ہوم << گھر میں فوتگی ہوجائے تو؟ طالبۃ الفردوس

گھر میں فوتگی ہوجائے تو؟ طالبۃ الفردوس

موت.
ہم اس دنیا میں آئے ہیں تو سب ہی کہیں نہ کہیں فنا ہوجانے سے بھاگنے کے باوجود موت کے لیے تیار ہیں.
موت کیا ہے؟
کیا کبھی ہنستے مسکراتے ہوئے موت کے بارے میں سوچا ہے؟
کسی فوتگی کے مردہ جسم کی جگہ اس چارپائی پہ خود کو محسوس کیا؟
کبھی رات کو سونے سے پہلے تصور کیا کہ یہ ہماری آخری نیند بھی ہوسکتی ہے؟
یہ جو مر جانے کا غم ہے ناں اسے پالنا پڑتا ہے. اللہ ہنسنے کھلینے اور زندگی جینے سے منع نہیں کرتا، ہاں وہ حد سے بڑھے ہوؤں کو پسند نہیں کرتا.
روزانہ لاکھوں کی تعداد دنیا میں آتی ہے، اتنی ہی چلی جاتی ہے، یہ آنے جانے کے سلسلے کے ہی ہم مسافر ہیں.
کہیں کسی مقام پر تو رک کر سوچیں.
چلیں کبھی نہیں تو ابھی اس پوسٹ کو پڑھتے ہوئے میں آپ کو ایک منٹ دیتی ہوں، اپنی آنکھیں بند کریں، ایک گہرا سانس لیں اور موت کے سناٹے کو اپنے اندر اتاریں.
باقی پوسٹ اس کے بعد پڑھیں.
..............................................
یہ جو جھرجھری آتی ہے ناں! یقین جانیے موت اس سے بھی زیادہ قریب ہے آپ کے، اتنی ہی جلد جتنا آنکھیں بند کر لینا ہے.
پهر کیا ہے اے بےخبر انسان؟ اللہ تعالیٰ بار بار پوچھتا ہے کون سی چیز تمہیں غافل کرتی ہے؟
اللہ اللہ!
یہ ہنسنے کا مقام ہے کہ یہ چند ٹکوں کا موبائل؟
یہ شودا غافل کرتا ہے؟
اس ذات سے غافل جو تمہاری زندگی اور موت پر قدرت رکھتا ہے؟
کیا ہم نے کتنے ہی لوگوں کو ہنستے کھیلتے اپنی آنکھوں سے اس دنیا سے جاتے نہیں دیکھا؟
کیا موت عمر کی تفریق سے آتی ہے؟
صرف جوانوں کو؟
بیماروں کو؟
بوڑھوں کو؟
بچوں کو؟
بیمار مرتا ہے تو کہتے ہیں کہ فلاں بیماری کھا گئی،
ہائے کینسر! آخری سٹیج پر پتہ چلا.
بوڑھا مرتا ہے تو کہتے ہیں عمر ہی تھی بیچارے کی.
جوان مرتا ہے تو کہتے ہیں ہائے ایسے بائک چلاتا نہ حادثہ ہوتا، یوں نہ کرتا یوں نہ کرتا، یوں بچ جاتا یوں بچ جاتا.
مگر مجھے یہ بتائیں.
آج تک ہونی کو کوئی ٹال سکا؟
ایک منٹ اوپر نہ ایک منٹ نیچے، عین اپنے پورے وقت پر.
..............................................
موت.
رابطے ختم ، کنکشن ختم ، مسکراہٹیں ختم، ماں کی گود کی گرماہٹ غائب، باپ کا دست شفقت سرد، بھائیوں کے سہارے مکمل، بہنوں کی آہ و بکا بےسود
موت.
آج تو رات اندھیرے سے ڈر جاتے ہیں. برے خواب سے ڈر جاتے ہیں تو فوراً مددگار بلا لیتے ہیں، اماں مجھے ڈر لگ رہا ہے. ابو اس موذی کو بھگاؤ.
