چار بجے شام کو آزاد ہندوستان کا پرچم بلند ہونے والا تھا۔ اگست کی تپتی ہوئی دھوپ کے باوجود لاکھوں آدمی جمع ہوئے، بلکہ گھنٹوں پہلے سے بے پناہ گرمی میں بیٹھے انتظار کر رہے تھے۔ ایسا اژدہام (ازدحام) تھا کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن اپنی کار سے باہر نہیں نکل پائے اور مجبوراً اسی کے اندر سے تقریر کرنی پڑی۔
خوشی سے وجد کی سی کیفیت طاری ہو گئی تھی، لیکن یہ حالت اڑتالیس گھنٹوں سے زیادہ نہ رہی۔ دوسرے ہی روز سے فرقہ وارانہ فسادات کی خبریں دار الحکومت پر افسردگی کے بادل بن کر چھا گئیں۔ یہ خبریں قتل، غارت گری اور ایذا رسانی کی تھیں۔
معلوم ہوا کہ مشرقی پنجاب میں ہندوؤں اور سکھوں نے مسلمانوں کے گاؤں پر حملے کیے ہیں، مکان جلا رہے ہیں اور بے گناہ مردوں، عورتوں اور بچوں کو قتل کر رہے ہیں۔ بالکل ایسی ہی خبریں مغربی پنجاب سے آرہی تھیں۔ وہاں مسلمان اسی طرح ہندو اور سکھ مرد، عورتوں اور بچوں کو اندھا دھند قتل کر رہے تھے۔ غرض کہ پورا پنجاب اس قتل و غارت کی وجہ سے قبرستان بنتا جا رہا تھا۔
وارداتیں بہت تیزی کے ساتھ یکے بعد دیگرے ہوتی رہیں۔ پنجاب کے وزیر دوڑ دوڑ کر دلی آ رہے تھے۔ ان کے پیچھے مقامی کانگریس کے لیڈر آتے تھے، جو غیر سرکاری لوگ تھے۔ یہ سب ان واقعات سے دہشت زدہ تھے جو پنجاب میں رونما ہو رہے تھے۔ خون خرابا اتنے بڑے پیمانے پر ہو رہا تھا کہ ان کے ہوش و حواس گم تھے اور مایوسی کے عالم میں وہ کہہ رہے تھے کہ شاید یہ کسی طرح روکا نہ جا سکے گا۔
ہم نے پوچھا کہ:
“آپ لوگ فوج سے کیوں نہیں مدد لیتے؟”
انھوں نے جواب دیا کہ پنجاب میں جو فوج ہے وہ قابلِ اعتبار نہیں رہی ہے اور اس سے کچھ بہت مدد کی امید نہیں کی جا سکتی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ وہاں کے لیے دلی سے فوج بھیجی جائے۔
پہلے دلی میں فسادات نہیں ہوئے تھے۔ لیکن ایسی صورت میں کہ چاروں طرف ملک میں قتل و غارت گری کے شعلے بھڑک رہے تھے، دلی میں جو تھوڑی بہت ریزرو فوج تھی اس کا وہاں سے ہٹانا مصلحت کے خلاف تھا۔ ہم لوگوں نے طے کیا کہ دوسرے مقامات سے فوج بلائی جائے، لیکن فوج کے پہنچنے سے قبل فسادات کی آگ دار الحکومت تک پہنچ گئی۔
پہلے قتل کی خبریں پنجاب سے آئیں اور ان کے پیچھے مغربی پنجاب سے پناہ گزین آنے لگے تو دلی میں تشدد کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ معلوم ہوتا تھا کہ شہر پر قاتلوں کا قبضہ ہے۔ فسادات صرف ان بستیوں تک محدود نہیں تھے جہاں ریفیوجی آباد تھے یا جہاں عام لوگ رہتے تھے، بلکہ وہ علاقے بھی لپیٹ میں آ گئے تھے جہاں صرف سرکاری ملازم رہتے تھے۔
جب مغربی پنجاب کی خوں ریزیوں کی خبریں دہلی پہنچیں تو دلی کے فساد پسند عناصر کی قیادت میں لوگوں کے ہجوم نے مسلمانوں پر دھاوا بول دیا۔ دلی میں کچھ سکھوں نے ان قاتلانہ حملوں کی تنظیم میں بہت نمایاں حصہ لیا۔ میں پہلے اشارہ کر چکا ہوں کہ یرغمالوں اور انتقامی کارروائیوں کے خطرناک نظریے کے بارے میں جو غیر ذمہ دارانہ باتیں ہوئی تھیں، ان کی وجہ سے میں کس قدر پریشان اور فکر مند ہو گیا تھا۔ دلی میں ہم نے اس نظریے پر ایک بھیانک طریقے سے عمل درآمد ہوتے دیکھا۔ اگر مغربی پنجاب کے مسلمان ہندوؤں اور سکھوں کو قتل کر رہے تھے تو دلی کے بے قصور مسلمانوں سے اس کا بدلہ کیوں لیا جائے؟ یرغمالوں اور انتقام کا یہ نظریہ اس قدر ظالمانہ تھا کہ کوئی بھی صحیح دماغ اور شائستہ انسان اس کی حمایت میں ایک لفظ بھی کہنا پسند نہیں کرے گا۔
فوجیوں کا رویہ بھی اب ایک مسئلہ بن گیا تھا۔ تقسیم سے پہلے فوج فرقہ وارانہ منافرت سے پاک تھی، لیکن جب فرقہ واریت کی بنیاد پر ملک تقسیم ہوا تو منافرت کے جراثیم فوج میں بھی داخل ہو گئے۔ دلی میں جو فوج تھی اس میں زیادہ تر ہندو اور سکھ تھے۔ چند ہی روز کے اندر یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ اگر شہر میں امن قائم رکھنے کے لیے سخت کارروائی کی گئی تو یہ دلی کی فوج کے لیے بہت سخت آزمائش کا باعث ہو سکتی ہے۔
اس لیے ہم نے جنوبی ہند سے فوج بلانے کی کارروائی کی۔ اس پر ملک کی تقسیم کا اثر نہیں پڑا تھا اور اس میں سپاہیانہ فرماں برداری کا جذبہ موجود تھا۔ جنوب سے آنے والے ان سپاہیوں نے دار الحکومت کے فسادات کو رفع کرنے اور امن قائم کرنے میں بہت اہم حصہ لیا۔
خاص شہر کے علاوہ قرول باغ، لودھی کالونی، سبزی منڈی اور صدر بازار جیسے علاقے—جہاں مسلمانوں کی بڑی آبادی تھی—ان تمام علاقوں میں بھی مسلمانوں کے جان و مال محفوظ نہیں رہے تھے اور جو حالات تھے ان میں فوج کے ذریعے حفاظت کا پورا انتظام نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ایک وقت تو اس کی نوبت آ گئی کہ کوئی مسلمان اپنے گھر میں رات کو اس یقین کے ساتھ سو نہیں سکتا تھا کہ دوسرے دن وہ زندہ پلنگ سے اٹھے گا۔
ان قتل و غارت کے دنوں میں، میں نے فوجی آفیسروں کے ساتھ دلی کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔ میں نے دیکھا کہ مسلمان بالکل پست ہو گئے ہیں اور بے بسی کا احساس ان کی طبیعتوں میں سرایت کر گیا ہے۔ بہتوں نے میرے مکان میں پناہ مانگی۔ شہر کے مشہور اور امیر خاندان کے لوگ میرے پاس محتاجی کے اس عالم میں پہنچے کہ تن کے کپڑوں کے سوا ان کے پاس کچھ بھی نہیں بچا تھا۔ ان میں سے بہت سے تو دن کی روشنی میں نکلتے ڈرتے تھے اور وہ آدھی رات کو یا صبح تڑکے فوجی پہرے کے ساتھ میرے گھر تک لائے گئے۔
جب میرا مکان بھر گیا تو میں نے اپنی چہار دیواری کے اندر خیمے لگوا دیے؛ مرد، عورتیں، امیر، غریب، نوجوان اور بوڑھے، غرض کہ ہر قسم کے لوگ موت کے ڈر سے یہاں ہاتھ پاؤں سمیٹ کر جمع ہو گئے تھے۔
