ہوم << زندگی، موت اور وقت کی بے رحم حقیقت – طارق بلوچ صحرائی
600x314

زندگی، موت اور وقت کی بے رحم حقیقت – طارق بلوچ صحرائی

انسانی تاریخ کا آج تک کا سب سے اہم موضوع، زندگی اور موت رہا ہے اور قیامت تک رہے گا۔بچپن زیست کی عمر کا بادشاہ ہوتا ہے، جہاں پاؤں پر ریت کے محل بنتے ہیں اور سپنوں میں پریاں اترتی ہیں۔ جوانی عمر کا مزدور ہوتا ہے، جس کی کمر پر مستقبل کے بوجھ کا بڑا سا تھیلا ہوتا ہے، جو سہمے خوابوں کے چھن جانے کے خوف اور تھکن سے بھرا ہوتا ہے۔ بڑھاپا کہانی کے انجام کی طرح ہوتا ہے۔ اچھا، برا، جھوٹا، سچا، لیکن سب سے بڑا سچ تو وقت ہے۔

وقت کی ناگن ڈستے وقت یہ نہیں دیکھتی کہ وہ عام سا راہگیر ہے یا وقت کا نامور سپیرا۔ جینے کی روایت اور سانسوں کی رسم جاری ہے اور ہم اپنے جسموں پر اپنی جانیں لادے پھر رہے ہیں۔ شاید ہم لوگ زندگی کے ساتھ بھیس بدل کر چل رہے ہیں یا زیست ہمارے ساتھ بھیس بدل کر رواں دواں ہے۔کبھی کبھی زندگی اس مطلقہ کی سی ہو جاتی ہے، جو اپنے بے وفا اور بدتہذیب شوہر سے شدید نفرت کے باوجود اپنے ساس سسر کی محبت کو یاد کر کے روتی رہتی ہے۔ آپ نے کبھی اس لکڑہارے کا دکھ محسوس کیا ہے، جو بیک وقت بھوک کے خوف کے قرب اور سبز لکڑی کے عشق میں مبتلا ہو، مگر کیا کرے؟

اندھیری سیاہ بادلوں بھری راتوں میں زیادہ دیکھنے کی شدید خواہش بھی تیسری آنکھ پیدا نہیں کر سکتی۔شاید اسی لیے جس کا ماضی، حال اور مستقبل مٹی کا ہے، وہ خدا بننا چاہتا ہے۔بانسری کی دھن مکمل کر کے وہ مسکراتا اور پھر قیدیوں کی طرف دیکھ کر کہتا، ہجر اوڑھ کر وصل کے گیت گانا ہی زندگی ہے۔ کبھی کبھی زندگی ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے کہ کشتیوں کا گیت صحراؤں میں گانا پڑتا ہے۔تہذیب کی کوکھ اعلیٰ روایات اور ارفع کردار سے بانجھ ہو چکی ہے اور عرب کا دورِ جہالت ایک نئی صورت میں واپس آ چکا ہے۔یہ بانسری کی لے میں ان بیٹیوں کے نام کرتا ہوں،

“جو بیٹے کی چاہ میں کوکھ میں ٹکڑے ٹکڑے کر دی گئی ہیں۔”

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment