سورۂ ق: زندگی کے بنیادی سوالات اور جوابات
انسان کہاں سے آیا ہے؟
اسے دنیا میں کیوں بھیجا گیا ہے؟
زندگی گزارنے کا درست راستہ کیا ہے؟
موت کے بعد کیا ہوگا اور انسان کا آخری ٹھکانا کہاں ہے؟
یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن کے جوابات انسان کی زندگی کا رخ متعین کرتے ہیں۔ قرآن کریم ان سوالات کے واضح اور اطمینان بخش جوابات فراہم کرتا ہے۔ اس میں گزشتہ قوموں کے واقعات، کائنات کی نشانیاں، انسانی ذمہ داریوں کی وضاحت اور آخرت کے احوال اس انداز سے بیان ہوئے ہیں کہ انسان اپنے وجود کا مقصد سمجھ سکے۔ مسجد نبوی کے خطیب ڈاکٹر احمد بن علی الحذیفی نے 16 اکتوبر 2026ء خطبہ جمعہ سورۂ ق کی روشنی میں قرآن کریم کی اسی جامع رہنمائی کو موضوع بنایا۔
انہوں نے کہا کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کے احکام اور حکمتوں کا ایسا خزانہ ہے جس میں عقل کے لیے اطمینان، دل کے لیے سکون اور روح کے لیے شفا ہے۔ یہ انسان کی پوری داستان بیان کرتا ہے کہ انسان کوئی قابلِ ذکر چیز نہ تھا، پھر اس کی تخلیق ہوئی، اسے دنیا میں زندگی گزارنے کا موقع ملا اور ایک مقررہ مدت کے بعد اسے یہاں سے رخصت ہونا ہے۔ اس کے بعد موت، دوبارہ زندہ کیے جانے، حساب اور ابدی انجام کے مراحل ہیں۔ قرآن ان حقائق کو بیان کرتے ہوئے واضح کرتا ہے کہ انسان کو کس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا اور اس کی حقیقی کامیابی یا ناکامی کن باتوں پر منحصر ہے۔اس جامع رہنمائی کی نمایاں مثال سورۂ ق ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ نبی کریمؐ جمعے کے خطبے میں مکمل پڑھا کرتے تھے۔ چنانچہ ام ہشام بنت حارثہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے سورۂ ق نبی کریمؐ سے سن کر یاد کی تھی، کیونکہ آپؐ ہر جمعے منبر پر اس کی تلاوت فرماتے تھے۔ اس سورت میں ایسے دلائل، نصیحتیں اور عبرت انگیز واقعات یکجا ہیں جو انسان کو غفلت سے بیدار کرکے سیدھے راستے پر چلنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
سورۂ ق کا آغاز ایک اہم سوال سے ہوتا ہے کہ کیا انسان مرنے اور مٹی میں مل جانے کے بعد دوبارہ زندہ ہو سکتا ہے؟ منکرینِ آخرت اسی بات پر تعجب کرتے تھے۔ ان کے نزدیک یہ ناممکن تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ زمین انسانی جسم کے جن حصوں کو کھا جاتی ہے، وہ سب اس کے علم میں ہیں اور ہر چیز کا مکمل ریکارڈ محفوظ ہے۔ اس لیے انسان کا دوبارہ زندہ کیا جانا کوئی بعید از امکان بات نہیں۔اس حقیقت کو سمجھانے کے لیے قرآن انسان کو کائنات پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ سروں کے اوپر بلند آسمان، اس کی بے عیب ساخت، زمین کی وسعت، مضبوط پہاڑ اور رنگا رنگ نباتات، سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ آسمان سے بارش برستی ہے تو بنجر زمین سرسبز ہو جاتی ہے، باغات لہلہانے لگتے ہیں، کھیت اناج پیدا کرتے ہیں اور کھجور کے بلند درخت پھلوں سے لد جاتے ہیں۔ جس زمین میں زندگی کے آثار باقی نہیں رہتے، وہی بارش کے بعد دوبارہ زندہ ہو جاتی ہے۔ قرآن اسی منظر سے سمجھاتا ہے کہ جس رب نے مردہ زمین کو زندگی بخشی، وہ انسان کو موت کے بعد بھی دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔
کائنات کی نشانیوں کے بعد سورۂ ق انسانی تاریخ کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ قوم نوح، اصحاب الرس، ثمود، عاد، فرعون، قوم لوط، اصحاب الایکہ اور قوم تبع کا ذکر کرکے بتایا گیا ہے کہ ان قوموں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا اور حق سے منہ موڑا۔ ان میں بعض قومیں بڑی طاقت ور تھیں، لیکن جب اللہ کی پکڑ آئی تو ان کی قوت انہیں بچا نہ سکی۔ ان واقعات میں ہر دور کے انسان کے لیے یہ سبق ہے کہ ظاہری طاقت حقیقی کامیابی کی ضمانت نہیں۔ پھر قرآن سوال کرتا ہے کہ کیا پہلی مرتبہ پیدا کرکے اللہ تعالیٰ تھک گیا تھا؟ حقیقت یہ ہے کہ جو ہستی انسان کو پہلی مرتبہ وجود عطا کر سکتی ہے، اس کے لیے دوبارہ پیدا کرنا بھی کچھ مشکل نہیں۔سورۂ ق ایک اور بنیادی حقیقت واضح کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ صرف انسان کے ظاہری اعمال سے واقف ہے، بلکہ دل میں پیدا ہونے والے خیالات اور وسوسوں کو بھی جانتا ہے۔ انسان اپنے اندر جو کچھ چھپاتا ہے، وہ بھی اس کے علم سے باہر نہیں۔ اس کے دائیں اور بائیں فرشتے مقرر ہیں جو اس کے اعمال کا اندراج کرتے ہیں۔
