ہوم << معاشرے میں بڑھتا ہوا تشدد اور مایوسی- اریبہ فاطمہ راؤ
600x314

معاشرے میں بڑھتا ہوا تشدد اور مایوسی- اریبہ فاطمہ راؤ

کسی بھی معاشرے کی ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہاں کے شہری کتنے محفوظ اور مطمئن ہیں۔ بدقسمتی سے آج ہمارے ملک اور خاص طور پر کراچی جیسے بڑے شہروں میں قتل و غارت، ڈکیتی اور خودکشی کے واقعات کی خبریں اتنی عام ہو چکی ہیں کہ لوگ انہیں سن کر چونکتے بھی نہیں۔ یہ بے حسی خود ایک بڑا خطرہ ہے، کیونکہ جب معاشرہ ایسے واقعات کا عادی ہو جائے تو اصلاح کی امید کمزور پڑ جاتی ہے۔

آئے دن اخبارات اور سوشل میڈیا پر ایسی خبریں نظر آتی ہیں جن میں معمولی تنازعات پر جان لے لی جاتی ہے۔ ڈکیتی کی وارداتوں میں شہری اپنے موبائل فون، نقدی یا موٹر سائیکل کے لیے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ گھر سے نکلتے وقت ہر شخص کے دل میں یہ خوف رہتا ہے کہ وہ خیریت سے واپس لوٹ بھی سکے گا یا نہیں۔ اس خوف نے لوگوں کے اعتماد اور سکون کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ان جرائم کی بڑی وجوہات میں بے روزگاری، مہنگائی اور معاشی ناہمواری شامل ہیں۔ جب نوجوان کو جائز طریقے سے روزگار کے مواقع نہیں ملتے تو کچھ لوگ غلط راستے کی طرف چلے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ منشیات کا پھیلاؤ، قانون پر عمل درآمد کی کمزوری اور سزا و جزا کے نظام پر کم ہوتا اعتماد بھی مجرموں کو حوصلہ دیتا ہے۔ برداشت کی کمی اور بات بات پر اشتعال میں آ جانا بھی ہمارے معاشرتی رویوں کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔

ان تمام مسائل کے ساتھ ایک اور تکلیف دہ پہلو لوگوں کا مایوسی کے عالم میں اپنی زندگی ختم کر لینا ہے۔ یہ مسئلہ اکثر خاموشی سے جنم لیتا ہے۔ معاشی دباؤ، قرض، گھریلو پریشانیاں، تعلیمی یا کاروباری ناکامی اور تنہائی انسان کو اندر سے توڑ دیتی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ذہنی صحت پر بات کرنے کو کمزوری سمجھا جاتا ہے، اس لیے بہت سے لوگ اپنا دکھ کسی سے بیان نہیں کر پاتے اور اکیلے ہی اس بوجھ تلے دبتے چلے جاتے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم یہ سمجھیں کہ ذہنی دباؤ اور ڈپریشن بھی دوسری بیماریوں کی طرح قابلِ علاج ہیں۔ جس طرح جسمانی بیماری میں ڈاکٹر سے رجوع کیا جاتا ہے، اسی طرح ذہنی پریشانی میں بھی ماہرِ نفسیات سے مدد لینا کوئی شرم کی بات نہیں۔

ان مسائل سے نمٹنے کے لیے حکومت، اداروں اور معاشرے، سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انصاف کی بروقت فراہمی اور جرائم کی روک تھام کو یقینی بنانا چاہیے۔ نوجوانوں کے لیے روزگار اور ہنر سکھانے کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ تعلیمی اداروں اور دفاتر میں ذہنی صحت کے بارے میں آگاہی اور مشاورت کی سہولت ہونی چاہیے۔والدین، اساتذہ اور دوستوں کو بھی چاہیے کہ اپنے آس پاس موجود لوگوں کی کیفیت پر نظر رکھیں۔ کسی کا چپ ہو جانا، لوگوں سے کٹ جانا یا مسلسل اداس رہنا معمولی بات نہیں ہوتی۔ ہمدردی سے سننا اور ساتھ کھڑے ہونا کسی کی زندگی بدل سکتا ہے۔ میڈیا پر بھی ذمہ داری ہے کہ ایسے واقعات کو سنسنی خیزی کے بجائے آگاہی اور اصلاح کے مقصد سے پیش کرے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ قتل، ڈکیتی اور خودکشی جیسے مسائل کسی ایک فرد یا ادارے کی ناکامی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہیں۔ اگر ہم انصاف، ہمدردی اور برداشت کو اپنا شعار بنائیں اور ایک دوسرے کا سہارا بنیں تو ہم اپنے معاشرے کو دوبارہ محفوظ اور پُرامید بنا سکتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment