ایک قمیص، تین واقعات اور زندگی بھر کی رہنمائی! کبھی وہ جھوٹ کا پردہ چاک کرتا ہے، کبھی بے گناہی کا ثبوت بنتا ہے اور کبھی برسوں کی جدائی کے بعد خوشیوں کا پیغام لے کر آتا ہے۔ سیدنا یوسف ؑ کا قمیص محض لباس کا ایک ٹکڑا نہیں، بلکہ ایک ایسی داستان کا حصہ ہے جس میں حسد کی تباہ کاریاں، کردار کی عظمت، صبر کی طاقت اور اللہ تعالیٰ کی حکمت نمایاں ہوتی ہے۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہر مرتبہ قمیص وہ حقیقت آشکار کرتا ہے جسے انسانی تدبیریں چھپانے یا بدلنے میں ناکام رہتی ہیں۔ 30 اکتوبر 2026ء کو مسجد نبوی میں ڈاکٹر عبدالباری بن عواض ثبیتی نے اسی منفرد پہلو کو اپنے خطبے کا موضوع بنایا اور سورۂ یوسف کی روشنی میں انسانی زندگی کے اہم اخلاقی اور معاشرتی اسباق بیان کیے۔
سیدنا یوسف ؑ نے بچپن میں خواب دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند ان کے سامنے سجدہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے والد سیدنا یعقوب ؑ کو خواب سنایا تو انہوں نے نصیحت کی کہ اسے اپنے بھائیوں سے چھپائے رکھنا، کہیں وہ تمہارے خلاف سازش نہ کریں۔ یہ نصیحت یاد دلاتی ہے کہ ہر کامیابی اور نعمت کی تشہیر ضروری نہیں۔ بعض اوقات خاموشی اور احتیاط ہی دانش مندی ہوتی ہے، کیونکہ حسد قریبی رشتوں میں بھی پیدا ہو سکتا ہے۔یعقوب ؑ کا اندیشہ درست ثابت ہوا۔ بھائیوں کو محسوس ہوا کہ والد یوسف اور ان کے بھائی سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔ یہ احساس حسد میں بدلا اور بالآخر انہوں نے یوسف کو راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بنا لیا۔ دوسروں سے اپنا موازنہ، ان کی کامیابی پر جلن اور محبت و عزت میں مقابلہ آرائی آج بھی گھروں، دفاتر اور معاشرتی تعلقات میں بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔ حسد کو بے لگام چھوڑ دیا جائے تو انسان ظلم کی حدیں بھی پار کر جاتا ہے۔
بھائیوں نے یوسف ؑ کو کنویں میں پھینکا اور رات کو روتے ہوئے والد کے پاس پہنچے۔ ان کے ہاتھ میں خون آلود قمیص تھا، جسے وہ اپنی من گھڑت کہانی کا ثبوت بنا کر لائے تھے۔ مگر یعقوب ؑ ان کے آنسوؤں سے دھوکے میں نہ آئے۔ انہوں نے معاملے کی حقیقت بھانپ لی اور صبر اختیار کیا۔یہ قمیص پہلی مرتبہ جھوٹ اور فریب کی نشانی بنا۔ اس واقعے کا سبق آج کے دور میں اور بھی اہم ہے۔ ہر رونے والا مظلوم نہیں ہوتا اور ہر ملزم لازماً مجرم نہیں ہوتا۔ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں اور یک طرفہ بیانات لمحوں میں پھیل جاتے ہیں۔ ایسے میں کسی کے خلاف فیصلہ صادر کرنے سے پہلے تحقیق ضروری ہے۔ گھریلو اختلافات ہوں یا دفتری تنازعات، جذباتی بیانات کے بجائے حقائق اور شواہد کو بنیاد بنانا چاہیے۔کنویں سے نکل کر یوسف ؑ عزیزِ مصر کے گھر پہنچے۔ بظاہر ایک مصیبت ختم ہوئی تو دوسری آزمائش سامنے آ گئی، مگر اللہ تعالیٰ ان کے لیے کامیابی کی راہیں مسلسل کھول رہا تھا۔ انسان ہمیشہ نہیں جانتا کہ اس کی پریشانیوں کا خاتمہ کس راستے سے ہوگا۔ کبھی جس واقعے کو وہ تباہی سمجھتا ہے، وہی مستقبل کی بھلائی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
عزیزِ مصر کے گھر یوسف ؑ کو پاک دامنی کی کڑی آزمائش پیش آئی۔ گھر کی مالکن نے انہیں گناہ کی دعوت دی، دروازے بند کر دیے اور نافرمانی کے تمام ظاہری مواقع میسر آ گئے، لیکن یوسف ؑ نے اللہ کی پناہ مانگی اور انکار کر دیا۔ یہی تقویٰ کا اصل امتحان ہے کہ انسان تنہائی میں، جب کوئی دیکھنے والا نہ ہو، اپنے رب کی نافرمانی سے بچتا ہے یا نہیں۔یوسف ؑ نے انکار ہی نہیں کیا، بلکہ فوراً دروازے کی طرف دوڑے تاکہ اس ماحول سے نکل سکیں۔ یہ طرزِ عمل بتاتا ہے کہ گناہ سے بچنے کے لیے نیک ارادوں کے ساتھ عملی احتیاط بھی ضروری ہے۔ ایسے مقامات، مجالس اور مواقع سے دور رہنا چاہیے جو انسان کو برائی کی طرف لے جاتے ہیں، تاکہ اس کا دین، جان، عقل، مال اور عزت محفوظ رہیں۔اسی موقع پر قمیص دوسری مرتبہ سامنے آیا۔ عزیزِ مصر کی بیوی نے اپنی غلطی چھپانے کے لیے یوسف ؑ پر الزام لگا دیا، مگر قمیص کا پیچھے سے پھٹا ہونا ان کی بے گناہی کا ثبوت بن گیا۔ جس حقیقت کو دبانے کی کوشش کی گئی، وہی سب کے سامنے آ گئی۔یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی حکمت پر اعتماد کا درس بھی دیتا ہے۔ بعض آزمائشوں کے پیچھے ایسی رحمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں جنہیں انسان فوری طور پر نہیں سمجھ پاتا۔ حالات کتنے ہی دشوار ہوں، اللہ تعالیٰ کی تدبیر سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
یوسف ؑ کو قید بھی برداشت کرنا پڑی، مگر انہوں نے قید خانے کو مایوسی کا مرکز نہیں بننے دیا۔ وہاں بھی نیکی، اصلاح اور دعوتِ دین کا سلسلہ جاری رکھا، یہاں تک کہ دوسرے قیدی ان کے حسنِ کردار کے معترف ہو گئے۔ مومن کی یہی خوبی ہے کہ وہ جہاں رہے، دوسروں کے لیے خیر و بھلائی کا ذریعہ بنے۔وقت بدلا اور یوسف ؑ مصر کے خزانوں کے نگران بن گئے۔ پھر وہی بھائی ان کے سامنے ضرورت مند بن کر حاضر ہوئے جنہوں نے کبھی انہیں کنویں میں پھینکا تھا۔ اب یوسف ؑ کے پاس اقتدار بھی تھا اور بدلہ لینے کی قدرت بھی، مگر انہوں نے انتقام کے بجائے معافی کا راستہ اختیار کیا۔کردار کی اصل بلندی طاقت اور اختیار کے باوجود اچھا سلوک کرنے میں ہے۔ یوسف ؑ نے ماضی کے زخم تازہ کرنے کی بجائے مستقبل سنوارنے اور بکھرے ہوئے خاندان کو یکجا کرنے کو ترجیح دی۔ بھائیوں کو یقین دلایا کہ آج سے ان پر کوئی ملامت نہیں، بلکہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت اور رحمت کی دعا بھی کی۔ یہ عفو و درگزر اور بڑے پن کی عظیم مثال ہے کہ جس نے تکلیف پہنچائی، اسی کے لیے بھلائی مانگی جائے۔
اب قمیص تیسری مرتبہ سامنے آیا، لیکن اس بار وہ خوش خبری کا پیامبر تھا۔ یوسف ؑ نے اپنا قمیص بھائیوں کو دیا اور کہا کہ اسے والد کے چہرے پر ڈال دیں، ان کی بینائی لوٹ آئے گی۔ قمیص محض ایک سبب تھا، حقیقی شفا دینے والا اللہ تعالیٰ تھا۔یعقوب ؑ نے برسوں کی جدائی اور غم کے باوجود اللہ کی رحمت سے امید نہیں چھوڑی تھی۔ بالآخر ان کی بینائی بحال ہوئی اور بچھڑا ہوا خاندان پھر مل گیا۔ اللہ تعالیٰ جب اپنے بندوں کے غم دور فرماتا ہے تو اس کی عطا انسانی تصور سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے۔یوں قمیصِ یوسف ؑ کی داستان تین حقیقتیں سامنے لاتی ہے: حسد انسان کو ظلم تک پہنچاتا ہے، پاک دامنی اور سچائی بالآخر سرخرو ہوتی ہیں اور صبر و امید کا دامن تھامنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ غیر متوقع راستے کھول دیتا ہے۔ اس داستان کا سب سے روشن پہلو یوسف ؑ کا کردار ہے، جو کنویں کی تاریکی، قید خانے کی تنہائی اور اقتدار کی بلندی، ہر جگہ یکساں رہا۔ نہ مصیبت نے انہیں مایوس کیا، نہ اختیار نے انتقام پر آمادہ کیا۔ قصے کے اختتام پر یوسف ؑ نے اپنی کامیابی کو خود پسندی کا ذریعہ بنانے کی بجائے خالصتاً اللہ تعالیٰ کی لطیف تدبیر کا نتیجہ قرار دیا۔
یہی اس خطبے کا بنیادی پیغام ہے کہ انسان حالات کا غلام بننے کے بجائے اپنے کردار کو بلند رکھے اور اللہ کی رحمت سے کبھی ناامید نہ ہو۔



تبصرہ لکھیے