یہ بات جلد ہی معلوم ہو گئی کہ امن قائم ہونے میں کافی وقت لگے گا۔ مختلف علاقوں میں دور دور پھیلے ہوئے مکانوں کی حفاظت ناممکن تھی۔ اگر ہم ایک علاقے میں پہرے کا انتظام کرتے تو کسی دوسرے علاقے میں حملے ہونے لگتے؛ اس لیے یہ طے پایا کہ سارے مسلمانوں کو یکجا کر کے انھیں محفوظ کیمپوں میں رکھ دیا جائے۔ ایسا ہی ایک کیمپ پرانے قلعے میں قائم کیا گیا۔ یہاں اب عمارت کوئی نہیں ہے، صرف برجیاں باقی رہ گئی ہیں۔ جلد ہی یہ برجیاں بھر گئیں۔ بہت سے مسلمان یہاں لائے گئے اور انھوں نے تقریباً پوری سردیاں انھیں برجیوں میں گزاریں۔
فسادات کے زمانے میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے متعدد اسپیشل مجسٹریٹ مقرر کیے گئے تھے۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ انتخاب اچھا ثابت نہیں ہوا اور ان میں سے بعض نے اپنے فرض کی ادائیگی میں بڑی کوتاہی کی۔
ایک مجسٹریٹ کے بارے میں تو مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک روز ایک ہندو کانگریسی اس کے پاس مدد کے لیے آیا۔ اس نے بتایا کہ مسلمانوں کے ایک علاقے پر حملے کا اندیشہ ہے اور بعض خاندانوں کے لیے جان کا خطرہ ہے۔ مجسٹریٹ نے ضروری کارروائی کے بجائے اس کانگریسی پر بے حس ہونے کا الزام لگایا اور کہا کہ اسے تعجب ہے کہ کوئی ہندو، مسلمانوں کے لیے مدد مانگنے آتا ہے!
اس واقعے سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مختلف لوگوں پر اس بحران کا کیا اثر ہوا، لیکن اگر کچھ اسپیشل مجسٹریٹ اور کانگریسی اپنے منصب کے نااہل نکلے تو دلی کے زیادہ تر کانگریسیوں نے اس سخت آزمائش کے موقع پر اعلیٰ ظرفی کا ثبوت دیا۔ کانگریس کے ہندو اور سکھ ممبر اپنے فرقہ پرست ہم مذہب لوگوں کی طعن و تشنیع کے باوجود ثابت قدم اور اپنے قوم پرست اصولوں پر قائم رہے۔
ایک اچھے حاکم کی پہلی پہچان یہ ہے کہ وہ ذاتی پسند و ناپسند کو نظر انداز کر کے ہر ایک کی جان و مال کی حفاظت کا ضامن ہو جائے۔ 1946ء اور 1947ء کے ہولناک زمانے میں جواہر لال نے ایک سچے حاکم کی ان صلاحیتوں کا بہت نمایاں ثبوت دیا۔ جس روز سے انھوں نے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی، انھوں نے محسوس کر لیا تھا کہ حکومت کو شہریوں کے درمیان کسی قسم کی تفریق نہیں برتنی چاہیے اور ہر ایک کے ساتھ—خواه وہ ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، پارسی یا بدھ ہو—یکساں برتاؤ کرنا چاہیے۔ قانون کی نظر میں ہندوستان کے ہر شہری کا حق برابر ہے۔
ایک اچھے منتظم کی حیثیت سے ان کی صفات کا پہلا ثبوت سنہ 1947ء میں ملا۔ کلکتے کے قتلِ عام کے بعد نواکھالی میں فسادات شروع ہو گئے، جس میں ہندوؤں کو بہت تکلیف پہنچی۔ نواکھالی کے ہندوؤں کا انتقام لینے کے لیے بہار کے ہندوؤں نے مقامی مسلمانوں پر حملے شروع کر دیے اور سارے صوبے میں فسادات ہونے لگے [1]۔ صوبے کی حکومت کے لیے حالات پر قابو پانا مشکل ہو گیا اور مرکزی حکومت کو سخت کارروائی کرنی پڑی۔
میں ان دنوں تقریباً دو ہفتے پٹنہ میں مقیم رہا۔ جس سختی اور قوت کے ساتھ جواہر لال نے ان فسادات کی روک تھام کی، اس سے میں بہت متاثر ہوا۔ یوں تو ہم سب ایک ہی مقصد کے لیے کوشاں تھے، لیکن بلا شبہ اس میں سب سے موثر کارگزاری جواہر لال کی تھی۔
اس پوری مدت میں گاندھی جی ایک شدید ذہنی کرب میں مبتلا تھے۔ انھوں نے دونوں فرقوں کے درمیان بہتر فضا پیدا کرنے کے لیے اور مسلمانوں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے جی توڑ کوشش کی، لیکن انھیں اس سے بڑی پریشانی اور تکلیف ہوئی۔ ان کی کوششوں کو وہ کامیابی نصیب نہ ہوئی جس کی انھیں امید تھی۔
اکثر وہ جواہر لال، سردار پٹیل اور مجھ کو بلا بھیجتے اور شہر کا حال دریافت کرتے۔ انھیں یہ دیکھ کر اور بھی رنج ہوتا کہ خود ہم لوگ اس بارے میں متفق نہیں ہیں کہ شہر میں کیا ہو رہا ہے۔ سچ یہ ہے کہ میرا اور جواہر لال کا رویہ سردار پٹیل کے رویے سے مختلف تھا؛ اس اختلاف کا اثر مقامی حکام پر پڑ رہا تھا اور یہ بات واضح ہوتی جا رہی تھی کہ ان حکام میں بھی دو گروہ بن گئے ہیں۔
بڑا گروہ: سردار پٹیل کی طرف دیکھتا تھا، اس لیے کہ وہ وزیر داخلہ تھے اور وہ وہی کرنا چاہتا تھا جس سے سردار پٹیل خوش ہوتے۔
چھوٹا گروہ: اس کی نظریں میری اور جواہر لال کی طرف اٹھتی تھیں اور یہ جواہر لال کے احکام بجا لانے کی کوشش کرتا تھا۔
ان دنوں دلی کے چیف کمشنر ایک مسلمان، خورشید احمد تھے جو صاحبزادہ آفتاب احمد کے بیٹے تھے۔ بحیثیت افسر یہ مضبوط آدمی نہیں تھے، اس کے علاوہ انھیں یہ ڈر بھی تھا کہ اگر انھوں نے سختی کی تو ان پر مسلمانوں کی طرف داری کا الزام لگا دیا جائے گا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ صرف نام کے افسرِ اعلیٰ تھے اور ڈپٹی کمشنر ساری کارروائیاں اپنی صواب دید کے مطابق کرتا تھا۔
یہ افسر سکھ تھا، لیکن سکھوں کے رسم و رواج کی بہت سی باتوں پر عمل نہیں کرتا تھا۔ اس نے داڑھی منڈا دی تھی اور بال ترشواتا تھا؛ بہت سے سکھ اس کو بدعتی تصور کرتے تھے۔ وہ تقسیم سے پہلے بھی دلی کا ڈپٹی کمشنر تھا۔ 15 اگست سے قبل ایک تجویز تھی کہ اسے پنجاب واپس بھیج دیا جائے کیونکہ اس کی مدت ہو چکی ہے، لیکن دلی کے بہت سے سربرآوردہ شہریوں نے—خصوصاً مسلمانوں کے ایک بڑے حصے نے—اس تجویز کے خلاف درخواست دی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک غیر جانبدار اور مضبوط آفیسر ہے، اس کٹھن وقت میں اس کا مناسب بدل ملنا مشکل ہو گا۔ شہریوں کی خواہش کے مطابق اس آفیسر کو دلی ہی میں رکھا گیا۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پنجاب کی فرقہ وارانہ کشمکش کے اثر میں آ کر وہ اپنے پچھلے رویے پر قائم نہ رہ سکا۔ مجھ تک بہت سی شکایتیں پہنچیں کہ فسادیوں کے خلاف جتنی سخت کارروائی کی ضرورت تھی، وہ نہیں کر رہا تھا۔ وہی مسلمان جنھوں نے سال بھر قبل اس کو دلی میں رکھنے کی کوشش کی تھی، اب آ کر یہ شکایت کرتے تھے کہ وہ دلی کے مسلمان شہریوں کی حفاظت کا معقول انتظام نہیں کر رہا ہے۔
