ہوم << منزلِ نامراد – عائشہ ظفر
600x314

منزلِ نامراد – عائشہ ظفر

۷۹ سال قبل دنیا کے نقشے پر نمودار ہونے والا اسلامی جمہوریہ پاکستان بے پناہ قربانیوں اور ناقابلِ فراموش قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا ۔ حفیظ جالندھری کے یہ الفاظ، جو آج بچے بچے کے دل و زبان پر قومی ترانے کے روپ میں موجود ہیں ، آج میری آنکھوں کے گوشے نم کر گئے۔ ترانے کا ہر لفظ میری روح کو زخمی کر گیا۔آئیے آج ذرا ان الفاظ کے پیچھے چھپے خوابوں کی تعبیر جانتے ہیں.

پاک سرزمین شاد باد!
وہ پاک سرزمین جو اسلام کے نام پر حاصل کی گئی تھی، آج غیر اسلامی رنگوں میں رنگی، دنیا کے لیے بربادی کی مثال بنتی جا رہی ہے۔ شاد و آباد ہونے کے بجائے اس کی فضاؤں میں ویرانیوں اور بربادیوں کی سرسراہٹ محسوس ہوتی ہے۔

کشورِ حسین شاد باد!
حسن پرستی انسانی فطرت ہے، اور حسن اگر شاد و آباد ہو تو سونے پر سہاگا۔ حسن صرف خوب صورت چہروں کا نام نہیں، بلکہ پُرکشش اور حسین وادیاں بھی اس کا حصہ ہیں۔ ایسی وادیاں جن کے سحر میں کھو کر انسان چند لمحوں کے لیے دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو جائے تو وہ یادگار لمحات تاحیات اس کے دل و دماغ میں محفوظ رہتے ہیں۔ پاکستان کی وادیاں کشور و حسین تو ہیں، مگر شاد و آباد نہیں۔ حسین، برف پوش پہاڑیوں پر اب خون کے سرخ دھبے نظر آنے کا اندیشہ، بل کھاتی ہوئی سڑکیں، ندیاں اور چاروں طرف پھیلے ہوئے حسین مناظر اب پوری طرح سے مسرور نہیں ہونے دیتے، کیونکہ ہر موڑ پر کبھی فائرنگ تو کبھی لٹیروں کے ہاتھوں لٹ جانے کا خطرہ ہے۔

پاکستان کی عوام نے کبھی بھی کشمیر کی خوبصورتی سے محروم ہونے کا غم نہیں کیا، کیونکہ یہ ایک کھلا اعلانِ جنگ ہے۔مگر اپنے ہی وطن کی حسین و سرسبز وادیاں، جنہیں دیکھنے سے محروم رہنے کا خوف یا وہاں نہ جا سکنے کا اندیشہ لاحق ہو، یہ اعلانِ جنگ اپنے ہی ملک میں کس نے کیا؟
کیوں کیا جا رہا ہے؟
اور کون کر رہا ہے؟
ایسے ہی بے شمار سوالات ہیں جن کا جواب کون دے گا؟

تو نشانِ عزمِ عالی شان، ارضِ پاکستان!
اقبال کے خواب کی وہ عظیم و شان عمارت، جسے قائداعظم نے حقیقت کا روپ دیا، آج نشانِ عبرت بنتی جا رہی ہے۔ ارضِ پاکستان کی یہ تصویر کشی کرتے ہوئے نگاہیں زمین پر گڑی جا رہی ہیں۔

مرکزِ یقین شاد باد!

یقینِ محکم، عملِ پیہم، محبت فاتحِ عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

پاکستان وہ مرکزِ یقین تھا جو قائداعظم کے لیے مملکتِ خداداد بنانے کا یقین تھا۔ یہ ان کروڑوں مسلمانوں کا یقین تھا جنہوں نے ایک مسلم معاشرے اور اسلامی مملکت کا خواب دیکھا تھا اور اس کے لیے قربانیاں دی تھیں، اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے۔ یقین تھا ان بہنوں کا، جنہوں نے اپنی عزت کی پروا نہیں کی، اس یقین کے ساتھ کہ جس پاک سرزمین کے لیے وہ آج قربان ہو رہی ہیں، وہ عزت و آبرو کی پناہ گاہ ہوگی۔ یقین تھا ان بیٹیوں کا، جنہوں نے اس خواب کو اپنا مرکز بنایا کہ وہ دنیا کی تاریخ بدلنے جا رہی ہیں۔یقین تھا ان باپوں کا، جنہوں نے اپنے جوان بیٹوں کو اس وقت اور اس جگہ قربان کیا جب انہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت تھی، اس یقین کے ساتھ کہ وہ امن و آشتی کے سفر پر روانہ ہو رہے ہیں۔