اس حقیقت پر یقین انسان کے کردار کو سنوارنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ جب اسے معلوم ہو کہ اس کی کوئی بات اور کوئی عمل اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں تو وہ اپنی گفتگو، معاملات اور رویوں میں محتاط ہو جاتا ہے۔دنیا میں انسان کی مہلت محدود ہے۔ ایک دن اسے موت کا سامنا کرنا ہوگا، پھر دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ اس کے بعد ہمیشہ رہنے والی نعمتیں یا دائمی عذاب اس کا انجام ہوگا۔ قرآن ان حقائق کو اس لیے بیان کرتا ہے کہ انسان دنیا کی عارضی زندگی کو ہی سب کچھ نہ سمجھ بیٹھے۔ گزشتہ قوموں کے انجام میں بھی اسی حقیقت کی یاد دہانی ہے۔ کتنی ہی طاقت ور قومیں گزر چکی ہیں، لیکن جب ان کا وقت آیا تو انہیں کہیں پناہ نہ مل سکی۔ ان واقعات میں اس شخص کے لیے نصیحت ہے جو سمجھنے والا دل رکھتا ہو یا پوری توجہ سے بات سنتا ہو۔خطبے میں اس بات کو خصوصی اہمیت دی گئی کہ اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان محض ایک نظریاتی عقیدہ نہیں، بلکہ انسان کی عملی زندگی کو سنوارنے والی قوت ہے۔ آخرت کا یقین رکھنے والا شخص دنیا کے حالات کو مختلف نگاہ سے دیکھتا ہے۔ زندگی کی مشکلات، تیزی سے بدلتے حالات اور روزمرہ کی پریشانیاں اسے اپنے مقصد سے غافل نہیں کرتیں۔
وہ جانتا ہے کہ دنیا اس کے سفر کا ایک مرحلہ ہے اور بالآخر اسے اپنے رب کے حضور واپس جانا ہے۔ یہی یقین اس کے دل میں سکون پیدا کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرنے کے ساتھ بندوں کے حقوق کا بھی خیال رکھتا ہے۔ یوں دنیا اور آخرت کے تقاضوں میں توازن قائم رہتا ہے۔سورۂ ق کے اختتام پر صبر، اللہ کی حمد و تسبیح اور عبادت کی تلقین کی گئی ہے۔ سورج نکلنے سے پہلے، غروب سے پہلے اور رات کے اوقات میں اللہ کی یاد کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ ہدایات بتاتی ہیں کہ آخرت پر ایمان کا تقاضا صرف ذہنی یقین نہیں، بلکہ نماز، ذکر، صبر اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت بھی ہے۔ اسی سورت کے آخر میں قرآن کے ذریعے نصیحت کرنے کا حکم دیا گیا ہے، کیونکہ اللہ کی پکڑ سے ڈرنے والا دل ہی اس نصیحت سے حقیقی فائدہ اٹھاتا ہے۔خطبے کے دوسرے حصے میں خطیب محترم نے حرمین شریفین کی حرمت اور عظمت کی طرف توجہ دلائی۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ مسلمانوں کے ایمان، محبت اور عقیدت کے عظیم مراکز ہیں۔ شریعت نے دونوں شہروں کی حدودِ حرم میں شکار اور درخت کاٹنے تک پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ جب ان مقدس مقامات پر جانوروں اور درختوں کے تحفظ کا اس قدر اہتمام ہے تو وہاں رہنے والوں، عبادت کرنے والوں اور زیارت کے لیے آنے والوں کی جان و مال اور امن کا تحفظ کس قدر اہم ہوگا!؟
اسی تناظر میں انہوں نے حوثی گروہ کی جانب سے مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے ان کارروائیوں اور ان سے ہونے والے جانی نقصان اور خوف و ہراس کو سنگین جرائم قرار دیا۔ نیز سورۂ فیل کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ بیت اللہ پر حملہ کرنے والے اصحابِ فیل کا انجام قرآن نے محفوظ کر دیا ہے۔ یہ واقعہ ان لوگوں کے لیے عبرت ہے جو مقدس مقامات کے امن کو پامال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔سورۂ ق کا پیغام یہ ہے کہ انسان اپنے وجود، زندگی اور انجام سے متعلق سوالات کے جوابات قرآن سے حاصل کرے۔ کائنات کی نشانیاں اللہ کی قدرت کا یقین دلاتی ہیں، گزشتہ قوموں کے واقعات عبرت کا درس دیتے ہیں اور آخرت کا یقین زندگی کو درست سمت عطا کرتا ہے۔ قرآن انسان کو صرف یہ نہیں بتاتا کہ وہ کہاں سے آیا اور کہاں جائے گا، بلکہ یہ بھی سکھاتا ہے کہ اسے دنیا میں کس طرح زندگی گزارنی چاہیے۔ یہی رہنمائی دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔



تبصرہ لکھیے