بھیا وہ مجھے ستاتا ہے وغیرہ وغیرہ. .... اور کل ..
موت..
ہم سب کو ہی جانا ہے. ہم سب کو ہی تیاری کرنی ہے اس موت کی جو لذتوں کو توڑ دیتی ہے.
اس حقیقت کا خود کو پیغام نہیں دیں گے تو غافل ہو جائیں گے. دلوں پر زنگ لگ جائےگا. آنکھیں روئیں گی نہیں تو بنجر ہو جائیں گی.
..............................................
ہاں ہم سب نے مر جانا ہے. میں نے، آپ نے، ہمارے اہل و عیال نے، سب نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے. پھر یہ کیا رویہ ہوا کہ جیتے جی جن کا ہم دم بھرتے ہیں، جب ان کی روح قبض کر لی جاتی ہے تو ہم ان کو دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں. کیا ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں برہنہ حالت میں کوئی غیر دیکھے؟ اور ایسی حالت میں کہ ہم جنبش تک نہ کر سکتے ہوں؟
ہماری یہی خواہش ہوگی کہ ایسی بےبسی کی حالت میں ہمارا کوئی اپنا ہمارے پاس ہو، جو ہر طرح سے ہمارے پردے کا بھی خیال رکھے اور ہمیں اگلی منزل کے لیے اچھے سے تیار بھی کردے.
تو ایسی کمائی کر جاؤ کہ کل آپ کو اللہ کے سپرد کرنے والے عمدہ طریقے سے رخصت کریں. یہی دین کی اصل ہے. یہ اطاعت کا مقام ہے. یہی تسلیم و رضا کا حسن ہے. اتنے تھڑ دلے نہ بنیں کہ اپنے اکیلے رہ جانے کے غم میں مہمان کو عمدگی سے رخصت بھی نہ کریں.
..............................................
تو اپنے پیاروں کو پورے اعزاز کے ساتھ باپردہ غسل دے کے اپنے رب کی طرف روانہ کرنے کے لیے ازحد ضروری امر ہے. اس کا سیکھنا اور سکھانا باعث اجر و ثواب ہے. غسل میت واجب ہے (بخاری 1849)، یہ رشتہ داری کا تقاضا ہے .
اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے موقع پر صبر کرنے والوں میں شامل کرے. بلند حوصلہ بخشے تاکہ ہم اپنے پیاروں کی آخری رسومات پوری قوت برداشت صبر اور حوصلہ کے ساتھ ادا کر سکیں. اور نبی کریم فرماتے ہیں صبر تو کسی مصبیت کے آغاز میں ہی ہوتا ہے بعد میں تو صبر آ ہی جاتا ہے. یعنی آہ و بکا، گریہ، ماتم، چیخ و پکار کے بعد کہنا کہ ہم نے صبر کیا. نہیں بلکہ مصیبت کے آغاز میں بلند حوصلگی سے خود کو اور دوسروں افراد کو سنبھالنا مؤمنانہ شان ہے. آنکھیں غم سے بہتی ہیں دل نڈھال ہے مگر زبان سے وہی کہنا ہے جس کا حکم زندگی اور موت کے مالک کا ہے.
..............................................
غسل میت:
#ضروری اشیاء:
برتن، پانی، تختہ، صابن، بیری کے پتے، کافور، مٹی کے ڈھیلے، قینچی، دستانے، روئی، سوتی صاف کپڑا یا تولیہ وغیرہ
#جگہ کا انتخاب:
یہ ایک اہم پوائنٹ ہے جس کی طرف بعض اوقات توجہ نہیں دی جاتی. جگہ کے انتخاب میں پہلی بات میت کی آسانی کو مدنظر رکھنا ہے یعنی ایسی جگہ کو اہمیت دیں جہاں سہولت سے میت کو تختہ اور تختہ سے واپس چارپائی پر منتقل کیا جا سکے. خاص طور پر خواتین جو عموماً وزن اٹھانے کی عادی نہیں ہوتیں، وہ میت کو اٹھانے میں بےاحتیاطی کر جاتی ہیں. یاد رکھیے میت کے ساتھ ہر معاملے میں نرمی و نفاست کا معاملہ رکھیں اور اپنے اور میت کے پردے کا خاص خیال رکھیں.
