درس بعد نمازِ ظہرمقرر: ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب
امام و خطیب فیصل مسجد اسلام آباد
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ہمارے نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اپنی امت کی تربیت کا ہمیشہ خصوصی اہتمام فرمایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ موقع و محل کی مناسبت سے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مختلف نصیحتیں فرماتے۔ ان کی اصلاح کرتے اور انہیں ایسے اعمال کی طرف متوجہ فرماتے جن میں دنیا و آخرت کی کامیابی پوشیدہ ہوتی تھی۔ اگرچہ بظاہر یہ ارشادات اس وقت موجود صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے خطاب کرتے ہوئے فرمائے جاتے تھے۔ لیکن حقیقت میں آپ ﷺ کی یہ تعلیمات پوری امتِ مسلمہ کے لیے ہیں۔ قیامت تک آنے والا ہر مسلمان ان ارشادات کا مخاطب ہے اور اپنی زندگی کو ان کے مطابق ڈھال کر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرسکتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا عظیم ارشاد
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ؟
إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ۔
ترجمہ: کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس کے ذریعے *اللہ تعالیٰ* گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور درجات کو بلند فرماتا ہے؟
وہ ہے: ناگواری اور دشواری کے باوجود اچھی طرح وضو کرنا، مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چل کر جانا، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔ یہی رباط ہے۔ (صحیح مسلم)
حدیث کی جامع اور سبق آموز وضاحت
ڈاکٹر صاحب نے اس حدیث کی روشنی میں بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے تین ایسے اعمال ذکر فرمائے ہیں۔ جو بظاہر عام اور معمولی محسوس ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی قدر و منزلت بہت زیادہ ہے۔ ان اعمال کے ذریعے انسان کے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ درجات بلند ہوتے ہیں اور بندہ شیطان کے مقابلے میں مضبوط ہوتا ہے۔
1۔ مشکل حالات کے باوجود مکمل وضو کرنا
سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ فرمایا۔ یعنی ناگواری اور دشواری کے باوجود وضو کو اچھی طرح مکمل کرنا۔وضو صرف نماز کی تیاری کا نام نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور بندے کی روحانی پاکیزگی کا ذریعہ بھی ہے۔ بعض اوقات سردی بہت زیادہ ہوتی ہے پانی ٹھنڈا ہوتا ہے طبیعت سستی کا شکار ہوتی ہے یا کسی اور وجہ سے وضو کرنا دشوار محسوس ہوتا ہے۔ لیکن بندہ اللہ کی رضا کے لیے ان مشکلات کو برداشت کرتے ہوئے مکمل اہتمام سے وضو کرتا ہے تو یہ عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت اجر والا بن جاتا ہے۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ عبادت کی اصل قدر اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب انسان اپنی خواہش اور آرام کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی رضا کو ترجیح دیتا ہے۔ لہٰذا ہمیں وضو کو محض ایک رسمی عمل نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ اسے سنت کے مطابق، اطمینان اور اہتمام کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔
2۔ نماز کے لیے مسجد کی طرف زیادہ قدم چل کر آنا
دوسرا عمل رسول اللہ ﷺ نے كَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِد بیان فرمایا۔ یعنی مسجد کی طرف زیادہ قدم چل کر جانا۔ جو مسلمان نماز کی نیت سے اپنے گھر سے مسجد کی طرف چلتا ہے اس کا ہر قدم اللہ تعالیٰ کے ہاں قدر و قیمت رکھتا ہے۔ وہ قدم جو بظاہر چند منٹ کی مسافت طے کرتے ہیں آخرت کے اعتبار سے انسان کے لیے نیکیوں اور درجات کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے اس طرف توجہ دلائی کہ مسجد سے تعلق صرف نماز ادا کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ مسلمان کے دل میں مسجد کی محبت اور نماز کی رغبت پیدا ہونی چاہیے۔ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ جس راستے پر ہم دنیاوی کام کے لیے چلتے ہیں اگر اسی راستے پر *اللہ* کے گھر کی طرف نماز کے لیے قدم اٹھ رہے ہوں تو وہ سفر کس قدر بابرکت ہوگا۔ اس لیے نماز کے وقت مسجد کی طرف شوق اور محبت سے جانا چاہیے اور اسے بوجھ یا محض ایک معمول نہیں سمجھنا چاہیے۔
3۔ ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا
تیسری عظیم عبادت وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ ہے۔ یعنی ایک نماز ادا کرنے کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ بندے کا دل نماز سے جڑا رہے۔ وہ ایک نماز ادا کرنے کے بعد اگلی نماز کا منتظر رہے۔ اگرچہ اس دوران وہ اپنے ضروری کاموں میں مصروف ہو جائے۔ لیکن اس کے دل میں نماز کی فکر اور اگلی نماز کا انتظار موجود رہے تو یہ بھی بڑی سعادت ہے۔اور اگر کوئی شخص مسجد میں بیٹھ کر اگلی نماز کا انتظار کرتا ہے تو اس کے لیے یہ عمل مزید عظیم بن جاتا ہے۔
نماز کے انتظار کو “رباط” کیوں فرمایا گیا؟
رسول اللہ ﷺ نے ان تینوں اعمال کو آخر میں “فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ” فرمایا۔رباط کا تعلق سرحد پر دشمن کے مقابلے میں مورچہ بندی اور حفاظت سے ہے۔ مجاہد ایک جگہ ڈٹ کر بیٹھتا ہے تاکہ دشمن کے حملے سے مسلمانوں کی حفاظت کر سکے۔اسی طرح جو شخص ایک نماز ادا کرنے کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرتا ہے خصوصاً مسجد میں رہ کر، وہ گویا اپنے آپ کو شیطان کے مقابلے میں ایک مضبوط مورچے میں قائم کر لیتا ہے۔شیطان انسان کو نماز سے غافل کرنے، عبادت سے دور کرنے اور دنیا کی مصروفیات میں الجھانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن جس شخص کا دل نماز کے ساتھ وابستہ ہے۔ جو ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا منتظر ہے وہ شیطان کے مقابلے میں مضبوط مقام پر کھڑا ہے۔یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس عمل کو رباط سے تعبیر فرمایا۔
آج کے درس کا بنیادی پیغام
اس حدیث میں ہمارے لیے نہایت عظیم پیغام ہے۔ ہم اکثر بڑی بڑی نیکیوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہماری روزمرہ زندگی کے معمولی نظر آنے والے اعمال میں بھی بے شمار اجر رکھا ہے۔وضو کریں تو اہتمام کے ساتھ۔مسجد جائیں تو شوق اور محبت کے ساتھ۔
نماز پڑھیں تو اگلی نماز کی فکر کے ساتھ
یہ تینوں اعمال انسان کی زندگی میں عبادت کا ایسا تسلسل پیدا کرتے ہیں جو اسے اللہ تعالیٰ کے قریب لے جاتا ہے۔اگر ہم اپنے گھروں، بچوں اور معاشرے میں نماز اور مسجد سے محبت پیدا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے خود ان اعمال کا پابند بننا ہوگا۔ ہماری عملی زندگی ہی ہماری اولاد اور آنے والی نسلوں کے لیے سب سے بڑی تربیت ہے۔
دعا
اللہ رب العزت ہمیں اپنے نبی کریم ﷺ کی ان مبارک تعلیمات کو سمجھنے، ان سے دلی محبت پیدا کرنے اور اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ ہمیں وضو کا اہتمام کرنے، نمازوں کی پابندی کرنے، مسجدوں سے اپنا تعلق مضبوط رکھنے اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کی فکر رکھنے والا بنائے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے، ہمارے درجات بلند فرمائے ہمارے دلوں کو ایمان و تقویٰ سے منور فرمائے۔ ہمارے گھروں میں خوشحالی، سکون، محبت اور برکت عطا فرمائے اور ہمیں شیطان کے ہر حملے سے محفوظ فرمائے۔ اللہ رب العزت آج کے درس میں بیان کیے گئے اعمال کا پابند بنائے کیونکہ اسی میں حقیقی کامیابی، اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کی نجات ہے.
آمین یا رب العالمین۔



تبصرہ لکھیے