مجھے لالہ شاہین کی قبر اور اس مدرسے کی تلاش تھی جو اس کے نام سے بر صہ میں قائم تھا لیکن لگتا تھا کہ یا تو برصہ والے میری زبان نہیں سمجھ رہے تھے یا وہ واقعی لالہ شاہین کو نہیں جانتے تھے ۔ میں اکیلا پرانے برصہ میں پیدل پھرتا رہا سارا عثمان غازی ڈسڑکٹ چھان مارا . پیروں میں درد شروع ہوگئی ۔ لیکن لالہ کو نہ ملنا تھا نہ ملا!
رات کو علی سے ملاقات ہوئی اس سے ذکر کیا لیکن وہ بھی اس سے ناواقف نکلا ۔ میں نے اس کے استفسار پر لالہ شاہین کی ساری کہانی اسے سنائی ۔جسے سن کر وہ بہت پر جوش نظر آنے لگا ۔۔کہنے لگا ڈاکٹر صاحب یہ تو مجھے پتہ تھا کہ آپ کو ترکوں کی تاریخ پر عبور حاصل ہے لیکن آپ ہماری تاریخ کو اتنا زیادہ جانتے ہیں یہ معلوم نہ تھا۔دوسرے دن وہ مجھے ساتھ لے کر برصہ کی مرکزی لائبریری پہنچ گیا ۔اس کی زبان مہتمم کو سمجھ آ کئی اور ہمیں لالہ شاہین کا پتہ مل گیا ۔ بوڑھا مہتمم کہنے لگا آج بہت دنوں کے بعد کوئی لالہ شاہین کے بارے میں پوچھنے آیا ہے ورنہ بیشتر سیاح تو عثمان غازی کے مزار کی زیارت کر کے اور سلطان بایزید یلدرم کی مسجد میں تصاویر کھنچوا کر الودا پہاڑ کی سیر کر کے واپس چلے جاتے ہیں یا برصہ کے گرم حماموں کا رخ کرتے ہیں ۔ پھر مجھ سے پوچھنے لگا کہ کیا میں کوئی ریسرچ سکالر ہوں اور جب علی نے اسے میرے بارے میں بتایا کہ میں پاکستانی ہوں اور ڈاکٹر ہوں تو وہ بہت خوش ہوا اس کے لہجے میں گرمجوشی اور محبت جھلکنے لگی اس نے مجھے کاردش کہہ کر مخاطب کیا اور ہمیں کافی پلانے پر اصرار کرنے لگا ۔ لیکن ہم اس کا شکریہ ادا کر کے باہر نکل آئے اور لالہ شاہین کے پاس پہنچ گئے
عصمت پاشا روڈ پر دریائے نیلو فر کے کنارے مصطفی کمال پاشا کمپلکس کے ایک کونے میں لالہ شاہین پاشا کا مقبرہ تھا جس کے ساتھ ملحقہ مسجد ۔ ایک مدرسہ کی عمارت اور ایک حمام بھی تھا یہ ساری عمارات لالہ شاہین نے اپنی زندگی میں تعمیر کروائی تھیں ۔ کتب خانے کے بوڑھے مہتمم نےہمیں بتایا تھا کہ ان عمارات کی دیکھ بھال لالہ شاہین فاؤنڈیشن کرتی ہے ۔ 1855 ء کو برصہ میں جو خوفناک زلزلہ آیا تھا اس میں یہ عمارات تباہ ہوگئی تھیں اور 1948 ء میں ان کو از سر نو تعمیر کیا گیا تھا ۔ جب میں لالہ کی قبر کے سرہانے کھڑا فاتحہ پڑھ رہا تھا تو کئی بار میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ جب سے میں برصہ آیا ہوں میں نے صرف سلطانوں کے مقبروں پر ہی حاضری دی ہے ۔ صرف شاہی خاندان کے افراد کی قبروں پر ہی فاتحہ پڑھی ہے لیکن لالہ شاہین پاشا کی قبر پر دعا مانگتے ہوئے میری جو کفیت ہے وہ کسی سلطان کے حصے میں نہیں آئی واقعی عظمت شاہی خون کی نہیں جرآت و ہمت کی مرہون منت ہوتی ہے ۔
چرنومن، یونان کا چھوٹا سا گاؤں جہاں تاریخ رقم ہوئی