#غسل سے پہلے کی احتیاطیں:
* میت کو سہولت و نرمی سے تختہ پر منتقل کیجیے .
* شور و غل اور بلاوجہ کی اٹا پٹخ سے پرہیز کیجیے.
* تمام اطراف سے پردے کا ازسرِنو جائزہ لیں.
* اگر کہیں اضافی چادروں سے پردہ کیا گیا ہے، دیواریں نہیں ہیں تو ان کی مضبوطی جانچ لیجیے.
* پانی ایک سٹاک کی شکل میں کسی الگ برتن میں لازمی رکھیں.
* غیر ضروری افراد کو ہٹا دیں.
طریقہ غسل:
اجر و ثواب اور اللہ کی رضا کی نیت کرلیں.
* دستانے پہن لیں.
* میت کو چادر اوڑھا دیں
* گریبان سے گھیر کی طرف بغیر کپڑے یا قینچی کے شور کے لباس کا دیجیے.
* ناک، کان اور اگر آنکھیں کھلی ہیں یا کوئی بیماری ہے روئی رکھ دیں.
* میت کے پیٹ پر ناف سے نیچے کی طرف ذرا سا دبا کر نرمی سے ہاتھ پھیریں.
* ہوسکے تو ہلکا سا بٹھا دیں.
* نرمی اور سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے احتیاط سے واپس لیٹا دیں
* میت کو استنجا کروائیں اور پردے کا خیال رکھتے ہوئے جسم کو اچھی طرح صاف کریں. مٹی کے ڈھیلوں یا پانی کا استعمال کریں اور نجاست سے پاک کر دیں .
* دستانے بدل لیجیے
* وضو کروائیں:
وضو کرواتے ہوئے اس بات کو مدنظر رکھیں کہ ہوسکے تو کلی کروائیں، وگرنہ کاٹن کی مدد سے جہاں تک ممکن ہو، منہ کا اندرونی حصہ، اسی طرح ناک کان وغیرہ صاف اور گیلی روئی سے صاف کیجیے. سختی مت کیجیے.
وضو کے بعد:
نیم گرم پانی میں بیری کے پتے ڈال لیں اور اپنے ہاتھوں کی پشت پر پانی بہا کر اندازہ کیجیے کہ پانی زیادہ گرم تو نہیں. اس کے بعد ہلکا سا کروٹ دے کر پہلے دائیں طرف پانی ڈالیں، پھر بائیں جانب، تین تین بار، کان کے اوپر ہتھیلی رکھی جا سکتی ہے تاکہ پانی اندر نہ جائے. سر کو شیمو یا صابن سے دھوئیں، پورے جسم پر صابن لگائیں.
بلاوجہ کی تیزی یا چستی کا مظاہرہ مت کریں، سہولت اور نرمی سے صابن لگا کر پانی سے دھو ڈالیں.
میت کو تین بار، پانچ بار سے زائد دفعہ بھی غسل دیا جاسکتا ہے.
آخری بار پانی میں کافور ملا لیں. بعض کافور کو غسل کے بعد جسم پر ملنے کے حق میں ہیں. دونوں میں کوئی مضائقہ نہیں.
میت کا جسم پردے کو مدنظر رکھتے ہوئے خشک کیجیے. دروان غسل کسی عیب کا پتہ چلے تو کہیں بیان نہ کریں. نرمی سہولت اور آسانی سے کفنائیے.
بعد از غسل:
اللہ کی رضا کے لیے غسل دینے کے بعد غسل دینے والا غسل کرے. یہ مستحب ہے.
واللہ اعلم بالصواب - جزاک اللہ

Comments

Click here to post a comment