ہوم << یہ دونوں ہماری بقا ہیں-جاوید چوہدری

یہ دونوں ہماری بقا ہیں-جاوید چوہدری

566527-JavedChaudhryNew-1469464911-239-640x480

صراط مستقیم دمشق کی ایک گلی کا نام ہے‘ یہ گلی رومن ایمپائر کے زمانے میں بنائی گئی تھی‘ قرآن مجید اور بائبل دونوں میں صراط مستقیم کی ترکیب موجود ہے‘ یہ ترکیب دمشق کی اس گلی کی طرف اشارہ کرتی ہے‘ آپ اس گلی کے ایک دروازے باب الجبیہ میں قدم رکھیں تو آپ سیدھا لکیر پر چلتے ہوئے دوسرے دروازے باب الشرقیہ سے نکل جاتے ہیں۔یہ دمشق اور شام کا صرف ایک حوالہ ہے‘ اس ملک کے ایک ہزار ایک حوالے ابھی باقی ہیں‘ آپ انسان کا ماضی دیکھیں‘ حال دیکھیں یا پھر مستقبل دیکھیں آپ کواس میں شام ضرور دکھائی دے گا‘ شام تاریخ کا ت اور ہسٹری کا ایچ ہے‘ آپ اسے ہٹا دیں تو تاریخ تاریخ اور ہسٹری ہسٹری نہیں رہتی لیکن یہ عظیم ملک آج کہاں کھڑا ہے؟ شام عالمی نوحہ بن چکا ہے‘ یہ پچھلے تین برسوں سے شام غریباں کا شکار ہے‘ ملک کے 70 فیصد حصے میں خانہ جنگی ہے‘ تاریخی آثار بارود سے اڑا دیے گئے ہیں اور شہر شہر‘ گلی گلی میں لاشیں پڑی ہیں‘ ایسا کیوں ہوا؟
میں دل سے یہ سمجھتا ہوں اگر شام کے پاس مضبوط فوج اور ایٹم بم ہوتا تو یہ کبھی اس صورتحال کا شکار نہ ہوتا‘ میں یہ بھی سمجھتا ہوں صدام حسین اور کرنل قذافی کے پاس بھی اگر ایٹم بم ہوتے اور ان کی فوج مضبوط ہوتی تو یہ ملک بھی برباد نہ ہوتے‘ کیا یہ حقیقت نہیں امریکا کو جب تک کیمیائی ہتھیاروں کا شک تھا اس نے عراق پر حملے کی جرات نہیں کی لیکن جوں ہی یہ شک ختم ہوا امریکا نے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی‘ کرنل قذافی نے بھی جب تک اپنا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر رول بیک نہیں کیا تھا وہ محفوظ تھا لیکن اس نے جوں ہی ایٹمی پروگرام کے نقشے تک صندوقوں میں بند کر کے امریکا کے حوالے کیے اس کو ہجوم نے سڑک پر گولی مار دی‘ لاش پر پیشاب کیا اور اسے گلیوں میں گھسیٹا‘ آپ فرض کیجیے اگر کرنل قذافی کے پاس بھی ایٹم بم اور مضبوط فوج ہوتی تو کیا وہ اور لیبیا اس انجام کو پہنچتے؟
آپ مصر کی مثال بھی لیجیے‘ مصر نے تاریخ کے پانچ خوفناک سال گزارے‘ یہ خانہ جنگی کی دہلیز پر کھڑا تھا‘ اگر مصری فوج مضبوط نہ ہوتی تو یہ بھی آج لیبیا‘ عراق اور شام بن چکا ہوتا‘ ہم جب بھی ٹھنڈے دل و دماغ سے شام‘ لیبیا اور عراق کا تجزیہ کریں گے ہمیں مضبوط فوج اور ایٹم بم کی اہمیت کا اندازہ ہو گا‘ ہم یہ ماننے پر بھی مجبور ہو جائیں گے‘ ہماری فوج اگر مضبوط نہ ہوتی تو آج سوات کی ’’اسلامی ریاست‘‘ فاٹا‘ خیبر پختونخواہ‘ گلگت بلتستان اور مارگلہ کی پہاڑیوں تک پھیل چکی ہوتی اور جنوبی پنجاب کے لشکر گاڑیوں پر سیاہ جھنڈا لہرا کر سڑکوں پر کھلے عام پھر رہے ہوتے‘ ہم یہ بھی مانیں گے ہم اگر ایٹمی طاقت نہ ہوتے تو بھارت اب تک ہمارے آٹھ ٹکڑے کر چکا ہوتا‘ یہ ہمارا ایٹم بم ہے جس نے ہمیں 1985ء سے بھارت کی یلغار سے بچا رکھا ہے اور یہ ہماری فوج ہے جس نے ہمیں دو برسوں میں دہشت گردی کے عفریت سے چھٹکارا دے دیا چنانچہ یہ دونوں ہماری سلامتی اور بقا کی ضمانت ہیں اور یہ ضمانت جس دن ہمارے ہاتھ سے نکل گئی ہمیں اس دن شام‘ لیبیا اور عراق بنتے دیر نہیں لگے گی‘ ہمیں یہ بات پلے باندھ لینی چاہیے‘ ہم فوج اور ایٹمی پروگرام دونوں پر کسی قیمت پر کمپرومائز نہیں کریں گے۔
