رات اپنی سیاہ چادر تانے جنگل پر اتر آئی تھی۔ درختوں کے گھنے سائے زمین پر یوں پھیلے ہوئے تھے جیسے کسی نامعلوم خوف نے ہر راستہ روک رکھا ہو۔ تالاب کے کنارے گھاس پر اوس کے قطرے موتیوں کی طرح چمک رہے تھے، مگر اُن کی چمک دیکھنے کے لیے بھی روشنی درکار تھی۔جنگل کے ایک خاموش گوشے میں ایک ننھا سا جُگنو اڑ رہا تھا۔ وہ کبھی گھاس کے اوپر منڈلاتا، کبھی کسی پھول کے پاس ٹھہرتا اور کبھی اندھیرے میں ایک ننھے چراغ کی طرح ٹمٹما اٹھتا۔
”ٹم ٹم…“
اس کی ہلکی سی روشنی اندھیرے کے سینے میں ایک چھوٹا سا سوال بن کر ابھرتی: کیا تاریکی ہمیشہ قائم رہ سکتی ہے؟
اسی رات ایک سانپ شکار کی تلاش میں بل سے باہر نکلا۔ اس کی آنکھیں اندھیرے کی عادی تھیں۔ وہ خاموشی سے رینگتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا کہ اچانک جگنو کی روشنی اس کی نظر میں آئی۔ سانپ ٹھٹک گیا۔
اس نے گردن اٹھائی اور جگنو کو غور سے دیکھا۔
”آہا! تو تُو ہے وہ ننھا چراغ جو میری رات خراب کرتا ہے!“
جگنو نے پلٹ کر دیکھا اور مسکرا کر بولا: ”میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے، سانپ؟ میں تو ایک چھوٹا سا جُگنو ہوں۔ نہ میرے دانت ہیں، نہ پنجے، نہ طاقت۔ تُمہارا پیٹ بھی میرے جیسے معمولی کیڑے سے کہاں بھرے گا؟ مجھے چھوڑ دو اور اپنا شکار تلاش کرو۔“ سانپ آہستہ آہستہ اُس کی طرف بڑھا۔ ”بات تیرے چھوٹے یا بڑے ہونے کی نہیں، جگنو! بات تیری روشنی کی ہے۔“
جگنو نے حیرت سے پوچھا: ”میری روشنی سے تمہیں کیا تکلیف ہے؟“
سانپ نے پھنکار ماری: ”یہی روشنی میرے لیے مصیبت ہے۔ جب میں اندھیرے میں شکار کی طرف بڑھتا ہوں تو تُو چمک اٹھتا ہے۔ شکار خطرہ بھانپ لیتا ہے اور بھاگ جاتا ہے۔ میں نے کتنی بار شکار کو اپنی گرفت میں لینے کی کوشش کی، مگر تیری ایک ننھی سی چمک نے میرا منصوبہ ناکام کر دیا۔“
جگنو کچھ دیر خاموش رہا، پھر بولا: ”تو مسئلہ میری روشنی نہیں، تمہاری نیت ہے۔“
سانپ کی آنکھیں سرخ ہو گئیں۔ ”خاموش! میں نے فیصلہ کر لیا ہے۔ پہلے تُجھے ختم کروں گا، پھر اپنا شکار تلاش کروں گا۔“
جگنو نے پوچھا: ”اور اگر میرے بعد کوئی اور چراغ جل اٹھا تو؟“
سانپ نے طنزیہ قہقہہ لگایا۔ ”میں ایک ایک کرکے سب کو بجھا دوں گا۔ مجھے روشنی کی ضرورت نہیں۔ مجھے اندھیرا پسند ہے۔ اندھیرے میں میرا شکار مجھے دیکھ نہیں پاتا اور میں خاموشی سے اس پر جھپٹ پڑتا ہوں۔“
جگنو نے گہری سانس لی۔ ”سانپ! اندھیرے کو پسند کرنا تمہارا اختیار ہے، مگر روشنی کو ختم کرنا تمہارا حق نہیں۔“ ”حق؟“ سانپ نے پھنکار کر کہا، ”جنگل میں حق طاقتور کا ہوتا ہے!“
جگنو نے جواب دیا: ”یہ جنگل کا قانون ہو سکتا ہے، فطرت کا نہیں۔“
سانپ نے اچانک جھپٹنے کی کوشش کی، مگر جگنو پھُرتی سے اوپر اُڑ گیا۔ وہ ایک شاخ پر جا بیٹھا اور بولا: ”تم مجھے نہیں پکڑ سکتے، کیونکہ روشنی کو ایک جگہ قید نہیں کیا جا سکتا۔“
سانپ نے غصے سے کہا: ”میں تجھے ضرور ختم کروں گا!“
جگنو آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے بولا: ”اچھا، ذرا اوپر تو دیکھو!“
سانپ نے گردن اٹھائی۔
آسمان پر چاند نمودار ہو چکا تھا۔ چاندنی آہستہ آہستہ درختوں، پگڈنڈیوں، تالاب اور میدانوں پر پھیل رہی تھی۔ اندھیرے کے وہ گوشے جو چند لمحے پہلے خوف ناک معلوم ہوتے تھے، اب چاندنی میں نمایاں ہونے لگے تھے۔
جگنو نے کہا: ”دیکھا؟ تم میری روشنی بجھانے نکلے تھے، مگر آسمان پر ایک اور چراغ جل اٹھا۔“
سانپ نے دانت پیسجے: ”میں چاند کو کیسے بجھا سکتا ہوں؟“
جگنو مسکرایا: ”بس یہی تو بات ہے، سانپ! روشنی کو ختم کرنا آسان نہیں۔ ایک چراغ بجھے گا تو دوسرا جل اٹھے گا۔ ایک زبان خاموش ہوگی تو دوسری بولے گی۔ ایک کتاب چُھپائی جائے گی تو دوسری لکھی جائے گی۔ ایک ذہن کو اندھیرے میں رکھا جائے گا تو دوسرا ذہن سوال کرے گا۔“
سانپ خاموش ہو گیا۔
جگنو نے اپنی روشنی پھر روشن کی۔ ”ٹم ٹم…“ اور اس کی روشنی میں ایک ننھی سی تتلی دکھائی دی، جو راستہ بھٹک گئی تھی۔ تتلی نے جگنو کو دیکھا اور بولی: ”اے ننھے چراغ! تُمہاری روشنی نے مجھے راستہ دکھا دیا۔“
جگنو نے کہا: ”میں تو اپنا کام کر رہا ہوں۔“
تھوڑی دور ایک چیونٹی اپنے بل کا راستہ تلاش کر رہی تھی۔ جگنو کی روشنی اس کے لیے بھی رہنمائی بن گئی۔ ایک ننھا کیڑا پانی کے کنارے پھنس گیا تھا۔ جگنو کی چمک سے ایک مینڈک کی نظر اس پر پڑی اور وہ اسے بچانے کے لیے آگے بڑھا۔
سانپ یہ سب دیکھ رہا تھا۔
اس نے آہستہ سے کہا: ”ایک معمولی سی روشنی اتنے کام آ سکتی ہے؟“
جگنو نے جواب دیا: ”روشنی کی قدر اس کے حجم سے نہیں، اس کے فائدے سے ہوتی ہے۔“
سانپ نے طنزیہ انداز میں کہا: ”اور میں؟ میں کیا ہوں؟“
جگنو نے نرمی سے کہا: ”تم بھی قدرت کی ایک مخلوق ہو۔ اگر تم اپنی طاقت کو ظلم کے بجائے توازن کے لیے استعمال کرو تو تمہارا وجود بھی بے مقصد نہیں۔“
سانپ کچھ دیر سوچتا رہا۔ پھر بولا: ”مگر مجھے اندھیرے میں شکار کرنا آسان لگتا ہے۔“
جگنو نے کہا: ”آسان راستہ ہمیشہ درست راستہ نہیں ہوتا۔“ سانپ نے پہلی بار جگنو کو غصے کے بجائے غور سے دیکھا۔
جگنو نے کہا: ”یاد رکھو، سانپ! دنیا میں کچھ لوگ تمہاری طرح ہوتے ہیں۔ انہیں روشنی اس لیے پسند نہیں ہوتی کہ روشنی میں اُن کے ارادے ظاہر ہو جاتے ہیں۔ انہیں علم سے خوف آتا ہے، کیونکہ علم سوال پیدا کرتا ہے۔ انہیں کتاب سے خوف آتا ہے، کیونکہ کتاب ذہن کو بیدار کرتی ہے۔ انہیں سچ سے خوف آتا ہے، کیونکہ سچ پردے ہٹا دیتا ہے۔“
سانپ نے پوچھا: ”اور تم کس کی علامت ہو؟“
