ہوم << خاموش دالان کی بازگشت – عرفان علی عزیز
600x314

خاموش دالان کی بازگشت – عرفان علی عزیز

گاؤں کے مغربی کنارے پر واقع وہ پرانی حویلی اپنے دورِ عروج کی ایک آخری دھیمی سی مسکراہٹ معلوم ہوتی تھی۔ سرخ اینٹوں سے بنی ہوئی یہ حویلی، لکڑی کے کندہ کاری والے نفاست بھرے دروازوں اور وسیع و عریض دالانوں پر مشتمل تھی، جن کی دیواروں پر ماضی کی شامیں اب بھی ساکت کھڑی تھیں۔ حویلی کی فضا میں ایک ایسی خاموشی رچی ہوئی تھی جو چیختی نہیں تھی، بلکہ روح کے کسی تاحیات تنہا گوشے میں اتر کر سسکیوں کی صورت ڈھل جاتی تھی۔

اسی حویلی کی ایک شاندار مگر ویران کھڑکی کے پاس زبیدہ بیٹھی ہوا کرتی تھی۔ زبیدہ، جس کے چہرے پر روایتی وقار کی ایک ایسی باریک اور شفاف تہہ تھی، جس کے پار صرف اس کا اپنا دکھ جھانک سکتا تھا۔ اس کی عمر کے تیس سال مکمل ہو چکے تھے، اور دیہاتی و روایتی معاشرے میں تیس سالہ غیر شادی شدہ لڑکی کو محبت کی نگاہ سے نہیں، بلکہ طعنے یا بے حسی سے بھرپور ہمدردی کے روپ میں دیکھا جاتا تھا۔
زبیدہ کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ ایک عزت دار اور بااصول گھرانے کی بیٹی تھی۔ گاؤں کی بستی میں خوشیاں اور غم، دونوں ہی مشترکہ ثقافتی رواجوں کی زنگ آلود زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ زبیدہ کے والد، سرپنچ چوہدری احمد بخش، اپنے خاندانی غرور، ناک نہ کٹنے دینے کی ضد اور ذات برادری کی تنگ نظر حدود سے باہر سوچنے کو گناہ سمجھتے تھے۔

زبیدہ جب اٹھارہ سال کی تھی تو اس کی آنکھوں میں سپنے جاگے تھے۔ گاؤں کے پرائمری اسکول کے ایک نوجوان معمار اور استاد، فرحان، نے جب پہلی بار اس کے ہاتھ کا بنا ہوا کڑھائی والا رومال دیکھا تھا تو اس کے ہنر اور خاموش حیا کی تعریف کی تھی۔ فرحان کوئی چوہدری یا نواب نہیں تھا؛ وہ ایک غریب، بااخلاق اور محنتی انسان تھا۔
لیکن جب فرحان نے زبیدہ کا ہاتھ مانگنے کے لیے اپنے بوڑھے باپ کو چوہدری احمد بخش کے پاس بھیجا تو جواب میں کوئی عزت یا محض انکار نہیں، بلکہ صدیوں پرانی سماجی اکڑ اور ذلت ملی۔
”تمہاری اتنی جرات کہ تم ہم، پچھلی نسلوں سے راج کرنے والوں، کی بیٹی کی طرف آنکھ اٹھاؤ؟“
چوہدری صاحب کا غصہ صرف انکار پر ختم نہیں ہوا، بلکہ فرحان کو گاؤں چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔ اور اسی دن زبیدہ کی روح کو حویلی کے اسی خاموش دالان میں دفن کر دیا گیا۔

تصور کریں اس رات کو، جب برسات کی پہلی بوندیں حویلی کے کچے صحن پر گر رہی تھیں اور مٹی کی سوندھی خوشبو ہوا میں پھیلی ہوئی تھی۔ زبیدہ نے اپنے دوپٹے کے کونے کو دانتوں میں دبا کر روتے ہوئے اپنے ہاتھ سے بنائے ہوئے اس کڑھائی والے رومال کو چراغ کی لو پر رکھ دیا تھا۔ مگر وہ کپڑا تو جل گیا، اس کے اندر چھپی چاہت حویلی کی اینٹوں میں جذب ہو گئی۔
سال گزرتے گئے۔ ساون آئے اور چلے گئے۔ حویلی کے صحن میں لگا نیم کا درخت بوڑھا ہوتا گیا۔ گاؤں کے دیگر گھروں میں ڈھولک کی تھاپ گونجتی، دلہنوں کی روایتی بولیاں گائی جاتیں اور مہندی کی خوشبو فضاؤں کو معطر کرتی۔ زبیدہ ہر شادی کے موقع پر دور سے لڑکیوں کو تیار ہوتے دیکھتی۔
ہماری ثقافت میں شادی صرف دو انسانوں کا ملن نہیں، بلکہ ایک عورت کی بقیہ زندگی کے وجود کا جواز مان لی جاتی ہے۔ جس عورت کی ڈولی نہ اٹھے، اسے سماج ”خام مال“ سمجھنے لگتا ہے، جسے صرف دوسروں کی خدمت کے لیے سنبھال کر رکھا گیا ہو۔