یقین تھا ان ماؤں کا، جنہوں نے اپنی گود کے لال قربان کیے، اس یقین کے ساتھ کہ مملکتِ خداداد پاکستان میں مسلمان گوہرِ یکتا بن کر آباد ہوں گے۔اور یقین تھا ان بیویوں کا، جنہوں نے اپنے سہاگ پر ماتم اس سوچ کے ساتھ نہ کیا کہ آج ہندوؤں کی قید سے آزاد ہو کر وہ ایک بے مثال مسلم معاشرے کی بنیاد رکھنے جا رہی ہیں، جہاں انہیں ہر طرح کا تحفظ ملے گا۔کیسے نظر ملاؤں اپنے آپ سے کہ میں آج پاکستان کو اس حال میں دیکھ رہی ہوں؟ اگر ۷۹ سال پہلے ان لوگوں کو اس بات کا علم ہوتا کہ وہ اس ملک کی باگ ڈور جن لوگوں کے ہاتھوں میں دے رہے ہیں، وہ تو اس قابل بھی نہیں کہ انسان کہلائے جائیں، تو شاید پاکستان بنانے کا فیصلہ ہی ترک کر دیا ہوتا۔

پاک سرزمین کا نظام، قوتِ اخوتِ عوام!
پاکستان بناتے وقت اس کا نظام عوام کے ہاتھوں میں دینے کا تصور تھا۔ یعنی اس مملکت کا نظام درست رکھنا ہے تو ملک کی فضا میں بھائی چارہ ہو، عوام کے ہاتھ ایک دوسرے کو سہارا دیں اور ملک کو درپیش خطرات کے مقابلے کے لیے ایک بھرپور قوت بن کر ابھریں۔مگر آج اپنی ہی طاقت اپنے خلاف استعمال کی جا رہی ہے۔ نااہلی کی مثالیں قائم کرنے کے بعد جب اپنا نظامِ سلطنت دوسروں کے بنائے ہوئے اصولوں کی بنیاد پر قائم کیا جائے تو نادانستہ طور پر اپنی طاقت بھی دوسروں کے حوالے کر دی جاتی ہے۔

قوم، ملک، سلطنت، پائندہ تابندہ باد!
شاد باد، منزلِ مراد!
قومی ترانے میں استعمال ہونے والے ویسے تو سارے ہی الفاظ دل کو چھو جاتے ہیں اور جذبۂ حب الوطنی کو پروان چڑھاتے ہیں، مگر منزلِ مراد کا وہ لفظ، جس کی شادابی، پائندگی اور تابندگی کے لیے دعا مانگی گئی، اپنے اندر ایک گہرا مفہوم رکھتا ہے۔وہ ملک جس کی قوم ایک سلطنتِ خداداد بنانے کے لیے خواب دیکھ رہی تھی، ہمیشہ ایک تابندہ اور روشن ستارے کی مانند دنیا میں اپنا نام روشن کرے، اور وہ منزل جس کے خواب کی تعبیر کے لیے ہزاروں نہیں، بلکہ لاکھوں مسلمانوں نے قربانیاں دیں، اپنی مراد کو بخیریت پہنچ جائے۔ہاتھ کی لغزش قلم کا ساتھ نہیں دے رہی، الفاظ کے ہوتے ہوئے انہیں جملوں کا روپ دھارنے کی ہمت نہیں پڑ رہی کہ کیسے رقم کروں کہ آج، ۲۰۲۶ء میں، منزل شاد و آباد نہیں، بلکہ منزلِ نامراد کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔

آج پورے پاکستان میں اگر دن میں پانچ دفعہ کانوں میں اذان کی آواز آتی ہے تو دن رات میں بیشتر دفعہ ایمبولینسوں کی آوازیں بھی گونجتی ہیں۔ فضا میں گونجتی ہوئی فائرنگ کی آواز اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ کسی کے گھر کا چراغ آج پھر بجھ گیا۔یہ کیسا مسلم معاشرہ ہے کہ اللہ کے گھر سے آنے والی صدا کے معانی سے بے بہرہ، اپنی دنیا و آخرت کی تباہی میں مشغول ہے؟
آج دل کی سختی کا یہ عالم ہو گیا ہے کہ فائرنگ کی آواز سے اب دل نہیں دہلتا۔ وہ آنکھ جو کسی انجانے کی موت کا تصور کرکے اشک بار ہو جاتی تھی، اب میڈیا پر لاشوں کے ڈھیر دیکھ دیکھ کر بے نور ہو گئی ہے۔زبان، جو میٹھی ہو تو صدقۂ جاریہ بن جاتی ہے، اب ان تمام حالات کے ردِعمل میں زہر اگل رہی ہے۔ خواہ عام عوام کی زبان ہو یا وزرا کی، سب ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہو رہی ہیں۔میرے قائد کے پاکستان کی اس بھیانک تصویر کے لیے وہ رنگ کہاں سے چرا کر لاؤں جو اسے ایک مکمل تصویر کی شکل دے دیں؟

