اسرائیل کی طبریہ جھیل سے کوئی چالیس کلو میٹر دور اور ناصرہ سے چھ کلو میٹر کے فاصلے پر ایک دوہزار سالہ پرانے شہر صفوریہ کے کھنڈرات ہیں اس اجڑی بستی کی تباہ شدہ عمارتوں میں ایک ایسی حسینہ بھی چھپی ہے جو پتھروں میں مسکراتی ہے اور جس کے لبوں پر ٹھہری مسکراہٹ صدیوں کی خاموش داستان سناتی ہے ۔ اس شہر کا موجودہ نام سیفورس یا زِپوری ہے ۔
بعض چہرے پہلی نظر ہی میں اچھے لگتے ہیں، مگر کچھ چہرے نگاہ سے اتر کر دل و دماغ میں یوں بس جاتے ہیں کہ پھر مدتوں ساتھ رہتے ہیں۔ گلیلی کی اس نامعلوم حسینہ کا چہرہ بھی میرے لیے ایسا ہی تھا۔ اسے دیکھ کر یوں محسوس ہوا جیسے وقت نے ایک پوری بستی کو ویران کر دیا ہو، مگر ایک مسکراہٹ کے سامنے آ کر خود ٹھہر گیا ہو۔ اس آثارِ قدیمہ کے پارک کی شہرت میں یہاں کے شاندار موزائیک کا بڑا حصہ ہے۔ رومی عہد کے ایک پُرتعیش ولا، “ دیونیسوس ہاؤس “ کے ضیافت خانے کے فرش پر بنی ہوئی ایک عورت کی شبیہ خاص طور پر نگاہ کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ چلتے قدموں کو ٹھہرنے پر مجبور کر دیتی ہے ۔ تیسری صدی عیسوی سے منسوب اس موزائیک میں بنی
اس عورت کی انتہائی خوبصورت پراسرار ۔ مدھر مسکراہٹ لیونارڈو ڈاونچی کی مونا لیزا سے بڑی مشابہت رکھتی ہے ، اس کی حساس اور خوبصورت زندگی سے بھرپور آنکھوں میں ایک سہ جہتی جادوئی تاثر ہے جو دیکھنے والوں کو اپنا غلام بنا لیتی ہیں۔ اس کے بالوں کی سجاوٹ کا پیچیدہ انداز اس دور کے رومی فیشن کی شاندار عکاسی کرتا ہے کانوں میں بندے ۔ کپڑوں کا کالر گلے کا نیکلیس ، صراحی جیسی گردن، چہرے کے پتلے پتلے نقوش، چوڑا ماتھا،ستواں ناک اس کی امارت کی علامت ہیں۔ یہی دل آویز صورت گلیلی کی مونا لیزا کہلاتی ہے۔
وقت کے ملبے میں روشن ایک راز
موزائیک کی آنکھوں میں ٹھہری ہوئی ایک قدیم شام، وہ چہرہ جس کا نام مٹ گیا، مگر مسکراہٹ باقی رہ گئی.
گلیلی کی مونا لیزا ۔۔ جس کی خاموش مسکراہٹ میں ایک ابدی راز چھپا ہے ۔
ایک مسکراہٹ، جس میں ہزار کہانیاں مدفون ہیں ۔۔
پتھر کے چھوٹے ٹکڑوں میں قید وہ مسکراہٹ، جس نے صدیوں کو خاموش کر دیا ۔
ٹیسرہ قدیم رومی دور کا ایک فن تھا جس میں سلیکا، سنگ مرمر اور چونے کے چھوٹے رنگ برنگے پتھروں کو جوڑ کر عمارتوں کا فرش بنایا جاتا تھا۔
اس دولتمند رومی کے ضیافت خانے کے فرش پر چھوٹے چھوٹے رنگین ٹکڑوں سے ابھرتا ہوا یہ چہرہ جو اپنے خالق کے ہاتھوں کی مہارت کا ناقابل یقین شاہکار ہے۔
موزائیک میں استعمال ہونے والے ان ٹکڑوں کو ٹیسرے کہا جاتا ہے؛ رنگین شیشوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ۔۔ ہر چھوٹا ٹکڑا ایک ٹیسرا ہے۔ قریب جا کر دیکھیں تو رنگوں کی الگ الگ اکائیاں دکھائی دیتی ہیں، لیکن ذرا پیچھے ہٹتے ہی یہی ٹکڑے رخساروں کی نرمی، آنکھوں کی گہرائی اور لبوں کے لطیف خم میں ڈھل جاتے ہیں۔ پتھر جیسے سخت مادّے سے چہرے کی ایسی ملائمت پیدا کرنا بلاشبہ ایک غیرمعمولی فن ہے۔