یہ ایک حقیقت تھی‘ آپ اب چند دوسرے حقائق بھی ملاحظہ کیجیے‘ خطے میں اس وقت دو بڑی اقتصادی طاقتیں ہیں‘ چین اور بھارت‘ چین کا گروتھ ریٹ مسلسل کم ہو رہا ہے‘ یہ 15 اعشاریہ دو فیصد سے 2013ء میں 7 اعشاریہ 7 فیصدپر آیا اور یہ 2016ء میں 6 اعشاریہ 7 پر آگیا جب کہ بھارت کے گروتھ ریٹ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے‘ یہ 2013ء میں 6اعشاریہ 6 فیصد تھا اور یہ 2016ء میں 7 اعشاریہ 6 فیصد ہو گیا‘ بھارت اگر اسی رفتار سے چلتا رہا تو چین کی منڈی انڈیا میں شفٹ ہو جائے گی‘ پاکستان بھارت کی اس منزل میں رکاوٹ ہے‘ بھارت جب تک پاکستان کو بھوٹان یا سری لنکا نہیں بنا لیتا یہ ’’ٹیک آف‘‘ نہیں کر سکتا‘ چین اس حقیقت سے واقف ہے چنانچہ یہ سفارتی‘ سیاسی اور اقتصادی ہر محاذ پر پاکستان کی مدد کر رہا ہے‘ ہم اب ایک دوسری حقیقت کی طرف آتے ہیں‘ پاکستان کا وجود بھارت کی سلامتی کے لیے خطرناک ہے‘کیوں؟کیونکہ بھارت میں اس وقت علیحدگی پسندی کی 25 تحریکیں چل رہی ہیں‘ خالصتان تحریک آج بھی زندہ ہے‘ نکسل باغی بھارت کے 200 اضلاع میں حکومت بنا چکے ہیں۔
بھارت کا 92 ہزار مربع کلو میٹر کا علاقہ اس وقت ان کے کنٹرول میں ہے‘ یہ لوگ آندھرا پردیش‘ جھاڑ کھنڈ‘ اڑیسہ‘ مغربی بنگال‘ چھتیس گڑھ اور بوج مرہ میں اپنی عدالتیں اور پولیس فورس قائم کر چکے ہیں‘ یہ لوگ مہاراشٹر اور بہار کے علاقے بھی نگلتے جا رہے ہیں‘ ماؤ باغیوں کی تعداد لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے‘ یہ لوگ مسلح اور ٹرینڈ ہیں اور یہ بھارت کے لیے خوفناک چیلنج بنتے جا رہے ہیں‘ آسام‘ تری پورہ اور ناگا لینڈ میں بھی تحریکیں چل رہی ہیں اور مقبوضہ کشمیر بھی مسلسل دہکتا جا رہا ہے‘ بھارت کا خیال ہے یہ تحریکیں آج تک پاکستان کی وجہ سے کامیاب نہیں ہو سکیں‘ باغی یہ سمجھتے ہیں پاکستان آزادی کے 70 سال بعد بھی خود مختار نہیں ہو سکا چنانچہ ہم بھی مکمل آزادی کے بعد مشکلات کا شکار ہو جائیں گے۔
بھارتی پالیسی سازوں کا خیال ہے پاکستان جس دن ’’ٹیک آف‘‘ کرے گا یہ بھارت کے علیحدگی پسندوں کے لیے مثال بن جائے گا اور یوں انڈیا دس ملکوں میں تقسیم ہو جائے گا‘ بھارت کا خیال ہے انڈیا اس وقت تک ’’شائننگ‘‘ رہے گا جب تک پاکستان اندھیروں میں ڈوبا رہتا ہے‘ جس دن پاکستان غربت‘ دہشت گردی اور مارشل لاء کے اندھیروں سے نکل آیا یہ بھارت کے محروم صوبوں کے لیے راستہ بن جائے گا‘ یہ صوبے بھی آزاد ہو جائیں گے لہٰذا بھارت پاکستان کو کبھی مارشل لاؤں‘ دہشت گردی اور غربت کے اندھیروں سے نہیں نکلنے دے گا‘ یہ ہمیں اس جوہڑ سے کبھی باہر نہیں آنے دے گا۔
ہمیں اب اس مغالطے سے بھی باہر آ جانا چاہیے بھارت پاکستان کے جمہوری لیڈروں کو پسند اور فوجی آمروں کو ناپسند کرتا ہے‘ آپ پاک بھارت تاریخ کا تجزیہ کر لیں‘ بھارت نے پاکستان کے ساتھ تمام بڑے معاہدے جمہوری حکومتوں کے بجائے فوجی آمروں کے ادوار میں کیے‘ آپ سندھ طاس سے لے کر جوہری حملے میں پہل نہ کرنے اور ایل او سی کے دونوں اطراف امن قائم کرنے تک تمام بڑے معاہدوں کی تاریخ نکال کر دیکھ لیجیے‘ آپ کو بھارت فوجی ادوار میں زیادہ ایکٹو نظر آئے گا‘ کیوں؟ کیونکہ یہ سمجھتا ہے مارشل لاء سے پاکستانی فوج بدنام اور کمزور ہو رہی ہے اور یہ بھارت کو سوٹ کرتا ہے‘ آپ کو یقین نہ آئے تو آپ پاکستان میں سول ملٹری ریلیشن شپ کی تاریخ دیکھ لیجیے‘ آپ کو فوج اور سویلین حکمرانوں کے تمام اختلافات کے پیچھے بھارت نظر آئے گا‘آپ1999ء کے نواز شریف مشرف اختلافات کو دیکھ لیجیے۔
آپ پاکستان کے موجودہ سول ملٹری اختلافات کاتجزیہ بھی کر لیجیے‘ کیا یہ بھارت کے پیدا کردہ نہیں ہیں؟ میاں نواز شریف کو نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں کس نے مدعو کیا تھا‘ نواز شریف کو جندل کے پاس کون لے کر گیا تھا اور یہ خبر کس نے لیک کی تھی‘ نریندر مودی پیرس میں نواز شریف سے کیوں ملا تھا‘ یہ اچانک 25 دسمبر 2015ء کو رائے ونڈ کیوں آ گیا اور یہ میاں نواز شریف پر حافظ سعید اور مولانا مسعود اظہر کی گرفتاری کے لیے دباؤ کیوں ڈال رہا ہے؟
کیا یہ پاکستان میں فوج اور سول حکومت کے تعلقات خراب کرنے کی کوشش نہیں؟ آپ سرل المیڈا کی خبر کے نتائج بھی دیکھ لیجیے‘ کیا یہ خبر بھارتی مطالبات پر مشتمل نہیں تھی اور کیا بھارتی میڈیا نے اسے نہیں اٹھایا اور کیا اس سے پاکستان میں سول ملٹری تعلقات خراب نہیں ہوئے؟ بھارت نے اب عمران خان کے دھرنے سے بھی بے شمار امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں‘ یہ فوج اور نواز شریف کے درمیان لڑائی کا منتظر بھی ہے‘ یہ پاکستان کے آخری مارشل لاء کا راستہ بھی دیکھ رہا ہے اور اس نے پاکستان کے چھوٹے ایٹم بموں سے نمٹنے کے لیے روس سے پانچ ارب ڈالر کا اینٹی میزائل سسٹم بھی خرید لیا ہے‘ یہ سسٹم بیک وقت چار سو میزائل فائر کر سکتا ہے‘ ہمیں ماننا ہوگا بھارت نے سیاسی‘ دفاعی‘ سفارتی اور اقتصادی تمام محاذوں پر پاکستان پر یلغار کر رکھی ہے۔
ہم نے اس صورتحال میں اپنی فوج اور ایٹمی پروگرام بھی بچانا ہے اور جمہوریت بھی ‘ کیوں؟ کیونکہ آپ یہ بھی ذہن میں رکھیں ہم فوج اور ایٹم بم کے بغیر ملک نہیں بچا سکتے اور جمہوریت کے بغیر ملک نہیں چلا سکتے‘ یہ دونوں ہماری بقا کے لیے ضروری ہیں چنانچہ میاں نواز شریف ہوں یا جنرل راحیل شریف یہ دونوں فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں‘ یہ دونوں جان لیں ہم نے آر ہونا ہے اور نہ ہی پار‘ یہ دونوں کیفیات ہمارے لیے خطرناک ہوں گی‘ ہم آر میں بھی مارے جائیں گے اور پار میں بھی لہٰذا ہم نے فوج اور جمہوریت دونوں کو کمزور نہیں ہونے دینا‘ یہ دونوں ہماری بقا ہیں۔

Comments

Click here to post a comment