میاں خان کبھی اس علاقے کا سب سے بڑا جاگیردار سمجھا جاتا تھا۔ اُس کی زمینیں دُور تک پھیلی ہوئی تھیں۔ کھیتوں میں لہلہاتی فصلیں اس کی دولت کی داستان سناتی تھیں، مگر انہی کھیتوں کے کناروں پر بنی ہوئی مٹی کی جھونپڑیاں اُن ہاتھوں کی خاموش فریاد تھیں جو دن رات زمین کا سینہ چیر کر اناج اُگاتے تھے۔
میاں خان کے کاشتکار نسل در نسل اس کے مقروض چلے آ رہے تھے۔ قرض کی وہ زنجیر ایسی تھی جس کی کوئی کڑی دکھائی نہیں دیتی تھی، مگر ہر کڑی غلامی کی طرف لے جاتی تھی۔ سال بھر محنت کرنے کے باوجود اُن کے گھروں میں کئی مرتبہ چولہا ٹھنڈا رہتا۔ میاں خان نہ اُنہیں مناسب اجرت دیتا، نہ سال بھر کی خوراک کے لیے مطلوبہ غلّہ۔ یوں قرض بڑھتا جاتا اور غریب کاشتکار کی آزادی گھٹتی جاتی۔
میاں خان کا مزاج سخت تھا۔ کبھی غصے میں کسی کا کھیت چھین لیتا، کبھی کسی کی اجرت روک لیتا اور کبھی معمولی سی کوتاہی پر گالی دے دیتا۔ مگر عمر نے جب اس کے بالوں میں چاندی اُتار دی اور کمر کو جھکا دیا تو اس کے دل میں بھی کچھ نرمی پیدا ہونے لگی۔
وہ کبھی کبھی سوچتا: “آخر یہ لوگ بھی تو انسان ہیں۔ میرے کھیتوں میں خون پسینہ بہاتے ہیں۔ اگر میں نے ساری عمر ان پر سختی کی ہے تو شاید یہی وجہ ہے کہ آج میرے اپنے دل میں سکون نہیں۔”
مگر ظلم کی عادت آسانی سے نہیں جاتی۔
اب میاں خان کے بجائے اس کا بیٹا فرید خان زیادہ تر معاملات دیکھتا تھا۔ فرید خان اپنے باپ سے بھی دو ہاتھ آگے تھا۔
اس کے ہاتھ میں ہمیشہ ایک چھڑی رہتی۔ وہ چھڑی محض لکڑی کا ٹکڑا نہ تھی؛ گویا اس کی زبان، اس کا قانون اور اس کی حکومت تھی۔ جس طرف چھڑی اُٹھتی، اُس طرف کسی غریب کا جسم کانپنے لگتا۔
کاشتکار کہتے تھے: “میاں خان کا زمانہ برا تھا، مگر فرید خان کا زمانہ تو اس سے بھی بُرا ہے۔”
ایک دن صبح کا وقت تھا۔ سورج ابھی پوری طرح بُلند نہیں ہوا تھا۔ مویشیوں کے باڑے سے بھینسوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ جیون اور بلو گائے بھینسوں کو چارہ ڈال رہے تھے۔
اچانک فرید خان کی آواز گونجی: “بلو! او بلو! اِدھر آؤ!”
بلو نے ہاتھ میں پکڑا ہوا چارہ زمین پر رکھتے ہوئے ادب سے جواب دیا:
“خان! بس ذرا یہ چارہ ڈال کر آتا ہوں۔”
یہ جملہ ابھی اس کے منہ سے نکلا ہی تھا کہ فرید خان کا چہرہ سرخ ہو گیا۔
“تمہیں میری آواز سنائی نہیں دیتی؟”
بلو نے گھبرا کر کہا: “خان، میں تو بس—”
بات مکمل نہ ہو سکی۔
فرید خان نے ہاتھ میں پکڑی چھڑی اُٹھائی اور گالی دیتے ہوئے بلو کی طرف بڑھا۔ چھڑی اس کے جسم پر برسنے لگی۔ جیون نے اپنے ساتھی کو بچانے کے لیے آگے بڑھنا چاہا تو فرید خان نے اُسے بھی نہ بخشا۔
“تم دونوں نے خود کو کیا سمجھ رکھا ہے؟ میرے نوکر ہو، نوکر! تمہاری گردنیں ابھی بھی میری زمین کے قرض میں دبی ہوئی ہیں!”
چھڑی ایک مرتبہ پھر اُٹھی اور دونوں کے جسموں پر پڑی۔
کچھ دیر بعد فرید خان وہاں سے چلا گیا۔
جیون نے بلو کو دیکھا۔ بلو نے جیون کو دیکھا۔ دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر زبان پر خاموشی۔
جیون نے آہستہ سے کہا: “چل بلو، اپنے اپنے گھر چلتے ہیں۔”
بلو نے تلخی سے مسکرا کر کہا: “گھر؟ اسے گھر کہتے ہو جیون؟”
جیون خاموش ہو گیا۔ دونوں آہستہ آہستہ اپنی جھونپڑیوں کی طرف چلنے لگے۔ جسموں پر چھڑی کے نشان تھے اور دلوں پر صدیوں کی غلامی کے۔
راستے میں اچانک اُن کی نظر ایک عجیب منظر پر پڑی۔ ایک شتربان اپنے اونٹ کو بڑی بے رحمی سے پیٹ رہا تھا۔ اونٹ بار بار پیچھے ہٹتا، مگر شتربان کی چھڑی مسلسل اس کی پیٹھ پر برس رہی تھی۔
بلو رک گیا۔ “جیون! دیکھو تو، یہ بھی وہی کر رہا ہے جو فرید خان ہمارے ساتھ کرتا ہے۔”
جیون نے گہری سانس لی۔ “فرق صرف اتنا ہے کہ اونٹ بول نہیں سکتا۔”
بلو نے کہا: “اور ہم بول سکتے ہیں؟”
جیون نے اس کی طرف دیکھا۔دونوں خاموش ہو گئے۔
شتربان کی مار بڑھتی گئی۔ آخرکار اونٹ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ اچانک اس نے گردن گھمائی، شتربان کو بازو سے پکڑا اور اُٹھا کر فضا میں بلند کر دیا۔
شتربان چیخنے لگا: “بچاؤ! بچاؤ!”
جیون اور بلو گھبرا کر اونٹ کی طرف دوڑے۔ “اونٹ کو پکڑو نہیں! شور کرو!”
اونٹ نے دونوں آدمیوں کو اپنی طرف آتے دیکھا تو شتربان کو چھوڑ دیا اور خود ایک طرف بھاگ گیا۔
جیون اور بلو نے زخمی شتربان کو اٹھایا۔
بلو نے کہا: “اسے حکیم کے پاس لے چلتے ہیں۔”
جیون نے حیرت سے پوچھا: “یہی تو ابھی اونٹ کو مار رہا تھا۔”
بلو بولا: “ظلم کرنے والا بھی انسان ہے۔ ہم اس جیسے نہیں بنیں گے۔”
دونوں شتربان کو حکیم کے پاس لے گئے۔
حکیم مخلص اور ہمدرد انسان تھا۔ غریبوں کی نبض دیکھتے وقت وہ صرف بیماری نہیں دیکھتا تھا، اُن کے حالات بھی پڑھ لیتا تھا۔
اس نے شتربان کے زخموں پر مرہم لگایا، دوا دی اور پھر جیون اور بلو کی طرف دیکھا۔ “تم دونوں کے جسم پر بھی تو زخم ہیں۔”
جیون نے نظریں جھکا لیں۔
حکیم نے نرمی سے پوچھا: “یہ زخم کیسے آئے؟”
بلو نے کہا: “چھڑی نے دیے ہیں، حکیم صاحب!” “کس کی چھڑی نے؟”
کچھ دیر خاموشی رہی۔
پھر جیون نے کہا: “فرید خان کی۔”
حکیم نے افسوس سے سر ہلایا۔
“زخم جسم پر ہوں تو دوا سے بھر جاتے ہیں، مگر دل پر لگنے والے زخم اگر برسوں پرانے ہوں تو اُن کے لیے انصاف کی ضرورت ہوتی ہے۔”
یہ بات دونوں کے دل میں اتر گئی۔
حکیم نے انہیں بھی دوا دی۔
دونوں نے شتربان کو سہارا دے کر اس کے گھر پہنچایا اور پھر اپنی اپنی جھونپڑیوں کی طرف لوٹ گئے۔
رات بھر جیون اور بلو کروٹیں بدلتے رہے۔
کبھی جسم کا درد جاگتا، کبھی دل کا۔
صبح ہوئی تو دونوں پھر اپنے کام پر پہنچ گئے۔ زندگی بظاہر ویسی ہی تھی، مگر اُن کے اندر کچھ بدل چکا تھا۔
چند دن گزرے۔ ایک روز فرید خان نے حسبِ معمول کسی معمولی بات پر جیون اور بلو کو آواز دی۔ دونوں حاضر ہوئے تو فرید خان نے پھر اپنی چھڑی نکالی۔ چھڑی ہوا میں بلند ہوئی۔ مگر اس مرتبہ جیون کی نگاہ اچانک اُس چھڑی پر نہیں بلکہ اُس اونٹ پر جا ٹھہری جو چند روز پہلے اپنے شتربان کے ظلم سے تنگ آ کر اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔
اسے شتربان یاد آیا۔ اسے حکیم کے الفاظ یاد آئے۔ اور پھر اسے اپنی پیٹھ کے زخم یاد آئے۔
بلو کی آنکھیں بھی جیون سے ملیں۔
دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔
کوئی لفظ نہ بولا۔ اگلے ہی لمحے فرید خان نے چھڑی چلانے کے لیے ہاتھ اُٹھایا تو جیون نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
فرید خان حیران رہ گیا۔ “چھوڑ میرا ہاتھ!” بلو بھی آگے بڑھا۔ “خان! بہت ہو گیا۔”
فرید خان نے غصے سے گرج کر کہا:
“تم دونوں کی یہ جرأت!”
جیون نے پہلی مرتبہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا: “جرأت ہماری نہیں، ظلم کی حد ختم ہوئی ہے۔”
فرید خان نے چھڑانے کی کوشش کی، مگر دونوں نے مل کر اس سے چھڑی لے لی۔
فرید خان کے چہرے پر خوف کی ایک لکیر نمودار ہوئی۔ جس چھڑی سے وہ برسوں دوسروں کو ڈراتا رہا تھا، آج وہی چھڑی اُس کے ہاتھ سے نکل چکی تھی۔
جیون نے چھڑی ایک طرف رکھ دی۔
بلو نے فرید خان کے کپڑوں سے مٹی جھاڑتے ہوئے کہا: “خان! ہم تمہیں ماریں گے نہیں۔ ہم تمہیں صرف یہ بتانا چاہتے ہیں کہ درد کیا ہوتا ہے۔”
فرید خان خاموش ہو گیا۔ اتنے میں میاں خان بھی وہاں پہنچ گیا۔
اس نے سارا منظر دیکھا تو چند لمحے خاموش کھڑا رہا۔
پھر اس نے بلند آواز میں کہا: “آؤ، بلو! جیون! اسے چھوڑ دو۔ اس کے لیے اتنی سزا کافی ہے۔”
دونوں نے فرید خان کو چھوڑ دیا۔
میاں خان اپنے بیٹے کے قریب گیا۔
اس نے فرید خان کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور دھیمی آواز میں کہا: “بیٹا! میں تمہیں ہمیشہ سمجھاتا رہا کہ ظلم نہ کرو۔ میں نے خود اپنی زندگی میں ظلم کا نقصان اُٹھایا ہے۔ ظلم سے زمینیں تو مل سکتی ہیں، دل نہیں ملتے۔ لوگوں کو غلام بنایا جا سکتا ہے، مگر اُن کے دلوں میں اپنی عزّت پیدا نہیں کی جا سکتی۔”
فرید خان نے نظریں جھکا لیں۔
میاں خان نے کہا: “آج تمہیں وہ سبق مل گیا جو میری باتوں سے نہیں ملا۔ یاد رکھو، جس ہاتھ میں ہمیشہ چھڑی رہے، ایک دن وہ ہاتھ کسی مضبوط ہاتھ کے سامنے خالی بھی ہو سکتا ہے۔”
فرید خان کے ہونٹ کانپے۔ “ابا جان! میں نے بہت ظلم کیا ہے۔”
میاں خان نے کہا: “ظلم کا اعتراف پہلا قدم ہے۔ دوسرا قدم یہ ہے کہ جس کا حق مارا ہے، وہ حق واپس کرو۔”
اس دن کے بعد جاگیرداری کی وہ پرانی چھڑی ہمیشہ کے لیے ایک طرف رکھ دی گئی۔
میاں خان نے اپنے کاشتکاروں کے قرضوں کا حساب نکلوایا۔ جن قرضوں میں سود، زیادتی اور ناجائز حساب شامل تھا، انہیں ختم کیا۔ کاشتکاروں کو اُن کی پوری اجرت ملنے لگی۔
فرید خان بھی بدل گیا۔
اب وہ کھیتوں میں جاتا تو ہاتھ میں چھڑی نہیں ہوتی تھی۔ وہ کاشتکاروں کے ساتھ بیٹھتا، اُن کا حال پوچھتا اور کبھی کبھی اُن کے بچوں کو اپنے بچوں کے ساتھ کھیلتا دیکھ کر مسکرا دیتا۔
ایک دن بلو نے جیون سے کہا: “دیکھو جیون! وہی کھیت ہیں، وہی زمین ہے، وہی لوگ ہیں، مگر سب کچھ بدل گیا ہے۔”
جیون نے مسکرا کر جواب دیا: “زمین نہیں بدلی بلو، دل بدل گئے ہیں۔”
حکیم بھی کبھی کبھی اُن کے درمیان آ بیٹھتا۔ شتربان بھی اپنی اونٹ کے ساتھ وہاں سے گزرتا تو اُنہیں سلام کرتا۔
ایک روز شتربان نے ہنستے ہوئے کہا:
“اگر اُس دن میرا اونٹ نہ بغاوت کرتا تو شاید تم دونوں بھی کبھی اپنے زخموں کو زخم نہ سمجھتے۔”
جیون نے جواب دیا: “کبھی کبھی جانور بھی انسان کو انسانیت کا سبق دے جاتے ہیں۔”
بلو نے مسکرا کر کہا: “اور کبھی کبھی ایک چھڑی پورے خاندان کی تقدیر بدل دیتی ہے۔”
میاں خان نے یہ بات سنی تو مسکرا دیا۔ “نہیں بلو! تقدیر چھڑی نے نہیں بدلی، سبق نے بدلی ہے۔”
پھر اس نے دور پھیلے ہوئے کھیتوں کی طرف دیکھا۔ہوا فصلوں سے باتیں کر رہی تھی۔
کبھی یہی کھیت مزدوروں کے پسینے اور آنسوؤں کے گواہ تھے، مگر اب انہی کھیتوں میں محنت، انصاف اور محبت کی فصل اُگ رہی تھی۔ظلم کی چھڑی آخرکار ٹوٹ جاتی ہے، مگر انصاف کا ہاتھ نسلوں تک قائم رہتا ہے۔اور یوں مالک اور نوکر کا رشتہ بھی بدل گیا۔جو لوگ کل تک ایک دوسرے سے خوف زدہ رہتے تھے، آج ایک دوسرے کے دُکھ سُکھ کے ساتھی تھے۔جاگیردار اور کاشتکار کے درمیان کھڑی صدیوں پرانی دیوار گر چکی تھی۔اب وہاں مالک اور غلام نہیں، انسان اور انسان رہتے تھے۔اور شاید یہی اُس چھڑی کی سب سے بڑی شکست تھی۔



تبصرہ لکھیے