برف باری سے بوجھل دسمبر کی وہ شام تھی جب شہر کے پرانے اور مکمّل سکوت میں ڈوبے ہوئے محلے میں شاکر صاحب کے دروازے پر دستک ہوئی۔ دروازہ کھولا تو سامنے ان کا پرانا واقف کار، ظفر کھڑا تھا۔ ظفر کے چہرے پر ہلاکت خیزی کی سی زردی اور آنکھوں میں عاجزی کا ایسا سمندر تھا جسے دیکھ کر دل دہل جائے۔ اس کے بدن پر سردی سے بچنے کے لیے کوئی گرم کوٹ نہیں تھا، بس ایک پرانا، جگہ جگہ سے پھٹا ہوا سویٹر تھا جو اس کی لرزتی ہوئی ہڈیوں کو چھپانے سے قاصر تھا۔
شاکر صاحب نے اسے فوراً اندر بلایا، گرم چائے کا کپ تھمایا اور اپنے پرانے دالان میں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ شاکر صاحب خود مالی طور پر کوئی بہت آسودہ حال نہیں تھے؛ ان کی آمدنی بس اتنی تھی کہ گھر کا چولہا مشکل سے جلتا تھا، لیکن ان کا دل ہمیشہ دوسروں کے درد سے پسیج جاتا تھا۔
چائے کی چسکی لیتے ہوئے ظفر نے اپنی کہانی سنانا شروع کی۔ بات اتنی دل خراش تھی کہ کمرے میں موجود ہوا بھی جیسے بوجھل ہو گئی۔ ظفر کا اکلوتا بیٹا ایک نایاب اور خطرناک بیماری کی زد میں تھا، اور ہسپتال کے ڈاکٹروں نے صاف کہہ دیا تھا کہ اگر صبح تک علاج کے لیے معقول رقم جمع نہ کروائی گئی، تو وہ بچے کو بچا نہیں پائیں گے۔
ظفر نے شہر بھر کے دروازے کھٹکھٹائے تھے، اپنے تمام عزیزوں، دوستوں اور جان پہچان والوں سے ہاتھ جوڑے تھے، مگر ہر جگہ سے اسے یا تو مایوسی ملی یا پھر طنز کے تیر۔ شاکر صاحب نے جب یہ سنا تو ان کے اندر کا انسان تڑپ اٹھا۔ انہوں نے سوچا کہ اس وقت ظفر کی مدد کرنا ان کا اخلاقی اور انسانی فریضہ ہے، جسے عرفِ عام میں احساسِ مروت کہا جاتا ہے۔
مروت صرف ظاہری وضع داری یا اخلاقی توازن کا نام نہیں ہے، یہ دراصل انسان کے اندر موجود وہ زندہ ضمیر ہے جو دوسرے کی تکلیف کو اپنا درد سمجھتا ہے۔ یہ وہ رشتہ ہے جو دو انسانوں کو ایک ایسے دھاگے میں باندھ دیتا ہے جہاں ظالم حالات کے سامنے کمزور کی ڈھال بننا فرض ہو جاتا ہے۔
شاکر صاحب اٹھے اور اپنے گھر کی تجوری کی طرف بڑھے۔ وہ تجوری جس میں انہوں نے بڑی مشقت سے، پائی پائی جوڑ کر اپنی بیٹی کی آنے والی شادی کے لیے کچھ زیورات اور نقد رقم جمع کی تھی۔ وہ شادی جس کے خواب انہوں نے برسوں سے دیکھ رکھے تھے، اور اس کے لیے وہ رقم ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی تھی۔
جب انہوں نے وہ بکس کھولا تو ان کی آنکھوں کے سامنے بیٹی کا چہرہ گھوم گیا۔ دل کے ایک گوشے نے کہا:
“شاکر! یہ رقم تمہاری بیٹی کی آبرو اور مستقبل کی امانت ہے، اسے مت نکالو۔”
لیکن دوسرے ہی لمحے، ضمیر کی ایک شدید اور دل چیر دینے والی آواز گونجی:
“کیا بیٹی کی خوشیاں کسی کی جان سے بڑھ کر ہیں؟ اگر آج اس ظفر کے گھر کا چراغ بجھ گیا، تو کیا تم سکون سے سو سکو گے؟ مروت کا تقاضا تو یہی ہے کہ بوقتِ ضرورت اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا جائے۔”
شاکر صاحب نے ایک لمحے کی بھی تاخیر کیے بغیر وہ تمام نقد رقم اور ایک قیمتی سونے کا کنگن نکالا جو ان کی مرحوم بیوی کی نشانی تھا، اور جاکر ظفر کے ہاتھوں پر رکھ دیا۔
ظفر نے جب وہ رقم اور کنگن دیکھا تو اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہہ نکلا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا اور شاکر صاحب کے پیروں میں گرنے لگا۔ اس کے منہ سے الفاظ نہیں نکل رہے تھے، بس اس کی ہچکیاں اور سسکیاں اس احسان مند دل کی کہانی سنا رہی تھیں جو اس وقت شاکر صاحب کے سامنے جھکا ہوا تھا۔
ظفر کی یہ حالت دیکھ کر شاکر صاحب کی اپنی آنکھیں بھی چھلک آئیں، مگر ان کے دل میں ایک عجیب سا اطمینان اور سکون اتر آیا تھا جو دنیا کی کسی دولت سے خریدا نہیں جا سکتا۔
ظفر وہ رقم لے کر رات کی تاریکی میں دوڑتا ہوا ہسپتال پہنچا، وقت پر آپریشن ہوا اور اس کے بیٹے کی جان بچ گئی۔
اگلی صبح جب سورج نکلا تو وہ سردی کا دن تھا، لیکن شاکر صاحب کے گھر کا ماحول ایک الگ ہی گرمی اور نور سے منور تھا۔ اگرچہ ان کی تجوری خالی تھی، بیٹی کی شادی کی تیاریاں ادھوری رہ جانے کا اندیشہ تھا، اور آنے والے دن کٹھن ہونے والے تھے، لیکن وہ اندر سے بہت امیر محسوس کر رہے تھے۔
مروت کا یہ سفر یہیں ختم نہیں ہوا۔ اس واقعے کے چند سال بعد، جب شاکر صاحب پر ایک بہت بڑا مالی بحران آیا، ان کا کاروبار بیٹھ گیا، اور لوگ ان سے منہ موڑنے لگے، تو یہی ظفر، جو اب اپنے پاؤں پر کھڑا ہو چکا تھا، ایک فرشتہ بن کر ان کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
اس نے نہ صرف شاکر صاحب کی مالی مدد کی بلکہ ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں اس دلدل سے نکالا، اور ثابت کر دیا کہ نیکی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔
احساسِ مروت دراصل محبت اور انسانیت کی وہ معراج ہے جہاں انسان اپنے مفاد کو بالائے طاق رکھ کر دوسرے کی زندگی اور عزت کی بقا کو اپنا مقصد بنا لیتا ہے۔ یہ دنیا جب تک قائم ہے، ایسے ہی چند روادار اور درد مند دلوں کی بدولت قائم ہے جو اندھیروں میں بھی روشنی کی کرن بن کر چمکتے رہتے ہیں۔



تبصرہ لکھیے