دو برس قبل اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کا موقع ملا تو وہاں عمارت کی مختلف راہداریوں میں ملالہ یوسف زئی کی بڑی بڑی تصاویر نظر آئیں۔ ان کی کتابیں ریکس میں موجود تھیں۔ لفٹ میں آتے جاتے، لاؤنج میں بیٹھی کسی خاتون سے گفتگو کرتے ہوئے محسوس ہوتا کہ ملالہ محض ایک شخصیت نہیں، ایک پورا بین الاقوامی ادارہ بن چکی ہیں۔
کئی خواتین سے ملاقات ہوئی جو ملالہ فنڈ کے سلسلے میں آئی ہوئی تھیں۔ ان میں بھارت اور مغربی ممالک سے آنے والی خواتین بھی شامل تھیں۔ سوچتی کہ تعلیم کے لیے عالمی سطح پر ایک نام اتنا نمایاں ہے کہ عمارت کی دیواریں گواہ ہیں. اب نینسی سڈلی کے تجزیے نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ملالہ کی عالمی شہرت، فنڈز کے استعمال اور ان کی طرزِ زندگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ لندن کے مہنگے ہوٹل میں کھانے پینے کا ذکر بھی ہوا اور ملالہ کو راک اسٹار سے تشبیہ دی گئی۔اب بھلا راک اسٹار کی اصطلاح پر ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے! فرق صرف اتنا ہے کہ عام راک اسٹار گٹار بجاتا ہے اور اسٹیج پر گاتا ہے، جبکہ ملالہ کی شہرت کا میدان تعلیم، انسانی حقوق اور عالمی تقریبات ہیں۔ ایک کے مداح ٹکٹ خرید کر کنسرٹ میں پہنچتے ہیں، دوسرے کے چاہنے والے عالمی کانفرنسوں میں نشستیں سنبھالتے ہیں۔ دونوں کے گرد کیمرے بھی ہوتے ہیں، تعارف بھی اور شہرت کی اپنی اپنی چمک بھی۔ایک سوال اپنی جگہ ہے،جب کسی فرد کا نام تعلیم کے فروغ کی علامت بن جائے تو کیا اس کے کام اور فنڈز کے استعمال کے بارے میں سوال پوچھنا ضروری نہیں؟
یقیناً ضروری ہے۔ مگر ان سوالات کا جواب ثبوت اور دستاویزات سے ملنا چاہیے، محض کسی مہنگے ہوٹل کے مینو سے نہیں۔ہمارے ہاں اگر کوئی اسکول کا ہیڈ ماسٹر اچھے ہوٹل میں کھانا کھا لے تو اگلے دن اسکول کی دیواروں سے لے کر اس کے حسابات تک سب زیرِ بحث آ جاتے ہیں۔ لیکن بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل کرنے والی شخصیت کے معاملے میں سوالات بھی عالمی معیار کے ہونے چاہییں اور جواب دہی بھی۔اصل مسئلہ مہنگے ہوٹل نہیں، بلکہ یہ ہے کہ تعلیم کے نام پر جمع ہونے والی رقم کہاں خرچ ہوئی، کتنے بچوں تک پہنچی، کتنے اسکولوں کی حالت بدلی اور اس کام کے نتائج کیا ہیں؟
اگر حساب صاف ہے تو سوالات کا جواب دینا کوئی مشکل کام نہیں ہونا چاہیے۔ اور اگر کسی تجزیے میں محض قیاس آرائیاں ہیں تو انہیں بھی تحقیق کے بغیر فیصلہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ملالہ نے کم عمری میں دنیا کی توجہ حاصل کی محض لڑکیوں کی تعلیم کے لیے آواز اٹھا کر۔ اب کسی مقصد کے لیے عالمی شہرت حاصل کر لینا اور اس مقصد کے نتائج کے بارے میں جواب دہ ہونا دو الگ باتیں نہیں ۔
میرے ذہن میں اقوام متحدہ کی راہداریاں گھوم رہی ہیں، دیواروں پر ملالہ کی بڑی بڑی تصاویر، ہاتھوں میں آئی ایم ملالہ،فنڈنگ کے لیے آنے والی خواتین اور عالمی اجلاسوں کی مصروفیات!
دل چاہتا ہے کہ اقوام متحدہ کی کسی راہداری میں ایک چھوٹا سا بورڈ بھی لگا دیا جائے:
’’یہاں تعلیمی ستاروں کی پذیرائی کے ساتھ ان کا آڈٹ بھی دستیاب ہے۔‘‘
اور اگر کبھی وہاں ملالہ کا کوئی کنسرٹ ہو تو ٹکٹ کے ساتھ ایک سوال نامہ بھی رکھ دیا جائے: کتنے بچوں کو تعلیم ملی؟ کتنے اسکولوں تک مدد پہنچی؟ اور اس سارے سفر کے اخراجات کا حساب کہاں دیکھا جا سکتا ہے؟کیونکہ راک اسٹار کی شہرت اپنی جگہ، لیکن تعلیم کے نام پر جمع ہونے والی رقم کا حساب بھی کوئی گٹار کی دھن نہیں کہ بس تالیاں بجا کر آگے بڑھ جائیں!



تبصرہ لکھیے