کراچی کی ایک مصروف شاہراہ سے ذرا ہٹ کر قائم اٹکو کمپنی برائے ادویات کی عمارت دن رات انسانی ضرورتوں کے نام پر مصروفِ کار رہتی تھی۔ کہیں مشینوں کی مسلسل گونج سنائی دیتی، کہیں کیمیائی مادّوں کی مخصوص بُو فضا میں پھیلی رہتی اور کہیں ملازمین اپنے اپنے کام میں یوں مگن دکھائی دیتے جیسے زندگی کی ساری رونق اسی عمارت میں سمٹ آئی ہو۔
کمپنی کے در و دیوار پر ترقی، خدمت اور معیار کے دعوے درج تھے، مگر ان دعوؤں کے پیچھے انسان کی قدر و قیمت کیا تھی، یہ سوال ابھی تک کسی نے نہیں اٹھایا تھا۔ اسی کمپنی میں حفیظ نام کا ایک محنتی نوجوان ملازمت کرتا تھا۔ اس نے میٹرک اپنے گاؤں کے گورنمنٹ ہائی سکول شمس آباد سے کیا تھا اور انٹرمیڈیٹ کا امتحان کراچی سے پاس کیا تھا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس نے روزگار کی تلاش میں اِدھر اُدھر ہاتھ پاؤں مارے اور بالآخر اٹکو کمپنی برائے ادویات میں ملازمت اختیار کر لی۔ وہ سادہ طبیعت، فرض شناس اور ذمہ دار نوجوان تھا۔ اپنے کام کو محض ملازمت نہیں، امانت سمجھتا تھا۔ اس کے نزدیک تنخواہ لینا صرف حق نہیں بلکہ اس حق کے بدلے اپنے فرائض ادا کرنا بھی ضروری تھا۔
حفیظ اکثر کہا کرتا تھا، ’’انسان کی اصل پہچان اُس وقت ہوتی ہے جب اسے کسی کی نگرانی کا خوف نہ ہو، مگر وہ پھر بھی اپنی ذمہ داری پوری کرے۔‘‘
اس کے ساتھی اس کی بات سن کر مسکرا دیتے۔ بعض اسے سادہ لوح کہتے اور بعض اس کی فرض شناسی کو ضرورت سے زیادہ نیک نامی کمانے کا شوق سمجھتے۔ حفیظ ان باتوں پر توجہ نہ دیتا۔ وہ جانتا تھا کہ ضمیر کی عدالت میں کامیابی کے لیے لوگوں کی تعریف ضروری نہیں ہوتی۔وقت گزرتا رہا۔ حفیظ کی ملازمت کو کئی برس بیت گئے۔ اس نے اپنی محنت سے نہ صرف اپنے لیے روزگار کا بندوبست کیا بلکہ اپنے گھر والوں کی اُمیدوں کا سہارا بھی بنا رہا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ ایک دن یہی ملازمت اس کی زندگی کا سب سے کڑا امتحان بن جائے گی اور اس کی فرض شناسی اُسے ایک ایسی اذیت ناک موت کے قریب لے جائے گی جس کا تصوّر بھی اُس نے کبھی نہ کیا تھا۔
ایک روز کمپنی کے ایک حصّے میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔
’’آگ لگ گئی! آگ لگ گئی!‘‘
کسی ملازم کی چیخ بلند ہوئی تو دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت میں کھلبلی مچ گئی۔ مشینوں کی آوازیں چیخ و پکار میں دب گئیں۔ ملازمین جان بچانے کے لیے دروازوں کی طرف لپکے۔ کسی کو اپنی جان عزیز تھی، کسی کو اپنے گھر والوں کا خیال ستا رہا تھا اور کسی کے ذہن میں صرف یہ سوال تھا کہ وہ اس آفت سے کیسے بچ نکلے۔چند ہی لمحوں میں دھوئیں نے فضا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ ایک حصے سے دوسرے حصے کی طرف بڑھنے لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے کمپنی کا ماحول خوف ناک صورت اختیار کر گیا۔ جو عمارت چند لمحے پہلے رزق کمانے کا ذریعہ تھی، وہ اب زندگی نگلنے والے عفریت کی شکل اختیار کر چکی تھی۔حفیظ بھی دوسرے ملازمین کے ساتھ باہر نکل آیا۔ اس کی سانس پھولی ہوئی تھی اور آنکھوں میں دھوئیں کی جلن تھی۔ وہ ابھی اپنی سانسیں بحال کرنے کی کوشش ہی کر رہا تھا کہ اچانک اس کے ذہن میں ایک خیال بجلی کی طرح کوندا۔
’’ساری کمپنی میں بجلی تو ابھی تک چل رہی ہے! اگر آگ بجلی کے نظام تک پہنچ گئی تو پوری عمارت جل کر راکھ ہو سکتی ہے۔‘‘
اس نے ایک نظر عمارت کی طرف دیکھا۔ دھواں مسلسل اٹھ رہا تھا۔ شعلے پھیلتے جا رہے تھے۔ پھر اس نے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا، جو محفوظ مقام پر کھڑے اپنی جان بچ جانے پر مطمئن تھے۔
حفیظ نے بلند آواز میں کہا، ’’بجلی کا مین سوئچ بند کرنا ضروری ہے، ورنہ آگ مزید پھیل سکتی ہے!‘‘
کسی نے اس کا بازو پکڑنے کی کوشش نہیں کی۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ اندر جانا خطرناک ہے۔ سب اپنی اپنی جان بچانے میں مصروف تھے۔ حفیظ نے ایک لمحے کے لیے توقف کیا، پھر دل ہی دل میں بولا، ’’اگر میری ذرا سی کوشش سے اتنے لوگوں کا روزگار، کمپنی کی عمارت اور دوسرے ملازمین کی جانیں محفوظ ہو سکتی ہیں تو مجھے اپنا فرض ادا کرنا چاہیے۔‘‘
یہ سوچ کر وہ دوبارہ آگ اور دھوئیں سے بھری عمارت میں داخل ہو گیا۔راستہ آسان نہ تھا۔ دھوئیں کی دبیز تہیں آنکھوں کو چندھیا رہی تھیں اور شعلوں کی تپش جسم کو جھلسا رہی تھی۔ اس نے بڑی مشکل سے بجلی کے مرکزی سوئچ تک رسائی حاصل کی اور اسے بند کر دیا۔بجلی بند کرنے کے بعد وہ واپس پلٹا تو راستے میں آگ پہلے سے زیادہ بھڑک چکی تھی۔ ہر طرف دھواں، تپش اور خوف ناک شعلے تھے۔ حفیظ نے ہمت نہ ہاری۔ وہ آگ کے درمیان سے راستہ بناتا ہوا باہر کی طرف بڑھا۔ بالآخر وہ عمارت سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا، مگر اس کی قمیص اور دوسرے کپڑوں کو آگ لگ چکی تھی۔ کیمیائی دھوئیں نے اس کے حواس پر بھی گہرا اثر ڈالا تھا۔وہ چند قدم باہر آیا، لڑکھڑایا اور منہ کے بل زمین پر گر پڑا۔ پھر اس کے جسم میں حرکت نہ رہی۔ وہ بے ہوش ہو چکا تھا۔آگ بالآخر خود ہی بجھ گئی، لیکن اس وقت تک حفیظ کی کمر اور جسم کے دوسرے حصے بری طرح جھلس چکے تھے۔
