اسے پنجروں میں قید پرندے دیکھ کر ہمیشہ ہی دکھ ہوتا تھا.. وہ اکثر ایسے پنجرے کھول دیا کرتی تھی.. اور جب کسی بھی پنجرے سے پرندہ پھر سے اڑ کر آزاد فضا میں سانس...
ادبیات
میو ہسپتال میں وہ موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا تھی. زندگی نے وفا نہ کی. وقت پورا ہو چکا تھا. گھر جانے کے لیے ورثا کے پاس بندوبست نہیں تھا . وہ پریشان تھے ...
یوں لگتا ہے یہ ہمارا قومی رویہ ہے کہ اگر کوئی ہماری خامیاں بیان کرے‘ ہماری خرابیوں اور غلطیوں کے بارے میں سوال کرے تو ہم اس کا جواب دینے کے بجائے مخالف کی...
راقم نے دیکھا ہے کہ نوع بہ نوع مسائل جوں جوں سر اٹھاتے ہیں، توں توں انسانی معاشروں میں برسرِ پیکار طاقتور آوازوں میں سے کوئی ایک آواز پیغمبرانہ لب و لہجے کی...
بچوں کی بلند آواز سے پورا سکول گونجتا، اسمبلی گراؤنڈ میں قطاریں باندھے ہم سب اپنے دھیان پڑھتے چلے جاتے۔ *لپےےے آتیی ہےے دعاا بن کے تمناا میری ی * یہ تو کچھ بڑے...
