سردار پٹیل کا ذہن کس طرح کام کر رہا تھا؟
غالباً انھوں نے یہ محسوس کیا کہ مسلمانوں پر روزانہ جو حملے ہو رہے تھے ان کا کوئی جواز ہونا چاہیے۔ چنانچہ انھوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ مسلمانوں کے علاقوں سے بہت اسلحہ برآمد ہوا ہے، جو دہلی کے مسلمانوں نے ہندوؤں اور سکھوں پر حملہ کرنے کے لیے جمع کیا تھا۔ مطلب یہ تھا کہ اگر ہندوؤں اور سکھوں نے اس معاملے میں پہل نہ کی ہوتی تو مسلمان انھیں تباہ کر دیتے۔
پولیس نے سبزی منڈی اور قرول باغ کے علاقوں سے واقعی کچھ اسلحہ برآمد بھی کیا۔ جو سردار پٹیل کے حکم سے گورنمنٹ ہاؤس میں لا کر ہمارے معائنے کے لیے، کیبنٹ روم سے ملحق کمرے میں سجا دیا گیا۔ صبح کو جب ہم سب اپنے روزانہ کے جلسے کے لیے جمع ہوئے تو سردار پٹیل نے کہا کہ پہلے ہمیں پاس کے کمرے میں چل کر برآمد شدہ اسلحہ کا معائنہ کرنا چاہیے۔
وہاں پہنچ کر ہم نے ایک میز پر درجنوں باورچی خانے کی معمولی زنگ آلود چھریاں، جیبی اور قلم و پنسل بنانے کے چاقو—جن میں سے بعض کے دستے تھے اور بعض کے دستے غائب تھے—کچھ لوہے کی سلاخیں جو پرانے مکانات کے جنگلوں سے نکالی گئی تھیں، اور کچھ پائپ کے ٹکڑے دیکھے۔ سردار پٹیل کے خیال میں یہی وہ اسلحہ تھا جو مسلمانوں نے ہندوؤں اور سکھوں کو نیست و نابود کرنے کے لیے جمع کیا تھا! لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ان میں سے ایک دو چاقو اٹھا لیے اور مسکرا کر کہا:
“جن لوگوں نے جنگ کا یہ سامان اس خیال سے جمع کیا تھا کہ اس سے دلی کا شہر فتح کر لیا جائے، ان کا جنگ کے بارے میں تصور بہت ہی عجیب و غریب ہو گا۔”
—
دلی کے زیادہ تر مسلمانوں کو پرانے قلعے میں لا کر رکھا گیا تھا۔ اب سردیاں سر پر آ گئی تھیں۔ ہزاروں لوگ جو کھلے آسمان کے نیچے رہتے تھے، انھیں سردی سے سخت تکلیف پہنچتی تھی۔ ان کے لیے نہ کھانے کا معقول انتظام تھا اور نہ پانی کا؛ وہاں سے گندگی ہٹانے کا اول تو کوئی انتظام ہی نہ تھا اور جو تھا وہ بھی بالکل ناکافی تھا۔
ڈاکٹر ذاکر حسین نے ایمرجنسی بورڈ کے سامنے شہادت دیتے ہوئے، پرانے قلعے میں رہنے والوں کی دل گداز حالت بیان کی۔ انھوں نے کہا کہ ان غریب مردوں، عورتوں اور بچوں کو موت کے منہ سے نکال کر “زندہ درگور” کیا گیا ہے۔ بورڈ نے مجھے ہدایت کی کہ میں جا کر انتظامات کا معائنہ کروں اور ضروری کارروائیاں تجویز کروں۔ اس کے بعد جلسے میں طے پایا کہ پانی اور صفائی کا فوراً انتظام کیا جائے۔ ساتھ ہی فوج سے کہا گیا کہ وہ جتنے زیادہ سے زیادہ خیمے دے سکتی ہو فراہم کرے، تاکہ لوگوں کو کم سے کم کینوس کے نیچے پناہ مل سکے۔
—
ادھر گاندھی جی کی اذیت روز افزوں تھی۔ پہلے پوری قوم ان کی ادنیٰ سے ادنیٰ خواہش پوری کرنے پر تیار رہتی تھی، لیکن اب یہ عالم تھا کہ وہ منت اور التجا کر رہے تھے اور لوگوں کے کان پر جوں تک نہ رینگتی تھی۔ بالآخر حالات ان کے لیے ناقابل برداشت ہو گئے۔ انھوں نے مجھے بلا کر کہا:
“میرے پاس اب اس کے علاوہ کوئی ذریعہ نہیں رہ گیا ہے کہ اس وقت تک کے لیے برت رکھوں، جب تک دلی میں پھر سے امن و امان قائم نہ ہو جائے۔”