اس کی آنکھوں میں ایک زندگی ٹھہری محسوس ہوتی ہے۔ نگاہ میں ایسی گہرائی ہے کہ دیکھنے والا بے اختیار کچھ دیر وہیں رک جاتا ہے۔ ہرنی جیسی لمبی گردن پر پروقار چہرہ ۔۔ غزال جیسی مدھ بھری آنکھیں ۔۔۔جیسے کوئی ملکہ ہو ۔۔ رخساروں پر رنگوں کی باریک آمیزش، ناک کے گرد ہلکا سا سایہ اور ہونٹوں کے کناروں پر ابھرتی ہوئی مسکراہٹ چہرے کو ایک جیتی جاگتی کیفیت عطا کرتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے اس نے ابھی کوئی حسین بات سنی ہو ۔۔۔ کوئی خوبصورت خواب دیکھا ہو اور مسکرانے لگی ہی تھی کہ فن کار نے عین اسی مختصر لمحے کو ہمیشہ کے لیے رنگین پتھر کے چھوٹے ٹکڑوں میں محفوظ کر لیا ہو۔
بالوں کی سلیقے سے ترتیب دی گئی لٹیں اور زیورات اس کے چہرے کے وقار میں اضافہ کرتے ہیں، مگر نگاہ آخرکار لوٹ کر اس کے لبوں پر آ ٹھہرتی ہے، جہاں مسکراہٹ پوری طرح کھلنے سے پہلے ہی رک گئی ہے۔ شاید اسی ادھورے پن میں اس کی اصل کشش پوشیدہ ہے۔ دیکھنے والا اس مسکراہٹ کا مفہوم سمجھنا چاہتا ہے، مگر ہر بار اس کے معنی کا کچھ حصہ پردے میں رہ جاتا ہے۔
گلیلی کی مونا لیزا کی مسکراہٹ دیکھی تو مجھے ایک اور مسکراہٹ یاد آگئی ۔ پیرس کے لوور میوزیم میں ایک تصویر کے سامنے لگی ایک بہت لمبی قطار نظروں کے سامنے گھوم گئی ۔۔ اور میں بھی اس لمبی کبھی نہ ختم ہونے والی لائن کا حصہ تھا ۔ وہاں بھی رنگوں کے حصار میں ایک لازوال مسکراہٹ قید ہے ۔۔ لیونارڈو ڈاونچی کی مونا لیزا کے دیدار کے لیے میں نے تقریباً آدھا گھنٹہ قطار میں انتظار کیا تھا۔ میرے سامنے ایک ایسی تصویر تھی جس کا نام برسوں سے سنتا آیا تھا، جس کی مسکراہٹ ضرب المثل تھی ۔۔ جس پر بے شمار کتابیں لکھی جا چکی تھیں، اور جسے دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے لوگ اس شہر اس میوزیم مکی طرف کھینچتے چلے آتے ہیں۔
میں ڈاؤنچی کی مونا لیزا کے سامنے جا کھڑا ہوا ۔ اور ٹھہر گیا جیسے وقت ٹھہر گیا ہو ۔۔ میرے پیچھے ایک لمبی قطار لگی تھی جس میں شاید مجھ سے بھی بڑے مشتاق کھڑے تھے مجھ سے بھی زیادہ اس مسکراہٹ کے عاشق ۔ میں زیادہ دیر اس کے سامنے کھڑا نہ ہو سکا ۔ اس کے سامنے پہنچنے میں شوق بھی شامل تھا اور ایک دیرینہ خواہش کے پورا ہونے کی خوشی بھی۔
ڈاونچی نے اپنی مونا لیزا پر تقریباً ۱۵۰۳ء میں کام شروع کیا تھا۔ یہ چنار کی لکڑی کے تختے پر روغنی رنگوں سے بنائی گئی لیزا گیراردینی کی تصویر ہے، جو فلورنس کے تاجر فرانچیسکو ڈیل جیوکونڈو کی اہلیہ تھی ۔ ڈاونچی کو اسے بنانے میں سولہ سال لگے تھے اور اپنی زندگی کے آخری سانس تک اس پر کام کرتا رہاتھا اس میں نکھار لانے کی کوشش کرتارہا تھا اور بالآخر اسےادھورا چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہو گیا
غالباً اس نے یہ تصویر کے کہنے پر شروع کی تھی لیکن دل چسپ بات یہ ہے کہ تصویر کبھی بھی جیوکونڈو خاندان کے حوالے نہیں ہوئی۔ ڈاونچی اسے اپنے پاس رکھ کر برسوں اس پر کام کرتا رہا اور اپنی زندگی کے آخری دور میں اسے فرانس اپنے ساتھ لے گیا ۔ یوں ایک نجی خاندانی تصویر کے طور پر شروع ہونے والا یہ شاہکار بالآخر فرانسیسی شاہی مجموعے اور پھر لوور میوزیم تک جا پہنچا۔
میں نے پیرس کے لوور میوزیم میں رکھی ڈاونچی کی آئل سے بنی مونا لیزا کا دیدار کرنے کے لئے آدھا گھنٹہ قطار میں انتظار کیا تھا لیکن مجھے جو کشش جو خوبصورتی گیلیلی کی مونا لیزا میں نظر آئی وہ ڈاونچی کی مونا لیزا میں نہیں تھی ۔۔
دونوں حسیناؤں کے زمانے، فنّی روایتوں اور تخلیق کے وسیلے ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں ۔۔ دونوں کے درمیان بارہ سو سال کا فاصلہ ہے۔ ڈاونچی کی مونا لیزا تو سولہویں صدی میں بنی لیکن یہ مسکراہٹ بارہ سو سال پہلے سے ہی پتھروں میں قید تھی ۔۔۔ دونوں کی مسکراہٹ مشہور ہے لیکن شہرت پہلے پیرس کی مونا لیزا کو ملی ۔ گلیلی کی مونالیزا دہائیوں بعد دنیا کے سامنے آئی جب صفوریہ کے کھنڈرات کی کھدائی ہوئی ۔۔
میں وہ خوش قسمت تھا جو دونوں مسکراہٹوں سے فیض یاب ہوا تھا لیکن مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اگر گلیلی کی حسینہ پہلے دنیا کے سامنے آجاتی تو آج پیرس کی مونا لیزا اسکی مسکراہٹ کے حوالے سے مشہور ہوتی ۔۔
ڈاونچی کی مونا لیزا میں رنگ اور سائے آہستہ آہستہ ایک دوسرے میں گھلتے ہیں۔ چہرے کے کناروں کی دھندلاہٹ، آنکھوں کے گرد پھیلی ہوئی نرمی اور لبوں کی مبہم جنبش اس کے تاثر کو پوری طرح گرفت میں آنے نہیں دیتی۔ گلیلی کی حسینہ میں یہی حیرت ایک مختلف وسیلے سے پیدا ہوتی ہے: ننھے ننھے، الگ الگ ٹکڑے مل کر ایسی صورت تشکیل دیتے ہیں جس میں زندگی کی روانی محسوس ہوتی ہے۔ ایک تصویر میں رنگوں کا باہم مدغم ہونا حیران کرتا ہے، دوسری میں پتھریلے ٹکڑوں کا یک جان ہو جانا۔
میں دیر تک گلیلی کی اس حسینہ کے سامنے کھڑارہا.. یہاں میرے پیچھے کوئی نہیں تھا جو مجھے آگے بڑھنے کا کہتا۔ گلیلی کے اس چہرے نے مجھے زیادہ دیر اپنے پاس روکے رکھا۔ ڈاونچی کے شاہکار کی عظمت اپنی جگہ .. مگر اس قدیم موزائیک میں چھپی آنکھوں اور مسکراہٹ میں مجھے ایک خاص قربت محسوس ہوئی۔ لوور میں میری نگاہ کے ساتھ اس تصویر کی عالمگیر شہرت بھی جڑی تھی اور میرے پچھے کھڑاسینکڑوں لوگوں کا مجمع بھی کھڑابیتابی سے اپنی باری باری کا انتظار کر رہا تھا لیکن یہاں ایک نسبتاً خاموش ملاقات تھی، جس میں ایک نامعلوم چہرہ کا جادو آہستہ آہستہ میرے حواس پر اثر انداز ہو رہا تھا۔ اور مجھے روکنے والا ٹوکنے والا دوسرا کوئی موجود نہیں تھا ۔۔
لیزا گیراردینی کا نام ہم سب جانتے ہیں، مگر گلیلی کی یہ حسینہ کس گھر کی شمع تھی ۔۔کوئی نہیں جانتا وہ کسی حقیقی عورت کا عکس تھی، حسن کا مثالی پیکر تھی یا کسی علامتی تصور کی صورت—یہ سوال آج بھی کھلا راز ہے۔ صدیوں پرانی جس دھول میں وہ زندہ تھی وقت کی اسی دھول نے اس کی شناخت پر بھی پردہ ڈال رکھا ہے ۔۔ وہ اس رومی ولا کے دولتمند مالک کی بیوی تھی یا محبوبہ یا اسے بنانے والے فنکار کے حسین تخیل کا کوئی خوبصورت روپ ۔ کوئی نہیں جانتا مگر اس لاعلمی میں بھی ایک عجیب کشش ہے۔ جیسے اس کی نامکمل مسکراہٹ میں ۔۔ اس کا نام زمانے کی گرد میں گم ہو گیا، اس کی آواز ہم تک نہ پہنچ سکی، پھر بھی اس کے چہرے کا تاثر ۔۔ پتھروں پر جمی اس کی مسکراہٹ آج بھی دیکھنے والے سے ایک خاموش تعلق قائم کر لیتی ہے۔
اسے دیکھتے ہوئے میں اس نامعلوم فن کار کو بھی یاد کرتا رہا جس نے ہر ٹکڑا سوچ سمجھ کر اپنی جگہ رکھا ہوگا۔ آنکھ کی چمک، رخسار کا ابھار اور مسکراہٹ کا خم پیدا کرنے کے لیے اس نے کتنی بار جھک کر اس چہرے کو دیکھا ہوگا، کتنی بار پیچھے ہٹ کر پوری صورت کا جائزہ لیا ہوگا۔ اس کا اپنا نام شاید تاریخ نے محفوظ نہیں رکھا، مگر اس کی نگاہ کی نفاست آج بھی اس چہرے کی مسکراہٹ کی صورت میں زندہ تھی ۔۔
پیرس کی مونا لیزا نے مجھے فن کی شہرت اور انسانی تجسس کا تجربہ دیا تھا، مگر گلیلی کی اس نامعلوم حسینہ نے مجھے فن کی ایک اور حقیقت سمجھائی: عظمت ہمیشہ نام، شہرت یا ہجوم کی محتاج نہیں ہوتی۔ کبھی ایک بے نام عورت کا چہرہ، صدیوں پرانے پتھروں میں محفوظ ایک مختصر سی مسکراہٹ، انسان کے دل پر اس لیے اثر کر جاتی ہے کہ اس میں زندگی کا وہ لمحہ موجود ہوتا ہے جسے وقت مٹا نہیں سکا۔
وقت کی قلت یہاں بھی آڑے آئی ہمیں حطین جانا تھا اس لئے میں اس کا جی بھر کر دیدار نہ کر سکا۔
رخصت ہونے سے پہلے میں نے اسے آخری بار دیکھا۔ اس کی آنکھیں اب بھی خاموش تھیں، مگر اس خاموشی میں جیسے ایک پوری داستان سانس لے رہی تھی؛ اس کے لبوں پر وہی نامکمل مسکراہٹ تھی، جس میں شاید حسن بھی تھا، راز بھی، اور گزرے ہوئے زمانوں کی اداسی بھی۔ میں کھنڈرات سے باہر آ گیا، مگر یوں محسوس ہوا جیسے صفوریہ کی وہ حسینہ میرے ساتھ چل پڑی ہو—یاد میں، خیال میں، اور اس سوال کی صورت میں کہ آخر وہ کس کے لیے مسکرائی تھی۔
شاید اسی لیے گلیلی کی مونا لیزا آج بھی پتھر کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں زندہ ہے۔ اس کا نام میں نہیں جانتا ، اس کی آواز کبھی سنائی نہیں دے گی، مگر اس کی مسکراہٹ وقت کی تمام ویرانیوں کو شکست دے چکی ہے۔ صدیوں پہلے کسی نامعلوم فن کار نے رنگین پتھروں کو جوڑ کر ایک چہرہ بنایا تھا؛ آج وہ چہرہ دیکھنے والوں کو یاد دلاتا ہے کہ انسان فنا ہو جاتا ہے، شہر مٹ جاتے ہیں، تہذیبیں خاموش ہو جاتی ہیں، مگر سچی خوب صورتی—اور اسے محفوظ کرنے والا فن—ہمیشہ زندہ رہتا ہے اور اپنی روشنی کے لیے کسی نام کا محتاج نہیں ہوتا۔



تبصرہ لکھیے