ہوم << علم کیمیا اور مسلمانوں کے زوال کا درد ناک المیہ – عرفان علی عزیز
600x314

علم کیمیا اور مسلمانوں کے زوال کا درد ناک المیہ – عرفان علی عزیز

پرانے زمانے میں یہ خیال قریب قریب ساری دنیا میں پھیلا ہوا تھا کہ دھاتوں کی ماہیت کیمیاوی عمل کے ذریعہ تبدیل کی جا سکتی ہے اور کم قیمت دھاتوں سے سونا بنایا جا سکتا ہے ۔ انسائیکلو پیڈیا آف اسلام میں جابر بن حیان کے متعلق لکھا ہے کہ وہ دھاتوں کو ذی روح (Animistic) سمجھتا تھا ۔ اس خیال میں جاندار چیزوں کی طرح دھاتوں کا بھی نشو و نما ہوتا ہے مگر یہ نشو و نما ہزاروں سال میں مکمل ہوتا ہے ۔

سیسہ سونے کی نابالیدہ مشکل ہے ۔ ہزاروں سال میں نشوونماکے مدارج طے کرکے وہ سونا بن جاتا ہے ۔ کیمیاوی عمل نشو و نما کی اس مدت دراز کو مختصر کر سکتا ہے ۔ چنانچہ کیمیا سازی کا اصل مقصد یہ تھا کہ وہ دھاتوں کے نشوونما کی طویل مدت کو مختصر کر کے انہیں سونے میں منتقل کر دے۔ بیلجیئم سائنس دان اور مورخ جارج سارٹن لکھتا ہے کہ سب سے پہلے جس یونانی حکیم نے کیمیا گری پر کتاب لکھی اس کا نام ڈیموکریٹس (Democritos) تھا ۔ اس کے بارے میں یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کس عہد میں ہوا ہے ۔ ایک گمان یہ ہے کہ وہ پہلی صدی عیسوی میں پیدا ہوا اور دوسرا یہ کہ وہ تیسری صدی میں موجود تھا ۔ جو کتابیں اس سے منسوب ہیں وہ یونانی زبان میں نہیں ملتیں مگر سریانی میں دستیاب ہیں۔تیسری صدی عیسوی کے آخر میں چوتھی صدی عیسوی کے شروع میں زوسیموس zosimos نے کیمیا گری پر کتابیں لکھیں ، وہ پینوپولس panoplies کا باشندہ تھا جو شمالی مصر کا ایک شہر تھا ۔قریب قریب اسی زمانے میں مصر کے شہر تھیبز Thebes میں اولم پیوڈورس Oympiodoros گزرا ہے مورخ تھا مگر اس نے اپنی تصنیف میں کیمیاگری سے بھی بحث کی ہے۔

ارسطو یونانی علوم کا باوا سمجھا جاتا ہے اس میں شک نہیں کہ اس کا علم ہمہ گیر تھا۔اور اس نے انسانی معلومات میں گراں قدر اضافہ کیا۔ چھان بین کے صبر آزما طریقے ، مثبت معلومات کی فراہمی ، سائنس کی دقیقہ سنجی اور تفصیلی و طویل مشاہدوں اور تجربوں پر مبنی تحقیق یونانیوں کے مزاج سے ہم آہنگ نہ تھی ۔ تحقیقات کی نئی روح ، دریافت کے نئے انداز فکر ، تجربہ مشاہدہ اور پیائش کے نئے طریق کار یعنی وہ چیزیں جو سائنس کے لوازم ہیں ان سے عربوں نے یورپ کو متعارف کرایا ۔ یونانی نظریوں اور تعمیمی کلیوں (Generalization) کے دلدادہ تھے اور حقائق کی جستجو میں لا پروائی برتتے تھے ۔ اس کے برخلاف عرب محققین ٹھوس حقائق پر اپنی توجہ مرکوز کرتے اور اپنے علم کو صحیح اوزانی ترتیب دینے میں سرگرمی دکھاتے ۔کیمیا سازی مسلمانوں کو یونانیوں اور مصریوں سے ملی تھی ۔ عربوں نے یونانیوں کے اخذ کردہ نتائج کو اپنی تحقیق کے دوران عارضی نظریوں کے طور پر استعمال کیا ۔ یہ علم ابتدا میں مصر کےملمع سازوں اور خام دھاتوں کو صاف کرنے والوں کے ہاتھ میں تھا ۔ ملمع ساز مختلف دھاتوں کی آمیزش سے مختلف مرکبات بناتے اور ان پر ایسا رنگ و روغن چڑھاتے کہ وہ سونے کے مشابہ ہوتے ۔

ان مرکبات کی طمع سازی کی ترکیبوں کا راز کلیسا کے ملازمان تک محدود رہتا تھا اور ان ترکیبوں کو ضبط تحریر میں لانے کی غرض سے نہایت پر اسرار علامتیں ایجاد کی گئی تھیں ۔ تاکہ لوگ ان ترکیبوں کو معلوم نہ کر سکیں ۔ یہی پر اسرار علم جب مسلمانوں تک پہنچا تو انہوں نے ان ترکیوں کو تجربات کی کسوٹی پر پرکھا اور تجربات کے مختلف طریقے ایجاد کیے جن میں تقطیر (Distillation) ، تصعید (Sublimation) اور تصنیف (Filtration) بالخصوص قابل ذکر ہیں۔انہوں نے اپنی تحقیق کو راز بنا کر رکھنے کے بجائے دنیا کے سامنے پیش کیا ۔ یہ بات اس علم کو پھیلانے اور اس میں اضافے کرنے کا باعث ہوئی ۔ انہوں نے بہت سی کیمیاوی چیزیں مثلاً الکحل ، القلی ، کئی تیزاب اور کئی چیزوں کے نمک دریافت کیے ۔ اس طرح جدید علم کیمیا اور طبیعی تحقیق کی بنیاد پڑی ۔قرون وسطی کی سائنس نے کیمیا گری کو وہ تجرباتی طریقہ تحقیق عطا کیا جو زمانہ حال کی ترقی کا سب سے عظیم اور قابل فخر آلہ کار ہے ۔ جب جابر ابن حیان کے پانچ سو سال بعد راجر بیکن نے اس طریقہ تحقیق سے یورپ کو روشناس کر کے علم کی روشنی پھیلائی تو دراصل یہ روشنی اسپین کے مسلمانوں کی رہین منت تھی ۔ خود اسپین میں یہ روشنی مشرقی اسلام سے آتی تھی۔

علم کیمیا (Chemistry) در اصل مسلمانوں کی ایجاد ہے ۔ ان سے پہلے یونانی مبہم مفروضوں کو لیے بیٹھے تھے ۔ یہ مسلمان ہی تھے جنہوں نے پیہم تجربات و مشاہدات سے کام لے کر اشیاء کی ماہیت کا صحیح ریکارڈ مرتب کیا۔ انہوں نے الانیبق ایجاد کیا۔اور یہ لفظ یورپ نے بآسانی اور بخوبی قبول کیا۔مسلمانوں نے اپنی بےشمار اشیاء کا تجربہ کیا القلی Alkali اور تیزابAcidکا فرق نمایاں کیا۔ ان عناصر کے باہمی میلان پر سیر حاصل تحقیق کی۔ابوموسی جابر بن حیان الازوی الطرطوسی عربوں کا سب سے بڑا سائنس دانوں میں شمار ہوتا ہے ۔ جابر بن حیان بلاشبہ حضرت امام جعفر صادق کے شاگرد تھے۔ امام جعفر صادق خود سائنس دان تھے۔ جابر نے علم کیمیا پر تحقیقی کام کیا ابن خلکان کے مطابق جابر علم کیما کے موجد اور بانی ہیں۔عطارد بن محمد حاسب (الکاتب) نویں صدی میں ہوا ہے اس نے جواہرات پر ایک رسالہ Lapidary لکھا جس میں قیمتی دھاتوں پتھروں کی خاصیتوں کو واضح کیا۔بدقسمتی یہ رسالہ آج تک شائع نہیں ہوا۔ اسکا نام کتاب الجواہر ہے۔محمد بن زکریا الرازی بھی سائنس دان تھے یہ صرف طبیب نہیں تھے۔ بلکہ کیمیا اور طبیعیات پر کافی ماہر تھے .

ابو عثمان عمر الحاحظ بھی بڑے سائنس دانوں میں شمار ہوتے ہیں ۔انہوں نے علم الحیوان سے گہری دلچسپی رکھنے کے ساتھ ساتھ کیمیائی تجربات پر کھل کر لکھا اور تجربات کرتا تھا۔ گوبر سے امونیا اور سالمیک بنا لیتا تھا۔ثوبان ذوالنون اسلامی تصوف کا بانی بھی تصور کیا جاتا ہے ۔صوفی ہونے کے ساتھ ساتھ کیمیا دان بھی تھے۔ابو علی الحسن بن سینا اور محمد الخوارزمی دونوں علم کیمیا کے ماہر سائنس دان تھے۔الحسن الرماح تیرہویں صدی کا بڑا سائنس دان تھا۔ وہ شام کا رہنے والا تھا۔اس نے شورے saltpeter کو صاف کرنے کے طریقے دریافت کیے۔ عزالدین علی بن بدمر بن الجلاکی، کی کیمیا پر بیس تصانیف منسوب ہیں۔ان چند سائنس دانوں کا ذکر کر کے صرف بتانا مقصود یہ ہے کہ مسلم امہ کا زوال آیا نہیں لایا گیا تھا۔ آج ہم اپنے بچوں کو مسلم سائنس دانوں کے بارے گفتگو کرتے ہیں تو ان کے چہروں پر ناگواری اس بات کی ہوتی ہے کہ یہ کارنامہ تو انگریز فلاں نے سر انجام دیا تھا وہ ماننے کو ہی تیار نہیں ہوتے کہ مسلمان وہ بھی سائنس دان ۔

یہ دوہرا المیہ ہے جو ہماری درسی کتب سے ان بچوں کو ملتا ہے۔حالانکہ کہ ثابت ہے ارسطو کے زیادہ تر نظریات کیمیا کے بارے میں غلط ہی ثابت ہوئےہیں مسلمان سائنسدانوں کا ایک بھی تجربہ اور نظریہ انچ تک فرق نہیں دیتا ۔ہمارے مقتدر حلقے اس بات زور دیں اور عہد ماضی کے مسلم سائنسدانوں کو صرف نظر کرنے کی بجائے اجاگر کریں۔ تہذیب تو آخر اپنی ہی اچھی ہے ۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

عرفان علی عزیز

عرفان علی عزیز بہاولپور سے تعلق رکھتے ہیں۔ افسانہ و ناول نگاری اور شاعری سے شغف ہے۔ ترجمہ نگاری میں مہارت رکھتے ہیں۔ مختلف رسائل و جرائد میں افسانے اور جاسوسی کہانیاں ناول شائع ہوتے ہیں۔ سیرت سید الانبیاء ﷺ پر سید البشر خیر البشر، انوکھا پتھر، ستارہ داؤدی کی تلاش نامی کتب شائع ہو چکی ہیں۔ شاعری پر مشتمل کتاب زیرطبع ہے

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment