قناعت: دل کی امیری اور سکونِ زندگی
کچھ لوگوں کے پاس زندگی کی بہت سی نعمتیں موجود ہوں، تب بھی انہیں اپنی زندگی ادھوری محسوس ہو تی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہماری نگاہ اپنی نعمتوں کے بجائے دوسروں کے پاس موجود چیزوں پر زیادہ رہنے لگی ہے۔ کسی کا گھر، کسی کی گاڑی، کسی کا لباس، کسی کا سفر یا کسی کی ظاہری خوش حالی دیکھ کر انسان اپنی زندگی کا موازنہ اس سے کرنے لگتا ہے۔ نتیجتاً نعمتیں موجود ہونے کے باوجود دل میں کمی کا احساس بڑھتا جاتا ہے۔
موجودہ دور میں سوشل میڈیا نے اس کیفیت کو مزید گہرا کر دیا ہے؛ اب انسان اپنی زندگی کا موازنہ صرف آس پاس کے چند لوگوں سے نہیں، بلکہ روزانہ سینکڑوں افراد کی چیدہ اور آراستہ لمحاتِ زندگی سے کرتا ہے۔مسجد نبوی کے خطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن البعیجان حفظہ اللہ نے اپنے خطبۂ جمعہ میں اسی اہم انسانی اور معاشرتی مسئلے کو موضوع بنایا۔ انہوں نے قناعت، غنائے نفس اور رضائے الٰہی کو پُرسکون زندگی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے تحت بندوں کے درمیان رزق اور حالات تقسیم کیے ہیں۔ کسی کو زیادہ دیا، کسی کو کم؛ کسی کے حالات ایک طرح کے ہیں تو کسی کے دوسری طرح کے۔ خوش نصیب وہ ہے جو اللہ کی تقسیم پر مطمئن رہ کر جائز اسباب اختیار کرے، جبکہ دوسروں کے پاس موجود چیزوں پر مسلسل نظر رکھنے والا شخص بہت سا مال ہونے کے باوجود دل کا فقیر بن جاتا ہے۔
خطیب مسجد نبوی نے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ انسان کا رزق اور اس کی زندگی اللہ تعالیٰ کے علم و تقدیر میں ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی کوشش ترک کر دے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کوشش اور توکل دونوں کو ساتھ لے کر چلے۔
رزق کے لیے محنت کرے، جائز ذرائع اختیار کرے اور اپنے حالات بہتر بنانے کی پوری کوشش کرے، مگر دل ان چیزوں کے پیچھے نہ لگائے جو اس کے حصے میں نہیں آئیں۔ رزق کی تلاش میں ہاتھ کام کرتے رہیں، لیکن دل اپنے رب کے فیصلے پر مطمئن رہے۔یہ توازن آج بالخصوص ضروری ہے، کیونکہ ہم ایسے دور میں رہ رہے ہیں جہاں ظاہری کامیابی ہی کو زندگی کی کامیابی سمجھ لیا گیا ہے۔ بہت سے لوگ اپنی خوشی کو اس پیمانے سے ناپتے ہیں کہ ان کے پاس کیا ہے، وہ کیا پہنتے ہیں اور دوسروں کو کیا دکھا سکتے ہیں۔ موبائل کی اسکرین پر تصاویر اور ویڈیوز کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ انسان دوسروں کی نعمتیں دیکھتا ہے اور اپنی نعمتیں بھول جاتا ہے۔ جو چیز اس کے پاس نہیں، وہ بڑی دکھائی دینے لگتی ہے اور جو کچھ موجود ہے، اس کی قدر گھٹنے لگتی ہے۔خطیب محترم نے قناعت کی ایک نہایت خوب صورت حقیقت بیان کی: انسان اپنی کمیوں کو گننے سے پہلے اللہ کی عطا کردہ نعمتوں پر نظر ڈالے۔ یہی زاویۂ نگاہ زندگی کا مزاج بدل دیتا ہے۔ اگر آدمی صبح سے شام تک صرف یہی سوچتا رہے کہ اسے کیا نہیں ملا تو دنیا کی بہت سی نعمتیں بھی اس کے لیے کافی نہیں ہوں گی۔
اس کے برعکس، اگر وہ صحت، ایمان، گھر، خاندان، امن، عزت اور روزمرہ زندگی میں میسر بے شمار نعمتوں کو دیکھنا سیکھ لے تو اسے اندازہ ہوگا کہ اس کے پاس پہلے ہی ایسی بہت سی دولت موجود ہے جسے دنیا کے خزانے بھی نہیں خرید سکتے۔قناعت کا یہی مفہوم حقیقی غنا سے جڑا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اصل دولت سامان کی کثرت نہیں، بلکہ دل کی دولت ہے۔ انسان کے بینک اکاؤنٹ میں رقم بڑھتی رہے، جائیداد میں اضافہ ہوتا رہے اور آسائشیں جمع ہوتی رہیں، لیکن اگر خواہشات ان سب سے زیادہ تیزی سے بڑھیں تو وہ کبھی خود کو مال دار محسوس نہیں کرے گا۔ دل ہر وقت کسی نئی چیز کا مطالبہ کرتا رہے گا۔ دوسری طرف، محدود وسائل رکھنے والا شخص اگر اپنے رب کی تقسیم پر مطمئن، ضروریات میں معتدل اور خواہشات میں متوازن ہو تو اسے وہ سکون مل سکتا ہے جو بڑی دولت کے باوجود بہت سے لوگوں کو نصیب نہیں ہوتا۔
قناعت کا براہِ راست تعلق ہمارے گھریلو اور معاشی حالات سے بھی ہے۔ خطیب مسجد نبوی نے توجہ دلائی کہ کتنے ہی گھر دوسروں سے تقابل کے باعث متاثر ہوتے ہیں اور کتنے ہی خاندان مقابلہ آرائی کی وجہ سے قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔ ہمارا معاشرہ بھی اس تجربے سے ناواقف نہیں۔ تقریبات میں دوسروں سے بڑھنے کی کوشش، لباس اور موبائل میں مقابلہ، بچوں کے معاملات میں دکھاوا، ضرورت سے بڑی گاڑی اور آمدن سے بلند معیارِ زندگی برقرار رکھنے کی خواہش بسا اوقات انسان کو ایسی مالی مشکلات سے دوچار کر دیتی ہے جن سے گھر کا سکون بھی برباد ہوتا ہے۔لیکن قناعت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انسان بلند ہمت نہ ہو۔ خطبے میں اس غلط فہمی کی واضح اصلاح کی گئی کہ قناعت نہ کام چھوڑنے کا نام ہے، نہ رزق کے لیے کوشش ترک کرنے کا اور نہ ترقی کی خواہش ختم کرنے کا۔ آدمی اپنے علم، کاروبار، ملازمت اور صلاحیتوں میں آگے بڑھنے کی کوشش کرے، لیکن کامیابی کی جستجو میں لالچ کا غلام نہ بنے اور ناکامی کی صورت میں پوری زندگی کو بے معنی نہ سمجھ بیٹھے۔ کوشش انسان کے اختیار میں ہے، مگر ہر نتیجہ اس کے اختیار میں نہیں۔
قناعت صرف کم وسائل رکھنے والے انسان کے لیے نہیں؛ مال دار اور غریب دونوں اس کے محتاج ہیں۔ شیخ البعیجان نے نہایت معنی خیز انداز میں واضح کیا کہ غریب اپنی تنگ دستی میں آزمائش سے گزرتا ہے اور صاحبِ ثروت اپنی دولت میں۔ فقیر کی قناعت یہ ہے کہ وہ صبر کرے، جبکہ مال دار کی قناعت یہ ہے کہ وہ شکر گزار بنے۔ یوں مال کی کثرت کسی شخص کو قناعت سے بے نیاز نہیں کرتی، بلکہ بعض اوقات نعمت کے بڑھنے کے ساتھ امتحان بھی بڑھ جاتا ہے۔سوال یہ ہے کہ قناعت کیسے پیدا کی جائے؟ خطبے میں اس کے چند بنیادی راستے بھی بیان کیے گئے۔ سب سے پہلے تقدیر پر ایمان رکھا جائے۔ انسان یقین رکھے کہ اللہ تعالیٰ حکیم ہے اور اس کی تقسیم بے مقصد نہیں۔ پھر اس حکمت پر غور کرے کہ دنیا میں سب لوگوں کے حالات یکساں کیوں نہیں ہیں۔ انسان ایک دوسرے کے محتاج ہیں اور اسی تفاوت سے معاشرتی زندگی، خدمات اور باہمی تعاون کا نظام چلتا ہے۔ اس کے ساتھ اپنی معاشی زندگی میں اعتدال اختیار کرے، خرچ کو آمدن کے مطابق رکھے اور اسراف اور نمود و نمائش سے بچے۔
خطبے کا شاید سب سے زیادہ عصری پہلو سوشل میڈیا پر نعمتوں کی نمائش سے متعلق ہے۔ آج کھانا ہو یا سفر، نیا لباس ہو یا گھر، گاڑی ہو یا تقریب، بہت سے لوگ ہر نعمت دوسروں کو دکھانا ضروری سمجھنے لگے ہیں۔ گویا کسی خوشی کی تکمیل اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک اسے اسکرین پر دوسروں کے سامنے پیش نہ کر دیا جائے۔ مسجد نبوی کے خطیب نے اس رویے کے ایک ایسے پہلو کی طرف توجہ دلائی جسے ہم عموماً نظر انداز کر دیتے ہیں: اسکرین کے دوسری جانب کون بیٹھا ہے؟
ممکن ہے ہماری آسائشوں کی تصویر کوئی ایسا شخص دیکھ رہا ہو جو اپنی بنیادی ضروریات بھی پوری نہیں کر سکتا۔ کوئی والد اپنے بچوں کو وہ چیز نہیں دے پا رہا جسے وہ دوسرے بچوں کے پاس دیکھتا ہے۔ کوئی خاندان علاج، کرایے یا روزمرہ اخراجات کے لیے پریشان ہے، جبکہ اس کے سامنے مسلسل ایسی آسائشیں دکھائی جا رہی ہیں جو اس کی پہنچ سے باہر ہیں۔ ایسی صورت میں بے ضرورت نمائش کسی دل میں حسرت، کسی میں احساسِ محرومی اور کسی میں غیر ضروری مقابلے کا جذبہ پیدا کر سکتی ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر خوشی چھپا دی جائے، بلکہ یہ ہے کہ نعمت کے ساتھ احساسِ ذمہ داری بھی پیدا ہو۔ خطیب مسجد نبوی نے اس کا ایک بہت خوب صورت متبادل بتایا: اگر اللہ نے آپ کو وسعت دی ہے تو نعمت کا اثر صدقہ و خیرات، حسنِ سلوک، صلہ رحمی اور ضرورت مندوں کی مدد میں دکھائیے۔ خوشی منائیے، مگر اپنی خوشی کو کسی محروم انسان کے غم کا سبب نہ بننے دیجیے۔ یہ شکر بھی ہے، مروت بھی اور معاشرتی حساسیت بھی۔قناعت انسان کے باطن کی بہت سی بیماریوں کا علاج بھی ہے۔ حسد، حرص، لالچ، مسلسل شکایت، اضطراب اور وہ بے نام سی بے چینی، جس میں انسان کو اپنی ہر چیز ناکافی محسوس ہوتی ہے، اکثر خواہشات اور تقابل کے نہ ختم ہونے والے سلسلے سے جنم لیتے ہیں۔ قانع شخص خود کو اس دوڑ سے نکال لیتا ہے۔ وہ دوسروں کی نعمت دیکھ کر حسد نہیں کرتا، بلکہ اپنے رب سے فضل مانگتا ہے اور اپنے حصے میں آنے والی نعمت پر شکر ادا کرتا ہے۔
یہ صفت ایک دن میں پیدا نہیں ہوتی۔ خطبے میں اسے ایسا اخلاق قرار دیا گیا جسے انسان حاصل کر سکتا ہے اور اس کے لیے نفس کی تربیت کی جا سکتی ہے۔ اس تربیت کا ایک آسان آغاز شاید یہ ہو کہ انسان روزانہ اپنی محرومیوں کی فہرست بنانے کے بجائے اپنی نعمتوں کو یاد کرے۔ پھر دل سے یہ کہنا سیکھے کہ اللہ کا شکر اس پر بھی جو اس نے عطا کیا، اس پر بھی جو اس نے باقی رکھا اور اس پر بھی جو اس نے اپنی حکمت کی بنا پر ہم سے دور کر دیا۔آج ہم بے اطمینانی، غیر ضروری مقابلہ آرائی اور معاشرتی نمائش کے جس ماحول میں رہ رہے ہیں، اس میں قناعت کسی پرانے زمانے کی نصیحت نہیں، بلکہ ایک فوری انسانی ضرورت ہے۔ اس کا مطلب دنیا چھوڑ دینا نہیں، بلکہ دنیا کو اس کی صحیح جگہ پر رکھنا ہے: محنت کرنا مگر حرص سے بچنا، بہتر زندگی کے لیے کوشش کرنا مگر دوسروں کی زندگی کو اپنی خوشی کا پیمانہ نہ بنانا، اور نعمت ملے تو اسے شکر اور خیر کا ذریعہ بنانا۔
حقیقی خوش حالی شاید یہی ہے کہ انسان کی ضروریات پوری ہوں، اس کے ہاتھ محنت میں مصروف رہیں، نگاہ دوسروں کے مال سے ہٹی رہے اور دل اپنے رب کی تقسیم پر مطمئن ہو۔ مالی دولت کبھی کم اور کبھی زیادہ ہو سکتی ہے، لیکن جسے دل کی یہ دولت مل جائے، وہ بہت کچھ نہ رکھتے ہوئے بھی دل کا امیر اور زندگی میں سکون رکھتا ہے۔



تبصرہ لکھیے