معاشرتی امن کی بنیاد انصاف، خیر خواہی اور باہمی احترام پر ہوتی ہے۔ جہاں معمولی اختلافات دشمنیوں میں بدل جائیں، انتقام کے لیے انسانی جان تک لے لی جائے اور لوگوں کے دلوں سے ایک دوسرے کا احساس ختم ہونے لگے، وہاں صلح و مصالحت ناگزیر ہو جاتی ہے۔ 30 اکتوبر 2026ء کو مسجد اقصیٰ میں خطبۂ جمعہ دیتے ہوئے شیخ یوسف ابو سنینہ نے معاشرے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ظلم، عصبیت اور قتل و غارت پر گہری تشویش ظاہر کی اور باہمی اصلاح کو امن و استحکام کا بنیادی ذریعہ قرار دیا۔
خطیب محترم نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی سیرت کو خدمتِ دین اور اصلاحِ امت کا روشن نمونہ قرار دیا۔ آپ نے دنیا کی آسائشوں پر آخرت کو ترجیح دی، قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھا اور گمراہیوں کے مقابلے میں حق کی سربلندی کے لیے جدوجہد کی۔ علم کی اشاعت اور امت کی بھلائی میں زندگی گزاری۔ آپ کا طرزِ عمل بتاتا ہے کہ انسان کی حقیقی عظمت مال و منصب میں نہیں، بلکہ دین سے وابستگی اور مخلوقِ خدا کی خدمت میں ہے۔شیخ ابو سنینہ نے لوگوں کی مشکلات آسان کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ زندگی کے حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہتے۔ آج کسی کے پاس آسودگی ہے تو کل اسے دوسروں کی مدد درکار ہو سکتی ہے۔ اس لیے کسی کی ضرورت پوری کرنے کا موقع ملے تو اسے غنیمت سمجھنا چاہیے۔ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا بہترین طریقہ انہیں دوسروں کی بھلائی کے لیے استعمال کرنا ہے۔ ضرورت مند کی مدد اور پریشان حال کی دل جوئی ایسی نیکیاں ہیں جن کا فائدہ خود انسان کو بھی پہنچتا ہے۔
معاشرتی بھلائی کا ایک اہم ذریعہ لوگوں کے درمیان صلح کرانا ہے۔ خطیب نے توجہ دلائی کہ قرآن کریم نے باہمی تعلقات درست کرنے کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تقویٰ اختیار کرنے، باہمی تعلقات سنوارنے اور اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔ اس آیت میں باہمی اصلاح کا ذکر اطاعت کے حکم سے پہلے آیا ہے۔ خطیب کے مطابق تمام اخلاقی خوبیوں کا خلاصہ دو باتوں میں ہے: اللہ کے احکام کا احترام اور لوگوں کے درمیان صلح و مصالحت کی کوشش۔ اسلام ایسا معاشرہ چاہتا ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کی مشکلات دور کرنے میں پیش پیش رہیں۔خطیب محترم نے کہا کہ معاشرتی اصلاح کی ابتدا اپنے گھر سے ہونی چاہیے۔ آج نئی نسل کی تربیت سنجیدہ توجہ کی متقاضی ہے۔ قرآن کریم سے دوری بڑھ رہی ہے اور نوجوان بے مقصد سرگرمیوں میں الجھ رہے ہیں۔ بعض طلبہ پڑھائی میں دل نہیں لگا پاتے، بعض سبق یاد کرکے بھول جاتے ہیں اور بعض کے لیے کتاب کھولنا بھی بوجھ بن چکا ہے۔ خطیب نے ان مسائل کے پس منظر میں خواہشات کی پیروی، گناہوں اور والدین کی تربیتی ذمہ داریوں سے غفلت کو نمایاں اسباب قرار دیا۔
گھروں کی حالت بھی تشویش ناک ہے۔ کہیں میاں بیوی کے درمیان تلخیاں ہیں، کہیں اولاد والدین سے الجھ رہی ہے اور کہیں معمولی باتیں مستقل جھگڑوں کا سبب بن رہی ہیں۔ جب گھر کے افراد ہی ایک دوسرے کا احترام نہ کریں تو معاشرے میں محبت اور رواداری کیسے پیدا ہوگی؟شیخ ابو سنینہ نے معاشرتی تباہی کے دو بڑے اسباب ظلم اور منافقت کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب یہ دونوں برائیاں کسی معاشرے میں جڑ پکڑ لیں تو نفرت، حسد، شہرت کی محبت، دشمنی اور تشدد کو فروغ ملتا ہے۔ خطیب نے قتل اور انتقامی کارروائیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر ہمارے اخلاق کو کیا ہو گیا ہے؟ کیا انسانی جان اتنی بے وقعت ہو چکی ہے کہ معمولی اختلاف پر کسی کو قتل کر دیا جائے؟انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ انتقام کے نام پر قتل کرنا حرام ہے۔ قرآن کریم نے جان بوجھ کر کسی مومن کو قتل کرنے والے کے لیے جہنم، اللہ کے غضب اور سخت عذاب کی وعید سنائی ہے۔ پھر چند روزہ دنیا کی خاطر انسان اپنے بھائی کی جان کیوں لیتا ہے؟ افسوس کہ بعض لوگوں کے نزدیک ذاتی انا اور خاندانی دشمنی انسانی جان سے زیادہ اہم ہو چکی ہے۔ حق و باطل، دیانت و خیانت اور علم و جہالت کی تمیز بھی کمزور پڑ رہی ہے۔