اس منظر میں ایک عجیب تضاد تھا۔ ایک طرف وہ نوجوان پڑا تھا جس نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر دوسروں کے روزگار اور کمپنی کے اثاثوں کو بچانے کی کوشش کی تھی، اور دوسری طرف وہ لوگ کھڑے تھے جن کی زندگیاں اور ملازمتیں اسی عمارت سے وابستہ تھیں۔ مگر افسوس! کسی کو یہ خیال نہ آیا کہ حفیظ باہر آیا بھی ہے یا نہیں، آیا ہے تو کہاں پڑا ہے اور کس حال میں ہے۔لوگوں کی آنکھیں کھلی تھیں، مگر احساس سو چکا تھا۔اگر کسی ساتھی نے چند لمحے نکال کر حفیظ کو تلاش کر لیا ہوتا، اگر کسی نے اس کے جسم پر لگی آگ بجھانے اور اسے بروقت طبی امداد پہنچانے کی کوشش کی ہوتی، تو شاید اس کی تکلیف کم ہو سکتی تھی۔ لیکن جب انسان کی نظر میں اپنا مفاد سب سے بڑا ہو جائے تو دوسروں کی جان بھی اسے ایک معمولی واقعہ دکھائی دینے لگتی ہے۔کافی دیر بعد فائر بریگیڈ کا عملہ پہنچا اور آگ پر قابو پایا۔ حفیظ کو بھی وہاں سے اٹھایا گیا اور سول ہسپتال کراچی منتقل کر دیا گیا۔ہسپتال میں اس کا علاج شروع ہوا۔ کمپنی کا ایک اعلیٰ افسر بھی وہاں پہنچ گیا۔ ابتدائی معائنے کے بعد علاج کرنے والے ڈاکٹر نے افسر سے کہا،
’’یہاں مریض کا علاج جاری تو ہے، لیکن میرے خیال میں اس کی حالت کے پیشِ نظر سہولتیں ناکافی ہیں۔ آپ اسے ناظم آباد کے اُس نجی ہسپتال میں منتقل کر دیں جہاں میں خود بھی کام کرتا ہوں۔ وہاں اس کے علاج کے بہتر انتظامات ہو سکتے ہیں۔‘‘
یہ ہسپتال ایک ریٹائرڈ جنرل کی ملکیت تھا۔ کمپنی کے افسر نے ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کیا اور حفیظ کو وہاں داخل کرا دیا گیا۔حفیظ کا علاج شروع ہو گیا۔ کمپنی کا مالک ایک خدا ترس اور اللہ والا شخص سمجھا جاتا تھا۔ اس نے صاف الفاظ میں کہا،
’’اس نوجوان نے میری کمپنی کو بچانے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالی ہے۔ اب اس کے علاج میں پیسوں کی کمی نہیں آنے دوں گا۔ اس نے اپنا فرض ادا کیا ہے، اب میری باری ہے کہ میں اس کے لیے جو کچھ کر سکتا ہوں، کروں۔‘‘
اس کے حکم پر ہسپتال کے اخراجات ادا کیے جانے لگے۔ روزانہ ہزاروں روپے خرچ ہوتے، دوائیں خریدی جاتیں اور علاج کے لیے درکار سامان فراہم کیا جاتا۔ یہاں تک کہ جراحی کے آلات بھی خرید کر دیے گئے۔بظاہر سب کچھ ٹھیک دکھائی دیتا تھا۔ مالک رقم ادا کر رہا تھا، ہسپتال علاج کا دعویٰ کر رہا تھا اور کمپنی کا افسر اپنی ذمہ داری پوری ہونے کا اطمینان لیے بیٹھا تھا۔ مگر اس سارے انتظام میں ایک چیز کی شدید کمی تھی، اور وہ تھی مریض کے ساتھ حقیقی ہمدردی، مسلسل نگرانی اور بروقت علاج۔ہسپتال کے نچلے عملے کی لاپروائی اور ادویات کی مبینہ چوری کا سلسلہ جاری رہا۔ مریض کے لیے آنے والی چیزیں اپنی جگہ پہنچنے کے بجائے کہیں اور چلی جاتیں۔ کاغذوں پر علاج کی تفصیلات بڑھتی رہیں، اخراجات کے اعداد و شمار میں اضافہ ہوتا رہا، لیکن حفیظ کے زخم گہرے ہوتے گئے۔یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اس ہسپتال میں ہر چیز کی قیمت مقرر تھی، سوائے انسانی جان کے۔ بستر کا کرایہ، دواؤں کا خرچ، آلات کی قیمت اور ہر چھوٹی بڑی سہولت کا حساب موجود تھا، مگر مریض کی تکلیف کا حساب کسی رجسٹر میں درج نہ تھا۔
