ہوم << جانوروں کے حقوق اور اسلامی تعلیمات: حسنین معاویہ

جانوروں کے حقوق اور اسلامی تعلیمات: حسنین معاویہ

حسنین معاویہ
زمانہ قدیم سے جانوروں کو باربرداری اور سفری ضروریات کیلئے استعمال کیا جاتا رہا ہے ۔ پرانے زمانہ میں بادشاہوں اور عوام نے جانوروں کی سواری کی ۔ تب جہاں جانوروں سے فائدہ لیا جاتا تھا وہاں ان کے حقوق کا بھی خیال کیا جاتا تھا ۔آج کے دور میں جہاں سائنس اور ٹیکنالوجی سرپٹ دوڑ رہے ہیں وہاں جانوروں پر سفر اور باربرداری کا طریقہ بھی ختم ہو گیا ۔ باربرداری کیلئے جانور کی جگہ ٹرین اور ٹرک نے لے لی ہے لیکن اب بھی چھوٹے پیمانے پر جانوروں کو استعمال کیا جاتا ہے ۔
دیہی علاقوں اور قصبوں میں جانوروں کو مختلف کاموں میں آج بھی استعمال کیا جاتا ہے ، انتہائی افسوس امریہ ہے کہ آج کے دور کا انسان جانور کو برقی مشین سمجھ بیٹھا ہے جو کہ نہ تھکتی ہے اور نہ ہی آرام چاہتی ہے ۔ سبزی فروش اور پھل بیچنے والے آج کل ریڑھی کے ساتھ گدھا یا گھوڑا لگا لیتے ہیں جسے سارا دن بغیر کسی آرام کے ایک جگہ کھڑا رکھتے ہیں ، جہاں مناسب چھائوں ہوتی ہے نہ ہی کھانا اور پانی کا انتظام ہوتا ہے ۔ بعض مقامات پر دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض حضرات نے ریڑھی پر گنا کا جوس نکالنے والی مشین لگوا رکھی ہے اور سارا دن جانور سے مشقت لیتے ہیں ۔
دنیا کا کوئی مذہب ہو وہ انسان کے ساتھ جانوروں کے حقوق کا بھی خیال رکھتا ہے ۔ صحابہ کرامؓ جس طرح انسانوں کے درد دکھ کو نہیں دیکھ سکتے تھے اسی طرح ان کو جانوروں کی اذیت و تکلیف بھی گوارہ نہ تھی۔ حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ "جب ہم منزل پر اترتے تھے تو پہلے اونٹوں کا کجاوہ کھول لیتے تھے،پھر نماز پڑہتے تھے''۔ ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے دیکھا کہ ایک چراوہا ایک جگہ اپنی بکریاں چرا رہا ہے ان کو دوسری جگہ اس سے بہتر نظر آئی تو اس سے کہا کہ "وہاں لے جائوکیونکہ میں نے رسول ﷺ سے سنا کہـ قیامت کے دن ہر راعی سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا ـ''۔ ایک دن ایک صحابی نے فرمایا ''یا رسول اللہ ﷺ مجھے بکری ذبح کر نے پر رحم آتا ہے فرمایا ،اگر اس پر رحم کرو گے تو خدا تم پر رحم کرے گا ـ"۔
ایک دن کچھ لوگ حضرت عبیداللہ ؓ اور حضرت عبداللہ ؓ کی خدمت میں آئے اور پوچھا کہ ''ایک شخص گھوڑے پر سوار ہوتا ہے اور اس کو کوڑا مارتا ہے اس کے متعلق آپ نے رسول اللہ ﷺ سے کوئی روایت سنی ہے، بولے نہیں ، اندر سے خاتون بولیں خدا خود کہتا ہے ، "زمین کے جانور اور ہوا کی چڑیاں بھی تمہاری طرح ایک امت ہے "، یعنی قابل رحم ہے ۔ دونوں نے کہا یہ ہماری بڑی بہن ہیں ۔
جملہ احادیث اور روایات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اسلام کس طرح جانوروں کے حقوق کا خیال رکھنے پر زور دیتا ہے۔ جس طرح باہر کے ممالک میں جانوروں کے حقوق کیلئے قوانین موجود ہیں اسی طرز پر پاکستان میں بھی مئوثر قانون سازی ہونی چاہئے تاکہ انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کے بھی محفوظ ہو سکیں ۔

Comments

Click here to post a comment