ہوم << خطبہ جمعہ مسجد نبوی – ڈاکٹر علی بن عبدالرحمن الحذیفی – ڈاکٹر شفقت الرحمن مغل
600x314

خطبہ جمعہ مسجد نبوی – ڈاکٹر علی بن عبدالرحمن الحذیفی – ڈاکٹر شفقت الرحمن مغل

وحدتِ امت از توحید و اتباعِ سنت

اسلام نے مسلمانوں کو عقیدے، عبادت اور اجتماعی زندگی کی ایسی مضبوط بنیادیں عطا کی ہیں جو انہیں ایک دوسرے سے جوڑتی ہیں۔ ایک اللہ کی بندگی، ایک رسول کی پیروی، ایک کتاب سے رہنمائی اور ایک قبلے کی طرف رخ کرنا امتِ مسلمہ کی مشترکہ شناخت ہے۔ لیکن ان مشترکہ بنیادوں کے باوجود جب مسلمان اختلافات اور انتشار کا شکار ہوتے ہیں تو ان کی اجتماعی قوت کمزور پڑ جاتی ہے۔

اسلام جس اتحاد کی تعلیم دیتا ہے، وہ محض ظاہری یکجہتی نہیں، بلکہ صحیح عقیدے، مشترکہ دینی اصولوں، باہمی محبت اور عملی تعاون پر قائم ہوتا ہے۔مسجد نبوی کے امام و خطیب ڈاکٹر علی بن عبدالرحمن الحذیفی نے 23 اکتوبر 2026ء کے خطبۂ جمعہ میں توحید، اتباعِ سنت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کو موضوع بنایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو انسانیت کی مکمل رہنمائی کے لیے نازل فرمایا ہے۔ اس میں دین کے تمام ضروری معاملات پوری وضاحت سے بیان کیے گئے ہیں اور دنیاوی زندگی کی بھلائی کے راستے بھی دکھائے گئے ہیں۔ قرآن انسان کو سب سے درست اور سیدھے راستے کی رہنمائی کرتا ہے۔ تمام انبیائے کرام نے اسی ہدایت کی دعوت دی، جس کی تکمیل نبی کریمؐ کی بعثت سے ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ آپؐ کی دعوت کا پہلا اور بنیادی موضوع توحید تھا۔ آپؐ نے سب سے پہلے لوگوں کو رب تعالی کی پہچان کرائی، اسمائے حسنی اور اعلی صفات الٰہیہ سے آگاہ کیا اور انہیں سکھایا کہ اللہ تعالیٰ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے۔ وہ تمام خوبیوں کا مالک اور کمال و عظمت کی ہر صفت سے متصف ہے۔

اللہ تعالیٰ کی درست معرفت ہی صحیح بندگی کی بنیاد ہے۔ جب انسان اپنے رب کو پہچانتا ہے تو اس کے دل میں اللہ کی عظمت، محبت اور اطاعت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔اسلام کی بنیاد دو شہادتوں پر ہے۔ پہلی شہادت، لا الٰہ الا اللہ، کا مطلب ہے کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں۔ اس کا تقاضا ہے کہ ہر قسم کی عبادت صرف اللہ کے لیے مخصوص ہو اور اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے۔ دعا، توکل، خوف، امید، فریاد، پناہ طلب کرنا اور نذر جیسی عبادات اللہ ہی کے لیے ہیں۔ نہ کوئی مقرب فرشتہ، نہ نبی، نہ ولی اور نہ کوئی دوسری مخلوق عبادت میں شریک بنائی جا سکتی ہے۔ اس طرح کلمۂ توحید انسان کی پوری زندگی کا رخ متعین کرتا ہے۔دوسری شہادت، محمد رسول اللہ، کا تقاضا ہے کہ آپ ؐ کی اطاعت کی جائے، آپؐ کی دی ہوئی خبروں کو سچا مانا جائے، آپؐ کی منع کردہ چیزوں سے بچا جائے اور اللہ کی عبادت آپؐ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کی جائے۔ اس کے ساتھ نبی کریمؐ سے سچی محبت بھی ضروری ہے۔ آپؐ کی تعلیمات کو ہر دوسرے شخص کے قول پر مقدم رکھنا اس شہادت کا بنیادی تقاضا ہے، خواہ وہ شخص کتنا ہی بڑا اور محترم کیوں نہ ہو۔

خطیب نے مشرکینِ مکہ کی مخالفت کا پس منظر بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ کلمۂ توحید کے حقیقی معنی سمجھتے تھے۔ ایک مرتبہ قریش کے چند سردار ابو طالب کے پاس رسول اللہؐ کی شکایت لے کر آئے۔ آپؐ کو بلایا گیا تو آپؐ نے فرمایا کہ میں ان سے صرف ایک کلمہ کہلوانا چاہتا ہوں جس کی بدولت عرب ان کے تابع ہوجائیں گے اور غیر عرب بھی ان کی عظمت تسلیم کریں گے۔ انہوں نے پوچھا کہ وہ کون سا کلمہ ہے؟
آپؐ نے فرمایا: لا الٰہ الا اللہ۔ یہ سنتے ہی وہ بدک گئے اور کہنے لگے کہ کیا اس نے سارے معبودوں کو ایک معبود بنا دیا ہے؟
یہ تو بڑی عجیب بات ہے!قریش جانتے تھے کہ اس کلمے کو قبول کرنے کا مطلب اپنے تمام باطل معبودوں سے تعلق توڑنا اور زندگی کو صرف اللہ کی بندگی کے تابع کرنا ہے۔ اسی لیے انہوں نے اس دعوت کی شدید مخالفت کی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی حفاظت فرمائی۔ خطیب نے نہایت خوب صورت انداز میں کہا کہ آسمان کا سورج بعض مقامات پر غروب ہوجاتا ہے، لیکن اسلام کا سورج زمین سے کبھی غروب نہیں ہوا۔