حفیظ کبھی کراہتا، کبھی درد سے بے چین ہو کر کروٹ بدلنے کی کوشش کرتا اور کبھی بے بسی سے چھت کو تکنے لگتا۔ اس کی کمر کے زخم اسے مسلسل اذیت دیتے تھے۔ جسم جلنے کے بعد مریض کو خصوصی دیکھ بھال، صفائی، مناسب درجۂ حرارت، متاثرہ حصوں کو مزید نقصان سے بچانے اور مسلسل طبی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر حفیظ کے معاملے میں وہ توجہ دکھائی نہ دی جس کی اس کی حالت متقاضی تھی۔وہ اپنے درد میں کبھی ماں کو یاد کرتا، کبھی گاؤں شمس آباد کی گلیوں کو اور کبھی اپنے گھر والوں کے چہروں کو۔ شاید اس کے ذہن میں یہ خیال بھی آتا ہو کہ وہ تو دوسروں کو بچانے کے لیے آگ میں کودا تھا، پھر اس کی اپنی زندگی کو بچانے کے لیے کوئی پوری قوت سے کیوں نہیں لڑ رہا؟
وقت گزرتا گیا اور زخم خراب ہوتے گئے۔ کمپنی کا مالک اخراجات ادا کرتا رہا۔ بل بڑھتے رہے، مگر مریض کی حالت میں خاطر خواہ بہتری نہ آئی۔ ہسپتال کے کمرے میں زندگی اور موت کے درمیان ایک خاموش کشمکش جاری تھی۔ایک روز حفیظ کے بھائی نے کمپنی کے افسر سے کہا،
’’ہمیں محسوس ہو رہا ہے کہ یہاں میرے بھائی کا علاج درست انداز میں نہیں ہو رہا۔ اس کی حالت روز بروز بگڑ رہی ہے۔ براہِ کرم اسے آغا خان ہسپتال لے چلیں، تاکہ کسی دوسرے مستند طبی مرکز میں اس کا معائنہ ہو سکے۔ ابھی امید باقی ہے، شاید بروقت بہتر علاج سے اس کی جان بچ جائے۔‘‘
افسر نے اس کی بات سنی، مگر اسے وہ اہمیت نہ دی جس کا تقاضا صورتِ حال کر رہی تھی۔ حفیظ کو اسی ہسپتال میں رکھا گیا۔ بھائی کی بے چینی، خاندان کی امید اور مریض کی بگڑتی حالت، سب گویا انتظامی مصلحتوں کے شور میں دب کر رہ گئے. کسی نے یہ سوچنے کی زحمت نہ کی کہ علاج کی جگہ بدلنے کا فیصلہ صرف اخراجات، تعلقات یا سہولت کی بنیاد پر نہیں، مریض کی ضرورت اور اس کی زندگی کو سامنے رکھ کر کیا جانا چاہیے۔
حفیظ کو ہسپتال میں داخل ہوئے کئی دن گزر چکے تھے۔ وہ تقریباً اڑتیس دن تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہا۔ ہر دن اس کے لیے ایک نئی اذیت لے کر آتا۔ جسم کے زخم گہرے ہوتے جاتے، درد بڑھتا جاتا اور صحت یابی کی امید مدھم پڑتی جاتی۔موت سے صرف دو دن پہلے سرجن نے اس کی ٹانگوں سے جلد لے کر متاثرہ حصوں پر لگانے کا آپریشن کیا۔ مگر اب شاید بہت دیر ہو چکی تھی۔ زخم اس حد تک خراب ہو گئے تھے کہ علاج کی کامیابی کے امکانات کمزور پڑ چکے تھے۔ بروقت طبی فیصلے اور مسلسل مناسب نگہداشت کی ضرورت پہلے ہی محسوس کی جانی چاہیے تھی۔حفیظ کے کمرے میں دواؤں کی بُو، جراثیم کُش محلول کی تیز مہک پھیلی رہتیں۔ کبھی کوئی نرس آتی، کبھی کوئی ملازم دکھائی دیتا، کبھی ڈاکٹر معائنے کے لیے پہنچ جاتا۔ مگر ان سب آمد و رفت کے درمیان حفیظ کی تکلیف اپنی جگہ قائم رہتی۔اس کے جسم پر زخم تھے، لیکن اس کے گرد قائم نظام کے ضمیر پر بھی زخم تھے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ حفیظ کے زخم دکھائی دیتے تھے اور دوسروں کے زخموں پر مفاد کی پٹیاں بندھی ہوئی تھیں۔بالآخر وہ دن آ پہنچا جب حفیظ کی زندگی کی ڈور ٹوٹ گئی۔
