وہ عید کا دن تھا۔ میں کمشنر صاحب کے ساتھ سول ہسپتال میں مریضوں میں عیدی تقسیم کرنے گیا۔ میں ایک صحافی تھا، میرا کام صرف خبر لگانا تھا۔
لیکن جوں ہی ہم ایک وارڈ میں داخل ہوئے، ایک بابا جی کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ دیکھی۔ مسکراہٹ تو زندگی میں بے شمار دیکھی ہیں، لیکن یہ مسکراہٹ ان تمام سے بہت مختلف تھی۔
اس کے بعد ہم بیڈ ٹو بیڈ ہر مریض کے پاس گئے اور کمشنر صاحب نے ان کو تحفے دیے، عید مبارک کہا، ان کا نام پوچھا، حال احوال لیا اور آگے گزرتے گئے۔
لیکن اس بابا جی سے جب نام پوچھا گیا تو انہوں نے پھر اسی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “گائے۔” جس پر تمام مسکرائے اور بعض نے تو قہقہہ بھی لگایا۔
بابا جی کی صحت کافی بہتر لگ رہی تھی۔ اگلے سوالات کیے گئے تو بابا جی خاموش رہے۔ قریب کے مریضوں نے بتایا کہ بابا جی اس سے زیادہ بات نہیں کرتے، اور ساتھ ہی ڈاکٹر صاحب بولے کہ صحت اب تو بہت بہتر ہو گئی ہے۔ سر، جس دن آئے تھے، اس کی نسبت تو اب بابا جی بالکل ٹھیک ہیں۔
مگر کمشنر صاحب تو آگے گزر گئے۔ انہوں نے پورے ہسپتال کو وزٹ کیا اور اپنے گھر عید منانے چلے گئے۔ لیکن میں اس مسکراہٹ کی وجہ سے نہ جانے کن خیالوں میں تھا کہ میں اپنے گھر بھی نہ جا سکا اور تمام کام میرے خیال سے نکل ہی گئے۔
میں اسی فکر سے بابا جی کے پاس دوبارہ گیا کہ کوئی انسان اپنا نام “گائے” کیوں کر بتا سکتا ہے؟ مجھے اس بات کو جاننا ہے۔
جب میں بابا جی کے پاس پہنچا تو چہرے پر وہی مسکراہٹ، نام پوچھنے پر ایک ہی جواب اور اس سے آگے صرف خاموشی۔
میں نے ہر طرح سے کوشش کی۔ میری ساری زندگی کا کام ہی دوسروں کے انٹرویو کرنا تھا، لیکن وہاں پہ خاموشی تھی کہ اس کو توڑنا محال ہو چکا تھا۔
جتنی خاموشی گہری تھی، اسی قدر میری تشویش میں اضافہ ہوتا گیا۔
میں نے جھنجھلاتے ہوئے کہا، “بابا جی، عید کا دن ہے، میرے گھر میں بچے بھی ہیں، والدین بھی ہیں، دوست احباب بھی ہیں۔ میں ان سب کو چھوڑ کے آپ کے پاس بیٹھا ہوا ہوں، کچھ تو بولیں۔”
میری اس بات کو سنتے ہی بابا جی نے ایک عجیب نگاہ مجھ پر ڈالی، اور وہ نگاہ ایسی تھی کہ میں خوفزدہ ہو گیا۔
چند لمحے اسی طرح دیکھنے کے بعد بابا جی بولے، “تیری اس بات نے مجھے مجبور کر دیا ہے کہ میں تجھے سب کچھ بتاؤں، کیونکہ تو مجھے اپنے عید کے لمحات دے رہا ہے۔”
میں نے بابا جی سے حال پوچھا اور پوچھا، “بابا جی، آپ کہاں رہتے ہیں؟”
بابا جی نے کہا، “سوالات پوچھنے ہیں تو کسی سکول میں جا، مجھ سے سننا ہے تو سن۔”
بابا جی نے بتانا شروع کیا:
“میں اسی پاک دھرتی کا باسی ہوں، بہت بڑے ذمہ دار گھرانے میں آنکھ کھولی۔ میرا باپ اپنی زمینوں پہ بادشاہوں کی طرح زندگی گزارتا تھا۔