زبیدہ نے اپنے جذبات کو خاموشی کی چادر اوڑھا دی۔ اس نے اپنی پوری جوانی اپنی بیمار ماں کی خدمت، چھوٹے بھائیوں کی پرورش اور حویلی کے کام کاج میں گھول دی۔ اس کی انگلیاں کڑھائی کرتے کرتے کھردری ہو گئیں، اور اس کی جھیل سی گہری آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے جم گئے، جیسے کسی نے اداسی کا کاجل مل دیا ہو۔
ایک دن گاؤں میں شاندار میلہ لگا۔ ڈھول کی آواز، رنگ برنگے غبارے، میٹھی جلیبیوں کی خوشبو اور روایتی لوک گیتوں کی صداؤں سے پورا گاؤں گونج رہا تھا۔ یہ ثقافتی میلہ خوشی کی علامت تھا، مگر اسی گاؤں کے ایک کونے میں، حویلی کے دالان میں، زبیدہ کھڑکی سے اس رونق کو دیکھ رہی تھی۔ اس کے لیے یہ میلہ ایک پرایا منظر تھا۔
اسی شام ایک خوفناک خبر پھیلی۔ گاؤں کے قریبی پل پر ایک حادثہ ہوا تھا اور ایک مسافر کو سخت زخمی حالت میں اسپتال لایا گیا تھا۔ وہ مسافر کوئی اور نہیں، بلکہ سالوں بعد گاؤں لوٹنے والا فرحان تھا۔ وہ اب ایک کامیاب انجینئر بن چکا تھا اور اپنے بچھڑے ہوئے گاؤں میں ایک اسکول اور اسپتال بنانے کے مقصد سے واپس آیا تھا۔ اس نے کبھی دوسری شادی نہیں کی تھی، اور نہ ہی زبیدہ نے کبھی اپنے دل کے در وا کیے تھے۔

زبیدہ کو جب یہ معلوم ہوا تو اس کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ سارے سماجی پردے، روایات کا خوف اور باپ کے دبدبے کو بھول کر حویلی کا دربار عبور کرتی ہوئی گاؤں کی گلیوں میں بھاگنے لگی۔ اس کا سرخ دوپٹہ ہوا میں لہرا رہا تھا، بالکل اسی طرح جیسے بارہ سال پہلے ساون کی بارش میں لہرایا کرتا تھا۔
گاؤں کی عورتیں حیرت سے اسے دیکھ رہی تھیں۔
”دیکھو، چوہدری کی بیٹی بے پردہ بھاگ رہی ہے!“
مگر زبیدہ کے لیے اب کوئی سماج، کوئی طعنہ، کوئی رسوائی معنی نہیں رکھتی تھی۔ اس کا سفر دو دہائیوں کی تنہائی کا حساب مانگ رہا تھا۔
جب وہ اسپتال کے اس چھوٹے سے کمرے میں پہنچی تو فرحان کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں۔ اس کے چہرے پر وہی پرانی معصومیت اور تھکن تھی۔ زبیدہ نے لرزتے ہاتھوں سے فرحان کا ہاتھ تھاما۔ فرحان نے آہستہ سے اپنی نیم وا آنکھیں کھولیں۔ اس نے زبیدہ کو دیکھا تو اس کی آنکھوں میں ایک آخری، درد بھرا سچ چمکا۔

فرحان کے ہونٹوں سے صرف ایک لفظ نکلا:
”زبیدہ…“
اور اس کے ساتھ ہی اس کا ہاتھ زبیدہ کی گرفت سے چھوٹ کر بستر پر گر گیا۔
اسپتال کے اس چھوٹے سے کمرے میں سناٹا چھا گیا۔ زبیدہ نہ روئی، نہ چیخی، نہ اس نے گریبان چاک کیا۔ اس نے صرف فرحان کے ٹھنڈے ہوتے ہوئے ہاتھ کو اپنے چہرے سے لگایا اور ایک لمبی سسکی لی۔ اس سسکی میں اس کے نوحے بھی تھے، اس کی جوانی کا زوال بھی تھا اور اس جابرانہ سماج کی فتح کا سوگ بھی۔
فرحان کا جنازہ جب گاؤں سے اٹھا تو پورا گاؤں رو رہا تھا۔ لوگ اس کے جذبے اور اس کے تعمیراتی کاموں کی تعریفیں کر رہے تھے۔ مگر کسی نے اس خاموش جنازے کو نہیں دیکھا جو زبیدہ کی روح کا اٹھ چکا تھا۔

آج بھی اس گاؤں کی حویلی کے دالان میں ایک بوڑھی عورت شام کے وقت دیا جلاتی ہے۔ گاؤں کے بچے اسے ”پاگل زبیدہ“ کہتے ہیں۔ لیکن وہ پاگل نہیں ہے؛ وہ ہمارے اس باطل سماج، ذات پات کی دیواروں اور غیرت کے نام پر قربان کی جانے والی محبتوں کی ایک زندہ اور بولتی ہوئی تصویر ہے۔جب ساون کی ہوا حویلی کے لکڑی کے دروازوں سے ٹکراتی ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے وہ دالان اب بھی رو رہا ہو۔ یہ ایک ایسا دکھ ہے جو ہماری ثقافت کی رنگینیوں کے پیچھے چھپا ہوا، ایک مستقل اور لازوال درد بن چکا ہے۔

”معاشرہ ہمیشہ محبت کو مار کر اس کی مزار پر روایتی چراغ جلانے کا عادی رہا ہے۔“

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

عرفان علی عزیز

عرفان علی عزیز بہاولپور سے تعلق رکھتے ہیں۔ افسانہ و ناول نگاری اور شاعری سے شغف ہے۔ ترجمہ نگاری میں مہارت رکھتے ہیں۔ مختلف رسائل و جرائد میں افسانے اور جاسوسی کہانیاں ناول شائع ہوتے ہیں۔ سیرت سید الانبیاء ﷺ پر سید البشر خیر البشر، انوکھا پتھر، ستارہ داؤدی کی تلاش نامی کتب شائع ہو چکی ہیں۔ شاعری پر مشتمل کتاب زیرطبع ہے

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment