کمرے کی گھڑی کی ٹک ٹک اس خاموشی کو مزید گہرا کر رہی تھی جو پچھلے کئی سالوں سے اس گھر کا مقدر بن چکی تھی۔
باہر جھم جھم برستے ساون کی بوندیں جب شیشے کی کھڑکی سے ٹکراتیں، تو یوں محسوس ہوتا جیسے کوئی باہر کھڑا پرانے دنوں کے دریچے سے جھانک رہا ہو۔
یہ گھر نہیں تھا، ایک سنسان جزیرہ تھا جہاں وقت نے اپنے قدم ہمیشہ کے لیے روک لیے تھے۔
محمود صاحب کی عمر کا یہ حصہ اس دہلیز پر آ کھڑا تھا جہاں یادیں ہی سب کچھ ہوتی ہیں اور حال ایک بے نام بوجھ۔ ان کی نگاہیں کمرے کے کونے میں رکھی اس بوسیدہ کرسی پر جمی تھیں، جہاں کبھی ساجدہ بیٹھا کرتی تھی۔ ساجدہ کی ہنسی، اس کے قدموں کی چاپ اور اس کی محبت بھری آواز اب صرف دیواروں میں گونجتی تھی۔ وہ آوازیں جو کبھی اس کے لیے کائنات کا سب سے بڑا سکون تھیں، اب سینے پر ہتھوڑے کی طرح برستی تھیں۔
زندگی نے محمود صاحب کے ساتھ عجب کھلواڑ کیا تھا۔ جوانی میں جب خوابوں کا آسمان سر پر تھا، تو انہوں نے اپنوں کی خاطر اپنی خوشیوں کا سودا کر لیا تھا۔ خاندان کی انا، رسومات کی زنجیریں اور معاشرتی مجبوریوں نے انہیں اس موڑ پر لا کھڑا کیا جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ وقت گزرتا گیا، دوست احباب اپنی اپنی منزلوں کو نکل گئے، بچے اپنے جہان میں گم ہو گئے، اور پیچھے رہ گیا تو صرف ایک بوڑھا شخص، جو اپنی ہی یادوں کے جنگل میں تنہا بھٹک رہا تھا۔
اس گھر میں کوئی دوسرا شخص نہیں تھا، سوائے ایک پرانی ریڈیو کے، جس کی بھنبھناہٹ کبھی کبھار اس ہو کا عالم چیر دیتی تھی۔
ٹیبل پر رکھی چائے کی پیالی ٹھنڈی ہو چکی تھی، بالکل اسی طرح جیسے زندگی کی وہ حرارت جو کبھی ان رگوں میں دوڑا کرتی تھی۔ محمود صاحب نے اٹھے کی کوشش کی، مگر پیروں میں وہ سکت نہ رہی تھی۔ وہ کھڑکی کے پاس گئے اور باہر بھیگی ہوئی سڑک کو تکنے لگے۔ کوئی ایک سایہ بھی نظر نہ آ رہا تھا۔ پورا شہر سو رہا تھا، یا شاید سب اپنے اپنے اپنوں کی گود میں محفوظ تھے، بس وہی ایک شخص تھا جو کائنات کی اس وسعت میں بالکل اکیلا، بے یارومددگار کھڑا تھا۔
دل کی گہرائیوں سے اٹھنے والی ایک ہوک نے گلے کو رندھ دیا۔ آنکھوں سے آنسو کا ایک قطرہ گال پر لڑھکا اور اس اداس خاموشی میں گم ہو گیا۔ یہ درد کسی ایک دن کا نہیں تھا، یہ برسوں کی کسک تھی جو آہستہ آہستہ روح کو کھوکھلا کر رہی تھی۔ انہیں اب کسی سے کوئی گلہ نہ تھا، نہ کوئی شکوہ۔
بس ایک حسرت تھی کہ کاش وقت کے پہیے کو تھوڑا سا پیچھے گھمایا جا سکتا، کاش اپنوں کو یہ بتایا جا سکتا کہ تنہائی کتنی بے رحم قاتل ہوتی ہے۔
ساون کی بارش اور تیز ہو گئی تھی، اور اس اندھیری رات کے سناٹے میں محمود صاحب کی سسکیاں بھی اس شور میں کہیں تحلیل ہو گئیں، پیچھے صرف ایک ادھوری داستان چھوڑ کر جو وقت کے کسی کونے میں ہمیشہ کے لیے دفن ہو گئی۔



تبصرہ لکھیے