تقریباً اڑتیس دن کی اذیت ناک کشمکش کے بعد وہ دنیا سے رخصت ہو گیا۔ اس کی آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہو گئیں، مگر اس کی موت نے بہت سے سوال کھڑے کر دیے۔وہ نوجوان جو دوسروں کو بچانے کے لیے آگ میں داخل ہوا تھا، خود زندگی بچانے کے لیے دوسروں کی توجہ کا محتاج رہا۔ اس نے بجلی کا مین سوئچ بند کر کے کمپنی کو بڑے نقصان سے بچانے کی کوشش کی تھی، مگر اس کی اپنی زندگی کو بچانے کے لیے وقت پر وہ اہتمام نہ ہو سکا جس کی ضرورت تھی۔حفیظ کی موت کی خبر جب اس کے گاؤں شمس آباد پہنچی تو اس کے گھر میں کہرام مچ گیا۔ جن ہاتھوں نے اس کی کامیابی کے لیے دعائیں مانگی تھیں، وہی ہاتھ اب اس کی جدائی میں اٹھ رہے تھے۔ جن آنکھوں نے اس کی واپسی کے خواب دیکھے تھے، وہ آنکھیں اب ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے بیٹے اور بھائی کے غم میں ڈوب گئی تھیں۔گھر والوں کے لیے یہ محض ایک موت نہ تھی؛ یہ ان امیدوں کا جنازہ تھا جو حفیظ کے ساتھ وابستہ تھیں۔ کسی کے لیے وہ بیٹا تھا، کسی کے لیے بھائی، کسی کے لیے سہارا اور کسی کے لیے روشن مستقبل کی ضمانت۔
مگر ایک نوجوان کی پوری زندگی، اس کی محبتیں، اس کے خواب اور اس کے گھر والوں کی امیدیں، سب ایک ایسے انجام سے دوچار ہو گئے جس کے اسباب پر سنجیدگی سے غور کرنا ضروری تھا۔حفیظ کے جانے کے بعد کمپنی کی عمارت دوبارہ آباد ہو گئی۔ کام پھر شروع ہو گیا۔ مشینیں دوبارہ چلنے لگیں، ملازمین اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو گئے اور کاروبار کا پہیہ معمول کے مطابق گھومنے لگا۔ بظاہر زندگی اپنی پرانی ڈگر پر واپس آ گئی تھی۔لیکن سوال یہ تھا کہ کیا سب کچھ واقعی معمول پر آ گیا تھا؟
کیا وہ مین سوئچ جسے حفیظ نے بند کیا تھا، صرف بجلی کا سوئچ تھا؟
یا وہ انسانی ضمیر کا بھی ایک سوئچ تھا، جسے بند کر کے لوگ اپنی ذمہ داریوں سے بے نیاز ہو گئے تھے؟
کیا ہسپتال کے بلوں میں اضافہ علاج کی کامیابی کا ثبوت تھا؟
کیا ادویات کی فراہمی کا اندراج اس بات کی ضمانت تھا کہ مریض تک وہ ادویات پہنچ بھی رہی تھیں؟
کیا کسی مالک کا اخراجات ادا کرنا کافی تھا، اگر اس کے ملازم کی مناسب دیکھ بھال نہ ہو رہی ہو؟
اور کیا کسی افسر کی ذمہ داری صرف ہدایات جاری کرنے تک محدود تھی، یا اسے یہ دیکھنا بھی لازم تھا کہ ان ہدایات پر عمل ہو رہا ہے یا نہیں؟
