(قسط اول)
شملہ کانفرنس کے ناکام ہونے اور نئے انتخابات کا اعلان ہونے کے بعد بمبئی میں 22 ستمبر 1945ء کو آل انڈیا کانگریس کمیٹی کا جلسہ ہوا۔ اس میں پنجاب کے ایک رکنِ کانگریس نیکی رام شرما نے سوقیانہ انداز میں مسلم لیگ پر حملے کرنے کے بعد کہا:
“چاروں اکثریتی صوبوں میں لیگ چاروں شانے چت کرے گی۔ مسلمان بھوکے ہیں، وہ اسی کو ووٹ دیں گے جو انہیں روٹی دے گا!”
صوبائی مجالسِ آئین ساز کے انتخابات سے کچھ ہی پہلے مولانا ابوالکلام آزاد نے بڑے پرامید لہجے میں فرمایا تھا:
>”صوبائی مجلسِ آئین ساز کے انتخاب میں ہر مسلم نشست کا ہم مقابلہ کریں گے اور غیر معمولی کامیابی حاصل کریں گے!”
اس کے بعد مولانا نے مجلسِ احرار اور دوسری مخالفِ مسلم لیگ جماعتوں سے اپیل کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
“وہ منظم ہو کر ایک وجود بن جائیں اور ڈٹ کر مسلم لیگ کا مقابلہ کریں۔”
اور بلا شبہ مولانا کی اپیل کارگر ہوئی؛ خاکسار، جمعیت علمائے ہند، احرار اور دیگر جماعتوں نے مسلم لیگ کے خلاف ایک محاذ بنا لیا۔ انہوں نے مسلم لیگ کے راستے میں کانٹے بچھائے، پتھر پھینکے، چاقو اور خنجر سے وار کیے اور جلسے درہم برہم کرنے کی کوشش کیے۔ کانگریس نے اور کانگریس کے ان اتحادیوں نے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ مجلسِ احرار کے واعظانِ آتش مقال اور علمائے شیوا بیان دورے پر نکل پڑے۔ بمبئی کا وہ جلسہ یاد کیجیے جس میں مولانا عطا اللہ شاہ بخاری اور شورش کاشمیری کی خطابت نے رنگ باندھ دیا تھا، لیکن وہ بری طرح پِٹے۔ دیوبند کے طلبہ کی ایک جماعت مولانا حسین احمد مدنی کی سربراہی میں شہر شہر اور قریہ قریہ گشت کر رہی تھی۔ جہاں موقع ملتا، مولانا آزاد بھی طیارے پر اڑ کر پہنچ جاتے۔ غرض تفریق بین المسلمین اور تضعیفِ شوکتِ مؤمنین میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی گئی۔ (بحوالہ: آزادیِ ہند، رئیس احمد جعفری، ص 145)
انتخابی ہنگامہ آرائی اور فتوے
احرار و خاکسار میدانِ انتخاب میں زورِ زبان اور قوتِ استدلال سے زیادہ دست و بازو کی طاقت کے بل پر اترے۔ انہوں نے ہنگامہ آرائی کی، شورش اور بدامنی کے مظاہرے کیے؛ ان کا کوئی جلسہ ایسا نہیں تھا جس میں مسلم لیگ اور قائد اعظم کو گالیاں نہ دی گئی ہوں، قائد اعظم کی ذات پر الزامات نہ لگائے گئے ہوں، یا مسلم لیگ کی قیادت کے خلاف کفر و فسق کے فتوے نہ دیے گئے ہوں۔مولانا مظہر علی اظہر نے تو ایک شعر بھی کہا جو کافی مشہور ہوا:
اک کافرہ کے واسطے اسلام کو چھوڑا
یہ قائد اعظم ہے کہ کافر اعظم!
“کافرہ” سے مراد قائد اعظم کی مرحوم بیوی (رتی جناح) تھیں، جو ایک پارسی کروڑ پتی کی بیٹی تھیں لیکن شریف دیوجی کانجی کے سامنے ایک شیعہ مجتہد کے ہاتھ پر باقاعدہ مشرف بہ اسلام ہو چکی تھیں اور بمبئی کے مسلم قبرستان میں ابدی نیند سو رہی تھیں۔ ان کے قبولِ اسلام کا واقعہ کوئی راز نہیں تھا؛ یہ خبر اس وقت بمبئی کے اخبارات کے علاوہ لاہور کے سول اینڈ ملٹری گزٹ تک میں شائع ہو چکی تھی۔ لیکن مظہر علی اظہر اور مولانا حسین احمد مدنی کو اصرار تھا کہ وہ کافرہ تھیں۔دوسری طرف خود کانگریس کے اندر جن زعماء (مثلاً ڈاکٹر خان صاحب، مسٹر آصف علی، مسٹر ہمایوں کبیر وغیرہ) نے سول میرج کر کے غیر مسلم بیویوں کو زینتِ پہلو بنا رکھا تھا، ان کے خلاف یہ تمام حضرات خاموش تھے، بلکہ الیکشن میں انہیں کامیاب کروانے کے لیے دوڑ دھوپ کر رہے تھے۔مسلم لیگ کے مقابلے میں احرار نے ہر مسلم نشست پر امیدوار کھڑے کیے لیکن کامیاب نہ ہو سکے اور اکثر کی ضمانتیں ضبط ہو گئیں۔ خاکسار جماعت نے دو درجن سے زائد امیدواروں کو کھڑا کیا، مگر مسلم لیگ کے مقابلے میں کوئی ایک بھی کامیاب نہ ہو سکا اور تقریباً سب کی ضمانتیں ضبط ہو گئیں۔
مولوی حبیب الرحمن لدھیانوی اور مولانا آزاد کا مشورہ
میرٹھ میں مولوی حبیب الرحمن لدھیانوی (صدر مجلسِ احرار) اس قدر جوش میں آئے کہ دانت پیستے تھے، غصے میں ہونٹ چباتے تھے اور فرماتے تھے کہ:
“دس ہزار جناح، شوکت اور ظفر، جواہر لال نہرو کی جوتی کی نوک پر قربان کیے جا سکتے ہیں۔”
(حوالہ: چمنستان، از ظفر علی خان، ص 165، بار اول 1944ء)
مولانا ابوالکلام آزاد کے انٹرویو نگار شورش کاشمیری انہی مولانا حبیب الرحمن کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ مولانا آزاد نے مولانا حبیب الرحمن کو بلوایا اور کہا:
“آپ لوگ دیکھ رہے ہیں کہ حالات یکسر تبدیل ہو گئے ہیں، ادھر ادھر کا راستہ نہیں رہا۔ ایک سیدھا راستہ بن چکا ہے جس سے اب انکار نہیں کیا جا سکتا۔ میں نے چاہا کہ مسلمان میرے ساتھ آ جائیں لیکن مسلمانوں نے اعراض کیا۔ میری بات کچھ تو ان کی سمجھ میں نہ آئی، کچھ حالات اس طرح کے بن گئے کہ ان کے لیے لیگ ہی کا راستہ پسندیدہ ہو گیا۔ اب اس کے حسن و قبح پر بحث کا سوال نہیں، اب ایک طے شدہ راستے پر مسلمانوں کے سفر کا سوال ہے۔
اگر ہم ہندوستان کے علاوہ مسلمانوں کے لیے بھی سوچتے رہے ہیں تو میں آپ کو اور آپ کی وساطت سے احرار کو مشورہ دوں گا کہ آپ لوگ جو پاکستان کے صوبوں میں رہ رہے ہیں، لیگ میں شامل ہو جائیں تاکہ مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچ سکے اور معاملہ کسی دشواری کے بغیر حل ہو جائے۔ دوسرا فائدہ یہ ہو گا کہ مسلمانوں میں آپ لوگوں کا اعتماد بحال ہو جائے گا۔ اس وقت مسلمان جذبات کے عالم میں ہیں، انہیں غصہ بھی ہے، ناراضی بھی اور شاید بڑی حد تک نفرت بھی؛ یہ سب ختم ہو جائیں گے۔ پاکستان بن جانے کے بعد جب انہیں سیاسی موقع پرستوں اور انگریزی حکومت کے موروثی اہلکاروں سے واسطہ پڑے گا تو ان کی طبیعتیں دوبارہ غور و فکر کی طرف لوٹ آئیں گی، اس وقت آپ ان کا ہاتھ تھام سکتے ہیں اور پاکستان کی آزادی کو اغوا ہونے سے بچا سکتے ہیں۔”
مولانا حبیب الرحمن متحیر ہو گئے اور کہا:
“لیکن مسٹر جناح ہمیں قبول نہیں کریں گے۔”
مولانا آزاد نے کہا:
“آپ مسٹر جناح کے لیے نہیں، مسلمانوں کے لیے جائیے۔”
شورش کاشمیری کے بقول، مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی نے مولانا آزاد کے اس مشورے سے احرار کو مطلع کیا نہ خود اس پر عمل کیا۔ حالانکہ ان کا مولانا آزاد کے ساتھ تعلق اس قدر گہرا تھا کہ مولانا نے انہیں پنجاب کانگریس کا صدر بنانا چاہا تھا اور وہ کانگریسی روپے کے راز دار اور حصہ دار بھی تھے.(بوئے گل، ص 344)
تقسیم کے بعد: تلخ حقائق اور قائدین کے ردِ عمل
علامہ اقبال نے سچ کہا تھا:
ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد
تقسیمِ ہند کے بعد جب فسادات پھوٹ پڑے تو مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی کے ہاتھ کچھ ایسے دستاویزات لگے جن سے معلوم ہوتا تھا کہ فسادات کے پیچھے کون سے عناصر اور انگریز افسران شامل ہیں۔ وہ یہ کاغذات لے کر دہلی پہنچے۔
1. مولانا آزاد سے ملاقات:
مولانا آزاد نے کاغذات دیکھ کر ایک سرد آہ بھری اور کہا:
“مولوی صاحب! یہ سب کچھ میرے علم میں ہے۔ بہرحال موسمی ہوائیں ہیں، گزر جائیں گی۔ اب جو کچھ ہو رہا ہے وہ تو ناگزیر تھا… توقف کیجیے، طوفانوں کی طرح یہ طوفان بھی تھم جائے گا۔”
2. پنڈت نہرو سے ملاقات:
وہاں سے مایوس ہو کر وہ پنڈت جواہر لال نہرو کے پاس گئے اور اپنا دکھڑا سنایا کہ:
“کیا ہم نے اسی دن کے لیے کانگریس کا ساتھ دیا تھا کہ اپنے گھروں ہی میں نہ رہ سکیں؟ لدھیانہ میں سب سے پہلے میرے مکان کو آگ لگائی گئی۔ مسلمان ہونا تو دور، ہم نے تو کانگریس کے لیے قربانیاں دیں، لیکن ہمارے ہی سینے میں خنجر گھونپا گیا۔”
پنڈت نہرو نے سر جھکا کر سنتے رہے اور آنکھوں میں آنسو بھر کر کہا:
“مولانا! میرے پاس ندامت کے سوا کچھ نہیں۔ میں شرمندہ ہوں، انسان پاگل ہو گیا ہے۔ آپ ہمیں معاف کر دیں۔”
3. مہاتما گاندھی سے ملاقات:
اگلے روز وہ گاندھی جی سے ملے۔ گاندھی جی نے سن کر کہا:
“مولوی صاحب! مجھے افسوس ہے، میں آپ سے اتفاق نہیں کر سکتا۔ آپ نے دیش کی سوتنترتا (آزادی) کے لیے قید کاٹی ہے اور اپنا گھر آپ نے موت کے خوف سے چھوڑا ہے۔ مسجدوں کی توہین کے ذمہ دار آپ ہیں؛ ان کے لیے مٹ جاتے۔ آپ کو مر جانا چاہیے تھا لیکن خدا کا گھر نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔”
4. سردار پٹیل سے ملاقات:
آخر میں وہ سردار پٹیل سے ملے اور تمام دستاویزات دکھائے۔ پٹیل نے وہ کاغذات اپنی بیٹی منی بہن کو پکڑائے اور بغیر کسی تاثر کے کہا:
“آپ جانتے ہیں کانگریس نے جناح کو راضی کرنے کے لیے ہر جتن کیا، لیکن اس فساد کی ذمہ دار لیگ ہے۔ ہم نے ہندوؤں کے بل بوتے پر آزادی حاصل کی ہے۔ جس قوم نے ہمیں اقتدار دیا ہے، اس پر گولی چلانا ہمارے لیے ناممکن ہے۔ ہم احرار لیڈر نہیں ہیں کہ قربانی بھی دیں اور گالیاں بھی کھائیں۔”
(بحوالہ: بوئے گل، نالہ دل، دودِ چراغِ محفل، جلد اول، ص 490 تا 494)*
مالی معاونت اور سیاسی جوڑ توڑ
مجلسِ احرار کے روحِ رواں مولوی مظہر علی اظہر کے متعلق شورش کاشمیری لکھتے ہیں:
“جب راز فراہم ہوئے تو یہ چیز کھلی کہ مولانا مظہر علی اظہر نے انتخابی مہم کا آغاز ملک خضر حیات کے مشورے سے کیا تھا اور وہ ان سے باقاعدہ مالی امداد لے چکے تھے۔ کانگریس اور یونینسٹ پارٹی دونوں سے روپیہ اینٹھا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ جن مولانا ابوالکلام آزاد کے نام پر ناک بھوں چڑھاتے تھے، انہی کی سفارش سے پچاس ہزار روپے وصول کیے۔” (بوئے گل، ص 330-331)
الیکشن سے قبل مسلم لیگ کے صوبائی رہنماؤں (مثلاً نوابزادہ نصر اللہ خان اور میاں ممتاز دولتانہ) نے احرار سے مفاہمت کی بڑی کوششیں کیں اور چند نشستوں کی پیش کش بھی کی، لیکن مظہر علی اظہر نے اس پر توجہ نہ دی کیونکہ ان کا سیاسی اتحاد ملک خضر حیات کے ساتھ ہو چکا تھا۔ آل انڈیا مسلم لیگ نے سینٹرل اسمبلی کے انتخابات میں 100 فیصد کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد 24 فروری 1946ء سے صوبائی انتخابات کا مرحلہ شروع ہوا، جس میں مسلم لیگ کی کامیابی کا مطلب براہِ راست قیامِ پاکستان تھا۔
(جاری ہے…)



تبصرہ لکھیے