حلاوتِ ایمان: حقیقت، اسباب اور ثمرات
انسان کی خوش حالی کا اصل معیار کیا ہے؟
کیا مال و دولت، زندگی کی سہولتیں اور ظاہری آسائشیں اسے حقیقی سکون دے سکتی ہیں؟
روزمرہ زندگی کا مشاہدہ بتاتا ہے کہ بعض لوگ محدود وسائل کے باوجود مطمئن اور خوش دل رہتے ہیں، جبکہ بعض افراد تمام سہولتیں میسر ہونے کے باوجود بے چینی، مایوسی اور شکایت میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ کچھ لوگوں کے دل صاف، چہرے بشاشت سے روشن اور رویے محبت و خیر خواہی سے بھرپور ہوتے ہیں، جبکہ دوسروں کے دلوں میں حسد، کینہ اور خود غرضی گھر کر جاتی ہے۔ اس فرق کا بنیادی سبب انسان کی باطنی کیفیت ہے۔ ایمان کی مضبوطی اور اس کی حلاوت انسان کو وہ قلبی اطمینان عطا کرتی ہے جو محض مادی وسائل سے حاصل نہیں ہو سکتا۔مسجد الحرام میں 23 اکتوبر 2026ء کے خطبۂ جمعہ میں امام کعبہ ڈاکٹر الشیخ صالح بن عبد اللہ الحمید نے اسی حقیقت کو نہایت دل نشین انداز میں واضح کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ ایمان کی حلاوت انسان کے باطن میں پیدا ہونے والی ایسی خوش گوار کیفیت ہے جو دل میں سکون بن کر اترتی ہے اور رفتہ رفتہ پوری زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ جس طرح درخت کی شاخوں میں پانی اور جسم کی رگوں میں خون گردش کرتا ہے، اسی طرح ایمان کی مٹھاس انسان کے دل و دماغ میں سرایت کر جاتی ہے۔
اس کے نتیجے میں بے چینی کی جگہ اطمینان، تنگ دلی کی جگہ کشادہ دلی اور مایوسی کی جگہ امید پیدا ہوتی ہے۔ ایمان مایوس لوگوں کی امید، خوف زدہ دلوں کا سہارا، حق کے مسافروں کی روشنی اور قوموں کی عزت و سربلندی کا سرچشمہ ہے۔ڈاکٹر صالح بن حمید نے حلاوتِ ایمان کے حصول کے تین بنیادی ذرائع بیان کیے۔ پہلا ذریعہ اللہ تعالیٰ کو اپنا رب تسلیم کرکے اس کی تدبیر اور فیصلوں پر دل سے راضی رہنا ہے۔ وہی پوری کائنات کا خالق، زندگی اور موت کا مالک اور زمین و آسمان کا انتظام چلانے والا ہے۔ وہی بے بس کی فریاد سن کر مصیبتیں دور کرتا ہے اور اپنے بندوں کو بے شمار نعمتوں سے نوازتا ہے۔ اسی نے انسان کو وجود بخشا، بھوک میں کھانا، تن ڈھانپنے کے لیے لباس اور خوف میں امن عطا کیا۔ اسی نے جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم و ہدایت کی روشنی دکھائی۔جب انسان کو یقین ہو جاتا ہے کہ اس کی زندگی کا انتظام ایک نہایت مہربان اور حکمت والے رب کے ہاتھ میں ہے تو اس کے دل میں اعتماد اور اطمینان پیدا ہوتا ہے۔ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے منزل پانے کے لیے کوشش کرتا ہے، لیکن نتائج کے بارے میں بے جا پریشانی میں مبتلا نہیں ہوتا۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے اس کے محدود علم اور خواہشات سے کہیں زیادہ حکمت پر مبنی ہیں۔
حلاوتِ ایمان کا دوسرا ذریعہ اسلام کو اپنا دین تسلیم کرکے اس پر مطمئن رہنا ہے۔ اسلام اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین ہے، جو اللہ تعالی نے اپنے بندوں کی رہنمائی کے لیے نازل فرمایا۔ قرآن کریم واضح کرتا ہے کہ اللہ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے اور اس کے علاوہ کوئی دین قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس حقیقت پر ایمان رکھنے والا شخص اسلام کو محض خاندانی روایت یا معاشرتی شناخت نہیں سمجھتا، بلکہ اسے اپنی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ قرار دیتا ہے۔اس سلسلے میں امام کعبہ نے سیدنا عمر ؓاور ان کی اہلیہ عاتکہ ؓ کا ایک واقعہ بیان کیا۔ ایک مرتبہ عمر ؓنے ناراضی کے عالم میں اپنی اہلیہ سے کہا کہ میں تمہیں ضرور تکلیف پہنچاؤں گا۔ عاتکہ ؓ نے جواب دیا: کیا آپ مجھے اس اسلام سے پھیر سکتے ہیں جس کی اللہ نے مجھے ہدایت دی ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں۔ اس پر عاتکہ ؓ نے کہا: پھر آپ مجھے کیا تکلیف پہنچا سکتے ہیں؟