میں پیدا ہوا تو بہت خوشی منائی گئی، مجھے سکول بھیجا گیا۔ میرے والد صاحب کا خیال تھا کہ تعلیم ضروری نہیں ہے، بندے کے پاس اپنے کام کا ہنر ہونا چاہیے، خود کو سنبھالنا آنا چاہیے، لیکن تعلیم اتنی ضرور ہونی چاہیے کہ انسان دنیا کو سمجھ سکے، اپنا حساب کتاب خود کر سکے۔
اس سوچ کے پیشِ نظر انہوں نے مجھے سکول بھیجا۔ میرے علاقے کا سکول صرف آٹھویں جماعت تک تھا۔ آٹھویں جماعت تک میں نے تعلیم حاصل کی۔ تب تک مجھے اتنا شعور آ چکا تھا کہ میں اس سے آگے بڑھوں، جس کے لیے مجھے اپنا گھر چھوڑنا پڑتا، لیکن والد صاحب نے مجھے اس کی اجازت نہ دی اور کہا، اپنی زمینوں کو سنبھالو، جو تیرا کام ہے۔
آٹھویں جماعت تک پڑھتے ہوئے جب میں پڑھ رہا تھا تو مجھے زراعت بھی سکھائی گئی اور مویشیوں کو پالنا بھی۔ میں نے کسی جگہ لکھا پڑھ لیا تھا یا پھر سن لیا تھا، یہ مجھے یاد نہیں۔ میں اتنا ضرور جانتا تھا کہ کمائی وہ نہیں ہے کہ باپ دادا کی وراثت کو سنبھالا جائے، کھایا جائے اور سو لیا جائے۔ کمائی تو وہ ہے کہ ہم کچھ اضافہ کر سکیں، اپنے لیے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے۔ پتہ نہیں اس چیز کا کیا مقصد تھا، بہرحال جو اس وقت میں سمجھا تو میں نے والد صاحب کی زمین میں زراعت کے ساتھ ساتھ مویشی پالنے کا آغاز کر دیا۔
آغاز میں میں نے اس وقت صرف خود کام کیا، کیونکہ یہ میرا شوق تھا، لیکن جیسے جیسے مویشیوں کی تعداد بڑھی، پھر ساتھ میں نے ملازم رکھ لیے۔ شروع میں میرے والد صاحب نے مجھے روکا، لیکن میرے شوق کے پیشِ نظر خاموش رہے اور بعد میں وہ اس خاموشی کو خوشی میں تبدیل کر گئے۔
پہلے پہل میں نے جانور رکھے، لیکن کچھ ہی عرصے کے بعد میرا شوق گائے تک محدود ہو گیا، کیونکہ میں نے باڑا بنا لیا تھا۔ میرے علاقے کی زبان میں باڑا، جس کو بابو جی آپ ڈیری فارم کہتے ہیں۔
اس باڑے میں چند گائے کچھ ہی سال گزرنے کے بعد سو میں تبدیل ہو گئیں۔ اس کے بعد میں نے ایک باڑے سے دوسرا باڑا، پھر تیسرا باڑا بنایا۔
جانتے ہو، اس وقت میرے علاقے میں گاڑی میں دودھ لینے صرف میرے پاس آتے تھے۔ شہر کے لوگ دودھ بیچنے والے تو اور بھی ہوں گے، لیکن گاڑی صرف میرے پاس آتی اور بھر کے جاتی تھی، اور سب کو پتہ تھا، کہیں سے دودھ نہیں ملے گا تو میرے باڑے پہ آ جاؤ، خالی نہیں جاؤ گے۔
جوں ہی میں نے اپنا کام سنبھال لیا تو میرے والد نے میری شادی کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے چار بیٹے دیے، خوشگوار زندگی دی۔
جو میں نہیں پڑھ سکا تھا، وہ میں نے اپنے بیٹوں کو پڑھایا، کیونکہ آٹھویں جماعت پڑھ لینے سے میں سمجھا تھا کہ اس سے زیادہ پڑھیں گے تو زیادہ شعور آ جائے گا۔
میں نے اپنے بیٹوں کو کام پہ نہیں لگایا، نہ ہی میں نے زراعت میں ہاتھ بٹانے کو کہا، نہ ہی میں نے اپنے ڈیری فارم کو چلانے کے لیے ان کو شامل کیا۔
میں نے اپنے بیٹوں کو گاؤں میں پڑھانے کے بعد بڑے شہر میں داخلہ کروا دیا، تاکہ وہ اچھی تعلیم لیں۔ اللہ کی رحمت سے انہوں نے خوب محنت کی۔ بابو جی، بڑے افسر بن گئے، بڑے افسر۔ جیسی گاڑی میرے پاس دودھ لینے آتی تھی، اس کو تو وہ گاڑی بھی نہیں سمجھتے۔ بڑے افسر بننے سے ان کے پاس ٹھنڈے دفتر اور ٹھنڈی ٹھنڈی گاڑیاں تھیں، جن میں وہ سفر کرتے تھے۔”
میں پوچھنا چاہتا تھا، “بابا جی، آپ بہت خوش نصیب ہوئے۔ آپ کے بیٹے بڑے افسر بن گئے۔” لیکن نہ جانے کیوں بابا جی کی پہلی سختی نے مجھے خاموش رہنے پہ مجبور کیا۔
تھوڑے انتظار کے بعد وہ بولے، “کبھی کبھی آ جاتے تھے وہ میرے گھر میں اپنے بچوں کو دکھانے کہ زمین میں فصلیں کیسے اگتی ہیں؟ جانور کیسے ہوتے ہیں؟ بوڑھے لوگ کیسے ہوتے ہیں؟ اور وہ کیسی زندگی گزارتے ہیں؟
تھوڑی دیر میرے پاس رونقیں لگ جاتیں، پھر وہ واپس چلے جاتے۔ میں اس میں بھی بہت خوش تھا کہ اللہ نے میرے تمام گلشن آباد رکھے ہوئے ہیں۔”
میں نے کہا، “بابا جی، آپ ان کے پاس نہیں جاتے تھے؟”
بابا جی نے میری اسی بات پہ پھر غصے سے مجھے دیکھا۔ میں نے کہا، “بابا جی، معاف کیجیے گا۔ ایک سوال ہی تو پوچھا ہے۔”
بابا جی نے پہلے جیسی سختی کے ساتھ ہی جواب دیا، “سوال پوچھنا ہے تو کسی سکول میں چلا جا، بچوں سے پوچھ۔”
میں نے کہا، “بابا جی، معاف کر دیں۔ نہیں بولتا۔”
کچھ دیر تو وہ ایسے خاموش ہوئے کہ مجھے اپنی غلطی کا سخت احساس ہوا۔ لیکن کچھ خاموشی کے بعد خود ہی دوبارہ بولنا شروع ہو گئے۔
“پڑھنے کا تو مجھے شوق تھا۔ جتنا پڑھنا سیکھ لیا تھا، اس سے میں اپنا شوق ضرور پورا کرتا تھا۔ پہلے میں جب سودا سلف لینے شہر جاتا، اخبار لے آتا اور جس دن دوبارہ جاتا، اگلا اخبار لے آتا۔ پھر میں نے دودھ لینے جو گاڑی آتی تھی، اسی کو کہہ دیا، روزانہ کا تازہ اخبار میرے لیے لے آیا کرو۔ پھر روز اخبار آ جاتا۔ کبھی خبریں پڑھ کے دل خوش ہو جاتا، کبھی غمگین خبریں پڑھ کے چھوڑ دیتا۔ کچھ نہ کچھ نئی چیزیں مل جاتیں اور کبھی اخبار ایسے ہی پڑا رہ جاتا۔
بابو جی، ایک دن میں نے اخبار میں پڑھا کہ حکومت نے ایسے ادارے بنا دیے ہیں جہاں پہ بوڑھوں کو رکھا جائے گا۔ پہلے تو مجھے حیرت ہوئی کہ یہ پاک وطن میں بھی انگریزوں والے کام شروع ہو گئے۔ کون ہے جو اپنے بزرگوں کو یہاں چھوڑے گا؟ کیونکہ میرے اللہ نے تو بڑے بوڑھوں کی خدمت میں بڑا اجر رکھا ہے، یہاں کوئی نہیں چھوڑے گا۔ پھر دل میں سوچا، کسی کو نوکری چاہیے ہوگی، ایسا ادارہ بنا دیا جہاں اور بہت سارے ادارے، عمارتیں خالی پڑی ہوئی ہیں۔ ایک یہ بھی سہی۔ کچھ دیر سوچا، پھر کاموں میں لگ گئے اور بات بھول گئی۔”
بابا جی نے ٹھنڈی آہ بھری، پھر بولے، “بابو جی، بہت سی باتیں وقت پہ سمجھ آتی ہیں، کسی کے سمجھانے سے نہیں۔
شہر جاتے ہوئے جیسے بہت ساری عمارتیں اور چیزیں دیکھتا، وہاں بہت ساری زیادہ ہیں۔ بابو جی، ایک دن میں نے ایک دکان پر ایک ایسا بندہ دیکھا جس کے دونوں ہاتھ بھی نہیں ہیں، پاؤں بھی نہیں ہیں۔ حساب لکھنے بیٹھا ہوا تھا۔ کچھ دیر میں وہاں کھڑے اس کو دیکھتا رہا، پھر میں نے کہا، اتر، میرے ساتھ آ جا، تجھے بہت پیار سے رکھوں گا۔ کس مشکل کے ساتھ لکھ رہے ہو؟ اس نے بڑے ہی شکر ادا کرنے والے انداز میں کہا، بابا جی، اللہ تعالیٰ نے والدین دیے ہیں، حیات ہیں، سب گھر والے میرا بہت خیال رکھتے ہیں۔ مجھے پتہ ہے آپ بھی بہت پیار سے رکھیں گے، میرا بہت خیال کریں گے، لیکن جو سکون اس محنت میں ہے، وہ فارغ رہنے میں نہیں۔”
میں اس بات کو سن کر دنگ رہ گیا، خود بھی اللہ کا شکر ادا کیا، لیکن بابو جی، بہت ساری باتیں سمجھ بعد میں آتی ہیں۔
“ایک دکان تو ایسی تھی جہاں پہ تین بھائی، جو کہ بول نہیں سکتے تھے، میری بات سنتے بھی نہیں تھے۔ لیکن اشارہ کر کے بتا دیں، منٹ میں سارے سودے لے آتے تھے۔ میں کوشش کر کے کئی دکانیں چھوڑ کے اس دکان پہ جاتا، اشارے سے سارا سودا لے لیتا اور اللہ کی قدرت کا شکر ادا کرتا کہ یا اللہ، تیرے کیسے کیسے رنگ ہیں۔ تو نے کیسا کیسا دماغ دیا ہوا ہے، اور ماشاء اللہ، کتنے خوش بخت ہوں گے وہ ماں باپ جنہوں نے اپنے بچوں کو یہاں تک پہنچایا ہوا ہے۔ کتنی صلح کے ساتھ وہ یہ سارے کام کر رہے ہیں اور اشاروں سے ہی سب کچھ سمجھ لیتے ہیں۔
اسی طرح بابو جی، ایک پکوڑوں والا تھا جس کا بازو نہیں تھا۔ پکوڑے بڑے مزے کے بناتا تھا۔ جب بھی میں شہر جاتا، پکوڑے کھانے کو دل چاہتا تو اسی سے لے کے کھاتا۔ پوچھا تھا میں نے اس کو، پہلے ٹھیک تھا، کہیں ایکسیڈنٹ میں بازو کٹ گیا، لیکن محنت نہ چھوڑی۔ بڑا دل خوش ہوتا تھا اس کو دیکھ کر، اور اس کے پکوڑے تو اتنے مزے کے تھے جو کبھی گھر میں بھی نہیں بنتے تھے۔”
بابا جی بول رہے تھے، لیکن جو سوال میں پوچھنا چاہتا تھا، بات اس طرف نہیں آ رہی تھی۔ سوال پوچھنے کی ہمت بھی نہیں کر رہا تھا کہ بابا جی ناراض نہ ہو جائیں۔ میں چاہتا تھا پوچھوں، “بابا جی، آپ اپنے بیٹوں کے پاس نہیں جاتے تھے؟ وہاں نہیں رہتے تھے؟” لیکن اب خاموش تھا کہ چلیں، جو خود بتا رہے ہیں، اتنا ہی سہی۔
اب بہرحال بابا جی خود ہی اس بات پر آ گئے۔
“کبھی کبھار ملنے تو گیا، لیکن میں وہاں نہیں ٹھہرا۔ پیچھے بہت کام تھے۔ مجھے پھر وقت نے بیمار کیا، بیٹوں کو خبر دی۔ ایک بیٹے کے پاس بھی ٹائم نہیں، بڑا افسر تھا نا۔ دوسرے نے بھی کہا کہ ابھی میں تو نہیں جا سکتا۔ تیسرے کو اطلاع دی، خیر تیسرا آ گیا۔ مجھے لینے لے گیا۔ مجھے بڑے ڈاکٹر کے پاس دوا لے کے دی، پھر چھوڑ گیا۔ چند دن دوا کھائی اور اللہ کی رحمت سے میں دوبارہ اچھا بھلا ہو گیا۔
کچھ دنوں کے بعد پھر بیمار ہوا، پھر اس وقت اطلاع دی۔ وہ پھر آ گیا، گاڑی لے کے مجھے لے گیا ڈاکٹر صاحب کے پاس اور دوائی لی، بہت پیار کے ساتھ، لیکن مجھے واپس چھوڑ گیا۔ اب کی بار میں نے دوائی تو کھائی، لیکن میں ٹھیک نہ ہوا بلکہ زیادہ بیمار محسوس کر رہا تھا۔ میں نے پھر پیغام بھیج دیا۔ بیٹے صاحب آ تو گئے، آ کے میری کچھ چیزیں گاڑی میں رکھیں رکھوائیں اور مجھے ساتھ گاڑی میں بٹھا لیا۔ وہ مجھے وہاں لے کے گئے۔ میں سمجھ رہا تھا کہ یہ بڑا ہسپتال ہے، لیکن جہاں مجھے جا کے بٹھایا اور وہ انگریزی میں باتیں کرنے لگ گیا، بڑے افسروں کی طرح، جو مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ لیکن بابو جی، وہ مجھے آپ جیسے لگ رہے تھے، وہ مجھے ڈاکٹر صاحب نہیں لگ رہے تھے۔ باتیں مجھے سمجھ بھی نہیں آ رہی تھیں، لیکن وہ دیکھنے میں کوئی ڈاکٹر نہیں تھا۔ کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد افسر صاحب نے کچھ پیسے ان کو دیے اور میری طرف اشارہ کرتے ہوئے باہر نکلا اور بڑی گاڑی میں بیٹھ کر واپس چلا گیا۔”
پھر بابا جی نے ایک آہ بھری اور بولے، “کہ میں سمجھ رہا تھا کچھ لینے گیا۔ کچھ دیر کے بعد وہ تیرے جیسے بابو میرے پاس آئے۔ انہوں نے میرے پاس وہ دوائیاں رکھیں جو مجھے کھلانی تھیں، مجھے کھانا کھلایا۔
میں حیران تھا کہ یہ کیا چکر ہے۔ پہلے تو ہسپتال میں ڈاکٹر ہوتے تھے، کھانا اپنی اولاد کھلاتی تھی، اب یہ کھلانے لگ گئے، اور یہ مجھے ڈاکٹر بھی نہیں لگ رہا۔
پھر مجھے شام تک سمجھ آ گیا کہ جی، وہ اولڈ ایج ہوم ہے جہاں پہ بوڑھے والدین کو رکھا جاتا ہے۔ میں وہاں پہنچ گیا تھا۔”
بابا جی نے یہ کہتے ہوئے کچھ دیر خاموشی لی، پھر ہا ہا کیا۔ میں سمجھ نہ سکا کہ وہ ہا تھا یا ہائے تھا، پھر خاموش ہو گئے۔ میں بہت کچھ پوچھنا چاہتا تھا، لیکن بابا جی کی کیفیت کو دیکھتے ہوئے صرف انتظار کر رہا تھا۔ پھر بابا جی خاموش ہو گئے اور بالکل خاموش۔ میں بھی خاموش رہا کہ کچھ پوچھنے پہ بابا جی ناراض نہ ہو جائیں۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اب نہیں بولیں گے، لیکن تھوڑی دیر کے بعد بولے، “بابو جی، اب پوچھ، کیا پوچھنا چاہتا ہے تو؟”
میرے پاس سوالات تو بہت تھے، لیکن اب ڈر تھا۔ تھوڑا سا سوچنے کے بعد میں نے پہلا سوال کیا، “بابا جی، آپ کے بیٹے کا نام کیا تھا؟”
بابا جی فوراً بولے، “بچھڑا۔”
میں ابھی حیران ہی ہوا تھا تو بابا جی نے کہا، “گائے کا بچہ بچھڑا ہی ہوتا ہے، بابو جی۔”
میں پھر خاموش ہو گیا۔ اس ساری بات پہ کہیں اور ہوتی بات تو شاید میں قہقہہ لگاتا، لیکن جہاں پہ تو رونا بھی بھول چکا تھا۔
پھر میں نے اگلا سوال کیا، “بابا جی، وہ ساری گائے آپ جمع ہی کرتے جا رہے تھے؟ جتنا بھی اضافہ ہو رہا تھا؟”
بابا جی نے قہقہہ لگایا، “جمع کون کرتا ہے؟ گائے تو رکھی تھی دودھ دینے کے لیے۔ جو دودھ دینے سے فارغ ہو جاتی، وہ قصائی کو بیچ دیتا تھا۔ جو گائے دودھ نہیں دیتی، اس کا یہی انجام ہوتا ہے۔”
مجھے شاید اس بات پر حیرت ہوتی، لیکن بابا جی کے اس انداز نے مجھے وہ سب سمجھا دیا تھا جو میں پہلے پوچھنا چاہتا تھا۔
اب مجھے ضرورت نہیں تھی کہ میں پوچھوں، “بابا جی اپنا نام گائے کیوں بتاتے ہیں؟”
میں خاموش ہو گیا تھا۔ اب میرے پاس سوالات نہیں تھے۔ بابا جی خود ہی بولے، “اب میں سب کچھ سمجھ چکا تھا۔ وہ شہر میں جس پکوڑے والے کے پکوڑے کھاتا تھا، جس کو میں نے ہاتھوں اور پاؤں کے بغیر لکھتے ہوئے دیکھا تھا، جو انہوں نے مجھے اس وقت سمجھایا تھا، وہ میں آج سمجھ چکا تھا۔ اور جو میں سمجھ چکا ہوں، بابو جی، وہ آپ نہ سمجھیں۔”
یہ کہہ کر بابا جی خاموش ہو گئے اور میری آنکھوں میں آنسو تھے۔ بابا جی صرف خاموش نہ ہوئے بلکہ خاموشی سے لیٹ کر آنکھیں بند کر لیں۔ اب میں سوچ رہا تھا کہ میں اب ان سے کیا بات کروں۔
تھوڑی دیر تک ڈاکٹر صاحب آ گئے۔ میری مشکل آسان ہوئی اور انہوں نے آ کر بابا جی کا حال پوچھا، ان کو چیک کیا اور کچھ میڈیسن لکھ دی۔ ساتھ ہی نرس تھی، وہ اپنا کام کرنے لگ گئی، لیکن ڈاکٹر صاحب بالکل خاموش تھے۔
میں نے تھوڑے فاصلے پہ جا کے ان سے پوچھا، “بابا جی ٹھیک تو ہیں نا؟”
ڈاکٹر صاحب نے کہا، “بہت بہتر ہیں۔”
میں حیران تھا اس جواب پر، کیونکہ انہوں نے بابا جی سے کوئی بات نہیں کی تھی۔ میں نے پھر پوچھا، “سر، مجھے بتائیں بابا جی کتنا بہتر ہیں؟”
ڈاکٹر صاحب نے میری طرف غور سے دیکھا اور بتایا، “شاید تمہیں یقین نہیں آ رہا۔ جب ہمارے پاس آئے تھے بابا جی، تب یہ حالت نہ تھی۔ اب تو اللہ کا شکر ہے، بہت بہتر ہیں۔ بزرگ ہیں ہمارے۔ میں آپ کی بات سمجھ رہا ہوں، آپ کے سوالات کیا کہہ رہے ہیں۔”
ڈاکٹر صاحب کی اس بات سے میں بہت مطمئن ہوا اور آ کے بابا جی کے ہاتھ چومے۔ بابا جی نے فوراً میرے سر پہ پیار دیا، میرا ہاتھ پکڑ کر چوم لیا اور کچھ منہ میں بولے جو میں سمجھ نہیں سکا، لیکن مجھے یقین ہے وہ مجھے دعائیں دے رہے تھے۔اس طرح وہاں بیٹھے بیٹھے رات ہو گئی تھی، اور پھر میں وہاں سے اجازت لے کر نکل آیا۔



تبصرہ لکھیے