ہوم << روہی کے ریت سمندر کی بیٹی – عرفان علی عزیز
600x314

روہی کے ریت سمندر کی بیٹی – عرفان علی عزیز

چولستان کے وسیع و عریض، دُور تک پھیلے ہوئے ریت کے سمندر میں سورج جب غروب ہونے لگتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے زمین اور آسمان دونوں نے مل کر کوئی آگ کا دریا بہا دیا ہو۔ یہاں کی شامیں بڑی سحر انگیز اور خاموش ہوتی ہیں، لیکن اس خاموشی کے پیچھے ایک گہری جدوجہد اور بقا کی طویل داستان چھپی ہوتی ہے۔ اسی دھرتی پر ایک لڑکی بستی تھی، نام تھا اس کا صابرا۔

صابرا کی عمر کوئی بیس برس کے لگ بھگ تھی۔ اس کے بال رات کی طرح سیاہ اور گھنے تھے، جن میں صحرا کی مٹی کا ہلکا سا کچنار رنگ رچ بس گیا تھا۔ اس کی آنکھیں بڑی اور گہری تھیں جن میں روہی کی پیاس بھی تھی اور یہاں کے روشن ستاروں کی چمک بھی۔ وہ ایک چھوٹے سے جھونپڑے میں رہتی تھی جسے گوپہ کہا جاتا ہے۔ یہ جھونپڑا سرکنڈوں، جھاڑیوں اور مٹی سے بنا ہوا تھا، جو ریت کے طوفانوں کے سامنے سینہ تان کر روہی (چولستان) میں زندگی کا سارا دارومدار پانی پر ہے۔ یہاں پانی دریاؤں یا نہروں سے نہیں بلکہ بارش کے پانی سے بھرنے والے ٹوبوں (تالابوں) یا سینکڑوں فٹ گہرے کنوؤں سے آتا ہے۔ صابرا کی روزمرہ کی صبح اس وقت شروع ہوتی جب سورج ابھی ریت کی چوٹیوں کو چھو کر بیدار ہو رہا ہوتا۔

اس کے پاس ایک پرانا تانبے کا گھڑا تھا اور ایک گدھا تھا، جسے وہ پیار سے روشن کہتی تھی۔ صبح سویرے صابرا روشن کی پیٹھ پر گھڑا رکھتی اور کوسوں دور واقع ایک پرانے کنویں کا رخ کرتی۔ روہی کے تھک دینے والے راستوں پر ننگے پاؤں چلنا صابرا کی عادت تھی۔ ریت کی گرمی اس کے قدموں کے چھالوں کو سخت بنا چکی تھی، لیکن اس کے عزم کو نہیں توڑ سکی تھی۔کنویں پر پہنچ کر جب وہ رسی کھینچتی، تو چرخی کی چرچراہٹ کی آواز اس گہری خاموشی کو توڑ دیتی۔ پانی کا ٹھنڈا قطرہ جب گھڑے میں گرتا تو صابرا کے چہرے پر ایک مطمئن مسکراہٹ آ جاتی۔ یہ پانی صرف ایک ضرورت نہیں تھا، یہ اس کے گھر کی زندگی کی ضمانت تھی۔دن بھر کی تھکن کے بعد جب شام ڈھلتی، تو صابرا اپنی بوڑھی نانی کے پاس بیٹھ جاتی۔ نانی کی آنکھیں کمزور ہو چکی تھیں لیکن ان کا دل ماضی کی یادوں سے روشن تھا۔ وہ اسے صحرا کی پرانی روایات، ریت کے جنات کی کہانیاں اور روہی کے پرانے میلوں کا قصہ سناتیں جہاں لوگ دور دراز سے اپنے اونٹوں پر سوار ہو کر آتے تھے۔

نانی کہتیں،
”بیٹی صابرا! یہ روہی ظالم بھی ہے اور مہربان بھی۔ جو اس کے مزاج کو سمجھ لے، یہ اسے اپنی گود میں چھپا لیتی ہے، اور جو اس سے لڑنے کی کوشش کرے، اسے ریت میں دفن کر دیتی ہے۔“
صابرا نانی کی گود میں سر رکھ کر آسمان کی طرف دیکھتی۔ کائنات کے اتنے کھلے آسمان کے نیچے، جہاں دور دور تک بجلی کی کوئی روشنی نہیں ہوتی، تارے اتنے قریب محسوس ہوتے کہ لگتا ہے ہاتھ بڑھا کر چھو لیے جائیں گے۔ صابرا ان ستاروں سے باتیں کرتی۔ وہ سوچتی کہ کیا اس صحرا سے باہر بھی کوئی ایسی دنیا ہے جہاں زمین ہری بھری ہے اور پانی ندیوں میں بہتا ہے؟ جہاں لوگوں کو ایک گھڑا پانی لانے کے لیے میلوں پیدل نہیں چلنا پڑتا؟

ایک دوپہر جب گرمی اپنے عروج پر تھی اور ہوا میں آگ سی برس رہی تھی، اچانک موسم کا رنگ بدل گیا۔ آسمان پر جو کبھی نیلگوں تھا، پیلے اور سرمئی بادل چھانے لگے۔ ہوا میں ایک عجیب سا سناٹا چھا گیا، جسے صابرا بہت اچھی طرح پہچانتی تھی۔ یہ بادِ سموم—ریت کے طوفان—کی آمد کا اشارہ تھا۔
نانی! طوفان آ رہا ہے، صابرا نے گھبرا کر کہا۔
انہوں نے فوراً گھر کے دروازے اور کھڑکیوں کو مضبوطی سے بند کیا۔ چند ہی لمحوں میں اندھیرا چھا گیا دن کی روشنی کا نام و نشان مٹ گیا۔ ریت کے زرد ذرے اتنی تیزی سے اڑے کہ باہر کچھ دکھائی دینا محال ہو گیا۔ جھونپڑا زور زور سے ہلنے لگا۔ طوفان کی یہ گرجدار آواز ایسے لگ رہی تھی جیسے کوئی بھوکا درندہ اپنے شکار پر جھپٹ رہا ہو۔

اس طوفان کے دوران صابرا کے دل میں ایک ہی ڈر تھا—کہیں ان کا واحد ٹوبہ کنواں ریت سے نہ بھر جائے، اور کہیں ان کا بکریوں کا چھوٹا سا ریوڑ باہر طوفان میں نہ پھنس جائے۔ وہ دعائیں مانگتی رہی۔ طوفان کئی گھنٹے جاری رہا اور جب تھما، تو باہر کا سارا منظر بدل چکا تھا۔ ریت کے ٹیلے اپنی جگہ سے ہٹ چکے تھے، راستے مٹ چکے تھے اور ہر طرف خاموشی کا ایک نیا سمندر بچھا ہوا تھا۔
صابرا نے باہر نکل کر دیکھا۔ اس کا دل دھک سے رہ گیا؛ راستے کا نشان مٹ چکا تھا، لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری۔ اس نے اپنے تجربے اور روہی کے چپے چپے سے واقفیت کی بنیاد پر اپنے گھر اور ٹوبھے کا رستہ تلاش کیا۔

وقت گزرتا گیا۔ صابرا بڑی ہو رہی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے اندر ایک نئی سوچ نے جنم لیا تھا۔ وہ دیکھتی تھی کہ صحرا کی بہت سی لڑکیاں اور خواتین پانی کی تلاش، ایندھن کی لکڑی کے حصول اور روزمرہ کی مشقت میں ہی اپنی پوری زندگی گزار دیتی ہیں۔ ان کی زندگیاں اس ریت کی طرح بے آواز تھیں جو ہوا کے ساتھ اڑ جاتی ہے۔
صابرا چاہتی تھی کہ وہ اس نظام کو بدلے۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ صرف روہی کی خاموش تماشائی نہیں بنے گی، بلکہ اپنی قوم کی آواز بنے گی۔ اس نے اپنے گاؤں کے بچوں کو ریت پر لکڑی کی مدد سے لکھنا اور پڑھنا سکھانا شروع کیا۔ ابتدائی طور پر بوڑھے بزرگوں نے اس کی مخالفت کی اور کہا، ”ہمارے آباؤ اجداد نے کبھی قلم نہیں اٹھایا، تم یہ کیا نیا ڈھونگ رچا رہی ہو؟“

صابرا مسکرا دیتی اور کہتی، ”نانی کہتی تھیں کہ روہی بدلتی ہے۔ اگر ہم خود نہیں بدلیں گے، تو یہ ریت ہمیں اور ہمارے بچوں کو نگل جائے گی۔ ہمیں تعلیم کی روشنی چاہیے، جیسے رات کو ستاروں کی روشنی ہوتی ہے۔“
آہستہ آہستہ، گاؤں کے کچھ بچے اس کے پاس آنے لگے۔ وہ ریت کو تختی بنا لیتے اور انگلیوں سے حروف لکھنے کی مشق کرتے۔ صابرا کی یہ چھوٹی سی کوشش روہی کے اندھیرے میں ایک ننھے دیے کی مانند تھی جو آہستہ آہستہ جلنے لگا تھا۔

باب پنجم: روہی کی بیٹی کی دائمی پہچان
آج بھی جب چولستان کے ریتلے دامن میں صبح ہوتی ہے اور صابرا اپنے گھڑے کے ساتھ کنویں کی طرف نکلتی ہے، تو اس کے قدموں میں ایک الگ ہی اعتماد ہوتا ہے۔ وہ اب صرف ایک صحرا نشین لڑکی نہیں رہی، بلکہ وہ اس دھرتی کا وہ حوصلہ بن چکی ہے جو ہر کٹھن حالات میں بھی مسکرانا جانتی ہے۔
روہی کا سورج غروب ہوتے وقت جب سنہری روشنی بکھیرتا ہے، تو ایسا لگتا ہے جیسے وہ صابرا کے ان عزائم کو سلام پیش کر رہا ہو جو اس نے اس ریت کے سینے پر نقش کیے تھے۔ صابرا جانتی ہے کہ اس کی منزل آسان نہیں، لیکن وہ یہ بھی جانتی ہے کہ سچی لگن اور محبت سے ریت کے سمندر میں بھی زندگی کے گلاب کھلائے جا سکتے ہیں۔

”صحرا صرف ریت کا نام نہیں ہے، یہ صبر، برداشت اور اس عزم کا نام ہے جو طوفانوں کے سامنے کبھی نہیں جھکتا۔“
ختم شد

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

عرفان علی عزیز

عرفان علی عزیز بہاولپور سے تعلق رکھتے ہیں۔ افسانہ و ناول نگاری اور شاعری سے شغف ہے۔ ترجمہ نگاری میں مہارت رکھتے ہیں۔ مختلف رسائل و جرائد میں افسانے اور جاسوسی کہانیاں ناول شائع ہوتے ہیں۔ سیرت سید الانبیاء ﷺ پر سید البشر خیر البشر، انوکھا پتھر، ستارہ داؤدی کی تلاش نامی کتب شائع ہو چکی ہیں۔ شاعری پر مشتمل کتاب زیرطبع ہے

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment