زیتون کا موسم؛ استقامت کا پیامبر
فلسطین میں زیتون کی فصل پکنے اور اس کی چنائی کا موسم آتا ہے تو یہ محض زرعی سرگرمیوں کا آغاز نہیں ہوتا، بلکہ صدیوں سے اس سرزمین سے وابستہ ایک تہذیبی روایت تازہ ہو جاتی ہے۔ زیتون کے درخت اپنی گہری جڑوں، طویل زندگی، سخت موسموں کو برداشت کرنے کی صلاحیت اور بابرکت پھل کے باعث اس خطے کی پہچان بن چکے ہیں۔ ان درختوں کی شاخیں نسلوں کی داستان سناتی ہیں اور ان کی جڑیں اپنی سرزمین سے وابستگی کا پیغام دیتی ہیں۔
فلسطینی باشندوں کے لیے زیتون کی چنائی آباء و اجداد کی یادوں، زمین کی برکت اور اپنی شناخت کے تسلسل کا مظہر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیتون کا موسم انہیں ہر سال صبر، ثابت قدمی اور اپنی سرزمین سے وفاداری کا سبق یاد دلاتا ہے۔مسجد اقصیٰ میں 23 اکتوبر 2026ء کے خطبۂ جمعہ میں الشیخ خالد ابو جمعہ نے اسی خوب صورت استعارے کو انفرادی و اجتماعی صبر اور رباط کے قرآنی پیغام سے جوڑا۔ انہوں نے واضح کیا کہ قرآن کریم دلوں کی بہار اور عقلوں کا نور ہے۔ اس کی آیات پریشان دلوں کو سکون، خوف زدہ انسانوں کو حوصلہ اور آزمائشوں میں گھرے معاشروں کو امید عطا کرتی ہیں۔ خطیب نے سورۂ آل عمران کی آخری آیت کو اپنے خطاب کی بنیاد بنایا، جس میں اہل ایمان کو صبر، ایک دوسرے سے بڑھ کر ثابت قدمی، رباط اور تقویٰ اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یہ چاروں تعلیمات انفرادی کردار کی تعمیر کے ساتھ اجتماعی استقامت کی بنیاد بھی فراہم کرتی ہیں۔صبر کا مطلب صرف مشکلات برداشت کرنا نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر قائم رہنا، آزمائشوں میں ہمت نہ ہارنا اور حق سے وابستگی برقرار رکھنا بھی ہے۔
انسان کو خوش حالی اور تنگ دستی، آسانی اور دشواری، ہر حالت میں اپنے رب پر بھروسا رکھنا چاہیے۔ خطیب نے اہل بیت المقدس کو تلقین کی کہ وہ آزمائشوں میں ثابت قدم رہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں، کیونکہ مشکلات کے بعد آسانی اور تنگی کے بعد کشادگی کی امید ہی مومن کے حوصلے کو زندہ رکھتی ہے۔قرآن کریم نے صبر کے ساتھ مصابرت کا حکم بھی دیا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان خود ثابت قدم رہنے کے ساتھ دوسروں کو بھی حوصلہ دے اور مخالف حالات کے مقابلے میں اس کا عزم کمزور نہ پڑے۔ خطیب نے فلسطینی باشندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی سرزمین پر عزت و وقار کے ساتھ قائم رہیں، مشکل حالات میں خوف اور گھبراہٹ کو اپنے اوپر غالب نہ آنے دیں اور مسجد اقصیٰ سے اپنا تعلق مضبوط رکھیں۔ ان کے نزدیک یہ استقامت محض جذباتی وابستگی نہیں، بلکہ ایمان، صبر اور اللہ تعالیٰ پر اعتماد کا عملی اظہار ہے۔خطبے میں رباط کی فضیلت کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ نبی کریمؐ نے اللہ کی راہ میں رباط اختیار کرنے والے کے لیے عظیم اجر کی بشارت سنائی ہے۔ ایک روایت کے مطابق رباط کی حالت میں وفات پانے والے کے نیک اعمال کا ثواب جاری رہتا ہے اور اسے قبر کی آزمائش سے حفاظت عطا کی جاتی ہے۔ دوسری روایت میں ایک دن اور رات کے رباط کو ایک ماہ کے روزوں اور راتوں کی عبادت سے بہتر قرار دیا گیا ہے۔
خطیب نے ان بشارتوں کی روشنی میں بیت المقدس کے باشندوں کو اپنی سرزمین سے وابستگی اور دینی ذمہ داریوں کی اہمیت یاد دلائی۔تاہم استقامت کے لیے محض حوصلہ کافی نہیں، اس کے لیے مضبوط عملی بنیادیں بھی ضروری ہیں۔ خطیب محترم نے سب سے پہلے باہمی اتحاد اور یک جہتی پر زور دیا۔ قرآن کریم مسلمانوں کو اللہ کی رسی مضبوطی سے تھامنے اور تفرقے سے بچنے کی ہدایت دیتا ہے۔ اختلافات اور انتشار اجتماعی قوت کو کمزور کرتے ہیں، جبکہ باہمی تعاون اور مشترکہ مقصد سے وابستگی مشکل حالات میں بھی معاشرے کو مضبوط رکھتی ہے۔دوسری اہم بنیاد اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ خطیب محترم نے نمازوں کی پابندی، نفل عبادات، تلاوتِ قرآن، توبہ، استغفار اور دعا کی تلقین کی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ آزمائشوں کے زمانے میں اللہ تعالیٰ سے تعلق مزید مضبوط ہونا چاہیے۔ قرآن دلوں کی غذا، استغفار سکون اور رحمت کا ذریعہ اور دعا مشکلات میں امید کا سہارا ہے۔ جو شخص تنہائی میں بھی اپنے رب کے ساتھ تعلق قائم رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے سخت حالات میں ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرماتا ہے۔ اسی طرح عبادت کی پابندی انسان کو خوف، بے یقینی اور مایوسی سے نکلنے میں مدد دیتی ہے۔
ارضِ مقدس سے وابستگی کے تاریخی پہلوؤں کو بیان کرتے ہوئے خطیب نے یاد دلایا کہ بیت المقدس انبیائے کرام کی سرزمین ہے۔ ابراہیمؑ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہجرت کی تو انہیں اس مبارک خطے کی طرف رہنمائی ملی۔ مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلۂ اول اور نبی کریمؐ کے سفرِ اسراء کی منزل ہے۔ یہ سرزمین وحی، نبوت اور اسلامی تاریخ کی عظیم یادوں سے وابستہ ہے۔ بیت المقدس سے محبت محض جغرافیائی تعلق نہیں، بلکہ دینی شناخت، تاریخی ورثہ اور تہذیبی تسلسل ہے۔انہوں نے اس سرزمین کے علمی اور تہذیبی کردار کا ذکر بھی کیا۔ فلسطین نے ایسے علماء، مفکرین اور اہل علم پیدا کیے جن کی خدمات جغرافیائی حدود سے آگے پہنچیں۔ ان کی تصانیف، علمی آثار اور اخلاقی اقدار نے اسلامی تہذیب کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق اس ورثے کی حفاظت بھی اپنی سرزمین سے وابستگی کا اہم تقاضا ہے، کیونکہ کسی قوم کی شناخت صرف اس کے مکانات اور زمینوں سے نہیں، بلکہ اس کی تاریخ، علم، تہذیب اور اقدار سے قائم رہتی ہے۔خطبے کے دوسرے حصے میں زیتون کی چنائی کا موسم نہایت دلکش انداز میں موضوعِ گفتگو بنا۔
خطیب محترم نے یاد دلایا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں انجیر اور زیتون کی قسم کھائی ہے، جبکہ نبوی تعلیمات میں زیتون کے تیل کے استعمال کی ترغیب اور اس درخت کی برکت بیان ہوئی ہے۔ اس اعتبار سے زیتون محض ایک پھل دار درخت نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نمایاں نعمت ہے۔خطیب نے زیتون کی چنائی کو ایک ایمانی درس گاہ سے تشبیہ دی، جہاں انسان کو صبر، استقامت اور اپنی سرزمین سے وابستگی کا سبق ملتا ہے۔ زیتون کی جڑیں زمین کی گہرائیوں میں پیوست ہوتی ہیں۔ یہ درخت سخت موسم، خشک سالی اور نامساعد حالات کا مقابلہ کرتا ہے، لیکن اپنی زندگی اور پھل دینے کی صلاحیت برقرار رکھتا ہے۔ اسی طرح فلسطینی باشندوں کی اپنی سرزمین سے وابستگی بھی نسل در نسل منتقل ہوتی آئی ہے۔ زیتون کا درخت ان کے لیے محض پھل حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ آباء و اجداد کی یاد، گھروں کی رونق، زمین کی برکت اور اجتماعی شناخت کی علامت ہے۔اس درخت کی جڑیں ماضی سے تعلق جوڑتی ہیں، شاخیں نسلوں کی داستان سناتی ہیں اور پھل مستقبل کے لیے امید کا پیغام دیتے ہیں۔
خطیب نے اس مثال کے ذریعے واضح کیا کہ جس طرح زیتون اپنی جڑوں کے سہارے سخت حالات کا مقابلہ کرتا ہے، اسی طرح کسی معاشرے کی استقامت بھی اس کی مضبوط دینی، اخلاقی اور تہذیبی بنیادوں سے وابستہ ہوتی ہے۔ انہوں نے اہل فلسطین کو تلقین کی کہ وہ اس بابرکت موسم میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کریں، گناہوں سے بچیں، اپنی زمین آباد رکھیں اور اس سے وابستگی کو عملی کردار سے ثابت کریں۔خطبے کے آخری حصے میں نبی کریمؐ سے محبت اور آپ پر کثرت سے درود بھیجنے کی فضیلت بیان کی نیز انہوں نے واضح کیا کہ نبی کریمؐ کا مبارک نام مسلمانوں کے دلوں میں غیر معمولی محبت اور احترام رکھتا ہے۔ مسلمان دن رات اپنی نمازوں میں آپ کو یاد کرتے ہیں، آپ کی سیرت سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں اور آپ کی سنت سے وابستگی کو اپنے لیے باعثِ سعادت سمجھتے ہیں۔ جمعہ کے دن کثرت سے درود پڑھنا بھی اسی محبت کا اہم اظہار ہے۔حاصل یہ ہے کہ استقامت محض مشکلات کے مقابلے میں ڈٹے رہنے کا نام نہیں، بلکہ ایمان کی مضبوطی، عبادت کی پابندی، باہمی اتحاد، اپنی شناخت کی حفاظت اور زمین کی تعمیر و آبادی کا مجموعہ ہے۔
زیتون کا موسم اسی حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے۔ اس کی جڑیں وابستگی، اس کی شاخیں تاریخی تسلسل اور اس کا پھل برکت و امید کی علامت ہے۔ جس طرح زیتون کا درخت سخت حالات میں بھی اپنی جڑوں سے وابستہ رہ کر پھل دیتا ہے، اسی طرح ایمان اور اقدار سے مضبوط تعلق رکھنے والی قومیں آزمائشوں میں بھی اپنی شناخت، امید اور استقامت برقرار رکھتی ہیں۔ یہی زیتون کے موسم کا وہ پیغام ہے جسے خطیب نے اہلِ اقصیٰ کے لیے حوصلے اور ثابت قدمی کا ذریعہ بنایا۔



تبصرہ لکھیے