یہ سوال حفیظ کے ساتھ دفن نہیں ہوئے تھے۔ وہ معاشرے کے در و دیوار پر لکھے رہ گئے تھے۔اس واقعے میں کمپنی کا مالک زیادہ ست زیادہ اخراجات برداشت کرنے اور حفیظ کی خدمت کرنے کا عزم ظاہر کر رہا تھا۔ لیکن محض رقم خرچ کر دینا ہر ذمہ داری سے بری ہونے کے لیے کافی نہیں۔ اسی طرح ہسپتال کی ملکیت، ڈاکٹر کی قابلیت، نرسنگ عملے کی موجودگی اور دواؤں کی خریداری بھی اس وقت تک بے معنی ہو سکتی ہے جب تک ان سب کا مقصد مریض کی جان بچانا اور اس کی تکلیف کم کرنا نہ ہو۔حفیظ کی کہانی ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ کسی ایک شخص کی نیک نیتی پورے نظام کی خرابیوں کو خود بخود ختم نہیں کر سکتی۔ جب نگرانی کمزور ہو، احتساب نہ ہو، ادویات کی چوری یا بدانتظامی کے الزامات کی تحقیق نہ کی جائے اور مریض کے اہلِ خانہ کی تشویش کو نظر انداز کر دیا جائے تو رقم کی فراوانی بھی علاج کی کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتی۔
معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ یہاں بعض لوگ اپنے مفاد کے تحفظ کے لیے دوسروں کی تکلیف کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ کہیں رشوت ضمیر کو خاموش کر دیتی ہے، کہیں کمیشن دیانت داری کو نگل جاتا ہے، کہیں غبن امانت میں خیانت کا راستہ کھول دیتا ہے اور کہیں تعلقات کی حفاظت انسان کی جان سے زیادہ اہم سمجھی جانے لگتی ہے۔یہ سب کچھ ایک دن میں نہیں ہوتا۔ پہلے انسان چھوٹی سی بے ایمانی کو معمولی سمجھ کر قبول کرتا ہے، پھر معمولی غفلت پر خاموش رہتا ہے، پھر دوسروں کے حق پر سمجھوتا کرتا ہے اور آخرکار اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں اسے اپنی ذات کے سوا کسی کی تکلیف دکھائی نہیں دیتی۔حفیظ کی زندگی کا المیہ صرف یہ نہیں تھا کہ وہ آگ میں جھلس گیا۔ اصل المیہ یہ تھا کہ اس کی فرض شناسی کے جواب میں معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری پوری طرح بیدار نہ ہو سکی۔وہ آگ سے گزر کر باہر تو آ گیا تھا، مگر بے حسی کی اس آگ سے نہ بچ سکا جو کبھی کمپنی کے ملازمین کے رویّوں میں دکھائی دی، کبھی انتظامی غفلت میں اور کبھی ہسپتال کی ناقص نگہداشت کے الزامات کی صورت میں سامنے آئی۔
حفیظ کی کہانی کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ انسان کی جان کسی عمارت، مشین، رقم، عہدے یا کاروبار سے زیادہ قیمتی ہے۔ کاروبار دوبارہ شروع ہو سکتا ہے، عمارت دوبارہ تعمیر ہو سکتی ہے، مشینیں دوبارہ خریدی جا سکتی ہیں اور نقصان پورا کیا جا سکتا ہے، مگر ایک انسان کی زندگی واپس نہیں لائی جا سکتی۔کسی ملازم کی فرض شناسی کا تقاضا یہ نہیں کہ اس کی جان کو بے وقعت سمجھ لیا جائے۔ کسی مالک کی مالی معاونت کا مطلب یہ نہیں کہ نگرانی اور جواب دہی کی ضرورت ختم ہو گئی۔ کسی ڈاکٹر کی قابلیت کا دعویٰ اس وقت تک مکمل نہیں جب تک اس کے فیصلوں اور علاج کے نتائج کا جائزہ نہ لیا جائے۔ اور کسی ہسپتال کی اصل عظمت اس کی عمارت، مہنگے کمروں یا بھاری بلوں سے نہیں، بلکہ مریض کی جان بچانے کی کوشش، دیانت داری، مناسب نگہداشت اور انسانی ہمدردی سے متعین ہوتی ہے۔
آج بھی اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ حفیظ جیسے لوگ مختلف شکلوں میں ہمارے درمیان موجود ہیں۔ کوئی کارخانے میں اپنی جان خطرے میں ڈال کر دوسروں کو بچاتا ہے، کوئی سڑک پر زخمی کو ہسپتال پہنچاتا ہے، کوئی سیلاب میں پھنسے لوگوں کی مدد کرتا ہے اور کوئی اپنی معمولی آمدنی میں سے دوسروں کے لیے قربانی دیتا ہے۔ ایسے لوگوں کو صرف بہادری کے تمغوں، تعریفی اسناد یا چند رسمی جملوں کی نہیں، بلکہ عملی تعاون، تحفظ، بروقت امداد اور ذمہ دارانہ رویّوں کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر ہم واقعی حفیظ کی قربانی کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے اداروں میں انسانی جان کی قدر کو مقدم رکھنا ہو گا۔ ملازمین کے لیے محفوظ ماحول، ہنگامی حالات میں واضح طریقۂ کار، فوری طبی امداد، ہسپتالوں میں شفاف انتظام، ادویات کی نگرانی اور غفلت کے ذمہ دار افراد کا منصفانہ احتساب یقینی بنانا ہو گا۔ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ خدمت صرف پیسے خرچ کرنے کا نام نہیں، بلکہ وقت پر صحیح فیصلہ کرنے، ذمہ داری پوری کرنے، کمزور کی آواز سننے اور کسی کی زندگی بچانے کے لیے عملی قدم اٹھانے کا نام ہے۔
ورنہ خطرہ یہ ہے کہ ہم ہر حادثے کے بعد چند دن افسوس کریں گے، چند تعزیتی جملے لکھیں گے، چند تقریریں کریں گے اور پھر سب کچھ بھول کر اپنے اپنے مفادات کے پیچھے چل پڑیں گے۔حفیظ کی زندگی کا چراغ بجھ گیا، مگر اس کی کہانی ہمارے ضمیر کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ آگ کس حصے میں لگی تھی؛ سوال یہ ہے کہ ہمارے اندر احساسِ ذمہ داری کا چراغ کہاں بجھ گیا؟ سوال یہ نہیں کہ ہسپتال پر کتنے روپے خرچ ہوئے؛ سوال یہ ہے کہ ان روپوں کے باوجود ایک انسان کی جان بچانے کی کوشش میں کہاں کمی رہ گئی؟
یاد رکھیے!
جب دولت ضمیر پر غالب آ جائے، مفاد انسانیت سے بڑا ہو جائے اور عہدہ جواب دہی سے آزاد ہو جائے تو ادارے تو قائم رہتے ہیں، مگر انسانیت دم توڑنے لگتی ہے۔
حفیظ آگ سے جھلس کر مرا، لیکن اس کی موت ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ انسان کو صرف شعلے نہیں جلاتے؛ کبھی کبھی بے حسی، لالچ، غفلت اور مفاد پرستی بھی اسے موت کے منہ میں دھکیل دیتی ہے۔
کاش!
ہم حفیظ کی کہانی سے سبق سیکھیں، اس سے پہلے کہ کسی اور حفیظ کو اپنی فرض شناسی کی قیمت اپنی جان دے کر ادا کرنا پڑے۔



تبصرہ لکھیے