عمرہ نامہ - حنظلہ عماد

گئے برس جب حاجی لوٹ کر آئے تو ہر مسلمان کی مانند ہماری دلی مراد بھی ان الفاظ میں لبوں سے آزاد ہوئی: کسے معلوم کہ یہ دعا اسی برس ہی شرف قبولیت پا جائے گی؟ دل میں تمنّا تو مدتوں سے تھی اور جب یہ مراد بر آنے لگی تو گویا مارے خوشی کے پاؤں زمین پر نہ ٹکتے تھے۔ سفری دستاویزات اور دیگر رسمیات کے بعد احرام...