ہوم << تُو تُو، میں میں - محمد کفیل اسلم

تُو تُو، میں میں - محمد کفیل اسلم

اے سی سے کمرے کی ہر چیز ٹھنڈی ٹھار ہورہی ہے۔ ۔دوپہر کے 2 بجے ہیں۔ اے سی سے کمرے کی ہر چیز ٹھنڈی ٹھار ہورہی ہے۔ آفس کی نرم و گداز سیٹ پر براجمان ایک مشہور سیاسی جماعت کا جذباتی کارکن عدنان کمپیوٹر سکرین پر نظر گاڑھے، کے بورڈ پر نہایت چابکدستی سے انگلیاں چلا رہا ہے۔ وہ ایک فیک آئ ڈی سے اپنی سیاسی جماعت کو ڈیفینڈ کرتے ہوئے کمنٹ باکس میں مخالف جماعت پر سنگ زنی میں مصروف ہے۔ فیک آئی ڈی کا عدنان کو سرِ دست یہ فائدہ تو کم از کم ضرور رہا ہے کہ وہ اپنے پرائے میں تمیز کئے بغیر بلا خوف و خطر اپنی پارٹی اور قائد پر ہونے والی طنز بھری تنقید کرنے والوں کو خوب لتے لے سکتا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ معاشرے میں دلیل سے بھرپور مکالمے سے افراد کی ذہنی سطح بلند اور ان میں فکری سنجیدگی پیدا ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا نے نوجوان نسل کے ہاتھوں میں آنے کے بعد جہاں انکو اظہارِ رائے کا بھرپور موقع دیا وہیں اسکا منفی پہلو اخلاقی گراوٹ کی شکل میں بھی سامنے آیا ہے۔سوشل میڈیا یا سماجی رابطے کی ویب سائٹس جیسے فیس بکُ اور ٹویٹر وغیرہ سے نواجوانوں پر جو منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اسکی ایک طویل فہرست ہے مگر یہاں انتہائی اختصار سے سیاسی مباحثوں کے دوران ہونے والی ان غلطیوں کیطرف نشاندہی کرنا مقصود ہے جو آجکل دیکھنے میں آتی ہیں۔سوشل میڈیا چونکہ ہر شخص کی پہنچ میں ہے اور کوئی بھی شخص کسی پر بھی رائے زنی کس سکتا ہے، اس سے سوال پوچھ سکتا ہے، تنقید کرکے اپنی بھڑاس نکال سکتا ہے یا تعریفی کلمات ادا کرسکتا ہے آپ اسے فیس بک، ٹویٹر وغیرہ کا مثبت پہلو کہئے یا منفی یہ آپ پر ہے مگر ایک بات سے آپ ضرور اتفاق کریںگے کہ کسی کے بارے میں کوئی بھی بات کرنے میں احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی شخص جب مخالف پارٹی پر تنقید کرتا ہے تو وہ اس دوران فحش کلمات، گالم گلوچ اورطوفان بدتمیزی کو اپنا حق سمجھنے لگتا ہے۔ قطع نظر اس کہ کے اسکا نقطہ درست ہے یا نہیں، بہرحال گالم گلوچ کو کسی کا حق قرار نہیں دیا جاسکتا۔
لگے ہاتھوں آپ اس معاملے میں یہ بھی مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ اگرکوئی مخالف جماعت کا فرد کسی صاحب کی جماعت کی شان میں چھٹانک بھر بھی کمی لائے یا انکے سیاسی لیڈر پر طنز کا کریکر چھوڑ دے تو جوابایہ شاہین انکے قبر میں سوئے آباء تک کو ہتک کی پاتال میں پہنچانے پر تُل جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے صارفین کو استعمال کے دوران چند چیزوں کا خاص خیال رکھنا چاہئے جن پر عمل کر کے صحتمند ماحول جنم دیا جاسکتا ہے۔
