے نام پر تہذیب اور مذہب کا جنازہ اٹھایا اور پڑھایا جاتا رہا۔ اب پھر آپ شاید مجھے کوئی مولوی سمجھنے لگ گئے ہوں گے، لہذا ایک بار پھر آمدم بر سرِ مطلب!
لوگ چڑیا گھر میں داخل ہوئے اور ان کے پیچھے ’کھل جا سم سم‘ کی طرح دروازہ لاک ہو گیا۔لاک کروانے کے بعد اس نے شیر کے پنجرے کا درواز ہ کھول دیا اور شیر آہستہ آہستہ لوگوں کی طرف بڑھنے لگا۔ پہلے پہل تو لوگ اسے بھی ایک تفریح سمجھے کہ ’شیر آیا، شیرآیا‘ اور خوب تالیاں پیٹیں اور سیٹیاں بجائیں۔ پورا مجمع شیر کو چلتا پھرتا دیکھ کر خوشی اور جوش سے پوری طرح آپے سے باہر ہو چکا تھا۔ اچانک انہیں احساس ہوا کہ شیر تو انہی کی طرف بھاگتا، دوڑتا، دھاڑتا بڑھتا چلا آرہا ہے۔ شیر کو یوں آتا دیکھ کر سارا نشہ ہرن ہو گیا۔ایک افراتفری مچ گئی، لوگ ادھر ادھر بھاگنا شروع ہو گئے۔ یہ بھی ہماری قومی نفسیات میں ہے کہ ہم ہر شیر کو دیکھ کر تالیاں پیٹتے ہیں۔ ہم ہر ٹائیگر اور ہر چیتے کو دیکھ کر سیٹیاں بجاتے ہیں۔ لیکن جب وہ شیر اور وہ ٹائیگر واقعی آ جاتا ہے تو ہم اپنی چوکڑی بھول جاتے ہیں۔ چناں چہ ثابت ہوا کہ قصور کسی بھی آنے والے شیر یا ٹائیگر کا نہیں ہوتا، بلکہ قصور تو عوام کا اپنا ہی ہوتا ہے۔ اب میں اس کی تفصیل کیا اور کیسے بیان کروں، عوام تو خود ہی بہت سمجھدار بنتے پھرتے ہیں۔
شیر کو اپنی طرف پوری رفتار سے آتا دیکھ کرشور مچ گیا، لوگ اس چڑیا گھر والے کو گالیاں دینے لگے۔ پتہ نہیں کیوں ہم لوگ ہمیشہ شیر کے آنے کے بعد ہی اسے گالیاں دیتے ہیں؟ کوئی مجھے یہ سمجھائے کہ کسی شیر کو گالیاں دینے سے کیا حاصل؟ کیا اس شیر کی صحت پر گالیوں سے کوئی اثر پڑ سکتا ہے؟ اور کیا گالیاں سن کر کوئی شیر اپنی فطرت تبدیل کر سکتا ہے؟ اور پھر یہ بھی کہ انسان تو خود اشرف المخلوقات ہے، اسے کسی شیر کا ڈر ہو بھی کیوں؟ المیہ یہ ہے کہ انسان ہی انسان کو شیر یا چیتا سمجھ لیتا ہے، اور پھر خود بھیگی بلی بن کر بیٹھ جاتا ہے بلکہ دم دبا کر بھاگنے لگتا ہے۔ اب اس سارے عمل میں کسی اصلی شیر کا کیا قصور؟بات پھر دوسری طرف نکل گئی، میں یہ کہہ رہا تھا کہ لوگ شیر کو دیکھ کر اس چڑیا گھر والے کو گالیاں دینے لگے، وہ یہ سب دیکھ سن کر ہنستا رہا۔ پھر لوگوں نے منتیں کرنا شروع کیں تو چڑیا گھر والے نے بڑے سکون سے کہا، ایک پیکج پر ڈیل ہو سکتی ہے۔ افسوس ، ہمارے یہاں ہر دور میں کسی نہ کسی پیکج پر ڈیل ہوتی ہی رہی ہے۔ سب نے یک زبان ہو کر پوچھا، وہ پیکج کیا ہے؟ تو چڑیا گھر والے نے کہا، باہر جانے کے فی کس دو سو روپے ہوں گے! جان کسے پیاری نہیں ہوتی، چناں چہ ہر آدمی دوسو روپے دینے کے لیے تیار ہو گیا۔ وہی لوگ جو پچاس، پچیس، پندرہ یا دس روپے تک دینے کے لیے تیار نہیں تھے اب جان بچانے کے لیے دو سو روپے کی ڈیل کرنے پر بھی تیا رہو گئے۔
صاحب! کہانی یا لطیفہ کا کوئی غلط مطلب نہ لیجیے گا۔ بلکہ صحیح مطلب اور مفہوم سمجھنے کی کوشش کیجیے گا۔ صحیح اور درست مرکزی خیال یہ ہے کہ کوئی بھی کام اور کوئی بھی رائے دینے سے پہلے سو بار نہیں تو کم از کم دو بار ضرور سوچ لیا کریں۔ اور اگر نہیں سوچیں گے تو پھر ہمیشہ آتے ہوئے مفت اور جاتے ہوئے جرمانہ دے کر جانا پڑے گا۔ کچھ سمجھ آئی ہو تو مہربانی، نہ سمجھ آئی ہو تو برا مت کہیے اور مانیے گا، شکریہ!

Comments

Click here to post a comment