ہوم << طلاس کی جنگ اور کاغذ کی کہانی – ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ
600x314

طلاس کی جنگ اور کاغذ کی کہانی – ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ

قازقستان اور قیرغستان کے باڈر پر دریائے طالاس Talas کے کنارے قازقستان میں ایک چھوٹا سا شہر آباد ہے جسے طاراز Taraz کہتے ہیں یہ تین ہزار سال پرانا شہر سنڑل ایشیاء کا قدیم ترین شہر ہے جو شاہراہ ریشم پر واقع تھا. ستمبر ( بعض روایات میں جولائی ) 751ء کو یہاں چینی تانگ (Tang ) شہنشاہ اور پہلے عباسی خلیفہ ابوالعباس السفاح کے درمیان ایک جنگ ہوئی جسے دریائے طالاس کی جنگ، Battle of Talas ( معرکہ نہر طلاس ) کہتے ہیں .

یہ جنگ دنیا کی ان بڑی تاریخ ساز جنگوں میں شمار ہوتی ہے جنہوں نے موجودہ دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا اور یہ تاریخ کی واحد جنگ بھی ہے جو عربوں اور چینیوں کے درمیان سنڑل ایشیاء ( ماوراءالنہر ) کا قبضہ حاصل کرنے کے لئے لڑی گئی اور جس کے بعد مسلمانوں اور چینیوں کے درمیان جاری سوسالہ چپقلش کا اختتام ہو گیا . ماوراءالنہر عربی میں اس علاقے کو کہتے ہیں جو سائر دریا ( Syr Darya) اور دریائے آمو کے درمیان واقع ہے اور جہاں موجودہ ازبکستان ، تاجکستان ، قازکستان اور قیرغستان آباد ہیں . مسلمانوں اور چینیوں کے درمیان اقتدار کی یہ سو سالہ پرانی جنگ اس وقت شروع ہوئی جب حضرت عمر کے دور میں مسلمانوں نے 651ء میں ایران فتح کیا اور پھر ماوراءالنہر کی طرف متوجہ ہوئے تو چینی جو ایرانیوں کے اتحادی بھی تھے. انہیں سنڑل ایشیاء کی طرف بڑھتی مسلمانوں کی یہ یلغار اپنے اقتدار کے لئے بڑا خطرہ محسوس ہوئی دریائے آمو کے پار کے علاقے بلخ غزنی باغ دیس اور فریاب اور ہرات جو آجکل افغانستان کا حصہ ہیں. وہ تو حضرت عمر کے دور میں ہی اسلامی سلطنت کا حصہ بن گئے تھے اور کچھ حضرت عثمان کے دور میں فتح ہوئے.

اموی خلیفہ ولید بن عبدالمالک کے دور میں قتیبہ بن مسلم نے 710ء میں کاشغر 712ء میں بخارا ، فرغانہ اور 714ء میں سمرقند فتح کیاتو مسلمان تقریباً پورے ماوراءالنہر میں غالب آگئے. لیکن بعد میں امویوں اور عباسیوں کے درمیان ہونے والی چپلقش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چینیوں نے ان تمام علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا. طلاس کی جنگ میں ہونے والی عبرت ناک شکست کے ساتھ ہی سنڑل ایشیاء پر صدیوں سے قائم چینی تسلط ہمیشہ کے لئےختم ہوگیا . اور یہ علاقے مسلمانوں کے قبضے میں آگئے . 751ء کو دریائے طالاس کے کنارے لڑی جانے والی اس جنگ میں چینی سپہ سالار جاؤ ژیانگ ہی (Gao Xianzhi ) کا مقابلہ زیاد بن صالح سے تھا . چارلس پیڑک فٹزجیرالڈ Charles Patrick Fitzgerald اپنی کتاب “China – A short cultural History “میں لکھتا ہے کہ ،

“اس جنگ میں چینی فوج کی تعداد نوے ہزار کے قریب تھی جس میں ترک بھی شامل تھے .جبکہ مسلمان تیس ہزار تھے اور انہیں تبتیوں کی مدد حاصل تھی. جنگ کے دوران عین اس وقت جب چینی لشکر غالب آرہا تھا .ترک سپاہی چینیوں کو چھوڑ کر مسلمانوں کے ساتھ شامل ہو گئے اور یوں چینی فوج کو عبرت ناک شکست ہوئی اور پچاس ہزار کے قریب چینی سپاہی لقمہ اجل بنے ،جن میں سے اکثر فرار ہوتے ہوئے دریائے طلاس کی طغیانی موجوں کی نذر ہوئےاور کئی ہزار جنگی قیدی بنے. جاؤ ژیانگ ہی بھیس بدل کر بڑی مشکل سے جان بچا نے میں کامیاب ہوسکا. یوں سنڑل ایشیاء میں چینیوں کا صدیوں پرانا اقتدار ہمیشہ کے لئے ڈوب گیا اور یہ علاقے مسلمانوں کے قبضے میں چلے گئے. یہ جنگ اپنے نتائج کے اعتبار سے اتنی زیادہ اہم اور تاریخ ساز ہے کہ اس کے بعد یہ سارا علاقہ بدھ مت کے پیروکاروں سے صاف ہو کر ہمیشہ کے لئے مسلم ہوگیا . چینی تہذیب اور زبان کی جگہ عرب ایرانی اور مسلم کلچر تہذیب اور تمدن نے لے لی اور یوں اس علاقے کی صدیوں پرانی ہیت ہی بدل کر رہ گئی “

اس جنگ سے دوسرا بڑا فائدہ مسلمانوں کو یہ ہوا کہ کاغذ بنانے کا راز مسلمانوں کے ہاتھ لگ گیا. کاغذ کی صنعت پر چینیوں کی اجارہ داری سات سو سال سے قائمُ تھی . یوں تو چینی سو سال قبل مسیح سے ہی درخت کی چھال سے کاغذ بنانے کے فن سے واقف تھے جسے ہمپ Hemp paper کہتے ہیں . لیکن یہ کائی لن Cai Lun تھا جس نے ھان Han بادشاہوں کے دور میں 105 ء میں کاغذ کی موجودہ ہیت دریافت کی اور پھر کاغذ بنانے کے فن کو ایک باقائدہ صنعت کا درجہ دیا .یہ وہی کائی لن ہے جسے مائیکل ہارٹ نے اپنی مشہور اور معرکتہ آراء کتاب “ دی ہنڈرڈ The Hundred “ کے پہلے ایڈیشن میں رسول اکرم صلعم اور نیوٹن کے بعد تیسرے نمبر پر جگہ دی. اس کے بعد سے کاغذ بنانے کا فن ایک سٹیٹ سکیرٹ State Secret کی حیثیت اختیار کر گیا اور صرف چند لوگ ہی اس راز سے واقف ہوتے اور یہ نسل در نسل منتقل ہوتا.

اس طرح چینیوں نے سات سو سال تک اس صنعت پر اجارہ داری قائم رکھی کہ وہ کا غذ بناتے اور ساری دنیا کو منہ مانگے داموں بیچتے لیکن اسے بنانے کی ترکیب صرف چند خاص لوگ ہی جانتے ان لوگوں کو چینی ریاست میں بہت خصوصی اور اعلی ترین مقام حاصل ہوتا اور ان کی ہر طرح سے حفاظت کی جاتی. جنگ طلاس میں گرفتار ہونے والے قیدیوں میں دو قیدی ایسے بھی شامل تھے جو کاغذ بنانے کا فن جانتے تھے انہوں نے اپنی رہائی اور جان بخشی کے عوض یہ راز مسلمانوں کے حوالے کر دیا . اور یوں یہ ٹیکنالوجی مسلمانوں میں منتقل ہوگئی جنہوں نے اس میں مزید جدت پیدا کی اور بڑے کاروباری پیمانے پر اس کی تیاری شروع کردی. کاغذ بنانے کا پہلا کارخانہ سمرقند میں لگا اور دوسرا بغداد میں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے 794 ء تک دمشق قاہرہ قرطبہ بخارا تاشقند غرض ہر بڑے اسلامی شہر میں اس کے کارخانے لگ گئے. یہاں سے یہ صنعت سپین پہنچی اور پھر وہاں سے اہل یورپ اور باقی دنیا تک کاغذ کی اس بڑے پیمانے پر پیداوار نے کاغذ کو اتنا سستا کر دیا کہ وہ چیز جو پہلے صرف امراء اور بادشاہوں کو میسر تھی .

اب ایک عام آدمی کی پہنچ میں بھی آگئی جس سے اسلامی دنیا میں ایک انقلاب برپا ہوگیا دنیا کی ہر قابل ذکر کتاب کا عربی اور فارسی میں ترجمہ ہوا . بغداد سمرقند بخارا تاشقند دمشق قاہرہ اور قرطبہ علم و حکمت کے مرکز بن گئے ان شہروں کی لائبریریاں کتابوں سے اٹ گئیں . ساری دنیا سے علم کے متلاشی ان شہروں کا رخ کرنے لگے. ابن خلدون نے لکھا ہے کہ ،

“صرف بغداد شہر میں 36 پبلک لائبریریاں تھیں اس کے علاوہ ہر امیر شخص کی اپنی ذاتی لائبریری تھی ان لائبریریوں میں اتنی کتابیں موجود تھیں کہ ان کی تعداد کروڑں میں تھی ھارون الرشید کی قائم کردہ لائبریری “دارلحکمتہ “ دنیا کی سب سے بڑی پبلک لائبریری تھی جس میں کتابوں اور مخطوطوں کی تعداد دس لاکھ سے زیادہ تھی ”

ابن بطوطہ کی یاد دا شتوں کے مطابق دنیا کی سب سے زیادہ کتابیں بغداد میں تھیں . جب 1258ء میں ہلاکو خان نے بغداد تباہ کیا تو اس نے وہ ساری کتابیں دریائے دجلہ میں پھنکوا دیں جن کی سیاہی سے مہینوں دریا کا پانی کالا رہا. منگولوں نے ان کتابوں کی جلدوں میں استعمال ہونے والے نفیس چمڑے سے جوتے بنوائے اور لائبریریوں کی عمارات کو نظر آتش کردیا. Gibbs H A R نے اپنی کتاب “The Arab Conquests in Central Asia “ میں لکھا کہ

“طلاس کی جنگ نہ ہوتی تو دنیا وہ نہ ہوتی جو آج ہے “

Everett Jenkinsاپنی کتاب “The Muslim Diaspora”میں کہتا ہے

“آج طلاس کی جنگ سے کوئی واقف نہیں یہاں تک کہ دریائے طلاس کے کنارے اس مقام کا نشان بھی نہیں ملتا جہاں یہ جنگ لڑی گئی. لیکن اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یہ ایک بڑی فیصلہ کن اور تاریخ ساز جنگ تھی . جس نے صرف دنیا کا جغرافیائی نقشہ ہی نہیں بدلا بلکہ علم و ادب اور سائنس کے میدان میں بھی انقلاب برپا کر دیا ، آج دنیا کی ترقی طلاس کی جنگ کی مرہون منت ہے “

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment