جنگ آزادی ۱۸۵۷ء کے مجاہدین کی طویل فہرست میں اہم نام شہزادہ فیروز شاہ کا ہے جو شمالی ہندوستان کے جنگی میدان میں ہر محاذ پر نظر آتے ہیں۔ ان کا اپنا جاسوسی نظام تھا، اپنی فوج تھی اور وہ دشمن پر اچانک حملہ کر کے اس کو نقصان پہنچاتے اور کسی خطرے میں پھنسنے سے قبل میدان کارزار سے فرار ہو جاتے تھے۔ وہ گوریلا جنگ کے ماہر تھے۔
گویلا جنگ کے علاوہ بھی انھوں نے مجاہدین آزادی کا جگہ جگہ ساتھ دیا اور انگریزی فوج کو نقصان پہنچایا۔ وہ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں آخری لمحات تک انگریزوں سے لڑتے رہے اور انگریزوں کے بہترین جاسوسی نظام کے باوجود ان کے ہاتھ نہیں آئے ۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے اوراق میں ان کے واقعات بکھرے ہوئے ہیں۔ اس مختصر مضمون میں ان کو منضبط کر کے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ فیروز شاہ مغل شاہزادے تھے۔ انگریزوں نے ان کو غلطی سے شاہ ظفر کا بیٹا تحریر کیا ہے۔(فریڈم اسٹرگل ) فیروز شاہ، شاہ عالم ثانی (م 1806ء) کے پوتے مرزا کاظم کے بیٹے تھے۔ اس طرح وہ شاہ ظفر کے چچا زاد بھائی تھے۔ شہزادہ فیروز شاہ آگرہ میں مقیم تھے اور آگرہ میں ہی ان کی جائیداد تھی۔ وہ 1857 کی جنگ آزادی سے قبل حج بیت اللہ شریف کو گئے تھے اور واپس آکر جنگ آزادی میں شریک ہو گئے ۔ (فریڈم اسٹرگل)
حج سے فارغ ہوکر میں ممبئی گنی سے آگرہ کے لیے روانہ ہوئے ۔ اثنائے راہ لوگوں کو بغاوت پر اکساتے رہے۔
انھوں نے انگریزوں کے خلاف جنگ کرنے اور ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے تقاریر کیں۔ اس کوشش کے نتیجے میں انھوں نے گوالیار میں ایک فوجی دستہ تیار کر لیا جو اس قدر جوش میں بھرا ہوا تھا کہ جنگی مصلحتوں کی پروانہ کرتے ہوئے آگرہ میں 10 اکتوبر 1857 کو انگریزوں پر دھاوا بول دیا۔ انھیں شکست ہوئی لیکن دشمن کا بھی بھاری جانی نقصان ہوا شہزادہ فیروز شاہ کی جائیداد برباد ہوگئی اور ان کے افراد خاندان منتشر ہوگئے (فریڈم اسٹرگل 378) شہزادہ فیروز شاہ اس شکست کو بھلا نہیں سکے۔ انھوں نے سقوط روہیل کھنڈ کے بعد نواح آگرہ میں چندن پور (اٹاوہ) کے قلعے پر حملہ کیا تھا لیکن سیف اللہ خاں ڈپٹی کلکٹر آگرہ کی فوج کے مقابلے پسپا ہو کر میدان کارزار سے فرار ہو گئے تھے۔
20 ستمبر 1857 کو انگریزوں نے دہلی پر۔مکمل قبضہ کر لیا تھا۔ اس کے بعد مجاہدین مغربی یوپی کے اضلاع میں انگریزوں سے جنگ کر رہے تھے۔ بریلی میں نواب حافظ رحمت خاں روہیلہ (م1886) کے پوتے نواب خان بہادر خاں کو روہیل کھنڈ کی نظامت کا فرمان بھیجا تھا۔ روہیل کھنڈ کے انقلابی رہنماؤں کی آمد و رفت بریلی میں جاری تھی اور ان کا نواب خان بہادر سے رابطہ قائم تھا۔ نواب خان بہادر خاں نہایت بیدار مغزی سے انقلابی حکومت چلا رہے تھے۔ انھوں نے فوج بھرتی کی ٹکسال قائم کی، اسلحہ سازی کی فیکٹری قائم کی، مالداروں کی آمدنی پر 10فیصدی ویلتھ ٹیکس لگایا تا کہ انقلابی حکومت کی مالی کمزوری رفع ہو، شہر میں امن واماں قائم کیا اور انقلابی حکومت کے مقاصد اور عزائم کو مشتہر کرنے کے لیے مولوی قطب شاہ استاذ فارسی بریلی کالج بریلی نے مطبع بہادری قائم کیا جس میں انقلابی حکومت کے اشتہار طبع کر کے شائع کیے جاتے تھے۔ شہزادہ فیروز شاہ نے ایک تاریخی اہمیت کا اشتہار تحریر کر کے مطبع بہادری سے شائع کرایا تھا جس کے آخر میں یہ عبارت درج تھی:
مطبع بہادری۔ بحکم ناظم کھیڑ ۔ زیر نگرانی مولوی قطب شاہ – طابع شیخ نیاز علی ۔ مورخہ 13 رجب 1286 هجری مطابق 18 فروری 1857 ء
اس اشتہار کا انگریزی میں ترجمہ ایف بی اوٹرم، اسٹنٹ سکریٹری (F.B. Onntram, Assistant Secretary) نے کیا تھا۔ فریڈم اسٹرگل 381) اس ترجمے کی وجہ سے یہ اشتہار محفوظ ہو گیا۔ اس اشتہار کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ عوام انگریزوں سے کس قدر متنفر اور بیزار تھے اور بوجوہ ان کو ہندوستان سے نکالنا چاہتے تھے۔ نواب خان بہادر خاں کی انقلابی حکومت کی پالیسی قطعاً غیر جانبدارانہ تھی اور وہ ملک کے ہر فرد کے دین ، عزت اور ناموس کے لیے انگریزوں کی حکومت کو خطرہ سمجھتے تھے۔ اس اشتہار میں 15 ایسے نکات بیان کی گئے ہیں جو انگریزوں نے مسلمانوں اور ہندوؤں کے دین و مذہب، روز مرہ کی زندگی، رسوم، روایات اور مالی حالت کو تباہ کرنے کے لیے تیار کیے تھے۔ انگریزوں کے اس منصوبے کا ذکر کر کے، اس اشتہار کے ذریعے ، اہل وطن سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ اپنا اپنا دین بچانے اوراپنی اپنی جان وعزت و ناموس کی حفاظت کے لیے یوروپیوں کو قتل کریں۔
اس اشتہار میں انگریزوں کے خلاف لڑائی کو جہاد سے اور بلا تفریق مذہب انگریزوں سے جنگ کرنے والوں کو مجاہد سے موسوم کیا گیا تھا۔ انگریزوں کے خلاف لڑنے والوں کو بلند رکھنے اور پایان کار کامیابی کی امید دلائی گئی تھی۔ انگریزوں کے لیے عیسائی اور کافر کے الفاظ استعمال کیے گئے تھے۔ یہ اشتہار عام لوگوں کے مذہبی جذبات کو اُبھار کر ان کو انگریزوں کے خلاف صف آرا کرنے کے لیے تحریر کیا گیا تھا۔ اس اشتہار سے شہزادہ فیروز شاہ کی ذہنی کیفیت کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ انگریز دشمنی میں کسی حد تک بڑھے ہوئے تھے ۔ وہ تلوار کے ساتھ اپنے تم سے حد تھے۔ وہ ساتھ بھی انگریزوں کے خلاف مورچہ بند تھے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سقوط دہلی سے پہلے ہی شہزادہ فیروز شاہ کا دہلی سے قطع تعلق ہو گیا تھا۔شاہ ظفر کی اولاد اور پھر اولاد کی اولاد کی تعداد اتنی کثیر تھی کہ اس ہجوم میں شاہ ظفر کے چچا کی اولاد کی قلعے میں سمائی اور ان کی پہچان ممکن نہیں تھی۔ شہزادہ فیروز شاہ اپنے عیال کے ساتھ آگرہ میں مقیم ہوئے تھے ۔