یو نان میں دریائے مارٹیسا کے کنارے ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جسے چرنومن Chernomen کہتے ہیں اس کا موجودہ نام Ormenio ہے ۔ 26 اگست 1371 ء کو یہاں ایک تاریخ ساز جنگ ہوئی جس میں آٹھ سو ترکوں نے لالہ شاہین پاشا کی قیادت میں ستر ہزار کے لشکر کو شکست دے کر تاریخ رقم کی. یہ جنگ دنیا کی چند تباہ کن ترین جنگوں (Most disastrous Battles of the world ) میں شمار ہوتی ہے . دریائے مارٹیسا کو دریائے ایونیو س بھی کہتے ہیں یہ یونان اور ترکی کو تقسیم کرتا بحیرہ ایجئین میں جا گرتا ہے . یہ سلطان مراد اوّل کا دور حکومت تھا ۔ سلطان مراد نے اپنے باپ اور خان غازی کی وصیت کے مطابق 1363 ء میں اپنا دارلسلطنت برصہ سے ایڈرنہ منتقل کر دیا ۔۔ اب عثمانی سلطنت کی سرحدیں سنڑل یورپ تک پھیل چکی تھیں .اور اس وقت کی یورپ کی سب سے بڑی اور طاقتور ریاست سربیین Serbian سلطنت سے جا ملتی تھیں جس کا حکمران ووکاشان Vukašin Mrnjavčević تھا ۔ وہ ترکوں کی اپنی سرحدوں تک وسعت کو اپنے لئے اور اپنی سلطنت کے لئے بڑا خطرہ سمجھتا تھا لیکن اس میں اتنی ہمت نہ تھی کہ کوئی عملی اقدام اٹھاتا ۔ لہذا موقع ملنے کی آس میں خاموش بیٹھا رہا ۔
پھر ستمبر 1371ء میں اسے خبر ملی کہ سلطان مراد اپنی ساری فوج لے کر برصہ چلا گیا ہے اور ایڈرنہ میں صرف آٹھ سو فوجی موجود ہیں ،اس نے موقع غنیمت جانا اور ستر ہزار کا لشکر لے کر ایڈرنہ پر چڑھ دوڑا. اس کا بھائی یو جلیسا Despot Jovan Uglješa بھی اپنی پوری فوجی قوت کے ساتھ شامل تھا. دنوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرتے دونوں بھائی ایڈرنہ پہنچ گئے اور دریائے مارٹیسا کے کنارے پڑاؤ ڈال دئیے ۔سربوں کو اپنی طاقت پر اتنا مان تھا اور اپنی فتح کا اتنا یقین تھا کہ ایڈرنہ انہیں پلیٹ میں رکھا محسوس ہو رہاتھا ان کاخیال تھا کہ صبح سورج نکلتے ہی وہ ایڈرنہ کے قلعے پر حملہ آور ہوں گے اور ترکوں کا آٹھ سو کا دستہ ان کی ستر ہزار فوج کا سامنا نہیں کر پائے گا اور وہ بڑی آسانی سے قلعہ پر قبضہ کر لیں گے اسی خوش فہمی میں انہوں نے ساری رات اپنی فتح کا پیشگی جشن منایا رقص وسرود کی محفلیں جمیں شراب کے گھڑے خالی کر دئیے گئے ۔ رات بھر جشن منانے کے بعد وہ صبح ایڈرنہ کے قلعے پر اپنا جھنڈا لہرانے کاخواب دیکھتے دیکھتے مدہوش ہو کر خواب غفلت میں ڈوب گئے.
لالہ شاہین پاشا جس کے حوصلے اور حکمت عملی نے پانسا پلٹ دیا :
لالہ شاہین پاشا رومیلی کا گورنر تھا وہ برصہ کا رہنے والا تھا. وہ رومیلیا کا پہلا ابیگلربیگ (Rumelia Beylerbeyi) تھا ۔ رومیلیا عثمانی سلطنت کے یورپی حصےکو کہتے تھے۔ لالہ شاہین وہ پہلا ترک بھی ہے جسے پاشا کا خطاب ملا۔ لالہ شاہین اور خان کا سب سے قابل اعتماد جرنیل تھا اور مراد خان اوّل کا استاد بھی تھا ،اسی نے سارا بلقان اور ایڈرنہ فتح کیا تھا ۔۔ مراد خان برصہ جاتے وقت اسے اپنا قائم مقام بنا کر گیا تھا ۔ اسے جب ووکاشان اور یوجلسیا کے لشکر کی آمد کی اطلاع ملی پھر ان کے پیشگی جشن فتح کی خبریں موصول ہوئیں تو اس نے موقع سے فائدہ اٹھانے کا سوچا اور گھبرانے کی بجائے اس نے ساتھیوں کا حوصلہ بڑھایا ۔ چند فوجی ایڈرنہ کے قلعے کی حفاظت کے لئے چھوڑ کر اپنے باقی سپاہیوں کو اس نے دو حصوں میں تقسیم کیا. ایک حصے کو دریا کی جانب سے حملہ کرنے کی ذمہ داری دی اور دوسرے کو دشمن کی فوج کے عقب سے دھاوا بولنے کی ہدایت کی ۔ خود وہ اٹھارہ سپاہی لے کر ووکاشان اور یوجیلسیا کے خیموں پر آدھی رات کے اندھیرے میں اس وقت حملہ آور ہوا جب سب جشن منانے کے بعد تھک ہار کر بے خبر سو رہے تھے ۔
خیموں کو آگ لگانے کے بعد اس نے حملہ کر کے دونوں بھائیوں کو قتل کر دیا ۔۔ سربوں کی فوج میں اس اچانک حملے سے بھگڈر مچ گئی ۔ آگ کے شعلے دیکھ کر لالہ شاہین کے سپاہی جو اسی اشارے کا انتظار کر رہے تھے انہوں نے دریا کی سمت اور عقب سےحملہ کر دیا ۔رات کے اندھیرے میں دوست دشمن کی پہچان مٹ گئی۔ سرب اندھیرے میں ایک دوسرے کو قتل کرنے لگے ۔ ووکاشان اور اسکے بھائی کی موت نے بھی ان کے حوصلے پست کر دئیے ۔ پچاس ہزار سے زائد سرب کام آئے باقی ماندہ دریا کی طوفانی لہروں کی نذر ہو گئے ۔یوں چند سو لوگوں کے عزم و حوصلے اور بہتر جنگی حکمت عملی کے سامنے ستر ہزار کا لشکر ہار گیا ۔ اس جنگ نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ جنگ تعداد کے بل بوتے پر نہیں حوصلے ،جرآت اور اعلیٰ بہتر جنگی حکمت عملی کی وجہ سے جیتی جاتی ہے. جنگ مریٹساکی بدولت لالہ شاہین پاشا کا نام آج بھی زندہ ہے . لالہ شاہین کی ساری زندگی یورپ میں جنگ وجدل کرتے گزری . وہ 1382ء میں صوفیہ کے گورنر مقرر ہوا۔ جہاں1389ء میں اس کا انتقال ہوا. اسے پہلے بلغاریہ کے شہر کزانلک Kazanlak میں دفن کیا گیا ۔بعد میں اس کی لاش کو اس کے آبائی شہر برصہ میں لا کر لالہ شاہین پاشا کمپلکس میں سپرد خاک کیا گیا
جنگ مارٹیسا تاریخ دانوں کی نظر میں :
بزنطینی یونانی تاریخ نگار لینی کوس Laonikos Chalkokondyles لکھتا ہے کہ
“اس روز اتنا خون بہا کہ دریائے مارٹیسا کا پانی کئی دنوں تک لال رہا اور ساری سرب سلطنت ترکوں کے قبضے میں چلی گئی “
انسکائیلو پیڈیا برٹینیکا (Encyclopedia Britannica نے اس جنگ کو World’s Ten worse Military Disasters میں شامل کیا ہے . کنیڈین تاریخ نگار جیفری ریگنGeoff Regan نے بھی اپنی شہرہ آفاق کتاب میں اس جنگ کو World’s Most Disastrous Battles میں شامل کیا ہے . کیرولین فنکل Carolin Finkle نے اپنی مشہور کتاب Osman’s Dream میں لکھا ہے کہ
“ اس جنگ نے بلقان اور ایڈرنہ پر ترکوں کے قبضہ کی مہر ثبت کر دی اور یہ علاقہ ہمیشہ کے لئے ترکوں کے قبضے میں چلا گیا “
غبار کارواں کی تلاش
جب میں کزانلک اور چرنومن میں تاریخ کے گمشدہ اوراق تلاش کرتارہا ۔امسال میں بلغاریہ گیا تو وارنا اور نکوپولس سے واپسی پر خاص طور پر کزانلک بھی گیا تاکہ لالہ شاہین کو خراج عقیدت پیش کر سکوں میں اسکی پہلی قبر پر بھی حاضری دینا چاہتا تھا کزانلک بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ سے تقریباً دو سو کلومیٹر مشرق میں ہے ۔ یہ صوفیہ سے ترکی کی سرحد کی طرف جانے والی اہم شاہراہ پر تاریخی شہروں ویلیکو ترنوو اور پلوودیف کے قریب واقع ہے۔بلغاریہ کے وسط میں واقع کزانلک گلابوں کی وادی” (Valley of the Roses) کا دل سمجھا جاتا ہے۔ اسے گلابوں کی وادی کا دارالحکومت بھی کہا جاتا ہے ۔ یہاں اعلیٰ معیار کے گلاب پیدا ہوتے ہیں ۔بلغاریائی تیل والا گلاب (Rosa Damascena) ۔۔ یہ تیل خوشبو سازی (پرفیوم) اور کاسمیٹکس کی صنعت میں بہت قیمتی سمجھا جاتا ہے۔ہر سال جون کے آغاز میں یہاں گلابوں کا تہوار منایا جاتا ہے۔ اس تہوار میں رنگ برنگی پریڈ، روایتی رقص و موسیقی، گلاب چننے کے مقابلے اور “گلابوں کی ملکہ” کا انتخاب شامل ہوتا ہے۔
کزانلک کا خطہ قدیم تھریشن تہذیب کا بھی گڑھ رہا ہے۔یہاں تھریشن کا مقبرہ (Tomb of Kazanlak) یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل ہے۔ یہ مقبرہ چوتھی صدی قبل مسیح کا ہے اور اس کی خاص بات اندرونی دیواروں پر بنی ہوئی شاندار فرسکو پینٹنگز ہیں۔ لیکن میرے لئے تھرپشن کے مقبرے سے زیادہ اپنے ہیرو لالہ شاہین پاشا کا مقبرہ زیادہ اہم تھا۔ لالہ شاہین کا مزار کزانلک شہر کے مرکز کے قریب، ایک چھوٹی پہاڑی پر واقع ہے اور اس کے اردگرد ایک چھوٹا سا پارک ہے۔یہ مزار چودھویں صدی کے آخر (1388ء کے قریب) میں تعمیر کیا گیا تھا۔اور اولیں عثمانی دور کے آرکیٹیکچر کی ایک کلاسیکل اور شاندار مثال ہے۔ یہ ایک ٹربے (türbe) کی شکل میں ہے، یعنی ایک آٹھ کونے والا مقبرہ جس پر ایک گنبد ہے۔ ابتدائی عثمانی مقبروں کی طرح اس کی تعمیر بھی بہت سادہ اور مضبوط ہے، جس پر بعد کے دور کے برعکس زیادہ ڈیزائننگ اور سجاوٹ کا کام نہیں کیا گیا ہے۔ یہ اس دور کی فن تعمیر کی جھلک پیش کرتا ہے۔
لالہ شاہین پاشا کا مزار صرف ایک مقبرہ نہیں ہے، بلکہ یہ کزانلک اور پورے بلغاریہ کے علاقے میں عثمانی دور کے آغاز کا ایک خاموش گواہ ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک دلچسپ مقام ہے جو کزانلک کے گلابوں اور تھریشن تاریخ سے ہٹ کر اس کے اسلامی اور عثمانی ورثے کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ چند روز کے بعد میں ایڈرنہ پہنچا تو مجھے خاص طور پر جنگ مارٹیسا کی کسی یادگار کی تلاش تھی لیکن مجھے شہر کے کسی میوزیم اور تاریخی مقام پر جنگ مارٹیسا کی کوئی نشانی نہ ملی ۔ لگتا تھا جیسے ایڈرنہ شہر کے ترک باسیوں نے اس دن اور اس جنگ کو بھلا دیا ہو ۔۔ میں چرنومن ( اورمنیو) بھی گیا جو ایڈرنہ سے صرف پچیس کلو میٹر دور یونان کی سرحد کے اندر واقع ہے۔ دریائے مارٹیسا کے کنارے آباد اس چھوٹے سے قصبےکا شائید کوئی بھی باشندہ آج اس حقیقت سے واقف نہیں کہ اس جگہ کتنی اہم اور تاریخ ساز جنگ لڑی گئی تھی اور نہ ہی آج سات سو سال کے بعد وہاں کوئی ایسی یاد گار یا نشانی باقی تھی جو اس جنگ کی گواہ دیتی ۔
ہاں البتہ شہر سے باہر دریا کے کنارے ایک میدان پر ایک تختی ضرور لگی تھی جس پر اس جنگ کا احوال درج تھا ۔ اس تختی کی طرح مارٹیسا کا بہتا پانی اور اس پر بناایک پل بھی لالہ شاہین کی جرآت ہمت اور جنگی حکمت عملی کی داستان سنا رہا تھا ۔ مارٹیسا کی جنگ میں فتح نے ترکوں کے لئے فتوحات کا دروازہ کھول دیا اور آنے والی چند ہی دہائیوں میں سارا بلقان اور یورپ کا بیشتر علاقہ ترکوں کے زیر نگیں آگیا اور یوں لالہ شاہین پاشا تاریخ کی کتابوں میں ہمیشہ کے لئے امر ہوگیا ۔
یہ مضمون میری کتاب “ زبان یار من ترکی میں شامل ہے ۔ “



تبصرہ لکھیے