خطیب محترم نے اس بات پر زور دیا کہ مسلمان جس طرح شہادتین کے اقرار پر متحد ہیں، اسی طرح ان کے تقاضوں پر عمل میں بھی متحد ہوں۔ اس اتحاد کی بنیاد رسول اللہؐ، صحابہ کرام اور ان کے نقش قدم پر چلنے والے نیک لوگوں کے عقیدے کی پیروی ہے۔ قرآن کریم نے رسول اللہؐ کو بہترین نمونہ قرار دیا اور مہاجرین و انصار سمیت ان پیروکاروں کو اللہ کی رضا اور جنت کی بشارت دی ہے۔خطیب نے اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کے متعلق اہلِ سنت کا عقیدہ بھی بیان کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ائمہ اربعہ اللہ تعالیٰ کے ان تمام ناموں اور صفات کو تسلیم کرتے ہیں جو قرآن و سنت میں بیان ہوئے ہیں۔ ان صفات کو حقیقی مانا جاتا ہے، لیکن ان کی کیفیت متعین نہیں کی جاتی، کیونکہ انسانی عقل اللہ تعالیٰ کی صفات کی کیفیت کا احاطہ نہیں کرسکتی۔ اسی طرح اللہ کو مخلوق کے مشابہ قرار دینا بھی درست نہیں۔ قرآن کا واضح اصول ہے کہ اللہ جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔ چنانچہ اس کی صفات کو تشبیہ، تحریف اور انکار سے محفوظ رکھتے ہوئے تسلیم کرنا ضروری ہے۔ یہی عقیدہ انسان کو بدعات اور گمراہی سے بچاتا ہے۔

اس کے بعد انہوں نے امتِ مسلمہ کے اتحاد کی مختلف بنیادوں کی طرف توجہ دلائی۔ مسلمان ایک کلمہ پڑھتے ہیں، تمام لوگ نماز میں عربی زبان کے ذریعے اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں، ایک مشترکہ دینی تاریخ رکھتے ہیں اور ایک ہی قبلے کی طرف رخ کرتے ہیں۔ یہ تمام رشتے انہیں باہم متحد رہنے کا درس دیتے ہیں۔ قرآن کریم بھی مسلمانوں کو ایک امت قرار دیتا ہے اور انہیں اللہ کی رسی مضبوطی سے تھامنے اور تفرقے سے بچنے کا حکم دیتا ہے۔خطیب محترم نے واضح کیا کہ اسلامی تاریخ کے تجربات اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ امت پر آنے والی مصیبتوں اور مشکلات کا مقابلہ باہمی تعاون، ایک دوسرے کی مدد اور رحم دلی سے ہی کیا جاسکتا ہے۔ اسلام کی تمام تعلیمات انسانیت کے لیے خیر اور بھلائی کا پیغام رکھتی ہیں، لیکن بدنیتی رکھنے والے عناصر انہیں مسخ کرنے، ان کے بارے میں شکوک پیدا کرنے اور ان کے مفید اثرات کو روکنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ایسے حالات میں مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ باہمی اختلافات سے بالاتر ہوکر مشترکہ دینی بنیادوں پر متحد رہیں۔

دوسرے خطبے میں الشیخ الحذیفی نے اہلِ ایمان کو باہمی محبت، ہمدردی اور نیکی کے کاموں میں تعاون کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم کے مطابق مومن مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ وہ نیکی کا باہمی حکم دیتے ہیں، برائی سے روکتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرنے کے ساتھ اللہ اور رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ نبی کریمؐ نے مسلمانوں کی باہمی محبت اور ہمدردی کو ایک جسم سے تشبیہ دی کہ جب اس کا کوئی عضو تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو پورا جسم بے خوابی اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔خطیب نے دین کی اصل تعلیمات کے خلاف پیدا ہونے والی بدعات سے بھی خبردار کیا اور بتایا کہ اسلام کو ابتدا ہی سے ایسی گمراہ کن کوششوں کا سامنا رہا ہے، لیکن مسلمانوں نے ان کا مقابلہ کیا۔ خطبے کے اختتام پر انہوں نے امتِ مسلمہ کی سلامتی، مشکلات کے خاتمے، بیماروں کی شفا اور ضرورت مندوں کی حاجات پوری ہونے کے لیے دعائیں کیں۔ سعودی عرب کے امن و استحکام، بیت المقدس کی حفاظت اور فلسطینی عوام کو جارحیت اور مصائب سے نجات ملنے کی دعا کی۔ یمن کے حوثیوں اور ان کے معاونین کی شکست کی دعا بھی کی۔

خطبے کا مرکزی پیغام یہی ہے کہ مسلمانوں کا حقیقی اتحاد توحید، اتباعِ سنت، درست عقیدے اور باہمی خیرخواہی سے قائم ہوتا ہے۔ جب یہ بنیادیں مضبوط ہوں تو امت اختلافات اور انتشار سے محفوظ رہتی ہے اور اجتماعی مشکلات کا مقابلہ کرنے کی قوت حاصل کرتی ہے۔