شہر کے سب سے پوش علاقے کی چمکتی دمکتی سڑکوں پر دوڑتی مہنگی گاڑیوں میں ایک گاڑی رضا کی بھی تھی۔ رضا ایک امیر، خوش شکل اور زندگی کی ہر آسائش سے مالا مال نوجوان تھا، مگر زندگی کی حقیقی خوبصورتی سے وہ اُس وقت واقف ہوا جب اس کی نظر بانو پر پڑی۔
بانو ایک کچی بستی کے بوسیدہ سے مکان میں رہتی تھی۔ وہ سادگی، حیا اور پاکیزگی کا ایسا پیکر تھی کہ رضا اپنا دل ہار بیٹھا۔ بانو کی دنیا صرف اس کے بابا کے گرد گھومتی تھی۔ اس کے بابا بوڑھے، غریب اور بیماری و تنگ دستی سے نڈھال تھے۔ وہی بانو کی واحد پناہ گاہ تھے، اور بانو ہی ان کی زندگی کی آخری امید۔
جب رضا نے بانو سے اپنے دل کی بات کہی تو بانو کی خاموش آنکھوں نے بھی اس محبت کا اقرار کر لیا۔ یہ ایسا پاکیزہ عشق تھا جس میں رضا کی امیری، بانو کی غریبی کے سامنے سر جھکا چکی تھی۔ بانو نے بھی رضا کی صورت میں اپنے اور اپنے بابا کے لیے ایک روشن مستقبل کے خواب بُننے شروع کر دیے۔
مگر قسمت کا کھیل کچھ اور ہی تھا۔ خاندانی کاروبار کے سلسلے میں رضا کو اچانک کچھ عرصے کے لیے ملک سے باہر جانا پڑا۔
روانگی سے پہلے اس نے بانو سے وعدہ کیا، “میں بہت جلد واپس آؤں گا، اور آتے ہی بابا سے تمہارا ہاتھ مانگ لوں گا۔”
رضا کے جانے کے بعد بانو کے دن صدیوں جیسے طویل ہو گئے۔ دوسری طرف اس کے بابا کی طبیعت روز بروز بگڑتی چلی گئی۔ غربت، بیماری اور بے بسی نے انہیں بستر سے لگا دیا۔ بانو کے پاس نہ علاج کے لیے پیسے تھے اور نہ ہی دعا کے سوا کوئی سہارا۔
ایک شام بابا کی سانسیں اکھڑنے لگیں۔ بانو گھبرا گئی۔ اس کے پاس اپنا موبائل فون بھی نہیں تھا۔ وہ بدحواسی میں باہر نکلی، محلے کے ایک شخص سے منت سماجت کر کے اس کا فون لیا اور کانپتے ہاتھوں سے رضا کا نمبر ملایا۔
جیسے ہی دوسری طرف سے رضا کی آواز سنائی دی، بانو پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ ہچکیوں کے درمیان وہ صرف اتنا ہی کہہ سکی:
“رضا! تم جہاں کہیں بھی ہو، جلدی واپس آ جاؤ… بابا فوت ہو گئے ہیں… میں بالکل اکیلی ہو گئی ہوں… رضا، جلدی آؤ…”
اتنا کہہ کر فون کٹ گیا۔
رضا کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس نے پہلی دستیاب پرواز پکڑی اور دیوانہ وار وطن کی طرف روانہ ہو گیا۔ اس کا دل کسی انجانے خوف سے ڈوب رہا تھا۔
جب وہ بانو کی گلی میں پہنچا تو وہاں ایک عجیب سا سناٹا چھایا ہوا تھا۔ بستی کے چند لوگ خاموشی سے جمع تھے۔ رضا دھڑکتے دل کے ساتھ بانو کے گھر میں داخل ہوا۔
صحن میں دو چارپائیاں بچھی ہوئی تھیں، جن پر سفید چادریں تنی ہوئی تھیں۔
رضا کے لرزتے قدم پہلی چارپائی کی طرف بڑھے۔ اس نے آہستہ سے چادر ہٹائی۔ وہاں بانو کے بابا ابدی نیند سو رہے تھے۔
تڑپتے ہوئے اس نے دوسری چارپائی کی چادر سرکائی… اور اس کی دل دہلا دینے والی چیخ پورے صحن میں گونج اٹھی۔
وہاں بانو لیٹی ہوئی تھی۔ وہی بانو، جس کی آنکھوں میں کبھی رضا کے لیے محبت کے چراغ روشن تھے۔ بابا کے بچھڑنے کا صدمہ اور رضا کی جدائی کا درد اس کا کمزور دل برداشت نہ کر سکا۔ بابا کے رخصت ہوتے ہی، بانو کی روح بھی ان کے ساتھ ہمیشہ کے سفر پر روانہ ہو گئی تھی۔
رضا بانو کے بے جان وجود کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔ اس کے پاس اب دنیا کی ہر دولت موجود تھی، مگر وہ بانو، جسے وہ زندگی کی ہر خوشی دینے آیا تھا، اپنے بابا کا ہاتھ تھامے ہمیشہ کے لیے جا چکی تھی۔
کچی بستی کا وہ چھوٹا سا گھر اب مکمل خاموش تھا، جہاں صرف دو قبروں کا سکوت اور رضا کے عمر بھر کے پچھتاوے کی بازگشت باقی رہ گئی تھی۔



تبصرہ لکھیے