یہ مشکلات سردار پٹیل تک پہنچیں، لیکن اب وہ ایسی شکایتوں پر بہت ہی کم توجہ کرتے تھے۔ سردار پٹیل وزیر داخلہ تھے اور اس حیثیت سے دلی کے انتظامی امور براہ راست ان کے تحت تھے۔ لوٹ مار اور قتل کی وارداتوں کی فہرست طول کھینچنے لگی تو گاندھی جی نے سردار پٹیل کو بلا کر دریافت کیا کہ وہ اس کشت و خون کی روک تھام کے لیے کیا کر رہے ہیں۔ سردار پٹیل نے انھیں یقین دلانے کی کوشش کی کہ جو خبریں ان تک پہنچ رہی ہیں وہ نہایت مبالغہ آمیز ہیں۔ انھوں نے یہ تک کہا کہ مسلمانوں کو ڈرنے اور شکایت کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
مجھے یاد ہے کہ ایک موقعے پر جب ہم تینوں گاندھی جی کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو جواہر لال نے انتہائی غم کے ساتھ کہا کہ:
“دلی کی صورتِ حال—جس میں مسلمان کتوں اور بلیوں کی طرح مارے جا رہے ہیں—ان کے لیے بالکل ناقابلِ برداشت ہو گئی ہے۔ انھیں اپنی بے بسی پر شرم آتی ہے کہ وہ مسلمانوں کو بچانے کے لیے کچھ نہیں کر سکتے۔ ان کا ضمیر انھیں ہر وقت ستاتا رہتا ہے، اس لیے کہ جب لوگ ان کے پاس ہیبت ناک وارداتوں کی شکایتیں لے کر آتے ہیں تو ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ لوگوں کو کیا جواب دیں۔”
جواہر لال نے اس بات کو کئی بار دہرایا کہ یہ صورتِ حال ان کے لیے ناقابلِ برداشت ہے اور ان کا ضمیر انھیں ایک لمحہ بھی چین سے نہیں رہنے دیتا۔
اس بات کا سردار پٹیل نے جو جواب دیا اس سے ہم ششدر رہ گئے۔ ایسے زمانے میں جب کہ دلی میں مسلمان دن دھاڑے مارے جا رہے تھے، سردار پٹیل نے نہایت اطمینان کے ساتھ گاندھی جی سے کہا کہ:
“جواہر لال کی شکایتیں بالکل ان کی سمجھ میں نہیں آتی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اکا دکا وارداتیں ہوئی ہوں، لیکن حکومت مسلمانوں کے جان و مال کی حفاظت کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے، اور اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا جا سکتا۔”
سردار پٹیل نے الٹے اس بات پر ناگواری ظاہر کی کہ جواہر لال وزیر اعظم ہوتے ہوئے اپنی حکومت کے طرزِ عمل پر ایسے اعتراض کر رہے ہیں۔ جواہر لال چند لمحے چپ بیٹھے رہے اور پھر نہایت دل شکستہ انداز میں انھوں نے گاندھی جی کی طرف دیکھ کر کہا کہ:
“اگر سردار پٹیل کے یہی خیالات ہیں تو پھر انھیں کچھ نہیں کہنا ہے۔” [2]
(جاری ہے۔ مولانا آزاد کی کہانی ابھی جاری ہے…)
حواشی / اینوٹیشنز:
[1] فسادات کا آغاز 16 اگست 1946ء کو اس وقت ہوا جب مسلم لیگ نے کلکتہ میں “یومِ راست اقدام” (Direct Action Day) منایا، جہاں مسلم لیگ کی قیادت میں حسین شہید سہروردی کی وزارت تھی۔



تبصرہ لکھیے