ایسے ہی عصبیت کے بارے میں رسول اللہؐ کی ایک اہم تعلیم یاد دلائی۔ آپؐ سے پوچھا گیا کہ کیا اپنی قوم سے محبت کرنا عصبیت ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ نہیں، بلکہ عصبیت یہ ہے کہ آدمی ظلم میں اپنی قوم کا ساتھ دے۔ اس تعلیم کا پیغام واضح ہے کہ خاندان اور برادری سے محبت اپنی جگہ، لیکن اپنے کسی عزیز کی غلطی کو درست ثابت کرنا اور ظلم میں اس کی حمایت کرنا قابلِ مذمت ہے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ حق کا ساتھ دیا جائے، خواہ غلطی کرنے والا اپنا ہی کیوں نہ ہو۔شیخ ابو سنینہ نے معاشرے کے بااثر افراد اور اہلِ خیر سے اپیل کی کہ وہ اپنی ذمہ داری محسوس کریں۔ لوگوں کے درمیان دوریاں ختم کرائیں، جھگڑے سلجھائیں اور محبت و اتحاد کی فضا پیدا کریں۔ محض خرابیوں کا شکوہ کافی نہیں، انہیں دور کرنے کے لیے عملی کردار ادا کرنا بھی ضروری ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے توبہ میں تاخیر نہ کرنے، علم کے مطابق عمل کرنے اور ہر نیک کام میں اخلاص اختیار کرنے کی نصیحت کی۔دوسرے خطبے میں شیخ ابو سنینہ نے اہلِ بیت اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ خصوصاً سیدنا علیؓ کی دین سے وابستگی، اطاعتِ رسول اور نیکیوں میں پہل کا ذکر کیا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ رسول اللہؐ کی بعثت سے پہلے لوگوں کے درمیان شدید دشمنیاں تھیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے ذریعے ان کے دلوں میں محبت پیدا فرما دی۔ قرآن کریم کے مطابق اگر زمین کی ساری دولت بھی خرچ کر دی جاتی تو وہ محبت پیدا نہیں ہو سکتی تھی جو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں پیدا فرمائی۔اس کے بعد خطیب نے حسنِ اخلاق اور نرم مزاجی کی اہمیت واضح کی۔ قرآن کریم میں رسول اللہؐ کو مخاطب کرکے فرمایا گیا کہ اگر آپ سخت مزاج اور سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے گرد سے منتشر ہو جاتے۔ مسلمان کی شان یہ ہے کہ وہ خوش اخلاق، نرم خو اور منکسر المزاج ہو۔ اس کی عزت اللہ کی اطاعت میں ہے، نہ کہ دوسروں کو حقیر سمجھنے میں۔ خطیب نے خود پسندی اور عیب جوئی پر بھی سخت تنقید کی۔ فرمایا کہ انسان کب تک اپنی تعریف کرتا رہے گا، نیک لوگوں کو حقیر سمجھے گا اور دوسروں کی خامیاں تلاش کرتا پھرے گا؟ ہمیں دوسروں کی آنکھوں میں تنکا فوری نظر آ جاتا ہے؛ لیکن اپنی آنکھ میں شہتیر اوجھل ہو جاتے ہیں۔ خوش نصیب وہ شخص ہے جسے اپنی اصلاح کی فکر میں دوسروں کے عیب تلاش کرنے کا موقع نہ ملے۔
خصوصاً ساٹھ یا ستر برس کی عمر کو پہنچنے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ زندگی چند سانسوں کا نام ہے۔ اسے دشمنیوں اور بے مقصد سرگرمیوں میں ضائع کرنے کے بجائے آخرت کی تیاری میں گزارنا چاہیے۔زبان کی حفاظت بھی خطبے کا اہم موضوع تھا۔ شیخ ابو سنینہ نے علما کی بے جا مذمت، لوگوں کے عیوب اچھالنے، فوت شدگان کی برائیاں بیان کرنے اور دین کے نام پر بے فائدہ بحثوں سے خبردار کیا۔ رسول اللہؐ نے فوت شدگان کو برا بھلا کہنے سے منع فرمایا ہے۔ محض گفتگو میں مہارت، لمبی تقریریں اور پیچیدہ سوالات کسی کے علم و تقویٰ کی ضمانت نہیں۔ بعض لوگ زبان کے ماہر ہوتے ہیں، لیکن ان کی گفتگو میں اخلاص نہیں ہوتا۔ بے مقصد گفتگو دلوں کو سخت اور معاشرے کو انتشار کا شکار کر دیتی ہے۔مسجد اقصیٰ سے دیا جانے والا یہ خطبہ یاد دلاتا ہے کہ معاشرتی امن کی بحالی کے لیے عملی کوشش ضروری ہے۔ جب لوگ اپنی انا اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر انصاف کا ساتھ دیں، اختلافات کو دشمنیوں میں بدلنے کے بجائے سلجھائیں اور ٹوٹے ہوئے رشتوں کو جوڑنے کی کوشش کریں تو معاشرے میں امن کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے۔ یہی صلح و مصالحت کا وہ راستہ ہے جو نفرتوں کو محبت اور انتشار کو اتحاد میں بدل سکتا ہے۔



تبصرہ لکھیے