یہ خبر سن کر کہ گاندھی جی دلی میں امن قائم ہونے تک برت رکھنے والے ہیں، بہت سے لوگ جو اب تک ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے تھے، انھیں ذمہ داری کا احساس ہوا۔ وہ شرمندہ ہوئے اور عمل کی طرف مائل ہوئے۔ سب نے محسوس کیا کہ گاندھی جی کو اس عمر میں اور صحت کی اس حالت میں برت رکھنے سے روکنا چاہیے۔ ان لوگوں نے گاندھی جی سے اپیل کی کہ وہ اپنا ارادہ ترک کر دیں، لیکن گاندھی جی کا فیصلہ اٹل تھا۔
—
سردار پٹیل کا رویہ گاندھی جی کے دل پر سب سے بڑا بوجھ تھا۔ سردار پٹیل ان کے بہت قریب کے لوگوں میں سے تھے اور انھیں بہت عزیز تھے۔ دراصل سردار پٹیل کی سیاسی حیثیت ہر لحاظ سے گاندھی جی کی مرہونِ منت تھی۔ کانگریس کے اہم لیڈروں میں بہت سے ایسے تھے جن کی سیاسی زندگی گاندھی جی کے سیاسی میدان میں آنے سے پہلے شروع ہو چکی تھی، لیکن سردار پٹیل اور ڈاکٹر راجندر پرشاد، دو آدمی ایسے تھے جو بالکل گاندھی جی کے بنائے ہوئے تھے۔
ڈاکٹر راجندر پرشاد کا تعلیمی ریکارڈ شاندار تھا اور بہت سے لوگ محسوس کرتے تھے کہ وہ آئندہ بہار کی سیاست میں ایک اہم شخصیت ثابت ہوں گے۔ لیکن انھیں اپنی وکالت سے زیادہ دلچسپی تھی اور وہ شاید یہ بھی محسوس کرتے تھے کہ امام برادران (سید حسن امام اور سید حسین امام) اور مسٹر مظہر الحق جیسے لیڈروں کے مقابلے میں ان کے لیے آگے بڑھنے کا زیادہ امکان نہیں ہے۔ جب گاندھی جی بہار آئے تو انھوں نے دیکھا کہ سیاسی رہنمائی کی باگ ڈور مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے اور شروع میں کوئی قابلِ ذکر ہندو ان کی تحریک میں شامل نہیں ہوا تھا۔
ایک موقع پر ڈاکٹر سچدانند سنہا نے ایک دعوت کا اہتمام کیا، جس میں کسی قدر نمایاں ہندوؤں کو گاندھی جی سے ملانے کا انتظام کیا گیا۔ انھوں نے گاندھی جی سے کہا کہ بہار کے ہندو اس شرط پر عدمِ تعاون کی تحریک میں حصہ لے سکتے ہیں کہ وہ کسی ہندو کو تحریک کا لیڈر چنیں۔ گاندھی جی نے کہا کہ وہ کسی کو اپنی مرضی سے رہنمائی کا مقام نہیں دے سکتے؛ اگر کسی میں صلاحیت ہوئی تو وہ خود اپنی جگہ بنا لے گا، لیکن انھوں نے وعدہ کیا کہ اگر کوئی لائق اور باکردار ہندو سامنے آئے تو وہ اس کی ضروری مدد کریں گے۔ اس موقع پر بابو راجندر پرشاد کا نام تجویز کیا گیا اور بلا شبہ وہ چند سال کی مدت میں گاندھی جی کی مدد اور حمایت سے ایک کل ہند سیاسی شخصیت بن گئے۔
سردار ولبھ بھائی پٹیل ترکِ موالات کی تحریک سے پہلے گجرات کے وکیلوں میں سے ایک وکیل تھے۔ ملک کی سیاسی زندگی سے انھیں کوئی دلچسپی نہ تھی اور وہ سیاسی دنیا میں کوئی حیثیت نہ رکھتے تھے۔ جب گاندھی جی نے احمد آباد کو اپنا مرکز بنایا تو انھوں نے سردار پٹیل کو چن کر نکالا اور رفتہ رفتہ ان کی حیثیت بنائی۔ پٹیل دل و جان سے ان کے ساتھ ہو گئے اور بسا اوقات وہ صرف گاندھی جی کی خواہشات کو بیان کرتے تھے۔ گاندھی جی نے انھیں کانگریس ورکنگ کمیٹی کا رکن بنوایا اور انھیں کی وجہ سے وہ سنہ 1931ء میں کانگریس کے صدر چنے گئے۔
—
گاندھی جی کو اس بات کا صدمہ تھا کہ پٹیل اب ایک ایسی پالیسی پر عمل پیرا تھے جو ان کے ہر اصول اور مقصد کے منافی تھی۔ اس سے قبل گاندھی جی نے کہا کہ وہ دلی کے مسلمانوں کو اپنی آنکھوں سے قتل ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، اور یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے جب خود ان کے ولبھ بھائی حکومتِ ہند کے وزیر داخلہ ہیں اور دارالحکومت میں امن و امان قائم رکھنے کے ذمہ دار ہیں۔ سردار پٹیل نہ صرف مسلمانوں کی حفاظت کرنے میں قاصر رہے ہیں، بلکہ اس بارے میں ان سے جو شکایتیں کی جاتی ہیں، انھیں بے پروائی کے ساتھ ناقابلِ شنوائی ٹھہرا دیتے ہیں۔
گاندھی جی نے کہا کہ اب ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ اس وقت تک برت رکھیں جب تک کہ حالت بالکل سدھر نہ جائے۔ چنانچہ 12 جنوری 1948ء سے ان کا برت شروع ہو گیا۔ ایک لحاظ سے گاندھی جی کا برت سردار پٹیل کے رویے کے خلاف ایک احتجاج تھا، اور سردار پٹیل خود بھی یہی سمجھتے تھے۔
تاہم ہم نے ہر ممکن کوشش کی کہ گاندھی جی کو برت رکھنے سے باز رکھا جائے۔ برت کی پہلی شام کو میں، جواہر لال اور سردار پٹیل گاندھی جی کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اگلے روز صبح سردار پٹیل بمبئی جانے والے تھے۔ انھوں نے گاندھی جی سے سرکاری انداز میں گفتگو کرتے ہوئے شکایت کی کہ وہ کسی معقول وجہ کے بغیر برت رکھ رہے ہیں، دراصل اس وقت برت رکھنے کا مناسب موقع اور محل نہیں ہے۔ ان کے برت کا نتیجہ یہ ہو گا کہ حکومتِ ہند اور خصوصاً وزیر داخلہ پر الزامات لگائے جائیں گے۔ انھوں نے کچھ تلخی کے ساتھ کہا کہ گاندھی جی کا طرزِ عمل کچھ ایسا ہے گویا وہ انھیں مسلمانوں کے قتل کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔
—
گاندھی جی کے برت کے بارے میں یہ خیال رکھنے والے اکیلے سردار پٹیل ہی نہیں تھے۔ جس روز سے انھوں نے امن کی خاطر یہ تدبیریں اختیار کی تھیں، ہندوؤں کی ایک جماعت میں ان سے بغض پیدا ہو گیا تھا جو دن بہ دن بڑھتا رہا تھا۔ یہ لوگ کھلے بندوں گاندھی جی کی مذمت یہ کہہ کر کرتے تھے کہ انھوں نے ہندوؤں کے جائز حقوق قربان کر دیے ہیں۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں تھی، اسے سارا ملک جانتا تھا۔
ہندو مہاسبھا اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کی قیادت میں ہندوؤں کا ایک طبقہ آزادی کے ساتھ یہ کہتا پھرتا تھا کہ گاندھی جی ہندوؤں کے خلاف مسلمانوں کی مدد کر رہے ہیں۔ انھوں نے گاندھی جی کی پرارتھنا سبھا کی بھی مخالفت شروع کر دی تھی، کیونکہ اس میں ہندو شاستروں کے اشلوکوں کے ساتھ قرآن اور انجیل کی آیتیں بھی پڑھی جاتی تھیں۔ کچھ لوگوں نے تو ان پرارتھنا سبھاؤں کے خلاف باقاعدہ ایجی ٹیشن شروع کر دیا تھا اور کہتے تھے کہ وہ قرآن اور انجیل کی آیتیں نہیں پڑھنے دیں گے۔ اس مقصد سے پمفلٹ اور ہینڈ بل شائع اور تقسیم کیے گئے۔
گاندھی جی کو ہندوؤں کا دشمن ٹھہرا کر لوگوں کو ان کے خلاف اکسایا گیا۔ ایک پمفلٹ میں تو یہ تک کہہ دیا گیا کہ اگر گاندھی جی نے اپنا طور طریقہ نہ بدلا تو انھیں بے اثر کر دینے کی تدبیریں کی جائیں گی۔ گاندھی جی کے برت نے اس جماعت کو اور بھی برانگیختہ کر دیا اور اس نے ان کے خلاف عملی قدم اٹھانے کی ٹھان لی۔
—
جوں ہی انھوں نے اپنی پرارتھنا سبھاؤں کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا، ان پر ایک بم پھینکا گیا۔ خوش قسمتی سے کوئی زخمی نہیں ہوا، لیکن اس خیال سے سارے ملک کو شدید صدمہ پہنچا کہ کوئی شخص گاندھی جی پر ہاتھ اٹھا سکتا تھا۔ پولیس نے تفتیش شروع کی، لیکن تعجب ہے کہ نہ اس کا سراغ ملا کہ بم کس نے چھپا کر رکھا اور نہ اس کا کہ بم رکھنے والے برلا ہاؤس کے باغ میں داخل کیسے ہوئے۔ یہ اور بھی تعجب کی بات تھی کہ اس واقعے کے بعد بھی گاندھی جی کی حفاظت کا معقول انتظام نہیں کیا گیا۔
اس واقعے سے کم از کم یہ بات تو واضح ہو ہی گئی تھی کہ ملک میں ایک ایسا گروہ ہے جو تعداد میں بہت کم سہی، مگر گاندھی جی کی جان لینے کی فکر میں ہے۔ ایسی صورت میں قدرتاً یہ امید کی جا سکتی تھی کہ دلی کی پولیس اور سی۔ آئی۔ ڈی گاندھی جی کی حفاظت کے لیے خاص احتیاطی تدابیر اختیار کرے گی۔ مگر مجھے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے لیے ہمیشہ یہ شرم اور رنج کی بات رہے گی کہ حالات کے اس علم کے باوجود معمولی احتیاطی تدابیر بھی اختیار نہیں کی گئیں۔
—
کچھ روز اور گزرے، گاندھی جی کی طاقت رفتہ رفتہ بحال ہوئی اور پرارتھنا کے بعد انھوں نے حاضرین سے خطاب کرنا شروع کر دیا۔ ان جلسوں میں ہزاروں آدمی شریک ہوتے تھے، اور گاندھی جی کا خیال تھا کہ یہ جلسے ان کے پیغام کو عوام تک پہنچانے کا سب سے موثر ذریعہ ہیں۔
30 جنوری سنہ 1948ء کو ڈھائی بجے میں گاندھی جی سے ملنے گیا، ان سے کئی اہم مسائل پر گفتگو کرنی تھی اور میں ایک گھنٹے سے زیادہ ان کے پاس بیٹھا رہا۔ اس کے بعد میں واپس چلا آیا، مگر ساڑھے پانچ بجے کے قریب مجھ کو یاد آیا کہ کچھ ضروری باتوں کے بارے میں ان کی رائے لینا بھول گیا ہوں، چنانچہ میں پھر برلا ہاؤس گیا۔
وہاں پہنچ کر جب میں نے دروازے بند پائے تو مجھے بڑی حیرانی ہوئی۔ ہزاروں آدمی لان پر کھڑے تھے اور مجمع بڑھتے بڑھتے سڑک تک پہنچ چکا تھا! میں کچھ نہ سمجھ سکا کہ معاملہ کیا ہے؟ مجمع نے میری گاڑی دیکھ کر اندر جانے کا راستہ دے دیا۔ میں پھاٹک پر گاڑی سے اتر پڑا اور پیدل اندر گیا۔ مکان کے سارے دروازے بند تھے۔ کھڑکی کے شیشے سے کسی نے مجھ کو دیکھ لیا اور مجھے اندر لے جانے کے لیے آیا۔
میں اندر داخل ہوا تو کسی نے روتے ہوئے مجھ سے کہا کہ گاندھی جی کو گولی مار دی گئی ہے اور وہ بے ہوش پڑے ہیں۔ یہ خبر ایسی اچانک ملی اور اس سے دل پر ایسی چوٹ لگی کہ کچھ دیر میں سمجھ نہ سکا کہ کیا کہا جا رہا ہے۔ میرا سر چکرا رہا تھا، میں لڑکھڑاتا ہوا گاندھی جی کے کمرے میں گیا؛ وہ فرش پر لیٹے تھے، ان کا چہرہ پیلا پڑ گیا تھا اور آنکھیں بند تھیں، ان کے دونوں پوتے ان کے پاؤں پکڑ کر بیٹھے رو رہے تھے۔
مجھے معلوم ہوا کہ جیسے خواب میں کوئی کہہ رہا ہے:
“گاندھی جی مر گئے۔”
—
(ماخوذ از: ‘انڈیا ونس فریڈم’، مولانا ابوالکلام آزاد / مرتب و مترجم: رئیس احمد جعفری)



تبصرہ لکھیے