اس جواب میں ایمان کی غیر معمولی قوت جھلکتی ہے۔ ان کے نزدیک اصل کامیابی دین کا محفوظ رہنا تھا۔ جب تک یہ عظیم نعمت باقی ہے، دنیا کی تکلیفیں انسان کو حقیقی خسارے سے دوچار نہیں کر سکتیں۔ یہی یقین آزمائشوں میں ثابت قدمی عطا کرتا ہے، حتیٰ کہ اللہ کی راہ میں جان قربان کرنا بھی انسان کے لیے باعثِ سعادت بن جاتا ہے۔ اسلام اسی قلبی اطمینان، روشنی اور حقیقی خوش حالی کا سرچشمہ ہے۔
حلاوتِ ایمان کا تیسرا ذریعہ آپؐ کو اپنا نبی اور رسول تسلیم کرکے آپ کی اطاعت و اتباع پر راضی رہنا ہے۔ آپؐ انسانیت کے خیر خواہ، امین، سراپا رحمت اور بہترین نمونہ ہیں۔ آپؐ کو رسول تسلیم کرنے کا تقاضا محض زبانی محبت نہیں، بلکہ زندگی کے تمام معاملات میں آپ کی رہنمائی کو فیصلہ کن حیثیت دینا ہے۔ قرآن کریم نے واضح فرمایا کہ ایمان کی تکمیل اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک لوگ اپنے اختلافات میں رسول اللہؐ کو فیصلہ کرنے والا تسلیم نہ کریں، پھر آپ کے فیصلے پر دل میں کوئی تنگی محسوس کیے بغیر پوری طرح سرِ تسلیم خم کر دیں۔ گویا رسول اللہؐ سے حقیقی تعلق آپ کی اطاعت، پیروی اور سنت کی روشنی میں زندگی گزارنے سے قائم ہوتا ہے۔امام کعبہ نے واضح کیا کہ جس نے ایمان کی مٹھاس چکھ لی، اسے زندگی گزارنے کا سلیقہ آ گیا۔ اسے اپنی منزل کا علم ہو گیا اور وہ بصیرت کے ساتھ اس کی طرف بڑھنے لگا۔ اس کے دل میں اللہ کی تقدیر پر اطمینان پیدا ہوتا ہے۔ حالات موافق ہوں یا مخالف، آسائش ملے یا آزمائش آئے، اس کا اللہ سے تعلق کمزور نہیں ہوتا۔ وہ محرومی پر مایوسی کا شکار نہیں ہوتا اور کامیابی پر غرور میں مبتلا نہیں ہوتا۔ زندگی کے نشیب و فراز اس کے صبر اور قلبی سکون کو متزلزل نہیں کر پاتے۔
آپؐ نے مومن کی اسی کیفیت کو نہایت خوب صورتی سے بیان فرمایا کہ اس کا ہر معاملہ اس کے لیے خیر کا باعث ہے۔ خوش حالی ملے تو شکر کرتا ہے اور یہ اس کے لیے بہتر ہوتا ہے، جبکہ تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے اور یہ بھی اس کے حق میں بہتر ثابت ہوتا ہے۔ یہ امتیاز صرف صاحبِ ایمان کو حاصل ہے۔پختہ ایمان انسان کو خوف، بزدلی، بے صبری اور بے جا شکایت سے نجات دلاتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اسے وہی کچھ ہو گا جو اللہ نے لکھ دیا ہے۔ اللہ جو عطا کر دے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو روک لے وہ کوئی دے نہیں سکتا۔ اسی یقین کی بدولت مومن کا طرزِ عمل ہر حالت میں متوازن رہتا ہے۔ نعمت ملے تو شکر گزار ہوتا ہے، محرومی آئے تو صبر کرتا ہے، اللہ کا حکم سامنے آئے تو فوراً عمل کرتا ہے، کسی کام سے منع کیا جائے تو رک جاتا ہے اور گناہ سرزد ہو جائے تو استغفار کے ذریعے اپنے رب کی طرف پلٹ آتا ہے۔ قرآن کریم نے ایمان کے ساتھ نیک عمل کرنے والوں سے پاکیزہ زندگی اور بہترین اجر کا وعدہ فرمایا ہے۔اس کے برعکس ایمان کی کمزوری انسان کی زندگی میں بے چینی اور بے راہ روی پیدا کرتی ہے۔ وہ آزمائش آنے پر شکوے کرتا ہے، کیونکہ وہ آزمائش دینے والے رب کی حکمت سے غافل ہے۔
زندگی کا سفر اسے خوف زدہ کرتا ہے، کیونکہ اس کے پاس ایمان کا زادِ راہ نہیں ہوتا۔ وہ راستہ بھٹک جاتا ہے، کیونکہ اس نے ہدایت کی روشنی سے منہ موڑ لیا ہوتا ہے۔ جب دل سے ایمان رخصت ہونے لگتا ہے تو جواب دہی کا احساس کمزور پڑ جاتا ہے۔ خود غرضی غالب آتی ہے، باہمی ہمدردی کی جگہ دوریاں اور تعاون کی جگہ اختلافات پیدا ہونے لگتے ہیں۔ انسان نفسانی خواہشات کا اسیر بن کر اللہ اور بندوں سے اپنے تعلقات کمزور کر لیتا ہے۔اس خطبے کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ حقیقی کامیابی محض مادی آسائشوں میں نہیں، بلکہ ایمان کی مضبوطی اور اللہ کی رضا پر اطمینان میں پوشیدہ ہے۔ جو شخص اللہ کو اپنا رب، اسلام کو اپنا دین اور آپؐ کو اپنا رسول تسلیم کرکے دل سے راضی ہو جاتا ہے، اسے وہ دولت نصیب ہوتی ہے جو آزمائش میں صبر، نعمت میں شکر، معاملات میں اعتدال اور زندگی میں حقیقی سکون پیدا کرتی ہے، اور اسے دنیا میں حلاوتِ ایمان حاصل ہو جاتی ہے۔



تبصرہ لکھیے