جگنو نے اپنی روشنی بلند کی۔ ”میں اُس علم کی علامت ہوں جو اندھیرے میں راستہ دکھاتا ہے۔ میں اُس اُمید کی علامت ہوں جو مایوسی میں دل کو زندہ رکھتی ہے۔ میں اُس سچ کی علامت ہوں جو جھوٹ کے اندھیرے کو چیر دیتا ہے۔“
سانپ نے آہستہ سے کہا: ”اور اگر میرے جیسے لوگ تمہیں ختم کرنے کی کوشش کرتے رہیں؟“
جگنو نے آسمان کی طرف دیکھا۔”تو روشنی کے چاہنے والے مزید چراغ جلائیں گے۔“
اسی لمحے دُور کسی بستی سے اذان کی آواز بلند ہوئی: ”اللّٰهُ أَكْبَرُ…“
جگنو خاموش ہو گیا۔ سانپ بھی ساکت رہ گیا۔ اذان کی آواز رات کے سینے کو چیرتی ہوئی دُور تک پھیل گئی۔
جگنو نے دھیرے سے کہا: ”سُنو! یہ بھی روشنی ہے۔ آواز کی روشنی۔ یقین کی روشنی۔ ہدایت کی روشنی۔“
سانپ نے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ آہستہ آہستہ اپنے بل کی طرف لوٹنے لگا۔ جگنو نے اسے جاتے ہوئے دیکھا اور پکارا: ”سانپ!“ سانپ رُک گیا۔ ”کیا؟“
جگنو بولا: ”اپنی فطرت کو سمجھو۔ زہر رکھنا تمہاری فطرت ہو سکتی ہے، مگر ہر جگہ زہر گھولنا ضروری نہیں۔ طاقت ملنا جرم نہیں، طاقت کا غلط استعمال جرم ہے۔“
سانپ نے پہلی بار اپنا پھن نیچا کیا۔ ”اور تم؟“
جگنو نے مسکرا کر کہا: ”میں اپنی روشنی بانٹتا رہوں گا۔“
سانپ نے پوچھا: ”چاہے میں اسے بجھانے کی کوشش کرتا رہوں؟“
جگنو نے جواب دیا: ”ہاں!“
”کیوں؟“ ”کیونکہ روشنی کا کام روشن کرنا ہے، اندھیرے سے لڑتے لڑتے خود اندھیرا بن جانا نہیں۔“
سانپ خاموشی سے اپنے بل میں چلا گیا۔
جگنو پھر اڑنے لگا۔ ”ٹم ٹم…“
اس کی ننھی سی روشنی رات کے وسیع اندھیرے میں دُور تک دکھائی دیتی رہی۔ اور اس رات جنگل نے ایک عجیب منظر دیکھا: ایک طرف سانپ کا اندھیرا بل تھا، دوسری طرف جگنو کی روشنی۔ ایک طرف خوف تھا، دوسری طرف اُمید۔
ایک طرف خاموشی تھی، دوسری طرف پیغام۔ اور آسمان پر چاند پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔
یوں معلوم ہوتا تھا جیسے کائنات خود کہہ رہی ہو: ”اندھیرا چاہے کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو، روشنی کا ایک ننھا سا نقطہ بھی اس کے وجود کو چیلنج کرنے کے لیے کافی ہے۔“
جگنو اڑتا رہا، روشنی بانٹتا رہا۔ اور سانپ اپنے بل میں بیٹھا پہلی بار یہ سوچ رہا تھا کہ شاید مسئلہ روشنی کا نہیں، اس کے اپنے اندھیرے کا تھا۔
جو لوگ علم، سچ، شعور اور روشنی کو روکنا چاہتے ہیں، وہ وقتی طور پر راستے مسدود تو کر سکتے ہیں، مگر روشنی کی فطرت کو ختم نہیں کر سکتے۔ علم کا چراغ ایک جگہ بجھے تو دوسری جگہ روشن ہو جاتا ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے حصے کی روشنی ضرور پھیلانی چاہیے؛ کیونکہ ایک ننھا سا جگنو بھی کبھی کبھی پورے اندھیرے کے خلاف اعلانِ بغاوت بن جاتا ہے۔



تبصرہ لکھیے