پرچمِ ستارہ و ہلال، رہبرِ ترقی و کمال!
انسان جب پُرامید ہو کر اپنے رب سے التجا کرتا ہے تو بے اختیار اس کی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھ جاتی ہیں۔ احساسِ بلندی ہر قوم کے افراد کو اس وقت ہوتا ہے جب وہ سربلند کرکے اپنے پرچم کی طرف دیکھتے ہیں۔پرچم کشائی صرف بلند و بالا عمارات پر نہیں ہوتی، بلکہ دل و نگاہ میں بھی پرچم کو وہ مقام دیا جاتا ہے جس کا وہ حق دار ہے۔ کسی بھی چیز کو اس کی صحیح جگہ سے ہٹا دینا ظلم کہلاتا ہے۔ہر ملک و قوم اپنے پرچم کو بلندی کی طرف لے جانا چاہتی ہے، کیونکہ یہ کسی بھی پرچم کا حق ہے کہ اسے سربلند کیا جائے، نہ کہ پاؤں تلے روند دیا جائے۔بلند مقام دینے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے کسی نسبتاً اونچی جگہ پر لہرا دیا جائے، بلکہ اصل بلندی یہ ہے کہ جب دنیا کی نگاہ ہمارے پرچم پر پڑے تو عزت کی نگاہ ڈالی جائے۔ پرچم دیکھ کر اگر اس قوم کی ترجمانی کے لیے زبان کھلے تو کوئی نازیبا الفاظ استعمال نہ کیے جائیں، اور اگر پرچم سبز ہلالی ہو تو آنکھیں بند کرکے بھی اس قوم کا تصور امن و آشتی ہی ہونا چاہیے۔

ترجمانِ ماضی، شانِ حال، جانِ استقبال!
سایۂ خدائے ذوالجلال!

آج اگر ہم اپنے ماضی کے دریچوں میں جھانکتے ہیں تو اس میں اچھے اور برے، ہر طرح کے لمحات کا عکس نظر آتا ہے۔ ایک مکمل انسان کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ وہ ماضی کی تلخیوں سے سبق حاصل کرے اور مستقبل میں ان غلطیوں کو نہ دہرائے۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

جو ٹھوکر نہ کھائے، نہیں جیت اس کی،
جو گر کے سنبھل جائے، ہے جیت اس کی

منزلوں کے یہ نشان، پیروں کے چھالے، ہمارے پرکھوں کی منزلِ مراد کی جستجو کی داستان سناتے ہیں۔ اس جستجو میں انہوں نے جتنی ٹھوکریں کھائیں، پیروں پر جتنے چھالے پڑے اور بارہا گر کر جس طرح خود کو سنبھالا، وہ سب ہماری تاریخ کا حصہ ہیں۔آج ماضی کی ان تمام یادوں کی ترجمانی کرتے ہوئے ایک شان و شوکت کا جذبہ سر اٹھاتا ہے۔ مگر ہمارے بعد آنے والی نسلیں جس ماضی کی ترجمانی کریں گی، جن ادوار کو یاد کریں گی، اگر وہ دور لیاقت علی خان کو گولی لگنے سے شروع ہو کر بے نظیر کی موت پر ختم ہوتا ہے تو کون سا جذبہ سر اٹھائے گا؟ شان و شوکت کا یا ذلت و رسوائی کا؟

فیصلہ ہر پاکستانی خود کرے!
اب صرف ایک ہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کی ہر صبح کا استقبال اپنی رحمت کے سائے تلے کرے۔ شاید اسی رحمت کے صدقے ہر دن کی رات ایک پُرسکون نیند کی ضمانت بن جائے، اور آج جو ہماری منزل نامراد نظر آ رہی ہے، وہ شاید ہمارے بزرگوں کی سوچ کے مطابق منزلِ مراد کی شکل اختیار کر لے۔
آمین یا رب العالمین!