10اکتو بر 1857 کی جنگ کے بعد وہ جائیداد سے محروم ہو گئے اور بے گھر اور بے کے بعد وہ سے اور بے وطن ہونے کے بعد جنگ آزادی میں ہمہ وقتی شریک ہو گئے ۔ ان کی بیٹی ریاست رامپورمیں تھیں، جن کے بیٹے خارج فانتوم تھے۔ جو برنارڈ فانتوم کے پسر تھے۔ برنارڈ فانتوم ایک فرانسیسی فوجی افسر اور ڈاکٹر تھا جو نواب احمد علی خاں (م 1860ء) کے علاج کے لیے حیدر آباد سے رامپور آیا تھا۔ اس کی وفات رامپور میں 1865 ء کو ہوئی تھی۔ (انتخاب یادگار ۱۸۹) جارج فانتوم نے علماے وقت سے کسب علم کیا۔ فارسی و اردو زبانوں میں شعر کہتے تھے۔ انھوں نے ایک مختصر تذکرہ شعرائے رامپور بھی تالیف کیا تھا جس کا مخطوطہ رامپور رضا لائبریری رامپور میں محفوظ ہے۔ ان کی بیوی کا نام حاجیہ بیگم تھا۔ مدرسہ اشاعت العلوم سرائے نام بریلی کے منیجر قاری عبدالعزیز حاجیہ بیگم کے نواسے تھے۔ جارج فانتوم اور حاجیہ بیگم کی قبور بریلی کالج بریلی میں ہیں۔
فانتوم گنج کی جائیداد اکبر شاہ ثانی (م 1837ء) نے کپتان برنارڈ فانتوم کو عطا کی تھی تاریخ شعرائے روہیل کھنڈ اس طرح شہزادہ فیروز شاہ کی بریلی سے نسبت بہت قریبی تھی اور ان کا بریلی میں آنا، اشتہار شائع کرانا اور نواب خان بہادر خان کے ساتھ انگریزوں کے خلاف صف آرا ہونا اس نسبت کا ثبوت ہیں۔شہزادہ فیروز شاہ نے اپنی زندگی انگریزوں سے جنگ کرنے اور ان کو زک پہنچانے کے لیے وقف کر دی تھی۔ ان کا گھر میدانِ جنگ، ان کا بستر گھوڑے کی زمین اور ان کی رفیق و دمساز تیغ خوں آشام تھی۔اںہوں نے صرف مغربی یوپی کے اضلاع روہیل کھنڈ میں انگریزوں کے خلاف درجنوں محاربات کیے۔۔ خاص کرراد آباد سنبھل شاہ جہاں بدایون بریلی میں ان کی انگریزوں سے لڑائیاں ۱۸۵۷ء کی تاریخ کے یادگار واقعات ہیں۔ ان کی جنگی حالت یہ تھی کہ جب انگریز کسی مقام پر قبضہ کر کے پیش قدمی کرتے ، وہ اسی مقام پر حملہ کر کے انگریزوں کو نقصان پہنچاتے تھے۔ان کے حملے میں انگریزی فوج کو بھاری نقصان ہوتا اور قبل اس کے کہ انگریزی فوج سنبھل کر ان پر حملہ کرے، وہ میدان کارزار سے فرار ہو جاتے تھے۔ اس سلسلے میں ان کی دولڑائیوں کا ذکر بے محل نہ ہوگا۔
مراد آباد پر ریاست رامپور کی فوج کے سربراہ عبدالعلی خاں نے قبضہ کر لیا تھا۔ مراد آباد کے انتظام کا اختیار انگریزوں نے نواب یوسف علی خاں کو دے دیا تھا۔ انگریز حکام نینی تال میں پناہ گزیں ہو گئے تھے۔ ۲۲ اپریل ۱۸۵۸ء کو فیروز شاہ نے مراد آباد پر اچانک حملہ کیا۔ عبدالعلی خاں کی فوج کو شکست ہوئی اور وہ رامپور بھاگ گئے۔ شہزادہ فیروز شاہ نے سرکاری دفاتر اور بنگلوں کو لوٹا، خزانے پر قبضہ کیا، سرکاری املاک میں آگ لگا دی اور قبل اس کے کہ انگریزی فوج تادیبی کارروائی کرے، جو وہاں سے دو منزل کے فاصلے پر تھی، انھوں نے شاہ جہاں پور اور اودھ کی جانب روانگی اختیار کی ۔ فریڈم اسٹرگل
شہزادہ فیروز شاہ کی دوسری یادگار جنگ مگر الہ ضلع بدایوں میں ہوئی تھی بریگیڈیئر پینی نے 20اپریل 1857ء کو اسہیت ( تحصیل داتا گنج ضلع بدایوں) پر قبضہ کر لیا تھا مگرالہ پر گنہ اسمیت میں واقع ہے۔ بریگیڈیئر پینی کو طے شدہ پلان کے مطابق ککرالہ سے شاہ جہاں پور جا کر جنرل کیمبل کمانڈر ان چیف کی سربراہی میں بریلی پر حملہ کرنا تھا۔ لیکن شہزادہ فیروز شاہ اور وزیر محمد خاں صبح کی ہلکی روشنی میں ان پر حملہ آور ہوئے۔ بریگیڈیئر پینی مارا گیا۔ شہزادہ فیروز شاہ اور وز یر محمد خاں کی فوج کا بھاری نقصان ہوا لیکن دونوں اپنی فوج کو لے کر میدان کارزار سے ہٹ گئے ۔ (فریڈم اسٹرگل – 662) 5رمئی 1857 کو جنگ نگرالہ کے بعد موضع ستی پور شہر کہنہ بریلی میں نکیا ندی کے کنارے نواب خان بہادر خاں، ناظم روہیل کھنڈ کی فوج کا مقابلہ انگریزی فوج سے ہوا تھا۔ انگریزی فوج کا سربراہ جنرل کیبل تھا۔ نواب خان بہادر خاں کی فوج میں شہزادہ فیروز شاہ اور وزیر محمد خاں شامل ہو گئے۔
ان کے علاوہ تحریک آزادی کے دیگر رہنما، مالا گڈھ کے نواب ولی داد خاں ، ان کے فرزند اسمعیل خان، بالا جی، نواب محمود خاں وغیرہ بھی نواب خان بہادر خاں کی مدد کے لیے آگئے تھے۔ یہ لڑائی دو پہر سے شام تک جاری رہی۔ اس جنگ میں شہزادہ فیروز شاہ نے ایسی شجاعت کا مظاہرہ کیا تھا کہ اس کا چرچا ایک مدت تک بریلی میں ہوتا رہا اور بڑے بوڑھے ان کی بہادری کے قصے سناتے رہے۔ سادات نو محلہ بریلی کے ایک معروف بزرگ سید فیروز شاہ کا نام شہزادہ فیروز شاہ کے نام پر رکھا گیا تھا۔ ( خان بہادر خاں شہید 1858ء کوستی پور اور بریلی کی جنگ کے بعد، طے شدہ پلان کے مطابق، نواب خان بہادر خاں ، شہزادہ فیروز شاہ اور دیگر قائدین آزادی بریلی چھوڑ کر براہ پیلی بھیت ، شاہ جہاں پور میں داخل ہو گئے۔ جنرل جونس بریلی کی جنگ میں کامیاب ہونے کے بعد شاہ جہاں پور پہنچا تھا۔ 8مئی 1858 ء کو اس نے مجاہدین پر حملہ کر کے ان کو منتشر کر دیا اور شہر میں آگ لگادی۔ شہر میں لوٹ مار اور قتل کا عد بھی 12 مئی 1858 سے 24 مئی 1858 کو جنرل کیمبل نے شاہ جہاں پور قبضہ کر لیا۔مجاہدین محمد ی تھیم پور میں جمع ہوئے ۔
مولوی احمد اللہ شاہ نے پلٹ کر شاہ جہاں پور میں راجہ پوایاں کی گڑھی کا محاصرہ کیا۔ ان کے سر پر ۵۰ ہزار روپے کا انعام تھا۔ وہ سازش کا شکار ہو کر شہید ہو گئے ۔ یہ واقعہ 15جون 1858 ء کا ہے۔ احمد اللہ شاہ کا سرکوتوالی پر لٹکایا گیا اور نعش کو دفن کرنے کے بجائے جلووایا گیا۔ فریڈم اسٹرگل انگریزوں نے مجاہدین کو محمدی سے بھی دھکیل دیا اور وہ لڑتے ہوئے بالآخر بٹول نیپال میں پناہ گزیں ہو گئے۔ انگریزوں نے نواب خان بہادر خاں کو نیپال میں ہی گرفتار کر کے 26 مارچ 1860 کو بریلی میں پھانسی کی سزادی تھی۔ ان کی قبر ڈسٹرکٹ جیل بریلی میں ہے۔ شہزادہ فیروز شاہ نیپال نہیں گئے۔ انھوں نے کانپور اور اٹاوہ کی راہ سے راجستھان میں قدم رکھا اور وہاں سے صوبہ سرحد میں دریائے اٹک کو پار کر کے افغانستان میں داخل ہوئے ۔ اس کے بعد ایران سے گزر کر حجاز پہنچے ۔ ان کی وفات حجاز میں ہوئی ( قاری – 001) اس طرح جنگ آزادی ۱۸۵۷ء کا ایک شہزادہ طویل جدوجہد کے بعد سرزمین حجاز میں آسودہ خواب ہو گیا۔



تبصرہ لکھیے