ایک تو یہ کہ آپ طہ کرلیجئے کہ مخالف سیاسی جماعت پر تنقید کے دوران آپ کسی کی ذاتیات پر حملہ نہیں کرینگے۔ سیاسیات پر لاکھ اختلاف کیجئے مگر اس سے آگے کے سٹیج پر مت جائیے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگوں کو اختلاف پارٹی کے سربراہ کے غلط اقدام سے ہوتا ہے اور پہنچ جاتے ہیں وہ انکی ذاتی زندگی پر۔ کسی کی بیٹی پر بھپتیاں کسی جاتی ہیں تو کسی کو شادیوں کو زیرِ بحث لایا جاتے ہے۔ اس سے مکمل اجتناب کیجئے۔
دوسری بات یہ کہ سیاسی معاملات میں اختلافات کی بنیاد پر بحث اتنی آگے تک نہ لے جائیں کہ آپکے ذاتی رشتے متاثر ہونے لگیں۔ ہوتا یہ ہے کہ اپنی جماعت کو ملک کی مخلص اور ایماندار جماعت ثابت کرتے ، دوسری جماعتوں پر اپنی منجنیقوں سے الزامات کے گولوں کی بوچھاڑ کرتے اور مخالفیں سے تعلق رکھنے والوں یا ان سے ہمدردی رکھنے والوں کو بے وقوف، کم عقل یا اندھے مقلد کہنے کے بعد ہمارا سینہ تو ٹھنڈا ہوجاتا ہے مگر ہمارا سامنے بیٹھے شخص ہماری تعلق داری میں تبدیلی آجاتی ہے۔ دوریاں بڑھنے لگتی ہیں۔ کیا ملا اس لاحاصل بحث سے؟ بحث جن لیڈران کے بارے میں کی جارہی ہے انہیں شائد آپکے مسائل کا بھی احساس ہے یا نہیں؟ اس فضول جرح کے بعد ہم بحث تو جیت جاتے ہیں مگر رشتہ ہار جاتے ہیں۔۔
آپ اپنی جماعت سے محبت کرتے ہیں؟ بہت اچھی بات ہے۔
کیا آپ اپنے سیاسی لیڈر کر دل سے چاہتے ہیں؟ کوئی حرج نہیں۔
جانتے ہیں حرج کب پیدا ہوتی ہے؟ یہ اس وقت جب آپ یہ تو چاہتےہیں کہ میرے لیڈر پر کوئی منفی بات نہ کرے مگر جب کسی اور کے لیڈر کی باری آتی ہے تو آپ کوئی کسر نہیں چھوڑتے ۔ بس یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے آپ دوسروں کی نظر میں اچھے نہیں رہتے اور آپکو بد زبان ، بدلحاظ بلکہ مجھے کہنے دیجئے بد دماغ سمجھا جانے لگتا ہے۔ لہذٰہ دوسرے لیڈر کے بارے میں بھی وہی زبان استعمال کیجئے جو آپ اپنے لیڈر کیلئے سننا چاہتے ہیں۔ یاد رکھئے عزت دینے سے ہی عزت ملتی ہے۔
یہ بات سمجھ لیجئے۔ "غدار" قرار دینے کی اتھارٹی آپ کے پاس نہیں۔ لہذٰہ کسی کو بیرونی ایجینٹ یا غیروں کا پٹھُو قرار دینے سے پہلے سوچ لیجئے آیا یہ سنی سنائی بات ہے یا واقعی عدالت نے ایسا کوئی حتمی فیصلہ سنایا ہے؟ اگر ایسا نہیں ہوا تو پلیز رک جائیے۔ ملک میں پہلے ہی غداروں کی طویل فہرست ہے ہمیں اُن سے نمٹ لینے دیجئے۔ مزید اضافہ مت کیجئے۔
اور آخری بات۔ خدارا پاکستانی بن جائیے۔ پارٹی بعد میں۔ پاکستان پہلے۔ پارٹی مفاد پر ملکی مفاد کو ترجیع دیجئے۔ اچھے خاصے پڑھے لکھے احباب اپنے قائد کی کسی غلط بات کو بھی فرضِ عین سمجھ کر ڈیفینڈ کررہے ہوتے ہیں۔ خود انکی سمجھ میں بھی نا آنے والے قدم کو یہ کہہ کر جواب دیتے ہیں۔ "وہ ہماری پارٹی کے قائد ہیں۔ جو بھی کیا ہے کچھ سوچ سمجھ کر ہی کیا ہوگا"
کیا ہی اچھا ہو کہ ہم اختلافِ رائے کے باوجود دلوں میں وسعت پیدا کریں۔ گالم گلوچ کے کلچر سے جان چھڑا لیں اور پاکستان کو عظیم ریاست بنانے میں اپنا اپنا مثبت کردار ادا کرنے لگیں۔